جن تنتر ریلی : 25نکاتی چارٹر

اگلی پارلیمنٹ، جسے عوام منتخب کرے گی، وہ آئین مخالف نہیں ہوگی، بلکہ توقع کرنی چاہیے کہ وہ ہندوستانی آئین کے مطابق ملک کے عوام کی توقعات کی تکمیل کرے گی۔ عوام کے ذریعے چنی ہوئی نئی پارلیمنٹ ایک سال کے اندر ان کاموں کو نافذ کرے گی۔
1     بدعنوانی کو ختم کرنے کے لیے ہر سطح پر نہ صرف حکومت کے کام میں شفافیت آئے گی، بلکہ پالیسی وضع کرنے کے فیصلوں میں بھی عوام کو جاننے کا حق ہوگا کہ یہ فیصلہ کیوں لیا جا رہا ہے۔ مرکز میں مؤثر جن لوک پال اور ریاستوں میں جن لوک آیکت کا قیام عمل میں آئے گا۔ سی بی آئی اور سی وی سی اہل آئینی ادارے کی شکل میں کام کریں گے۔ اعلیٰ عہدوں پر ہونے والی بدعنوانی کی تفتیش عوامی طور پر کرائیں گے۔ آرٹی آئی کے قانون کو مضبوط کریں گے۔ غیر ملکی اور ملکی سلامتی کے معاملے کو چھوڑ کر حکومت کے فیصلہ کی فائل کو 2سال کے بعد عام کیا جائے گا۔ اسے انٹر نیٹ پر ڈالا جائے گا۔
2     بلا تاخیر انتخابی عمل میں وسیع اصلاح کا قانون لایا جائے گا، تاکہ بدعنوانی اور جرائم پیشہ افراد عوامی نمائندے نہ بن سکیں۔
3     گائوں کو اہم ایڈمنسٹریٹو یونٹ بنایا جائے گا اور گرام سبھا کو زیادہ اختیارات دیے جائیں گے۔
4     ہر گائوں میں خودمختار اور سیلف سسٹینڈ دیہی معاشی منصوبے کو نافذ کیا جائے گا۔
گرام سبھائوں کو ہی اہم طور پر تعلیم، صحت، روزگار اور انفراسٹرکچر کو فروغ دینے کی ذمہ داری دی جائے گی۔
پورے ضلع کی گرام سبھائیں مل کر باہمی اقتصادی تعاون اور تال میل سے بے روزگاری کے مکمل خاتمہ اور صد فیصد روزگار کے لیے ذمہ دار ہوں گی۔ ضلع سے باہر کوئی بھی بے روزگار نہیں جائے گا۔
گائوں، بلاک اور ضلعی سطح پر مارکیٹنگ یونٹ کا قیام ہوگا، تاکہ کسانوں کی فصل مناسب قیمتوں پر بازار میں بھیجی جا سکے۔
گرام سبھائوں کے ذریعے لیے گئے فیصلے کو عمل پیرا نہ کر پانے کی صورت میں ضلع میں تعینات اعلیٰ حکام کو ذمہ دار مانا جائے گا اور مناسب کارروائی کی جائے گی۔
گائوں؍ بلاک؍ ضلع میں رہنے والا آدمی بھوکا نہ سوئے، اس کی ذمہ داری ضلع میں کام کرنے والے افسران کی ہوگی۔
مقامی وسائل کی بنیاد پر ترقی اور صنعت کاری کا نیا ڈھانچہ تیار کیا جائے گا۔
کھیتی کو اقتصادی طور پر مفید بنایا جائے گا، زراعت کو صنعت سے جوڑا جائے گا اور زراعتی مزدوروں کو زراعت پر مبنی صنعت میں ترجیح دی جائے گی۔
ہر بلاک میں اناج اسٹور کرنے کی سہولت فراہم کی جائے گی تاکہ اناج برباد نہ ہو سکے۔
5     تحویل اراضی قانون میں کسانوں کے مفاد کے لیے ترمیم کی جائے گی، تاکہ کسانوں کی زمین کوئی نہ چھین سکے۔ ساتھ ہی کسانوں کے لیے نئی قرض پالیسی وضع کی جائے گی۔
بے زمین لوگوں کو زمین دینے کے لیے قانون وضع کیا جائے گا۔
سرکاری منصوبوں کی وجہ سے جن کی زمینی چھن گئی ہیں، انہیں زمین دینے کا نظام نافذ کیا جائے گا۔
6     نیا فاریسٹ ایکٹ بنایا جائے گا۔ قبائلیوں کے اختیارات لوٹائے جائیں گے۔ ہم ایسی پالیسی بنائیں گے، جس میں جنگل کٹنا بند ہو جائیں گے۔ کھانا بنانے کے کام میں جنگل کو برباد کرنے والی پالیسی ختم کریں گے اور غریب کے کھانا بنانے کے لیے گیس مہیا کرانے کی ذمہ داری حکومت کی ہوگی۔ غریبوں کو مفت گیس سلنڈر دیا جائے گا۔
7     قومی وسائل کے استعمال پر نیا قانون وضع کیا جائے گا۔ معدنیات کی نجکاری پر فوری طور پر روک لگائی جائے گی، تاکہ کوئی پرائیویٹ کمپنی ملک کے وسائل کو نہ لوٹ سکے۔
8     سبھی کو پانی مل سکے، اس کے لیے پانی کی بچت اور تقسیم کے نئے منصوبے نافذ کیے جائیں گے۔
ندیوں اور ذخائر کے پانی کی نجکاری پر بلا تاخیر روک لگائی جائے گی۔
ندیوں کا پانی اور بارش کے پانی کا اسٹوریج اور صفائی کے لیے نئے منصوبوں کو نافذ کیا جائے گا۔ ندیوں کی صفائی کی ذمہ داری، ندیوں کو بلا روک تھام بہنے دینے کی ذمہ داری ندیوں کے کنارے رہنے والے لوگوں کو دی جائے گی۔
9    ملک میں جتنے ریٹائرڈفوجی ہیں اور جو کام کر سکتے ہیں، انہیں سماج کی ترقی میں شامل کیا جائے گا اور ہر سال ریٹائر ہونے والے تقریباً 60 ہزار فوج کے جوانوں کو وہی اعزاز اور عزت دی جائے گی جو انہیں فوج میں ملتی تھی۔
10     گائوں گائوں تک طبی خدمات پہنچ سکے، اس کے لیے طبی خدمات میں وسیع تبدیلی لائی جائے گی۔ غریب سے غریب اور دور دراز گائوں کے لوگوں کو طبی خدمات ملیں، اس کے لیے ملک میں نئی طبی پالیسی وضع کی جائے گی۔ ہر بزرگ کے مفت علاج کا نظام ہوگا۔ ہیلتھ انشو رینس کو ضروری بنایا جائے گا۔
11     ملک کے استحصال زدہ، سماجی اور اقتصادی طور پر پسماندہ اقلیتوں اور دوسرے طبقوں کے غریب لوگوں کی اقتصادی ترقی کے لیے خصوصی منصوبے عمل میں لائے جائیں گے۔
12     عدلیہ نظام میں بنیادی تبدیلی لائی جائیں گی۔ غریبوں کو انصاف کیسے اور کیسے پابندی کے ساتھ انصاف ملے، اس کا ڈھانچہ تیار کیا جائے گا۔
13     تعلیم کی نئی پالیسی نافذ ہوگی۔ کلرک بننے والی تعلیم نہیں دی جائے گی، بلکہ بہتر شہری بنانے والی تعلیم دی جائے گی۔ لوگوں کو ایماندار اور بدعنوانی سے لڑنے والے شخص کو فروغ دینے والی تعلیم دی جائے گی۔
تعلیم کو روزگار سے جوڑا جائے گا۔
مقامی کچے مال کی بنیاد پر ہر اسکول اور کالج کے ساتھ ایک انڈسٹری کو فروغ دیا جائے گا، مثلاً ندیوں کے کنارے تمام اسکولوں اور کالجوں کو دودھ اور دودھ سے بننے والی اشیاء کو بنانے والی صنعتوں سے جوڑ دیا جائے گا۔ ان اسکولوں اور کالجوں میں تیار ہونے والے مال کو کوالٹی کنٹرول کی بنیادپر حکومت خریدے گی۔
اسکول؍ کالج کے ارد گرد کے پانچ؍ دس کلو میٹر کے علاقہ میں سبھی کو خواندہ بنانے کی ذمہ داری ان اسکولوں؍ کالجوں کے طالب علموں کو دی جائے گی۔
ملک میں ہر شعبہ میں ریسرچ کو ترجیح دی جائے گی اور ہر سطح پر ملکی ٹکنالوجی کو فروغ دیا جائے گا، کیونکہ تمام ترقی پذیر ممالک میں ہندوستان کے ہی لوگ ریسرچ کر رہے ہیں، جنہیں ہم خریدتے ہیں۔
تعلیم کی نجکاری اور بازارکاری کے خلاف سخت قانون وضع کیا جائے گا۔
14     تمام نوجوانوں کو روزگار مل سکے، اس کے لیے ملک میں نئی روزگار پالیسی کو نافذ کیا جائے گا۔ کون سی چیزیں چھوٹی موٹی صنعت اور کون سی چیزیں بڑی انڈسٹری میں بنیں گی، ا س کا فیصلہ ملک میں موجود تعلیم یافتہ اور ناخواندہ نوجوانوں کی تعداد کو دھیان میں رکھ کر کیا جائے گا۔
15    غیر ملکی بینکوں میں جمع کالے دھن کو قومی اثاثہ قرار دے کر اسے واپس لایا جائے گا۔
16     ملاوٹ کے خلاف سخت قانون بنایا جائے گا اور ملاوٹ خوروں کو عمر قید کی سزا دی جائے گی۔
17     مہنگائی پر روک لگائیں گے اور مہنگائی کو کم بھی کریں گے، کیونکہ مہنگائی کے سبب بدعنوانی اور غلط منصوبے تشکیل ہوئے ہیں۔ ڈیژل، پیٹرول اور ککنگ گیس کی قیمت طے کرنے کا اختیار واپس حکومت کے پاس لایا جائے گا۔
18     اندھا دھند غیر ملکی سرمایہ کاری پر روک لگائی جائے گی۔ غیر ملکی سرمایہ کاری کس شعبہ میں آئے گی اور کس شعبہ میں نہیں آئے گی، اس کا جائزہ نئے سرے سے لیا جائے گا۔
19     انگریزوں کے وقت سے چل رہے عوام مخالفت قوانین کو ختم کیا جائے گا۔ آزاد ہندوستان کے آئین کے مطابق نئے قانون وضع کیے جائیں گے۔
20     ملک میں نئی ٹیکس پالیسی بنائی جائے گی۔ عوام کو لوٹنے والے ٹیکس نظام پر روک لگائی جائے گی۔
21     ریل، بس اور ٹریفک کے دوسرے وسائل کو درست کیا جائے گا۔
22     ملک میں نئی توانائی پالیسی نافذ ہوگی۔ ہم بڑے پیمانہ پر ایسی ٹکنالوجی لائیں گے، تاکہ ہر گائوں اور ہر شہر میں کم سے کم 20گھنٹے بجلی کی سپلائی یقینی ہو سکے۔
23     پولس سسٹم میں بنیادی تبدیلی لائی جائے گی، تاکہ پولس محکمہ مستعد، حساس اور چست درست ہو سکے۔
24     ملک میں پہلی بار ایک یوتھ پالیسی وضع کی جائے گی، تاکہ ملک کے نوجوانوں کا مستقبل یقینی ہو سکے اور وہ دنیا میں ہندوستان کی شہرت کو بلندیاں بخشیں۔
25     ملک کی خواتین کو ہر سطح پر اہلیت کی بنیاد پر نہ صرف روزگار اسکیم میں شامل کیا جائے گا، بلکہ فیصلہ لینے والے اداروں میں بھی ان کا اہم مقام ہوگا۔
ہم اس بات کی حلف لیتے ہیں کہ ہم ایک نئی عوامی جمہوریت بنائیں گے۔ اصلی عوامی جمہوریت بنائیں گے۔ آپ کی مدد سے ہم مہاتما گاندھی، لوک نائک جے پرکاش نارائن، جواہر لعل نہرو، بابا بھیم رائو امبیڈ کر، مولانا آزاد اور بھگت سنگھ، راج گرو، سکھدیو، چندر شیکھر آزاد، اشفاق اللہ خاں جیسے تمام شہیدوں اور عظیم شخصیات کے خوابوں کا ہندوستان بنائیں گے۔ ایسی جمہوریت بنائیں گے، جس میں استحصال کی کوئی جگہ نہیں ہوگی، بدعنوانی نہیں ہوگی اور نہ ہی کوئی بدعنوان بچ پائے گا۔ ہم ایک ایسے ہندوستان کی تعمیر کریں گے، جس میں تمام دلت، قبائلی، پسماندہ، خانہ بدوش، مچھوارے، مسلمانوں اور تمام برادری اور فرقوں کے غریبوں کی ترقی ہوگی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *