جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی

آشوتوش شرما، جموں
پچاسی سالہ ضعیفہ، بیگم جان کسی معصوم بچے کی طرح حیرت سے اپنی بیٹی فاطمہ بیگم سے ملاقات کی تفصیل اپنے اور بیگانے سب سے بیان کرتی ہیں۔ ا ن کی لاڈلی زمانے کی گردش کی وجہ سے لائن آف کنٹرول کی دوسری جانب رہائش پذیر ہیں۔ بیگم جان اپنے گاؤں نکّا منجھری، جو ہندوستان کے حدود میں تحصیل مینڈھر، ضلع پونچھ میں لائن آف کنٹرول سے محض چند کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ واضح ہو کہ یہ علاقہ ہندوستان کا ایک گمنام کنارہ ہے، جو حال ہی میں ہندوستانی سرحد میں دو ہندوستانی فوجیوں اور پاکستانی سرحد میں ایک پاکستانی فوجی کے بہیمانہ قتل کی وجہ سے سرخیوں میں رہا ہے۔ سرحد کے دونوں طرف ہونے والے ان حادثات نے بیگم جان جیسے افراد کی سرحد کے پار جاکر اپنے خاندانوں سے ملنے کی امیدوں کو اور بھی معدوم کردیا ہے، جو پہلے ہی بہت کم تھیں۔ اس افسوسناک سانحہ کے بعد لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب ہونے والی تجارت اور بس خدمات معطل کر دی گئی ہیں۔ اس واقعہ نے سرحد کے دونوں جانب رہنے والے خاندانوں کے علاوہ امن پسند شہریوں کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ اس واقعے سے متاثر ہونے والے افراد امن کے لیے شدت سے دعائیں کر رہے ہیں۔ بیگم جان ان ہزاروں افراد میں سے ایک ہیں، جن کی زندگی ان تنازعات نے اجیرن کر دی ہے۔

بیگم جان کو اس بات کا بے حد افسوس تھا کہ ان کے شوہر جنگ کے دوران جد ا ہونے والی اپنی بیٹی کو دیکھے بغیر ہی اللہ کو پیارے ہوگئے۔ افسردگی کے ساتھ وہ کہتی ہیں کہ ’’ہماری ملاقات کا کیا فائدہ؟ اب تو میں کچھ دیکھ بھی نہیں سکتی، لیکن میں اب بھی یہی چاہتی ہوں کہ وہ مجھ سے ملنے آیا کرے۔ میری خواہش ہے کہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ یہیں رہ کر زندگی بسر کرے۔ میرے بیٹے کی طرح میری زمین و جائیداد میں اس کا بھی ترکہ ہوگا۔‘‘ وہ مزید کہتی ہیں کہ ’’میں اپنی بیٹی سے بار بار ملنا چاہتی ہوں، مگر سرحد پر جاری افراتفری کے سبب وہ بس بھی بند ہوگئی، جو ہمیں ملایا کرتی تھی۔

بیگم جان کی بیٹی فاطمہ بیگم 1965 کی جنگ کے ہنگاموں کے دوران سرحدکی دوسری جانب پھنس گئی تھیں۔ اس وقت بیگم جان نے سوچا تھا کہ جنگ ختم ہونے کے بعد وہ لوگ پھر سے مل جائیں گے، لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ انتظار بڑھتا گیا، دن مہینے اور مہینے برسوں میں تبدیل ہو تے چلے گئے او ر ان سالوں کی بھی کیا حقیقت تھی، سال در سال نصف صدیاں بیت گئیں۔ اتنے عرصے بعد گزشتہ برس جولائی میں وہ اپنی کھوئی ہوئی بیٹی سے پہلی مرتبہ ملنے میں کامیاب ہو سکیں۔ امید کے برخلاف 47 برسوں کے بعد ہونے والی یہ پر مسرت اور پر نم ملاقات فرطِ جذبات سے لبریز بغل گیریوں کے باوجود ادھوری ہی رہی، کیونکہ اس وقت تک ضعیفہ بیگم جان اپنی بینائی کھو چکی تھیں۔ بیگم جان کو اس بات کا بے حد افسوس تھا کہ ان کے شوہر جنگ کے دوران جد ا ہونے والی اپنی بیٹی کو دیکھے بغیر ہی اللہ کو پیارے ہوگئے۔ افسردگی کے ساتھ وہ کہتی ہیں کہ ’’ہماری ملاقات کا کیا فائدہ؟ اب تو میں کچھ دیکھ بھی نہیں سکتی، لیکن میں اب بھی یہی چاہتی ہوں کہ وہ مجھ سے ملنے آیا کرے۔ میری خواہش ہے کہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ یہیں رہ کر زندگی بسر کرے۔ میرے بیٹے کی طرح میری زمین و جائیداد میں اس کا بھی ترکہ ہوگا۔‘‘ وہ مزید کہتی ہیں کہ ’’میں اپنی بیٹی سے بار بار ملنا چاہتی ہوں، مگر سرحد پر جاری افراتفری کے سبب وہ بس بھی بند ہوگئی، جو ہمیں ملایا کرتی تھی۔ میری دونوں حکومتوں سے درخواست ہے کہ وہ الگ الگ اپنے معاملات کو حل کریں اور بس سروس کا تعطل فوری طور پر ختم کریں۔ میری دعا ہے کہ دونوں جانب سے سمجھداری سے کام لیا جائے، تاکہ ہمارے جیسے لوگ امن کے ساتھ زندگی بسر کر سکیں اور سکون سے موت کی آغوش میں جا سکیں۔‘‘
انسانی بحران کی اذیت سے لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب رہنے والے گزر رہے ہیں۔ اسی گاؤں کے رہنے والے شہباز چودھری، جو پیشے سے پولیٹیکل سائنس کے ریسرچر اور دل سے شاعر ہیں، کہتے ہیںکہ ’’کشمیر کی تقسیم اور اس سے قبل ملک کی تقسیم نے ہمارے جسم و روح پر جو زخم لگائے ہیں، وہ آج بھی تازہ ہیں۔ ہم تقسیم اور اس کے بعد ہونے والی جنگوں کے دوران اپنے عزیزوں سے بچھڑ جانے والوں کی زبانی ان کی دل دہلا دینے والی کہانیاں سنتے ہوئے بڑے ہوئے ہیں۔ ہم نے ایک طویل مدت کے بعد اپنے بچھڑے ہوئے عزیزوں سے ملنے والوں کو اپنا جگر چاک کرکے روتے ہوئے دیکھا ہے۔ ان کے نالے اور آہ و بکا، ایک دوسرے کو سینے سے لگاتے ہوئے ان کے جذبات کی گرماہٹ اور بوس و کنار اور پھر اس چلتی ہوئی بس کی کھڑکیوں سے ہاتھ ملانا، الوداعی کلمات ادا کرنا، جس جگہ سرحد کے پار سے آنے اور سرحد پار جانے والی سواریاں اترتی ہیں، ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ان کی بے چین اور تڑپتی ہوئی روحیں امن کی خاموش پکار سے لبریز ہیں اور امن کی خواہاں ہیں۔‘‘ ملکوں کے ذریعے بنائی گئی سرحدیں تارکین وطن کی اپنی زمین، اپنے وطن سے رشتے کو تبدیل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ شہباز کہتے ہیں ’’کیا آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ سرحد کے اس پار رہنے والے بزرگ یہاں آنے والے مسافروں سے پونچھ سے اپنے ساتھ کیا لانے کو کہتے ہیں؟ وہ یہاں سے عجیب و غریب چیزیں لانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ کبھی وہ کسی ایسے پرانے پیڑ کی پتیاں مانگتے ہیں، جو انہوں نے اپنے بچپن یا جوانی میں یہاں لگایا تھا، کبھی وہ اپنے گھروں، کھیتوں، گاؤں کی گلیوں، پہاڑوں، جھرنوں کی تصویریں مانگتے ہیں اور کبھی اپنے عزیزوں کی آوازوں کی ریکارڈنگ کی مانگ کرتے ہیں۔‘‘ وہ اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہتے ہیں ’’ حساسیت اور جذبات کا یہ سلسلہ جنگ اور نفرت کی دیوانگی کے سبب تھمنا نہیں چاہیے۔‘‘ سرحد پررہنے والا ہر انسان چاہتا ہے کہ حالات جلد از جلد نارمل ہو جائیں، تاکہ وہ بس سروس جسے سرحدی باشندے امن اور آشتی کا پیامبر بھی سمجھتے ہیں، دوبارہ شروع ہو سکے۔ ان سرحدی دیہاتوں میں امن کے بغیر خوشحالی کا تصور ناگزیر ہے۔
گاؤں کے ایک اور شخص لعل حسین، جنہوں نے ان سرحدوں کو اپنی زندگیوں کے عین درمیان سے گزرتے دیکھا ہے، کہتے ہیں کہ دونوں حکومتوں کے ذریعے اس متنازع سرحد کے دونوں طرف آباد معصوم لوگوں کو فراموش یا نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ حسین، جو بس سروس کے جلد از جلد شروع ہونے کے خواہاں ہیں، کہتے ہیں ’’بڑے بڑے شہروں کے بڑے ایوانوں سے جنگ کی پکار لگانا آسان ہے، لیکن انہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ ان سرحدوں کے دونوں طرف آباد لوگوں کو جنگ سے ہونے والی تباہ کاریوں کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔‘‘ اس خواہش کا اظہار کرتے ہوئے وہ اردو زبان کے مشہور شاعر ساحر لدھیانوی کے کلام کی لائنیں گنگناتے ہوئے آگے بڑھ جاتے ہیں:
جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے
جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی
جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے
(چرخہ فیچرس)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *