جسٹس ورما رپورٹ: قوانین سخت ہوں تو جرائم کم ہوں گے

وسیم راشد 
ملک میں امن و سلامتی کے لئے یہ بات بہت ضروری ہوتی ہے کہ جرائم پیشہ افراد پر نکیل کسنے کے لئے قوانین نہ صرف سخت ہوں بلکہ ان قوانین پر مخلصانہ کوششیں بھی کی جائیں۔ملک کے مختلف خطوں میں جو عصمت دری اور لوٹ کھسوٹ کے واقعات تقریباً ہر روز ہوتے ہیں اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ ہمارے ملک میں قانون تو ہے لیکن یا تو اس میں اتنی پیچیدگیاںہیں کہ مجرم آسانی سے بچ نکلتا ہے یا پھر قانون میں سختی کا ایسا پہلو شامل نہیں ہے جس سے مجرم خوفزد ہو اور جرم کرنے سے گریز کرے۔ عصمت دری کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے جس میں مجرم کو بچنے کی بہت سی راہیں کھلی ہوئی ہیں اور اگر کسی کو سزا دی بھی جاتی ہے تو اتنی معمولی ہوتی ہے جو گناہ کی بہ نسبت بہت کم ہوتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دنوں جسٹس جے ایس ورما کمیٹی کی سفارشات میں سزا کو مزید سخت کرنے کے لئے حکومت کو پیش کی گئی رپورٹ میں اجتماعی آبروریزی کے مجرمین کو 20 سال قید اور آبروریزی کے ساتھ قتل کے لئے عمر قید کی سزا کی سفارش کی ہے۔ جسٹس ورما کمیٹی نے آبروریزی کے خاطی پولیس افسران اور سرکاری ملازمین کے خلاف سخت کارروائی کے لئے فوجداری قانون میں ترمیم کی بھی سفارش کی ہے۔
یہ بات اپنی جگہ طے ہے کہ اگر عصمت دری کے مجرم کو سخت سزا مقرر کی جائے تو نہ صرف اس طرح کے حادثوں میں کمی ہوگی بلکہ عورتوں پر جو خوف کا ایک ماحول بنا ہوا ہے اور عورتیں خاص طور پر لڑکیاں گھر سے باہر نکلنے سے گھبراتی ہیں، ان کے ڈر میں کمی آئے گی اور وہ بے خوف ہوکر آفس ، بازار اور گھریلو کام سے باہر نکل سکیں گی ۔لیکن اس کے ساتھ ہی پولیس افسران اور سرکاری ملازمین کے خلاف سخت کارروائی کے لئے فوجداری قانون میں ترمیم کی جو سفارش کی گئی ہے اس کو لاگو کرنے کے ساتھ ساتھ اگر ان افسروں کے خلاف بھی سخت قانون بنا دیے جائیں جن کے حلقے میں یا جن کی کوتاہی کی وجہ سے ملک کے کسی حصے میں فرقہ وارانہ فساد ہوتے ہیں یا جن کی غلط نشاندہی کی وجہ سے کسی معصوم کو گرفتار کرکے جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے ،اگر ان کے خلاف بھی سخت کارروائی کا قانون بنادیا جائے اور اس پر مخلصانہ عمل ہو تو ملک میں ہر طرف امن کا ماحول بن جائے گا اور مسلمانوں میںقانون پر اعتماد میں اضافہ بھی ہوگا۔
اس وقت پورے ملک میں عصمت دری کے خلاف بیداری آئی ہے اور ہر طرف سے مجرموں کو سخت سزا کی مانگ ہورہی ہے ۔یہ ایک اچھی بات ہے اور ملک کے لئے بہترین علامت بھی لیکن اس کے ساتھ ہی ہمیں دیگر پہلوئوں کی طرف بھی دیکھنا ہوگا جن کی وجہ سے ملک کا امن چین غارت ہورہا ہے اور وہ ہے فرقہ پرستی ۔ظاہر ہے فرقہ وارانہ ذہنیت نے ملک کو جتنا جانی و مالی نقصان پہنچایا ہے اتنا شاید کسی دوسرے جرائم سے نہ پہنچا ہوگا۔ اس لئے اس وقت عصمت دری پر لگام کسنے کے قانون کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ انسداد فرقہ وارانہ فساد بل بھی پاس کرایا جائے تاکہ امن مخالف ذہنیتوں کے عزائم کو کچلا جاسکے اور ان قوتوں کے خلاف کارروائی کرنے کی بھی سخت ضرورت ہے جو کسی ایک فرقہ کے خلاف سازش رچ کر ایک فرقہ کے بے گناہ شہریوں کو اپنی سازش کا نشانہ بناتے ہیں۔

اس وقت پورے ملک میں عصمت دری کے خلاف بیداری آئی ہے اور ہر طرف سے مجرموں کو سخت سزا کی مانگ ہورہی ہے ۔یہ ایک اچھی بات ہے اور ملک کے لئے بہترین علامت بھی لیکن اس کے ساتھ ہی ہمیں دیگر پہلوئوں کی طرف بھی دیکھنا ہوگا جن کی وجہ سے ملک کا امن چین غارت ہورہا ہے اور وہ ہے فرقہ پرستی ۔ظاہر ہے فرقہ وارانہ ذہنیت نے ملک کو جتنا جانی و مالی نقصان پہنچایا ہے اتنا شاید کسی دوسرے جرائم سے نہ پہنچا ہوگا۔ اس لئے اس وقت عصمت دری پر لگام کسنے کے قانون کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ انسداد فرقہ وارانہ فساد بل بھی پاس کرایا جائے تاکہ امن مخالف ذہنیتوں کے عزائم کو کچلا جاسکے اور ان قوتوں کے خلاف کارروائی کرنے کی بھی سخت ضرورت ہے جو کسی ایک فرقہ کے خلاف سازش رچ کر ایک فرقہ کے بے گناہ شہریوں کو اپنی سازش کا نشانہ بناتے ہیں۔

اس سلسلے میں سب سے بڑی ذمہ داری بر سر اقتدار پارٹی کی ہے کہ وہ ہر ایسی تنظیم جس کے خلاف سازش رچنے کی شہادتیں موجود ہیں ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرے اور ضرورت پڑے تو اس تنظیم کو غیر قانونی قرار دے کر سازش کا راستہ بند کردے۔ ابھی کچھ دنوں پہلے ملک کے وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے کانگریس پارٹی کے ’’ چنتن شیور‘‘ میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ آر ایس ایس کی دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے ثبوت ہیں۔ یہی نہیں سکریٹری برائے داخلہ نے بھی دس ایسے ناموں کی نشاندہی کی ہے جو ملک کے مختلف حصوں میں دہشت گردانہ سرگرمیوں میں شامل تھے اور ان کا تعلق آر ایس ایس سے ہے۔ ظاہر ہے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوچکی ہے کہ آر ایس ایس ایک ایسی جماعت ہے جو ایک مخصوص فرقہ کے خلاف ناپاک عزائم لے کر آگے بڑھ رہی ہے۔ایسی صورت میں اگر ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا ہے تو حکومت کو چاہئے کہ وہ نہ صرف اس جماعت پر پابندی عائد کرے بلکہ یہاں سے ٹریننگ لے کر جو لوگ ملک کے اطراف میں پھیلے ہوئے ہیں وہ کبھی بھی کوئی بھی حادثہ انجام دے سکتے ہیں لہٰذا ان کا پتہ لگائے کہ وہ کہاں ہیں اور انہوں نے اس سے پہلے کہاں کہاں دہشت گردانہ سرگرمیاں انجام دی ہیں۔ ساتھ ہی جن حادثوں میں اب تک ان کے شامل ہونے کے ثبوت مل چکے ہیں اور ان حادثوں میں مجرم بنا کر مسلمانوں کے بچے گرفتار کرکے جیل بھیج دیے گئے ہیں ،ان کی رہائی کی راہ ہموار کی جائے۔
ملک میں سلامتی بحال رکھنے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ آئین کی بالادستی کے لئے کام کیا جائے۔ اگر آئین کے خلاف کوئی کام انجام دیا جاتا ہے تو بلا کسی امتیاز کے اس پر کارروائی ہونی چاہئے۔ اگر اکبر الدین اویسی کو امن مخالف تقریر کے جرم میں ایف آئی آر درج کرکے جیل بھیجا جاتا ہے تو یہ درست ہے، کیونکہ ہم کسی بھی صورت میں کسی ایسے بیان کی حمایت نہیں کرسکتے جس سے ملک کے امن کو خطرہ ہو لیکن اس کے ساتھ ہی انصاف کا تقاضہ یہ بھی ہے کہ دوسرے فرقہ کے لوگ جیسے پروین توگڑیا،آدتیہ ناتھ، ونے کٹیار،اوما بھارتی جیسے لوگوں کے خلاف بھی ویسی ہی کارروائی ہونی چاہئے جو مسلمانوں کے خلاف زہر اگلتے ہیں اور علی الاعلان ان کی وفاداری پر سوالیہ نشان کھڑا کرتے ہیں، تاکہ مسلمانوں کے زخم سل سکیں اور وہ یہ محسوس کرسکیں کہ قانون اپنا کام کررہا ہے۔اسی طرح بال ٹھاکرے ایک عرصے تک نفرت کی سیاست کرتے رہے مگر کبھی ان کو گرفتار نہیں کیا گیا،اب دیکھتے ہیںان کے بیٹے کیا گُل کھلاتے ہیں۔
جس طرح حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ قانون کی بالادستی اور عوام میں راحت رسانی کے لئے مخلصانہ کوشش کرے اسی طرح ملک کی ان تنظیموں کی بھی بڑی ذمہ داری بنتی ہے جو فلاح و بہبود کے بینر تلے کام کررہی ہیں کہ ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہوکر ملک مخالف سرگرمیاں انجام دینے والی ذہنیت کے خلاف اٹھ کھڑی ہوں ،خاص طور پر ایسے وقت میں جب ہر طرف سے مسلمانوں پر یلغار ہورہی ہے اوربر سر اقتدار پارٹی کانگریس بھی مسلمانوں کو سبز باغ دکھانے کے علاوہ کوئی مخلصانہ اقدام نہیںاٹھارہی ہے، مسلم تنظیمیں بھی یک جٹ ہوکر فرقہ ورانہ ذہن رکھنے والی اور مسلمانوں کے خلاف سازش رچنے والی تنظیموں کے خلاف جمع ہوجائیں اور ایک ساتھ آواز بلند کریں ۔ لیکن افسوسناک پہلو یہ ہے کہ شندے اورداخلہ سکریٹری کے واضح بیان کے بعد بھی مسلم تنظیمیں الگ الگ سیاست کرنے میں لگی ہوئی ہیں۔ وہ الگ الگ اسٹیج سے شندے کے بیان کی حمایت میں اور فرقہ ورانہ ذہنیت کی حامل پارٹی پر پابندی لگانے کا مطالبہ کررہی ہیں اگر یہ سب ایک ساتھ مل کر حکومت سے پرزور مطالبہ کریں اور یہ سوال کریں کہ آخر اتنے دنوں سے کانگریس کے پاس ان دہشت گردوں کے بارے میں معلومات موجود تھی توپھر ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی اور اب جبکہ معاملہ بالکل صاف ہوچکا ہے اور ان تشدد پسندلوگوں کے خلاف ثبوت مہیا ہیں تو حکومت کارووائی کرنے کے لئے کیا اقدام کررہی ہے۔
بہر کیف گزشتہ دنوں ورما کمیٹی نے جو رپورٹ پیش کی ہے ۔یہ اپنے آپ میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور حکومت اس معاملے میں فی الوقت سنجیدہ نظر آرہی ہے ۔ فوجداری کے معاملہ میں ترمیم کرنے کی جو سفارش کی گئی ہے اس پر بھی غور کیا جارہا ہے مگر ساتھ ہی اگر ان بے قصوروں پر بھی اعلیٰ کمیشن بٹھایا جائے جو دہشت گردی کے الزام میں برسوں سے جیلوں میں بند ہیں اور جب ان میں سے کسی کی رہائی ہوتیہے تو حکومت کی طرف سے کوئی معاوضہ بھی نہیں دیا جاتا ،ساتھ ہی ان پولیس والوں کے خلاف بھی کارروائی کے پہلو پر غو رکیا جائے جو بے قصوروں کومجرم بنا کر کورٹ میں پیش کردیتے ہیں، تو ملک کے امن کے لئے ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ سب الیکشن اسٹنٹ کے طور پر ہورہا ہے۔ کانگریس 2014 کے الیکشن میں مسلمانوں کے ووٹ کو اپنی جھولی میں ڈالنے کے لئے یہ سب کررہی ہے ورنہ کیا وجہ ہے کہ جن تشدد پسند لوگوں کے ناموں کو حکومت کئی سال پہلے جانتی تھی، ان کو چھپائے رہی اور شندے نے ان کے ناموں کو کسی پریس کانفرنس میں بتانے کے بجائے ’چنتن شیور میں منکشف کیا اور حیرت کی بات یہ ہے کہ جب کسی مسلم لڑکے کو اسی جرم میں پکڑا جاتا تھا تو حکومت خاموشی اختیار کرلیتی تھی۔ان باتوں کو دیکھنے سے تو ایسا ہی لگتا ہے کہ حکومت شاید ان تشدد پسند جماعتوں کے خلاف کارروائی کرنے میں ٹال مٹول سے کام لے ۔خدا کرے ایسا نہ ہو، اگر ایسا ہوتا ہے تویہ ملک کے مستقبل کو بھیانک اور خطرناک انجام تک لے جاسکتاہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *