دھرنے کا پر امن اختتام

(اعجاز حفیظ (پاکستان

منہاج القران کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کا دھرنا حکومت کی یقین دہانی کے بعد پر امن طور پر ختم ہو گیا ۔ حکومت اور ڈاکٹر طاہر القادری کے درمیان معاہدے کو ’’اسلام آباد ڈیکلیریشن ‘‘ کا نام دیا گیا۔ اِ ن 72 گھنٹوں میں اسلام آباد پر کیا گزری ؟البتہ یہ بات خوش آئند ہے کہ خون کا ایک قطرہ بھی نہیں بہا۔ ہمارے بہت سے پڑھنے والے اسلام آباد میں رہتے ہیں ۔تین روز تک وہاں موبائل سروس بند تھی ۔ انہوں نے بتایا کہ ہم لوگ اپنے گھر کے ہی قیدی ہو کر رہ گئے تھے ۔ایک خاتون نے یہاں تک کہا کہ جو ں ہی دھرنے کے ختم ہونے کا اعلان ہوا ،ہم سب گھر والوں نے باقاعدہ جشن منایا ۔پاکستان کے دارالحکومت کے رہائشی ابھی تک ذہنی طورپر دھرنے کے خوف میں ہیں۔ظاہر ہے کہ اس قسم کی صورتحال کو ختم ہونے میں بہت وقت لگے گا ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جیت کس کی ہوئی ؟ہماری رائے میںجیت عوام کی ہوئی ۔ اگر اس کی وجہ سے کوئی مہم جوئی ہو جاتی تو اسے پھر عوام کو ہی بھگتنا تھا ۔پاکستان میں فوجی ڈکٹیٹروں کا راج جیسے اسلام آباد کا تاج رہا ہے ۔خدا کا شکر ہے کہ اس بار سویلین حکومت اچھلنے سے بچی رہی۔جو لوگ دھرنے سے کچھ اور چاہ رہے تھے ،پروردگار انہیں ہدایت دے ۔ ہمارے یہاں بہت سی بے چین رو حیں ہیں ،جن کے لئے جمہوری نظام کسی ڈرائونے خوب سے کبھی بھی کم نہیں رہا ۔بدھ کی رات رحمان ملک صاحب کے بیان کے بعد ،خدا کا شکر ہے کہ رات گئی ،بات گئی ۔لانگ مارچ اور دھرنے کے دوران وزیر داخلہ کی بیان بازیاں …سچی بات عرض کئے ہی دیتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کا مذاق اُڑا تی رہیں ۔ہو سکتا ہے کہ اُن کی سوچ آج بھی سرکاری نوکری کے ہی شب و روز کی طرح کی ہو۔اپنے قارئین کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ رحمان ملک صاحب ایف آئی اے ٖFederal Investigation Agencyکے سابق افسر رہے ہیں ۔نواز شریف کے دوسرے دور میں وہ ملازمت چھوڑ کے لندن جلاوطن ہو گئے تھے۔وہیں پر اُن کی محترمہ بے نظیر بھٹو سے ملاقات ہوئی۔شہید رانی کی وجہ سے ہی آج وہ پاکستانی پاور پولیٹکس میں انتہائی اہمیت کے حامل ہیں ۔گو سیاسی طور پر اُن کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے لیکن وہ ایم کیو ایم کے جلاوطن رہنما جناب الطاف حسین کے رفقا ء میں بھی شمار ہوتے ہیں ۔اُس رات اُن کی دھمکی کے بعد صدر زرداری صاحب نے بر وقت مداخلت کر کے اسلام آباد کو ایک اور سانحہ سے بچا لیا۔آج بھی اُس کے درو دیوار سانحۂ لال مسجد کے سے سرخ ہیں ۔

جنرل مشرف کے حضور یہ ضرور عرض کریں گے کہ اُن کا ’’ انقلاب ‘‘پچھلے صدی میں ہی کہیں گم ہو کر رہ گیا ہے ۔ اگر وہ کبھی پاکستان آئے تو انہیں اس کاا ندازہ ہو جائے گا۔ دھرنے کے اختتام سے دو روز قبل جاتی عمرہ رائے ونڈ لاہور ( میاں نواز شریف کی سینکڑوں ایکڑ پر مشتمل رہائش گاہ ) میں اپوزیشن کا اجلاس اس کا جیتا جاگتا ثبوت ہے ۔نیب National Accountability Bureauکے چیئرمین ایڈمرل (ر)فصیح بخاری نے یہ کہہ کر دل خوش کر دیا کہ ’’پاکستانی سیاسی قیادت کی جانب سے دنیا کو ایک تگڑا پیغام دیا گیا ‘‘۔مجھے یہ بھی عرض کرنے دیجئے کہ نیب کے چیئر مین اپنے کام میں بھی تگڑے ہیں۔بات سے ہی بات چلتی ہے، عرض ہے کہ ’’چاہے آسمان ٹوٹ پڑے …‘‘

بلاشبہ آج قوم تشنہ لب ہے لیکن اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ پیاس کی آس میں رازونیاز کے بھی کنویں ’’کھودنا ‘‘ شروع کر دیں۔جب موسم برس رہا ہو تو ایسے میں اپنوں کا برسنا … ڈاکٹر طاہر القادری اور حکومت کے درمیان مذکرات کی کامیابی سے پہلے ہی بہت سوں نے اُن کو جیسے کوسنا شروع کر دیا تھا ۔کچھ سیاسی فنکاروں کی حالت ِ زار پر ہماری آنکھیں بھی کچھ کچھ نم ہو ئیں۔ یہ بھی عرض کرتے چلیں کہ پہلی بار صدر زرداری نے بعض چینلز کے اینکر پرسنز کو ’’سیاسی فنکار ‘‘ کہا تھا ۔اب پاکستان میںیہ بات زباں زد عام ہے ۔ ہم تو اُن کے اندر کے ’’دھرنے ‘‘کو بھی جانتے ہیں کہ کسی طرح سے پیپلز پارٹی کی حکومت ختم ہو جائے۔اِن لوگوں نے از خود ’’پلان اے ‘‘اور ’’پلان بی ‘‘ بھی ترتیب دیے ہو ئے تھے ۔اِ ن خواتین و حضرات کے حضور عرض ہے کہ آج پاکستانی قوم فکر و ذکر سے لیس ہے ۔اُسے اے ،بی ،سی ’’پڑھانے ‘‘ کے دن جا چکے ہیں ۔’’اسلام آباد ڈیکلیریشن ‘‘کے بعد ایک بار پھر سے کچھ کی صدائیں ڈوبی ہو ئی ہیں ۔عرض ہے کہ ماتم اور شہنائی کا بھی ایک سنگم ہے ۔اسلام آباد کے سخت موسم میں ڈاکٹر طاہر القادری کے عقیدت مندوں نے ایک نئی تاریخ رقم کی ۔اِ ن میں بچے ،عورتیں اور بوڑھے بھی شامل تھے ۔سخت سردی اور بارش کے سامنے وہ ڈٹے رہے ۔لانگ مارچ سے پہلے کسی نے بھی اس کا تصور تک نہیں کیا تھا ۔پیپلز پارٹی کی حکومت نے جس دانشمندی کا مظاہرہ کیا ،اُس کا بھی تاریخ میں ذکر ہو گا ۔ جب اسلام آباد میں ’’سورج‘‘سوا نیزے پر تھا تو ازخود جلاوطن جنرل مشرف نے کہا کہ ’’اگر میں جنرل کیانی کی جگہ ہوتا تو تبدیلی آ چکی ہوتی ‘‘۔ اس سے تو یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مشرف صاحب نے اپنی جلاوطنی سے کچھ نہیں سیکھا۔ آرمی چیف جنرل کیانی کا کردار ہماری تاریخ کاہمیشہ ایک خوشگوار باب رہے گا ۔
جنرل مشرف کے حضور یہ ضرور عرض کریں گے کہ اُن کا ’’ انقلاب ‘‘پچھلے صدی میں ہی کہیں گم ہو کر رہ گیا ہے ۔ اگر وہ کبھی پاکستان آئے تو انہیں اس کاا ندازہ ہو جائے گا۔ دھرنے کے اختتام سے دو روز قبل جاتی عمرہ رائے ونڈ لاہور ( میاں نواز شریف کی سینکڑوں ایکڑ پر مشتمل رہائش گاہ ) میں اپوزیشن کا اجلاس اس کا جیتا جاگتا ثبوت ہے ۔نیب National Accountability Bureauکے چیئرمین ایڈمرل (ر)فصیح بخاری نے یہ کہہ کر دل خوش کر دیا کہ ’’پاکستانی سیاسی قیادت کی جانب سے دنیا کو ایک تگڑا پیغام دیا گیا ‘‘۔مجھے یہ بھی عرض کرنے دیجئے کہ نیب کے چیئر مین اپنے کام میں بھی تگڑے ہیں۔بات سے ہی بات چلتی ہے ،عرض ہے کہ ’’چاہے آسمان ٹوٹ پڑے …‘‘جیسی باتیں نہیں کرنی چاہئیں۔معاف کیجئے گا !ہم پہلے ہی کچھ کم ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہیں ۔
میاں نواز شریف کا کہنا ہے کہ حکومت 8ہفتے بعد خود ہی گر جائے گی ۔کاش کہ وہ یہ کہتے کہ اس کی مدت ختم ہو جائے گی ۔ہمارے میاں صاحب طبیعت کے بھی بادشاہ ہیں، لہٰذا جو زبان ِ یار میں آئے ۔انہیں اس بات کی داد دینا ہو گی کہ اُنہوں نے تمام تر غصے کے باوجود جمہوری نظام کو برداشت کئے رکھا ۔ہماری نظر میں ’’اسلام آباد ڈیکلیریشن ‘‘کے اثرات بہت دو ر رس ہو سکتے ہیں ۔اس میں کو ئی دو رائے نہیں کہ منتخب قیادت صاف ستھرے لوگوں کے پاس ہونی چاہیے جوکرپشن کی صفائی کے لئے انتہائی ضروری ہے ۔آخر میں پھر یہی عرض کریں گے کہ دھرنے میں جیت عوام کی ہوئی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *