اطلاع کے بدلے کتنا پیسہ دینا ہے

حق اطلاعات قانون کے تحت جب آپ کوئی اطلاع مانگتے ہیںتو کئی بار آپ سے اطلاع کے بدلے پیسہ مانگا جاتا ہے۔ آپ سے کہا جاتا ہے کہ اطلاع اتنے صفحے کی ہے اور ہر صفحے کی فوٹو کاپی کے حساب سے رقم جمع کرائیں۔ کئی ایسے معاملے بھی سامنے آئے ہیں جن  میں پبلک انفارمیشن آفیسر نے درخواست کنندہ سے اطلاع کے بدلے 70 لاکھ روپے تک جمع کرانے کو کہا ہے، کئی مرتبہ تو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ اطلاع کافی بڑی ہے اور اسے اکٹھا کرنے کے لئے ایک یا دو ملازم  کو ایک ہفتہ تک کام کرنا پڑے گا، اس لئے مذکورہ ملازم  کے ایک ہفتہ کی تنخواہ آپ کو دینا ہوگی۔ظاہر ہے،اطلاع نہ دینے کے لئے سرکاری بابو،  اس طرح کا ہتھکنڈہ اپناتے ہیں۔ ایسی حالت میں یہ ضروری ہے کہ آر ٹی آئی درخواست کنندہ کو فیس سے متعلق قانون کے بارے میں صحیح اور پوری جانکاری ہونی چاہئے، تاکہ کوئی پبلک انفارمیشن آفیسر آپ کو بے وجہ پریشان نہ کرسکے۔ اس شمارے میں ہم آپ کو آر ٹی آئی فیس اور اطلاع کے بدلے دی جانے والی فیس کے بارے میں بتا رہے ہیں۔ یہ صحیح بات ہے کہ آر ٹی آئی قانون کی دفعہ 7 میں اطلاع کے بدلے فیس کا ذکر ہے لیکن دفعہ 7 کی ہی ذیلی دفعہ میں لکھا گیا ہے کہ یہ فیس سرکار کے ذریعہتعین  کی جائے گی۔ اسی کے تحت سرکار کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے مختلف محکموں میں حق اطلاعات قانون کے تحت دی جانے والی فیس وغیرہ طے کرے گی۔ مرکزی اور ریاستی سرکاروں نے اس اختیار کے تحت اپنے اپنے یہاں فیس کے لئے دستور العمل بنایا ہے اور اس میں طے کیا گیا ہے کہ درخواست پیش کرنے سے لے کر فوٹو کاپی وغیرہ کے لئے کتنی کتنی فیس لی جائے گی۔ اس کے آگے دفعہ 7 کی ذیلی دفعہ 3 میں پبلک انفارمیشن آفیسر کی ذمہ داری بتائی گئی ہے کہ وہ سرکار کے ذریعہ طے کی گئی فیس کی بنیاد پر حساب لگاتے ہوئے درخواست کنندہ کو بتائے گا کہ اسے اطلاع لینے کے لئے کتنی فیس دینی ہوگی۔ ذیلی دفعہ 3 میں لکھا گیا ہے کہ یہ فیس وہی ہوگی جو ذیلی دفعہ 1 میں سرکار کے ذریعہ طے کی گئی ہوگی۔ ملک کی سبھی ریاستوں میں اور مرکزی سرکار نے فیس کا دستور العمل بنادیا ہے اور درخواست کے لئے کہیں 10 روپے فیس رکھی گئی ہے تو کہیں 50 روپے۔ اسی طرح دستاویزوں کی فوٹو کاپی لینے کے لئے بھی 2 روپے سے 5 روپے تک کی فیس ہر ریاست میںالگ الگ  ہے۔ دستاویزوں کی جانچ ، کام کی جانچ، سی ڈی، فلوپی پر اطلاع لینے کے لئے فیس بھی اس دستور العمل میں بتائی گئی ہے۔
دفعہ 7 کی ذیلی دفعہ 3 کہتی ہے کہ پبلک انفارمیشن آفیسر یہ حساب لگائے گا کہ درخواست کنندہ نے جو اطلاع مانگی ہے وہ کتنے صفحوں میں ہے یا کتنی سی ڈی ، فلوپی وغیرہ میں ہے۔ اس کے بعد پبلک انفارمیشن آفیسر سرکار کے ذریعہ بنائے دستور العمل میں بتائے گئے ریٹ سے یہ حساب لگائے گا کہ درخواست کنندہ کو اطلاع لینے کے لئے کل کتنی رقم جمع کرانی ہوگی۔ اس کے لئے کسی پبلک انفارمیشن آفیسر کو یہ اختیار قطعی نہیں دیا گیا ہے کہ وہ من مانے طریقے سے فیس مانگے اور درخواست کنندہ کو موٹی رقم جمع کرانے کے لئے دبائو ڈالے۔ ایسے میں جو بھی پبلک انفارمیشن آفیسر من مانے طریقے سے اپنی سرکار کی طرف سے طے شدہ فیس سے الگ فیس درخواست کنندہ سے مانگتے ہیں تو  یہ غیر قانونی ہے۔ اسی کے ساتھ ایک درخواست کنندہ کو یہ بھی پتہ ہونا چاہئے کہ آر ٹی آئی کے مطابق اگر پبلک انفارمیشن آفیسر مانگی گئی اطلاع مقررہ وقت کے اندر 30 دنوں یا جو بھی مقررہ وقت ہو، مہیا نہیں کراتا ہے تو درخواست کنندہ سے اطلاع دینے کے لئے کوئی فیس نہیں مانگ سکتا ۔ اس درخواست کنندہ کو جب بھی اطلاع دی جائے گی، بغیر فیس لئے دی جائے گی۔
ہمیں یہ ہمیشہ یاد رکھنا ہوگا کہ پبلک انفارمیشن آفیسر یا کوئی بھی دیگر سرکاری ملازم عام آدمی کے ٹیکس سے تنخواہ لینے والا شخص ہے۔ اسے یہ تنخواہ اس لئے ہی دی جاتی ہے کہ وہ عام آدمی کے لئے بنائے گئے مختلف قانونوں کا احترام کرتے ہوئے کام کرے۔ ایسے میں کسی ایک قانون پر عمل کرنے کے لئے اس کی تنخواہ کسی شخص سے الگ سے مانگنا ضمیر کے خلاف ہے۔ہمیں امید ہے کہ آپ سبھی قارئین کے لئے یہ جانکاری کافی مددگار ثابت ہوگی اور آپ لوگ جم کر آر ٹی آئی قانون کا استعمال کرتے رہیںگے۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *