جاننے کا حق، جینے کا حق

 آخر کیا ہے حق اطلاعات قانون، کیسے آپ اس قانون کا استعمال کر کے بدل سکتے ہیں اپنی زندگی اور سکھا سکتے ہیں بد عنوان افسروں اور عوامی نمائندوں کو سبق۔’’ چوتھی دنیا‘‘ آپ کو بتائے گا کہ کیسے کریں اس قانون کا استعمال اور کیسے تیار کریں آ رٹی آئی درخواست۔اگر آپ کو اس قانون کے استعمال سے متعلق کوئی پریشانی ہو، یا کوئی مشورہ چاہئے تو بھی آپ ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ہم آپ کو دیں گے صحیح مشورہ۔
حق اطلاعات قانون یعنی آر ٹی آئی کیا ہے؟
آر ٹی آئی ہندوستان کی پارلیمنٹ کے ذریعہ منظور شدہ ایک قانون ہے جو 12اکتوبر2005 کو لاگو ہوا۔یہ قانون ہندوستان کے سبھی شہریوں کو سرکاری فائلوں؍ریکارڈس میں درج اطلاع کو دیکھنے اور اسے حاصل کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ جموں و کشمیر کو چھوڑ کر ہندوستان کے سبھی محکموں میں یہ قانون لاگو ہے۔ سرکار، سرکاری خرچ اور افسروں یاملازمین کی تنخواہ بھی ہمارے دیے گئے ٹیکس سے ہی دی جاتی ہے۔یہاں تک کہ ایک رکشہ چلانے والا بھی جب بازار سے کچھ خریدتا ہے تو سیل و پروڈکٹ فیس کی شکل میں ٹیکس دیتا ہے ،لہٰذا ہم سبھی کے پاس یہ جاننے کا حق ہے کہ اس پیسے کو کس طرح خرچ کیا جارہا ہے۔یہ ہمارے مکمل اختیار کا ایک حصہ ہے۔
کیا اور کس سے اطلاع مانگ سکتے ہیں؟
سبھی اکائیاں؍محکمے جو آئین یا دیگر قانون یا کسی سرکاری نوٹیفکیشن کے تحت بنے ہیں یا سرکار کی زیر نگرانی ہیں یا سرکار سے فنڈ دیے جاتے ہیں ، وہاں سے متعلق اطلاع مانگی جا سکتی ہے۔
سرکار سے کوئی بھی اطلاع مانگ سکتے ہیں۔
سرکاری فیصلے کی کاپی لے سکتے ہیں۔
سرکاری دستاویز کی جانچ کر سکتے ہیں۔
سرکاری کام کی جانچ کر سکتے ہیں۔
سرکاری کام کے میٹریل کے نمونے لے سکتے ہیں۔
کس سے مانگیں اطلاع اور درخواست فیس کتنی ہے؟
اس قانون کے تحت ہر ایک سرکاری محکمہ میں پبلک انفارمیشن آفیسر ( پی آئی او) کے عہدہ کا انتظام ہوتا ہے۔آر ٹی آئی درخواست ان کے پاس جمع کرنا ہوتی ہے۔ درخواست کے ساتھ مرکزی سرکار کے محکموں کے لئے 10 روپے فیس دینی پڑتی ہے۔ حالانکہ کئی ریاستوں میں الگ الگ فیس رکھی گئی ہے ۔ اطلاع پانے کے لئے 2 روپے فی کاپی مرکزی سرکار کے محکموں کے لئے دینا ہوتا ہے۔یہ ہر ایک ریاست کے لئے الگ الگ ہے۔ درخواست فیس نقد، ڈی ڈی یا بینک چیک یا پوسٹل آرڈر کے ذریعہ سے جمع کر سکتے ہیں۔ کچھ ریاستوں میں ، آپ کورٹ فیس ٹکٹ خرید کر اپنی عرضی پر چپکا سکتے ہیں۔ ایسا کرنے پر آپ کی فیس جمع مانی جائے گی۔ آپ تب اپنی عرضی خود یا ڈاک سے جمع کرا سکتے ہیں۔
درخواست کا نمونہ کیا ہو
مرکزی سرکار کے محکموں کے لئے ، کوئی مخصوص فارمیٹ نہیں ہے۔ آپ ایک سادہ کاغذ پر ایک عام عرضی کی طرح ہی درخواست دے سکتے ہیں اور اسے پی آئی او کے پاس خود یا ڈاک کے ذریعہ جمع کر سکتے ہیں۔ اپنی درخواست کی ایک کاپی اپنے پاس نجی ریفرنس کے لئے ضرور رکھیں۔
کیا اطلاع پانے کا کوئی وقت مقرر ہے؟
ہاں! اگر درخواست پی آئی او کو دے دی گئی ہے، تو 30 دنوں کے اندر اطلاع مل جانی چاہئے۔ لیکن اگر درخواست اسسٹنٹ پی آئی او کو دی گئی ہے تو اطلاع 35دنوں کے اندر مل جانی چاہئے۔
اگر اطلاع نہ ملے؟
اگر اطلاع نہ ملے یا موصولہ اطلاع سے مطمئن نہ ہوں تو اپیلیٹ آفیسر کے پاس آر ٹی آئی کے آرٹیکل 19(1) کے تحت ایک اپیل دائر کریں ۔ہر ایک محکمے میں فرسٹ اپیلیٹ آفیسر ہوتا ہے۔ اطلاع موصول ہونے کے 30 دنوں اور آر ٹی آئی عرضی داخل کرنے کے 60 دنوں کے اندر فرسٹ اپیل کر سکتے ہیں۔
دوسری اپیل کیا ہے؟
دوسری اپیل آر ٹی آئی قانون کے تحت اطلاع پانے کا آخری متبادل ہے۔ دوسری اپیل انفارمیشن کمیشن کے پاس دائر کی جا سکتی ہے۔ مرکزی سرکار کے محکموں کے خلافسینٹرل انفارمیشن کمیشن اور ریاستی سرکاروں کے لئے اسٹیٹ انفارمیشن کمیشن ہے۔ فرسٹ اپیل کے نتیجہکے 90 دنوں کے اندر یا اس تاریخ کے 90 دنوں کے اندر جب تک فرسٹ اپیل پر عمل درآمد ہونا تھا ،دوبارہ اپیل دائر کی جا سکتی ہے۔
اگر آپ نے آر ٹی آئی کا استعمال کیا ہے اور اگر کوئی اطلاع آپ کے پاس ہے، جسے آپ ہمارے ساتھ بانٹنا چاہتے ہیں تو ہمیں وہ اطلاع مندرجہ ذیل پتہ پر بھیجیں۔ ہم اسے شائع کریں گے۔ اس کے علاوہ آر ٹی آئی قانون سے متعلق کسی بھی سجھائو یا مشورے کے لئے آپ ہمیں ای میل کر سکتے ہیں یا ہمیں خط بھی لکھ سکتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *