فکسنگ کے سائے میں فٹبال

نوین چوہان
کرکٹ میں فکسنگ ہونے کے الزام اکثر عائد ہوتے رہے ہیں۔ کئی بار یہ الزامات ثابت بھی ہوئے ہیں۔ لیکن اس مرتبہ فکسنگ کے جال میں دنیا کا سب سے مقبول ترین کھیل فٹبال بھی پھنس گیا ہے۔یوروپول نے فٹبال میں بڑے پیمانہ پر فکسنگ ہونے کی بات کہہ کر فٹبال کے میدان میں بھونچال مچا دیا ہے۔ یورو پول کے تقریباً 15ممالک کلب میچوں سے لے کر ورلڈ کپ کوالیفائر کے  لئے کھیلے گئے کل 589میچوں کو شک کے دائرے میں رکھا گیا ہے۔ کھلاڑیوں، میچ ریفریوں اور دیگر لوگوں کی ساز باز سے ان میچوں میں فکسنگ ممکن ہو سکی۔ تقریباً 425لوگ اس میں شامل تھے۔ فکسنگ کا پورا گروہ سنگا پور سے آپریٹ ہوتا تھا۔ 680میچوں میں سے 380میچ یوروپ میں، 300میچ ایشیا، لیٹن امریکہ اور افریقہ میں شک کے دائرے میں ہیں۔ حالانکہ یوروپین یونین کے تفتیشی ادارے یوروپول نے فکسنگ میں ملوث کسی کلب، کھلاڑی اور میچ حکام کے نام کا انکشاف نہیں کیا ہے، لیکن اس انکشاف سے فٹبال کی ساکھ پر ایک بدنما داغ ضرور لگ گیا ہے۔
حالیہ انکشاف کے دوران یوروپول کے ڈائریکٹر راب وین رائٹ نے کہا کہ یہ کام ایشیا میں واقع ایک گروہ کا ہے، جو یوروپ کے جرائم پیشہ لوگوں کے ساتھ مل  کر یہ دھندہ چلا رہا ہے۔ میچ فکسنگ کے سب سے زیادہ معاملے جرمنی میں پائے گئے ہیں۔ سب سے زیادہ 150میچوں میں یہاں فکسنگ ہونے کے امکانات ہیں۔گزشتہ 18مہینے کی تفتیش میں انٹر پول 50سے زیادہ لوگوں کی گرفتاری کر چکا ہے۔ فکس ہونے والے مقابلوں میں ورلڈ کپ کوالی فائنگ اور یوروکپ کے کوالیفائنگ کے مقابلے بھی شامل ہیں۔ میچ فکسنگ کے ذریعہ 80لاکھ یوروکی کمائی ہونے کے ثبوت یوروپول کو ملے ہیں، اسے تقریباً 20لاکھ یورو کی ادائیگی لوگوں کو کئے جانے کے ثبوت بھی ملے ہیں۔تفتیش کے دائرے میں پانچ ملک فنلینڈ، جرمنی، آسٹریلیا، ہنگری اور سلووینیا ہیں۔ اب تک اس معاملے میں14لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور تقریباً 100لوگوں کو آگے حراست میں لیا جا رہا ہے۔
کرکٹ میں فکسنگ تو ہمیشہ سے سرخیوں میں رہی ہے۔ گزشتہ سال کچھ پاکستانی کھلاڑیوں کو فکسنگ کے لئے برطانیہ کی حوالات میں بھی رہنا پڑا۔ ٹینس کا کھیل بھی فکسنگ سے اچھوتا نہیں رہا۔ سال 2003میں برطانوی اخبار سنڈے ٹیلی گراف نے دعویٰ کیا تھا کہ ٹینس کے سب سے بڑے ادارے اے ٹی پی کچھ بڑے کھلاڑیوں کے فکسنگ میں شامل ہونے کی تفتیش کر رہا تھا۔ اس وقت اخبار نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ تفتیش کے دائرے میں آنے والے تمام کھلاڑی مرد تھے اور انھوں نے جان بوجھ کر اپنے میچ ہارے تھے۔اے ٹی پی نے تب ٹاپ ٹین میں شامل ایک کھلاڑی کو انتباہ دے کر چھوڑ دیا تھا۔ اس کھلاڑی کے ایک میچ پر بھاری سٹّا لگا تھا اور وہ اس میچ کو آسانی سے ہار گیا تھا۔ اگست 2007میں ٹینس کی دنیا میں بھی اسی طرح کی افرا تفری مچی تھی جب دنیا کے ٹاپ کھلاڑیوں میں شمار روس کے کھلاڑی نکولائی دیوندکو اور نچلی رینکنگ والے ارجنٹینا کے مارٹن وسالو کے درمیان میچ شک کی وجہ سے ملتوی کر دیا گیا تھا۔ اسی طرح سال 2007میں بیلجیم کے ٹینس کھلاڑی گائلس آئجنر نے انکشاف کیا تھا کہ 2005میں ومبلڈن کے پہلے دور کا میچ ہارنے کے عوض میں انہیں ایک لاکھ یورو کی پیشکش کی گئی تھی۔ برطانیہ کے اینڈی مرے نے ایک بار یہ بیان دیا تھا کہ بین الاقوامی ٹینس سرکٹ میں انہیں کئی میچ فکس لگتے ہیں۔ اس کے بعد اے ٹی پی نے ان سے اس بیان کی وضاحت طلب کی تھی۔ قابل ذکر ہے کہ اس کے بعد ہی 2008کے ومبلڈن سے اے ٹی پی نے میچ فکسنگ پر روک لگانے کے لئے سخت قانون نافذ کر دئے۔
2010میں انٹرپول نے سوگا نام کی ایک مہم کی شروعات فٹ بال کے عالمی کپ کے دوران سٹے بازی کا میلہ لگنے کی خبر کے بعد کی تھی۔ ایک مہینے تک چلی اس مہم میں800سے زیادہ سٹے بازی کے اڈوں کی شناخت ہوئی تھی اور چھاپے بھی مارے گئے تھے۔ لیکن اب جو انکشاف فٹبا ل میں فکسنگ کو لے کر ہوا ہے اس کی تفتیش کسی بھی کھیل میں میچ فکسنگ کو لے کر ہوئی اب تک کی سب سے بڑی تفتیش ہے۔اتنی بڑی تعداد میں آج تک کسی بھی کھیل میں فکسنگ دیکھنے کو نہیں ملی ہے۔ تفتیش کے بعداگریوروپول ثبوتوں کے ساتھ اپنے الزامات کو ثابت کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے، تو یہ دنیا بھر کے کھیل مداحوں کے لئے سب سے بڑا صدمہ ہوگا۔ دنیا میں بہت ہی کم کھیل ایسے ہیں، جو لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑ دیتے ہیں۔ لوگ ملک اور سرحدوں کے فاصلوں کو درکنار کر کے اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں اور ٹیموں کی حمایت کرتے ہیں۔ صحیح معنوں میں فٹبال ایک بین الاقوامی کھیل ہے اور اس لئے وہ ہر ملک میں ایک جیسے جنون کے ساتھ کھیلا جاتا ہے، لیکن میچ فکسنگ کا انکشاف لوگوں کے اس جنون کو کم نہ کر دے۔ فٹبال میں کھلاڑیوں کے لئے ملک سے زیادہ کلب معنی رکھتے ہیں۔ کھلاڑی نام، شہرت اور پیسہ کلب میچوں سے ہی کماتے ہیں۔ دراصل ، تجارت جیسے جیسے کھیلوں میں اپنی جڑیں مضبوط کر رہی ہے ، ویسے ویسے کھیلوں سے جڑے لوگوں کا اخلاق بھی تبدیل ہو رہا ہے۔ٹینس، فٹبال، کرکٹ جیسے کھیلوں میں بے پناہ پیسہ اسپورٹ اسپرٹ کو عرش سے فرش تک لے آیا ہے۔
ہندوستان جیسے ملک میں جہاں ہر کسی پر فٹبال سے زیادہ کرکٹ کا نشہ طاری ہے ، وہاں لوگ میچ میں فکسنگ پر روک لگانے کے لئے سٹے کو قانونی کرنے کی پیروی کرتے ہیں۔ یوروپ میں کھیلوں میں سٹا لگانا قانونی طور پر جائز ہے۔ ایسے میں فٹبال کے اوپر لگے فکسنگ کے اس داغ نے ان لوگوں کی زبان بند کر دی ہے، جو فکسنگ روکنے کے لئے سٹے بازی کو قانونی طور پر منظوری دینے کی پیروی کرتے ہیں۔ یہ معاملہ اخلاقی اقدار کی خلاف ورزی اور ان سے دغابازی کا ہے۔ کھیل جسمانی صلاحیت کو پرکھنے اور تفریح کے لئے ہیں، تجارت کرنا ان کا  ہدف نہیں ہونا چاہئے۔ یہی کھیلوں اور کھلاڑیوں کے اخلاقی زوال کا سبب  بن رہا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *