جبراً اسقاط حمل

سامعہ جمال
آخر ایک لاش کی کیا قیمت ہے؟چین کے ’شانکشی‘ علاقے میں حال ہی میں ایک لاش کی قیمت لگ بھگ 6 لاکھ لگائی گئی ہے۔ لیکن سوچنے والی بات ہے کہ لاش کس کی تھی اور دل دہلا دینے والی بات یہ ہے کہ وہ لاش ایک چھوٹی سی ننھی سی جان کی تھی۔ وہ ننھی سی جان، جس کا پیدا ہونا چین کے قانون کے حساب سے غیر قانونی تھا،اس لئے اسے زبردستی مار دیا گیا۔اسقاط حمل ، جو کہ ہندوستان میں اکثر الٹراسائونڈ کی مدد سے،لڑکی ہونے کا پتہ کروانے کے بعد کیا جاتا ہے۔ چین میں ہمیں اس کے تحت ایک الگ پہلو دیکھنے کو ملا۔ آج ہم بات کریں گے جبراً اسقاط حمل کے بارے میں۔ یہاں جب ایک عورت کی بچہ دانی میں زبردستی چھید کیا جاتا ہے تو بات زبردستی اسقاط حمل کی ہوجاتی ہے۔ زیادہ تر یہ مسئلہ ان عورتوں میں پایا گیا جو کہ خود کی آواز نہیں رکھتیں۔ ایسی حالتوں میں اکثر ماں یا بچے میں کوئی پریشانی کی بات نہیں ہوتی، بس یہ ایک چین کا قانون ہے، جس کی وجہ سے زبردستی حمل ختم کر دیا جاتا ہے ۔
’’ایک ہی اولاد‘‘۔یہ ایک ایسی پالیسی ہے جو چین میں بنی ہے۔ اسی کی وجہ سے حمل گرا دیا جاتا ہے ۔ ایسا چین میں پایا گیا ہے۔ اس پالیسی کو قانون کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ چین کے لوگوں کو اس قانون کے بارے میں اچھی طرح سے پتہ ہے۔ اگر کوئی اس کو توڑتے ہوئے پایا جاتا ہے تو اسے کافی سخت سزا ملتی ہے۔ اس سے ماں کو کافی سختیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یونائٹیڈ اسٹیٹ کی کانگریس میں 29 ستمبر1997 کو ایک بل لایا گیا۔ جس میں زبردستی کئے گئے اسقاط حمل کو کافی برا مانا گیا۔ اس بل کی وجہ سے وہ افسران جو کہ چین کی کمیونسٹ پارٹی کے یا اعلیٰ عہدے پر کام کرتے تھے کافی برا مانے۔ بات یہاں تکپہنچ گئی کہ ایسے افسران کوامریکہ میں داخل نہ ہونے دیا جائے جو ننھی سی جان کی قدر نہیں کرتے۔
فنگ جینمی:
فنگ جینمی وہ ماں ہیں جن کے ساتھ حال ہی میں چین کے قانون کے تحت ظلم ہوا۔ فنگ سات مہینے کے حمل سے تھی۔ فنگ کو چین کی فیملی پلاننگ کی پولیس نے پکڑ کر ایک وین میں ڈالا۔ ان کے منہ پر تکیہ زبردستی رکھ کر انہیں اسپتال لے جایا گیا۔ اسپتال پہنچتے ہی ان کے پیٹ کے نچلے حصے میں زہر بھرا انجکشن لگا دیا گیا۔ اور بس پھر اندر پل رہی جان کی سانسیں ختم ہو گئیں۔ ایسا فنگ کے ساتھ اس لئے کیا گیا کیونکہ چین کے قانون کے حساب سے وہاں پر ایک سے زیادہ اولاد رکھنا غیر قانونی ہے۔ اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو اسے تقریباً 350000 روپے جرمانہ دینا ہوتا ہے۔ فنگ اور ان کے شوہر کے پاس اتنی رقم نہیں تھی۔ اس وجہ سے فنگ کو اس ذہنی تکلیف سے گزرنا پڑا۔ چین میں فنگ جیسے معاملے کوئی نئے نہیں ہیں۔ فنگ کی  بات ایک آگ کی طرح تب پھیلی جب فنگ کی تصویر ، ان کے سات مہینے کے حمل  کے ساتھ  سب کے سامنے آئی۔ 2006 میں اسی پالیسی کی وجہ سے Yuan سے بھی غلطی ہوئی۔غلطی یہ کہ ایک اولاد ہونے کے باوجود وہ پھر سے ماں بنی۔ اسی بات کی وجہ سے انہیں ان  کے ہی گھر میں نظر بند کر دیا گیا ۔ اگر کوئی ان کی مدد کرنے کی کوشش بھی کرتا تو انہیں بھی کافی پریشان کیا جاتا تھا۔ اس وقت چین کے صدر ہو زنٹائو تھے۔ Yuan نے ٹیلیفون کے ذریعہ دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اب کوئی امید باقی نہیں رہ گئی ہے۔ زنٹائو صرف جمہوریت کی بات کرتے ہیں لیکن مانتے نہیں۔ ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں نہ تو کوئی قاعدہ و قانون ہے اور نہ ہی ضمیر نام کی کوئی چیز۔
پان چونیان:
پان چونیاایک کرانے کی دکان چلاتی تھیں۔ جب وہ آٹھ مہینے کے حمل سے تھیں تو انہیں وہاں سے پکڑ لیا گیا۔ ایسا اس لئے کیا گیا کیونکہ وہ بچہ ان کا تیسرا بچہ تھا۔ ان کو پکڑنے والے افسران نے انہیں ایک کمرے میں بند کر دیا ،جہاں دو عورتیں اور بھی تھیں۔پھر چار دن بعد انہیں ایک اسپتال لایا گیا، زبردستی ایک کاغذ پر انگوٹھا لگوایا گیا جس میں ان کے اسقاط حمل سے متفق ہونے کی بات درج تھی۔ پھر انہیں ایک انجکشن لگا دیا گیا۔ وہ کہتی ہیں کہ مجھے جب انجکشن لگا تو اس کے بعد مجھے سب دھندلا دکھنے لگا۔ میرے گھر کے لوگ میرے ساتھ تھے۔ میں تورو رہی تھی ، چلا رہی تھی،  دعا مانگ رہی تھی کہ میرا بچہ بچ جائے لیکن گھنٹوں کے درد زہ کے بعد میرا بچہ مرا ہوا پیدا ہوا۔ اس کا پورا جسم کالا ،نیلا پڑ گیا تھا۔پان نے ٹیلیفون سے دیے گیے ایک انٹرویو میں بتایا۔
نارتھ کوریا:
چین میں وہ نارتھ کورین جو حمل سے ہو جاتی ہیں اور حمل میں پل رہے بچے کے باپ چین کے ہوتے ہیں انہیں قیدی بنا لیا جاتاہے۔ ایسی عورتوں کے حمل زبردستی گرا دیے جاتے ہیں۔ جو بچے زندہ پیدا ہوتے ہیں انہیں مار دیا جاتاہے یا پھر کوڑے دان میں ڈال دیا جاتا ہے۔ کئی دفعہ تو بیچارہ بچہ کوڑے دان میں بھی کئی دنوں تک زندہ رہتا ہے۔
ایک دفعہ نارتھ کوریا کی ایک جیل میں ساری عورتوں کو اکٹھا کیا گیا۔ ان سے ایک ایک کرکے پوچھا گیا کہ کہیں وہ حمل سے تو نہیں ہیں۔اس وقت کی چشم دید گواہ، Song Myungنے ہمیں اس کے بارے میں بتایا۔ سونگ نے بتایا کہ وہ عورتیں جو حمل سے تھیں، انہیں ایک گاڑی میں لے جاکر ، زبردستی حمل گرا نے کے لئے انجکشن لگایا گیا اور ستم تو یہ ہے کہ انجکشن لگا دینے کے بعد انہیں زبردستی کام پر واپس بھیج دیا گیا۔
نارتھ کوریا کی جیلوں سے بھاگی ہوئی عورتوں نے وہاں کے حمل گرانے اورنو زائیدہ  بچوں کے قتل کیبارے میں بتایا ۔ 2000 اور 2001 میں چین نے کئی نارتھ کورین عورتوں کو، جو کہ وہاں قید تھیں، واپس نارتھ کوریا بھیج دیا، لیکن ان میں سے وہ عورتیں جو دوبارہ سائوتھ کوریا یا چین بھاگ گئی تھیں انہوں نے بتایا کہ نارتھ کوریا کیجیلوں میں حمل گرانے یا نو زائیدہ بچوں کو مارنا ایک  عادت ہے۔ کئی دفعہ تو قیدیوں سے ہی ان بچوں کو مارنے کے لئے کہا جاتا ہے، حد تو یہ ہے کہ وہ عورتیں جن کے حمل میں پل رہے بچے کے باپ چین کے ہوتے ہیں، ان کے ساتھ زیادتیاں کچھ زیادہ ہی ہوتی ہیں۔ عورتوں کے ساتھ اس طرح کی زیادتی ایکقاعدے  کے ساتھ ہوتی ہے۔ اس قاعدے  کے تحت ، جو عورتیں حمل سے ہوتی ہیں،  ان کیبارے میں پتہ لگا کہ انہیں کافی تکلیف دی جاتی ہے۔ اگر بچہ پھر بھی بچ جائے تو اس معصوم کو یا تو مارنے کے لئے چھوڑ دیا جاتاہے یا پھر اسے پلاسٹک سے دبا کر دم گھونٹ کرمار دیا جاتا ہے۔ کائچون جیل میں چھہ سال کام کرچکی Le Soon ok نے بتایا کہ میں نے دو بار ڈاکٹر کو نو زائیدہ بچوں کو مارتے ہوئے دیکھا۔ کئی دفعہ تو ڈاکٹر معصوموں کو ان کی گردن پر پیر رکھ کر مارتے تھے۔
نارتھ کوریا کی جیلوں میں بچوں کا پیدا ہونا سختی سے منع ہے۔ اس لئے وہاں بچے مار دیے جاتے ہیں۔ چین میں ایک اولاد کی پالیسی تو ہے لیکن دوسری اولاد چند شرطوں میں جائز بھی ہے:جیسے پہلی اولاد لڑکی ہو یا پہلی اولاد جسم اور ذہنی طور پر تندرست نہ ہو۔
بات چاہے نارتھ کوریا کی ہو یا چین کی۔ اس طرح اگر بچوں کو مارا جائے گا تو ملک میں جوانوںکی کمی ہوجائے گی۔ اس سے اقتصادی اور سماجی پریشانیاںبھی پیدا ہوںگی۔  وجہ اور قانون جو بھی ہو، لیکن اس میں اس معصوم کی غلطی کیا ہے جو ابھی اس دنیا میں آنکھیں بھی نہ کھول پایا یا پائی ہو۔ وہیں پر ایک طرف ذہن یہ بھی سوچتا ہے کہ آخر تکلیف سے تو عورت ہی گزرتی ہے۔ بچے کے باپ کو بھی تکلیف ملتی ہے لیکن اتنی نہیں جتنی کہ ایک عورت کو بھگتنی پڑتی ہے۔ خاص طور پر اگر اس کی کوکھ میں چینی آدمی کی اولاد ہو۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *