مضبوط جن لوک پال کیوں؟

نرملیندو
 مرکزی حکومت نے لوک پال بل کے نئے ڈاٹ کو منظوری دے دی ہے۔ سرکاری اسے بجٹ اجلاس میں راجیہ سبھا میں پاس کرنے کی کوشش کرے گی، لیکن گاندھی کے راستے پر چلنے والے اور عدم تشدد میں یقین رکھنے والے انا ہزارے نے صاف لفظوں میں کہا کہ سرکار عوام کو بیوقوف بنا رہی ہے، سرکار کی نیت میں کھوٹ ہے۔ گاندھی کو اپنا رہبر ماننے والے اہنسا وادی انا ہزارے اس سرکاری لوک پال بل سے متفق نہیں ہیں۔ انہوں نے دلیل دی کہ اگر لوک پال میں سی بی آئی ہی نہیں ہے، تو ایسی صورت میں بدعنوانی کیسے ختم ہوگی؟ انا نے وزیر اعظم منموہن سنگھ پر وعدہ خلافی کا الزام لگاتے ہوئے یہ کہا کہ سرکار نے لوک پال بل کے نام پر لوگوں کو نہ صرف دھوکہ دیا ہے، بلکہ انہیں بیوقوف بھی بنایا ہے، اس سرکار کی نیت میں کھوٹ ہے۔
حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ اس بل میں سٹیزن چارٹر، صوبوں میں لوک آیکت کی تقرری اور پوری کی پوری نوکر شاہی کو لوک پال کے دائرے میں لانے کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہا گیا ہے۔ اسی وجہ سے انا ہزارے کا ردِ عمل اس بل پر یہ ہوتا ہے کہ یہ بل بدعنوانی مخالف نہیں، بدعنوان لوگوں کی مدد کرنے والا بل ہے۔ اگر یہ کہیں کہ ہندوستانی آئین میں پہلی بار ایسا ہوگا کہ بدعنوان لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے سے پہلے ہی انہیں وجہ بتاؤ نوٹس بھیجا جائے گا، تو شاید غلط نہیں ہوگا۔
قابل ذکر ہے کہ مرکزی حکومت کے مکھیا منموہن سنگھ نے لوک سبھا میں اپنی تقریباً 19 منٹ کی تقریر میں انا ہزارے کو سلام کرکے یقین دلایا تھا کہ ان کی سرکار ایک مضبوط لوک پال لانے کے لیے پابند عہد ہے، لیکن موجودہ لوک پال کو دیکھ کر تو ایسا ہی لگتا ہے کہ واقعی میں ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور ہی ہوتے ہیں۔ دراصل، سماجی کارکن انا ہزارے نے جس لوک پال بل کی وکالت کی تھی، اس سے یہ سرکاری لوک پال کوسوں دور ہے۔ سچ تو یہ بھی ہے کہ جن لوک پال ایک ایسا تصور ہے کہ جس کا نام سنتے ہی بدعنوان لوگوں کے پسینے چھوٹنے لگتے ہیں۔ جن لوک پال بل کا پہلا مقصد یہی ہے کہ بدعنوان آدمی چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، اس کا جیل جانا یقینی ہے۔ بدعنوانی چاہیے وزیر اعظم کی ہو یا جج کی، رکن پارلیمنٹ کی ہو یا پھر کسی سینئر بیوروکریٹ کی، سب کی جانچ انصاف پسند طریقے سے ایک سال کے اندر کی جا سکے، یہی انا چاہتے ہیں۔
دوسرا، عام آدمی کو روزمرہ کے سرکاری کام کاج میں رشوت خوری سے نجات دلانا بھی چاہتے ہیں انا۔ سچ تو یہی ہے کہ ملک کے کونے کونے سے لوگوں نے اس جن لوک پال بل کو تہِ دل سے حمایت دی ہے۔ اس تحریک کو لوگوں نے اس لیے اپنی حمایت دی تھی کہ مرکز اور صوبوں میں لال بتی کی گاڑیوں میں سرکاری پیسہ پھونکنے کے لیے کچھ اور لوگ نہ لائے جائیں، بلکہ ان سب سے عاجز آج کے عوام چاہتے یہی ہیں کہ بدعنوانوں اور رشوت خوروں پر لگام لگے۔ اس لوک پال سے بدعنوانوں میں ڈر پیدا ہو، سب کی سمجھ میں، خاص کر سیاست دانوں کی سمجھ میں یہ بات آ جائے کہ اس بل کے آنے کے بعد نہ صرف بدعنوانوں کا جیل جانا طے ہے، بلکہ رشوت مانگی، تو بھی جیل جانا طے ہے۔
دراصل، ایک مضبوط جن لوک پال قانون بنانے کی مانگ کی ہے گاندھی وادی انا ہزارے نے۔ انا ہزارے کی قیادت میں ایک ملک گیر مہم بھی شروع ہو گئی ہے۔ حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ آزادی حاصل کرنے کے 65 سال بعد بھی ہم آج بھی غلام ہیں ، غلام ہیں سیاست دانوں اور بیوروکریٹس کے، کیوں کہ وافر ثبوتوں کے باوجود بدعنوانوں کو سزا آخرکار نہیں مل پاتی ہے۔ ایسی صورتِ حال میں جن لوک پال ہی یہ طے کرے گا کہ ہر ایک بدعنوان کو سزا نہ صرف ہر حال میں ملے، بلکہ متعینہ مدت میں ملے، لیکن ایسا ممکن نہیں ہو پا رہا ہے، کیوں کہ سرکاری مشینری انا ہزارے کے خلاف ہے، کیوں کہ سیاست دانوں اور بیورو کریٹس کے حملوں کا شکار بنے ہوئے ہیں انا۔ ان نام نہاد بدعنوانی کو دقت یہی ہے کہ بدعنوانی کے خلاف ایک سخت قانون بنتے ہی ان کی لامحدود طاقتوں پر راتوں رات لگام لگ جائے گا۔ دراصل، ایسا کرنے والوں میں سماج کے کچھ جانے مانے چہرے بھی شامل ہیں۔ وہ ڈرے اور سہمے ہوئے ہیں، اسی لیے وہ انا ہزارے کی اس تحریک کو جڑ سے نیست و نابود کر دینا چاہتے ہیں۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہندوستان اپنی آبادی کی وجہ سے عالمی منظرنامے میں سب سے بڑی جمہوریت بن سکتا ہے، لیکن چونکہ ہماری جمہوریت گنہگاروں اور بدعنوانوں سے بھری ہوئی ہے، ایسے میں انا ہزارے کی تحریک تبھی کارگر ثابت ہوپائے گی، جب انا کا یہ مضبوط لوک پال بل پاس ہوگا۔ ووٹ کے بدلے نوٹ اور چناوی چندے کا کالا کھیل تبھی ختم ہو سکتا ہے، جب ہندوستان کے عوام بیدار ہوں گے اور نوجوان انا کے کندھے سے کندھا ملا کر چلیں گے۔ ہم سبھی یہ جانتے ہیں کہ ہندوستان میں آئی اے ایس سب سے طاقتور کیڈر ہے، لیکن حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ وہی کیڈر اب یہ محسوس کر رہا ہے کہ وہ اپنا کام ایمانداری کے ساتھ نہیں کر پا رہا ہے۔ کیڈر والے ایمانداری سے دبے پاؤں یہ قبول بھی کر رہے ہیں کہ ان کی پکڑ نوکر شاہوں پر ڈھیلی پڑتی جا رہی ہے۔
اب دامنی کو ہی لے لیجئے۔ دامنی ایک ایسے ملک میں پیدا ہوئی ہے، جہاں کا قانون اندھا ہے۔ اگر ہمارے ملک کا قانون اندھا نہیں ہوتا، تو شاید دامنی کے سبھی گنہگاروں کو کچھ ہی دنوں میں سزا مل گئی ہوتی۔ سرکار بدعنوانی سے لڑنے کے لیے چاہے جتنے بھی دعوے کرے، کبھی بھی اپنے دعوے کو عملی جامہ نہیں پہنا پائے گی۔ دراصل، یہ اس لیے ممکن نہیں ہوسکتا، کیوں کہ سرکار کے کام کرنے کے طریقے اور قوتِ ارادی میں کمی ہے۔ حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ وزیر اعظم خود پس و پیش میں ہیں۔ ان کے حال ہی میں دیے گئے بیان سے یہی مطلب نکلتا ہے کہ سینئر نوکرشاہوں کے خصوصی اختیارات ختم کیے جائیں یا نہیں، جب کہ سونیا گاندھی خود خصوصی اختیارات ختم کرنے کی بات کر چکی ہیں۔ کالے دھن کے مشہور اور بدنامِ زمانہ کاروباری، یعنی سب سے بڑے ٹیکس چور حسن علی کے خلاف ہو رہی جانچ یہی بتاتی ہے کہ سرکار کتنی بے بس اور بدعنوانوں سے گھری ہوئی ہے۔ دراصل، ایک کڑوا سچ یہی ہے کہ وزیر اعظم کی لاچاری اور سستی نے ہی ملک میں ہزاروں کی تعداد میں راجا اور کلماڑی پیدا کر دیے ہیں۔ دراصل، سرکار جن لوک پال بل سے اس لیے بھی ڈر رہی ہے، کیوں کہ اس کے پاس ہوتے ہی ایم پی اے راجا، کلماڑی وغیرہ کو سب سے پہلے پریشانی ہوگی، سرکار چاہ کر بھی ان لیڈروں کو بچا نہیں پائے گی۔
75 سال کے انا میں غضب کا جوش ہے، ایک 50 سال کے نوجوان جیسا، آزادی کی دوسری لڑائی لڑنے کے لیے انا ہزارے تیار ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ انہوں نے 30 جنوری کو پٹنہ کے تاریخی گاندھی میدان میں دوسری لڑائی کا اعلان کر دیا، وہ نہیں چاہتے کہ جن تنتر مورچہ الیکشن لڑے، لیکن ہاں، وہ یہ ضرور چاہتے ہیں کہ جن لوک پال بل پاس ہو، وہ چاہتے ہیں کہ لوگوں کو عوامی نمائندوں کو واپس بلانے کا حق پوری طرح سے ملے، اور یہ تبھی ممکن ہو پائے گا، جب جن لوک پال بل پاس ہوگا۔ دراصل، ان کا یہ ماننا ہے کہ نوجوان ہی ملک کو صحیح سمت دے سکتا ہے، اس لیے انہوں نے نوجوانوں کو کہا کہ وہ انا کی اس تحریک میں شریک ہوں، کیوں کہ نوجوان ہی ملک میں تبدیلی لا سکتا ہے۔ انہوں نے 25 نکاتی چارٹر جاری کرکے ملک کے عوام کو آگاہ کیا اور کہا کہ لوگوں کو متحد کرنے کے لیے ان کی یہ تحریک جاری رہے گی۔ کسی بھی ملک میں کسانوں کا رول اہم ہوتا ہے، اس لیے انا ہزارے چاہتے ہیں کہ تحویل اراضی قانون میں فوراً تبدیلی لائی جائے، تاکہ ان کی زمینیں بدعنوان نوکر شاہ اور بدعنوان نیتا چھین نہ سکیں، اناج برباد نہ ہو۔ اس پر بھی انا نے مہم چھیڑ رکھی ہے۔ اس چارٹر کو انا فوراً لاگو کرنا اس لیے بھی چاہتے ہیں، تاکہ بدعنوان اور جرائم پیشہ عناصر اب عوامی نمائندے نہ بن سکیں۔ تعلیم میں رائج بدعنوانی کی وجہ سے بھی انا فکر مند ہیں، اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ تعلیم کی نجکاری اور بازارکاری کے خلاف آسان قانون آ جائے۔ پولس سسٹم کو بھی وہ درست کرنا چاہتے ہیں، تاکہ پولس محکمہ اور زیادہ چاق و چوبند، حساس اور چست بن سکے۔ ان کا ماننا یہی ہے کہ کسی بھی صوبہ میں راحت، امن اور خوش حالی تبھی آتی ہے، جب اس ملک کا مکھیا ایماندار ہو۔ اب چونکہ ملک کے زیادہ تر وزیر بدعنوانی کے دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں، ایسے میں انا کے اس مضبوط لوک پال کی ملک کے عوام کو سخت ضرورت ہے۔

سرکار بے وقوف بنا رہی ہے
ترمیم شدہ بل میں سی بی آئی کے سربراہ کے انتخاب کے لیے کولیجیم کی تشکیل کیے جانے کے التزام پر کرن بیدی نے خوشی ظاہر کی۔ انہوں نے ٹوئٹ کے ذریعے کہا ’’کچھ نہیں سے کچھ اور پھر زیادہ، جیسے ہم آگے بڑھتے ہیں‘‘۔ لیکن ترمیم شدہ بل پر عام آدمی پارٹی کے لیڈر اروِند کجریوال سوال اٹھا رہے ہیں۔ ان کی دلیل یہی ہے کہ سرکار ایک کمزور بل کو منظوری دے کر پورے ملک کو بیوقوف بنا رہی ہے۔ کجریوال نے چٹکی لیتے ہوئے کہا کہ ’’یہ دنیا کا پہلا ایسا بدعنوانی مخالف ادارہ ہوگا، جس کے پاس جانچ کرنے کا اختیار ہی نہیں ہوگا۔ یہ محض ایک اور ادارہ کی طرح ہی کام کرے گا‘‘۔ کجریوال نے دوسری سیاسی پارٹیوں کو بھی نہیں بخشا۔ انہوں نے تمام سیاسی پارٹیوں پر وعدہ سے مکرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ ’’اگست 2011 میں پارلیمنٹ نے ملک سے جو وعدہ کیا تھا، اس کے بارے میں اس لوک پال بل میں کوئی ذکر نہیں ہے‘‘۔ کجریوال نے الزام لگایا کہ ’’سرکار اب بدعنوانوں کو مفت میں وکیل مہیا کرائے گی‘‘۔ سی بی آئی کے ڈائریکٹر کی تقرری پر بھی انہوں نے سوال اٹھایا۔ انہوں نے دلیل دی کہ ’’آخر سرکار سی بی آئی کو آزاد کیوں نہیں کر دیتی؟‘‘ کجریوال نے کہا کہ ’’اگر سی بی آئی کو سرکار کے کنٹرول سے باہر کر دیا گیا، تو موجودہ کابینہ میں شامل آدھے سے زیادہ وزیر جیل میں ہوں گے۔‘‘
دوسری طرف، ترمیم شدہ لوک پال بل کو مرکزی کابینہ کی ہری جھنڈی مل جانے کے باوجود بی جے پی خوش نہیں ہے۔ دراصل، پارٹی نے اس بات پر ناراضگی جتائی ہے کہ سی بی آئی کو بااختیار بنانے کو لے کر اس کے ذریعے دیے گئے مشوروں کو سرکار نے خارج کر دیا۔ بی جے پی نے الزام لگایا کہ ایسا کرکے بی جے پی نے اپنے ارادے ظاہر کر دیے ہیں کہ وہ بدعنوانی ختم کرنے کے حق میں نہیں ہے۔ پارٹی کے ترجمان روی شنکر پرساد نے بھی یہی کہا ہے کہ لوک پال کو مؤثر بنانے کے لیے بی جے پی نے سی بی آئی کو خود مختار ادارہ بنانے کا مشورہ دیا تھا۔ یہ بھی کہا تھا کہ سی بی آئی ڈائریکٹر کے دفتر کی مدت طے کی جائے اور ریٹائرمنٹ کے بعد اس کی کہیں اور تقرری کی جائے، لیکن حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ یہ بھی ممکن نہیں ہو پایا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *