بی جے پی میں گھمسان

سنتوش بھارتیہ
 بھارتیہ جنتا پارٹی ایک نئی خانہ جنگی اور ایک نئی سازش کے بھنور میں پھنس رہی ہے۔ نتن گڈکری کا اچانک صدارتی عہدہ چھوڑنا انہونا تو تھا، لیکن ناممکن نہیں تھا۔ کئی لوگ یہ اندازہ لگائے ہوئے تھے کہ نتن گڈکری باعزت وداعی چاہتے ہیں، اس لیے وہ آخری لمحے میں خود استعفیٰ دے دیں گے۔ ہوا بھی ایسا ہی، لیکن وجہ چدمبرم بنے۔ اگر بھارتیہ جنتا پارٹی کے ذرائع کی بات مانیں، تو ارون جیٹلی نے چدمبرم کو اس بات کے لیے تیار کیا کہ وہ انکم ٹیکس کی کارروائی نتن گڈکری کی کمپنیوں کے اوپر شروع کروائیں۔ نتن گڈکری کے قریبی دوستوں کا یہ کہنا ہے کہ ارون جیٹلی ہی وہ آدمی ہیں، جنہوں نے اروِند کجریوال کو نتن گڈکری کے خلاف کاغذات بھی سونپے اور انہیں پریس کانفرنس کرنے کے لیے آمادہ بھی کیا۔

بھارتیہ جنتا پارٹی دہلی کے تخت پر آنے کا خواب دیکھنے لگی ہے۔ اسے لگتا ہے کہ کانگریس کی ساکھ اتنی کم ہو گئی ہے کہ وہ اکیلے آسانی سے 200 سیٹیں جیت سکتی ہے، اس لیے نہ اس کے لیڈر نتیش کمار کی پرواہ کر رہے ہیں اور نہ این ڈی اے کو بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یشونت سنہا اور شتروگھن سنہا جیسے لیڈروں کو لگتا ہے کہ اگر نریندر مودی کی قیادت میں لوک سبھا کا الیکشن لڑا جائے، تو انہیں 170 سے زیادہ سیٹیں ضرور مل جائیں گی۔ نریندر مودی بھی بہت ہوشیاری کے ساتھ پارٹی کو اپنی مٹھی میں لینے کی کوشش کرتے دکھائی دے رہے ہیں، لیکن نریندر مودی کے سامنے بھی دہلی میں بیٹھے پارٹی کے لیڈر آڑے آنے والے ہیں۔

 

ارون جیٹلی ایسا کر سکتے ہیں، اس میں شک ہے، لیکن اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ارون جیٹلی دھیرے دھیرے بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدارتی عہدہ کی طرف بڑھ رہے تھے۔ انہوں نے تقریباً سبھی ممکنہ امیدواروں کو ایک کنارے دھکیل دیا تھا۔ وہ نریندر مودی کے خاص صلاح کاروں میں ہیں، پر اچانک سشما سوراج کا نام امیدوار کے طور پر اُچھل گیا اور تب سنگھ نے یہ طے کیا کہ چونکہ جھگڑے بہت زیادہ بڑھ رہے ہیں، اس لیے نتن گڈکری کو ہی صدر بنائے رکھا جائے۔ لگ بھگ سبھی کو اس کی جانکاری دے دی گئی۔ نتن گڈکری کے لیے ہی دستور میں ترمیم کی گئی تھی، لیکن ارون جیٹلی کے ماسٹر اسٹروک نے نتن گڈکری کو استعفیٰ دینے کے لیے مجبور کر دیا۔ پارٹی کے سامنے راجناتھ سنگھ کو پارٹی کا صدر بنانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا۔ راجناتھ سنگھ اتر پردیش کے ہیں، ذات سے راجپوت ہیں اور یہی دلیل ان کے حق میں گئی۔ سنگھ بھی اسی بات پر مانا کہ اگر الیکشن ہوتے ہیں، تو راجپوت سماج ا ن کے ساتھ پوری طرح کھڑا ہو جائے گا۔ لیکن ذات کی سیاست بہت بھرم پیدا کرنے والی ہوتی ہے۔ راجناتھ سنگھ اس کے پہلے بھی وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر رہے ہیں، لیکن راجپوت ان کے ساتھ پوری طاقت کے ساتھ کبھی کھڑے نہیں ہوئے۔ ارون جیٹلی، سشما سوراج سمیت تمام جنوبی ہند کے لیڈر اس لڑائی میں ہار گئے۔
سنگھ سب سے بڑی طاقت ہوتے ہوئے بھی، ایک جال میں پھنس گیا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ دہلی کا کوئی لیڈر بی جے پی کا صدر بنے، اسی لیے اس نے گڈکری کو آگے بڑھایا تھا۔ سنگھ اس بات پر آمادہ تھا کہ نتن گڈکری کو ہر حالت میں کامیاب بنانا ہے، پر نتن گڈکری خود پارٹی کو آمادہ نہیں کر پائے۔ ہماچل کے الیکشن میں تو امیدواروں نے نتن گڈکری کو نہ بھیجنے کی اپیل پارٹی کے لیڈروں سے کی تھی۔ دراصل، نتن گڈکری کو بے اثر صدر ثابت کرنے میں پارٹی کے تمام لیڈروں کا ہاتھ تھا۔ ایک طرف انہوں نے نتن گڈکری کو کسی مہم کی قیادت نہیں کرنے دی اور دوسری طرف اخبار والوں کے درمیان ایک غیر اعلانیہ جنگ نتن گڈکری کے خلاف چلائی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ دہلی میں بیٹھا کوئی بھی لیڈر نتن گڈکری کو کامیاب ہونے ہی نہیں دینا چاہتا تھا۔ سنگھ کی یہ مجبوری رہی کہ اس نے صدر بننے لائق شخصیت ابھاری ہی نہیں۔
بھارتیہ جنتا پارٹی دہلی کے تخت پر آنے کا خواب دیکھنے لگی ہے۔ اسے لگتا ہے کہ کانگریس کی ساکھ اتنی کم ہو گئی ہے کہ وہ اکیلے آسانی سے 200 سیٹیں جیت سکتی ہے، اس لیے نہ اس کے لیڈر نتیش کمار کی پرواہ کر رہے ہیں اور نہ این ڈی اے کو بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یشونت سنہا اور شتروگھن سنہا جیسے لیڈروں کو لگتا ہے کہ اگر نریندر مودی کی قیادت میں لوک سبھا کا الیکشن لڑا جائے، تو انہیں 170 سے زیادہ سیٹیں ضرور مل جائیں گی۔ نریندر مودی بھی بہت ہوشیاری کے ساتھ پارٹی کو اپنی مٹھی میں لینے کی کوشش کرتے دکھائی دے رہے ہیں، لیکن نریندر مودی کے سامنے بھی دہلی میں بیٹھے پارٹی کے لیڈر آڑے آنے والے ہیں۔ نریندر مودی کا قد گجرات کا الیکشن جیت کر کافی بڑھا ہے۔ نریندر مودی کا قد تب بھی بڑھا تھا، جب انہوں نے اٹل بہاری واجپئی کا سامنا کرنے کی کوشش کی تھی اور تب اٹل بہاری واجپئی نے اپنے دوستوں سے کہا تھا کہ ہم گجرات جیت جائیں گے، لیکن ملک ہار جائیں گے، اور ٹھیک ایسا ہی ہوا۔
سنگھ نتن گڈکری کو یہ یقین دلا چکا ہے کہ جیسے ہی ان کے خلاف انکم ٹیکس کے معاملے صاف ہوتے ہیں، ویسے ہی وہ انہیں دوبارہ پارٹی کا صدر بنائے گا۔ نتن گڈکری کا ہٹنا سنگھ کی سب سے بڑی ہار ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ سنگھ کے لیڈروں کو سیاست کافی دیر میں سمجھ میں آتی ہے۔ وہ بی جے پی کے لوگوں پر اعتماد کرتے ہیں، پر جن پر وہ اعتماد کرتے ہیں، وہی لوگ انہیں چلا دیتے ہیں۔ سنگھ کو اس بات کا ملال ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر اس کے ایجنڈے کو نافذ نہیں کرنا چاہتے، اس لیے جب وہ غصے میں کوئی بات کہتے ہیں، تو بی جے پی کا لیڈر ان کے مدعوں کی حمایت کرنے کی رسمی کوشش کرتا ہے۔
سنگھ کے لیے یہ مثالی صورتِ حال ہے کہ اس کے کنٹرول میں چلنے والے صوبوں میں کچھ وزرائے اعلیٰ ہوں، جو اسے اس کے کام کے لیے زمینیں دیتے جائیں اور دولت جمع کرتے جائیں۔ کم از کم مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ اور چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ یہی کام کرتے آ رہے ہیں۔ ان کے علاوہ یہی کام وزیر اعلیٰ کے عہدہ پر رہتے ہوئے ارجن منڈا اور پریم کمار دھومل نے بھی کیا تھا۔ سنگھ کو اس بات کا شک ہے کہ اگر بی جے پی کی سرکار دہلی میں بن بھی گئی، تو وہ صرف سرکار ہوگی، سنگھ کی آئڈیولوجی کو نافذ کرنے والی طاقت نہیں۔ اس لیے سنگھ چاہتا ہے کہ اگلے پندرہ سالوں میں دہلی میں بی جے پی کی سرکار نہ بنے اور ان پندرہ سالوں میں وہ ایسی قیادت کھڑی کردیں، جو پوری طرح سنگھ کے ایجنڈے کو مرکز میں نافذ کر سکیں۔ اس لیے، جب نریندر مودی کا نام وزیر اعظم کے عہدہ کے لیے سامنے آیا، تو سنگھ نے اس کی کھلے عام مخالفت نہیں کی۔ سنگھ کی خاموشی کا مطلب سنگھ کی حمایت نہیں ہے۔ نریندر مودی سنگھ کی تاریخ میں پہلے ایسے طاقتور شخص بنے، جس نے نہ تو سنگھ کو گھاس ڈالی اور نہ ہی سنگھ کے لوگوں کا گجرات میں احترام کیا۔ انہوں نے سنگھ کے سبھی سینئر لوگوں کو درکنار کرکے، اپنے با اعتماد لوگوں کا ایک نیا کیڈر کھڑا کر دیا۔ سنگھ اب تک آنکھ دکھانے والے لوگوں کو سبق سکھاتا آیا ہے۔ اس کی زندہ مثال بلراج مدھوک ہیں۔ اوما بھارتی اور کلیان سنگھ بھی اس کی مثال ہیں، جنہوں نے سنگھ سے معافی مانگنے کے بعد بی جے پی میں اپنی جگہ دوبارہ حاصل کی۔ سنگھ یہ جانتا تھا کہ نریندر مودی کا نام آتے ہی نہ صرف بھارتیہ جنتا پارٹی کے اندر، بلکہ ملک میں بھی ایک مخالفت زور پکڑے گی اور ایسی حالت میں انہیں مودی کو کنٹرول میں کرنے کا ایک نیا موقع حاصل ہوگا۔ بی جے پی صدر راجناتھ سنگھ شری شری روی شنکر سے ملنے گئے۔ شری شری روی شنکر نے ان سے آدھے گھنٹے اکیلے میں بات چیت کی۔ بات چیت کے بعد راجناتھ سنگھ واپس آ گئے، لیکن شری شری روی شنکر نے اپنے ساتھ بیٹھے لوگوں سے کہا کہ میں نے راجناتھ سنگھ کو صلاح دی ہے کہ وہ مودی کی امیدواری کو روکیں، کیوں کہ مودی کی امیدواری کا اعلان ہوتے ہی ملک کا مسلمان کانگریس کے ساتھ چلا جائے گا۔ میں نے یہ بھی کہا کہ مودی کی امیدواری سے خوش اگر کوئی پارٹی ہے، تو وہ کانگریس پارٹی ہے۔ راجناتھ سنگھ نے دہلی آکر سب سے پہلا بیان یہ دیا کہ پارٹی میں کوئی بھی وزیر اعظم کے عہدہ کی امیدواری کے اوپر کسی طرح کا کوئی بیان نہ دے۔
نریندر مودی اپنی پاری اچھی طرح کھیل رہے ہیں۔ میڈیا میں کامیابی کے ساتھ یہ خبر شائع ہوئی کہ وشو ہندو پریشد نریندر مودی کو وزیر اعظم بنانا چاہتا ہے۔ کمبھ کا استعمال بھی نریندر مودی نے اپنے لیے کر ڈالا۔ یہ خبر پھیل گئی کہ سنت سماج اب وزیر اعظم کے عہدہ کا فیصلہ کرے گا۔ بابا رام دیو نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ریسٹورنٹ میں کام کرنے والی غیر ملکی عورت وزیر اعظم کے عہدہ کا فیصلہ نہیں کرے گی، بلکہ ملک کے سنت وزیر اعظم کے عہدہ کا فیصلہ کریں گے۔ بابا رام دیو نے ایک طرح سے اشارہ دے دیا کہ وہ نریندر مودی کو وزیر اعظم بنانے کے لیے جی جان لگا دیں گے۔
دراصل، یہ بھارتیہ جنتا پارٹی میں چل رہے حملے اور جوابی حملے کی ایک تصویر ہے۔ اس کا ابھی تک کا آخری منظر آپ کو بتاتے ہیں۔ جب شری لال کرشن اڈوانی پرائم منسٹر اِن ویٹنگ کے طور پر سامنے آئے تھے، تو اس وقت وزیر اعظم کے عہدہ پر شری راجناتھ سنگھ نے اپنا بھی دعویٰ پیش کیا تھا۔ اس وقت راجناتھ سنگھ پارٹی کے صدر تھے۔ اِس بار بھی پارٹی کے صدر راجناتھ سنگھ ہیں۔ سنگھ نریندر مودی کے حق میں کھڑا نہیں ہونے ولا، کیوں کہ اسے لگتا ہے کہ نریندر مودی اس کی ڈسپلن میں نہیں رہ پائیں گے۔ نریندر مودی بھی اپنی تصویر ’ہندو ہردے سمراٹ‘ کی جگہ ’وِکاس پروش‘ کی بنانا چاہتے ہیں، تاکہ وہ ملک کے مسلمانوں کو اپنے ساتھ لانے کی ایک کوشش کر سکیں۔ سنگھ نریندر مودی کی جگہ راجناتھ سنگھ کے حق میں اپنا فیصلہ دے گا اور نتن گڈکری کو دوبارہ آنے والے مئی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کا صدر بنوا دے گا۔ راجناتھ سنگھ اور نتن گڈکری کی جوڑی سنگھ کی نظر میں اس وقت سب سے مثالی جوڑی ہے۔ شری لال کرشن اڈوانی، شری جسونت سنگھ، شری یشونت سنہا اور شری شتروگھن سنہا کو آئندہ لوک سبھا کا ٹکٹ نہیں ملنے والا ہے، یہ فیصلہ بی جے پی کے ہر عہدیدار کو معلوم ہے۔ اس لیے بھارتیہ جنتا پارٹی کا کوئی بھی عہدیدار اس فیصلہ کی مذمت نہیں کر رہا ہے۔اس کھیل میں سب سے زیادہ لوزر سشما سوراج اور ارون جیٹلی ہیں۔ کلیان سنگھ اور اوما بھارتی کی تو ابھی اس کھیل میں کوئی گنتی ہی نہیں ہے۔ شری لال کرشن اڈوانی کے ساتھ سنگھ صرف ایک سودا کرے گا کہ وہ ان کی بیٹی پرتبھا اڈوانی کو بی جے پی کے زیر اقتدار کسی بھی صوبہ سے راجیہ سبھا میں بھجوا دے گا۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *