بی جے پی اقتدار کے لئے نتیش کی دوستی بھی قربان کرنے کو تیار

اشرف استھانوی
دو ہزار چودہ کے لوک سبھا انتخاب میں گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کو وزیر اعظم کے عہدہ کی امید واری سونپنے کے سوال پر بی جے پی اور این ڈی اے میں اٹھا طوفان تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے۔ بی جے پی کے نئے صدر راجناتھ سنگھ نے اپنے پیش رو نتن گڈ کری کی طرح پہلے تو نریندر مودی کو اس عہدہ کے لیے سب سے اہل او رپسندیدہ امید وار بتایا، مگر بعد میںجب اس کی ایک حلیف جنتا دل یو نے اسے آنکھیں دکھائیں، تو نہ صرف وہ خود بالکل خاموش ہو گئے، بلکہ پارٹی رہنمائوں او رکارکنوں کے لیے بھی ایک ہدایت جاری کردی کہ وہ وزیر اعظم کی امید واری پر بیان بازی نہ کریں۔ اگلے انتخاب میں وزیر اعظم کا امید وار کون ہوگا، یہ فیصلہ پارٹی کے پارلیمانی بورڈ میں ہوگا۔ اسی کے فوراً بعد پارٹی کے ایک سینئر رہنما مختار عباس نقوی نے یہ کہہ کر معاملے کو اور ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی کہ نریندر مودی سمیت اس عہدہ کے لیے پارٹی کے اندر زیر غور 8 ناموں میں سے کسی ایک کو وزیر اعظم کا امید وار بنایا جائے گا، لیکن اس کے بعد بھی یشونت سنہا اور شتروگھن سنہا جیسے پارٹی کے سنیئر رہنمائوں نے جس طریقے سے کھل کر مودی کی حمایت میں آواز بلند کی اور الہ آباد کے مہا کنبھ سے مودی کو آگے بڑھانے اور ہندوتو کی طرف لوٹنے کے جو اشارے ملتے ہیں، اس سے یہ بات صاف ہو گئی ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اقتدار میں واپسی کے لیے بہت بے صبر ہوئی جا رہی ہے اور اس کے لیے وہ کوئی بھی قربانی دینے کو تیار ہے، پھر چاہے اسے بہار کی مخلوط حکومت اور مودی کی دوستی کو ہی کیوں نہ قربان کرنا پڑے۔

وشو ہندو پریشدنے، جس کی قیادت میں مہا کنبھ میں سادھو سنتوں کا اجتماع ہو رہا ہے،  اس مقصد کے حصول کے لیے ’ہندو پارلیمنٹ لائو، دیش بچائو‘ کا نعرہ دیا ہے اور اسے اس بات کا پورا یقین ہے کہ کنبھ میں لیے گئے فیصلے ہمیشہ اس کے حق میں رہے ہیں اور اس بار بھی ایسا ہی ہوگا۔ وہ چاہے 1989 میں اجودھیا میں شیلا نیاس کا فیصلہ ہو یا 1992 میں کار سیوا کا ، سارے فیصلے اسی جگہ لیے گئے تھے۔ بس ضرورت ہے، اسی تاریخ کو دہرانے اور 1992 جیسا مذہبی جنون پیدا کرنے کی۔ اس معاملے میں نریندر مودی کی ہندو شدت پسندوں میں مقبولیت آگ میں گھی ڈالنے کا کام کر سکتی ہے۔ اس لیے ایک بار پھر بی جے پی قیادت کنبھ میں آر ایس ایس اور وی ایچ پی قیادت اور سنت سماج کے ساتھ بیٹھی ہے۔

دراصل، بی جے پی پر لگاتار دو ٹرم تک اقتدار سے باہر رہنا بہت بھاری پڑ رہا ہے اور اب اقتدار میں واپسی کے لیے اس کی چھٹپٹاہٹ بالکل کھل کر سامنے آگئی ہے۔ اس کے لیے وہ کوئی بھی حربہ اپنانے کے لیے تیار ہے۔ اسے نہ صرف کسی کرشمائی لیڈر کی تلاش ہے، بلکہ ہندوتو پر مبنی ایسے جذباتی موضوعات کی بھی تلاش ہے، جس سے ملک کے اکثریتی فرقہ کے جذبات کو ابھار کر اس سے پیدا ہونے والے جوش و جنون کے دوش پر سوار ہو کر وہ وزیر اعظم کی کرسی تک پہنچ سکے۔ کہنے کو تو اس کے پاس وزیر اعظم بننے کی صلاحیت رکھنے والے رہنمائوں کی ایک بڑی فوج ہے، مگر ان میں سے بیشتر ایسے ہیں، جنہیں اقتدار طشت میں سجا کر پیش کرنے پر ہی وہ زمام حکومت سنبھال سکتے ہیں۔ پارٹی کو تنہا یا ہندوتو کے حامی حلیفوں کی مدد سے اقتدار میں لانے کی صلاحیت کسی میں بھی نہیں ہے، بلکہ یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ اس کے پاس زیادہ تر پٹے ہوئے مہرے ہیں۔ پھر مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت قومی سطح پر موضوعات کی بھی کمی ہے۔ لے دے کر ایک بد عنوانی کا معاملہ ہے، مگر اس معاملے میں خود بی جے پی ناک تک ڈوبی نظر آتی ہے، اس لیے وہ حکمراں یو پی اے کے خلاف کوئی بڑا چیلنج کھڑا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اسے تو ایک ایسے موضوع کی تلاش ہے، جو لوگوں کو دیوانہ بنا دے، ہوش و خرد سے بیگانہ کر دے اور پیٹ کی آگ بھی جس کے سامنے بے اثر ہو جائے۔ ایسا مذہبی او رجذ باتی موضوع، جس نے بیسویں صدی کے اواخر میں بی جے پی کو اقتدار اعلیٰ تک پہنچا دیا تھا۔ یہ کام اس وقت بھی بی جے پی اپنے بل بوتے پر نہیں کر سکی تھی اور آج بھی اس کے لیے یہ سب کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس بڑی مہم میں اسے سنگھ پریوار اورسادھو سنتوں کی مدد لینی ہی پڑے گی۔ سادھو سنت ہی مذہبی جنون پیدا کر سکتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ بی جے پی نے اس پورے معاملے کو مہا کنبھ میں جمع ہونے والے سادھو سنتوں کے حوالے کر دیا ہے اور بی جے پی بھی کیا کرے گی؟ اس کی تو کوئی اوقات ہی نہیں ہے۔ یہ تو سنگھ پریوار نے ہی سارا ڈرامہ اسٹیج کیا ہے اور بی جے پی جو اس کاسیاسی مہرہ اور چہرہ ہے، وہ اس کے اشارے پر ناچ رہی ہے اور بعد میں وہ یہ کہہ کر اس پر عمل پیرا ہوگی کہ یہ صرف سادھو سنتو ں کا فیصلہ نہیں ہے، بلکہ پورے ہندو سماج کا ہے او رہم اس کے آگے سر تسلیم خم کرتے ہیں اور اس طرح ایک بار پھر یہ ثابت ہو جائے گا کہ بی جے پی کوئی سیاسی پارٹی نہیں ہے، بلکہ بھجن کیرتن کرنے والے سادھو سنتوں یا ان کے اشارے پر کام کرنے والے کلا کاروں کی منڈلی ہے۔
مہا کنبھ میں کیا ہو گا، اس کا اندازہ وشو ہندو پریشد کے رہنما اشوک سنگھل کے اس بیان سے ہو جاتا ہے کہ بی جے پی کو اگر اقتدار میں واپس آنا ہے، تو اُسے ہندوتو کی طرف لوٹنا ہی پڑے گا،  سیکولرزم اس کی راہ نہیں ہو سکتی ہے۔ اسے رام مندر اور یکساں سول کوڈ جیسے متنازع امور کو شد و مد کے ساتھ اٹھانا ہی پڑے گا اور ملک کو ہندو پارلیمنٹ دینا ہی پڑے گا۔ سنگھل کا یہ بھی کہنا ہے کہ رام مندر اور اجودھیا میں متنازع ڈھانچہ کا معاملہ عدالتیں نہیں طے کر سکتی ہیں، اس کے لیے ہندو پارلیمنٹ کی ضرورت ہوگی اور ہندو پارلیمنٹ موجودہ روش ترک کرکے ہی بنائی جا سکتی ہے۔ ان کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ اگر بی جے پی اگلا انتخاب رام مندر اور یکساں سول کوڈ کے سوال پر لڑے، تو اسے لوک سبھا میں تنہا 300 سیٹیں حاصل ہو سکتی ہیں۔ وی ایچ پی کے کیندریہ مارگ درشک منڈل نے مرکز کو بھی 6 ماہ کے اندر قانون بنا کر مندر تعمیر کی راہ میں حائل رکاوٹ ختم کرنے کا سخت الٹی میٹم دیا ہے۔
وشو ہندو پریشدنے، جس کی قیادت میں مہا کنبھ میں سادھو سنتوں کا اجتماع ہو رہا ہے،  اس مقصد کے حصول کے لیے ’ہندو پارلیمنٹ لائو، دیش بچائو‘ کا نعرہ دیا ہے اور اسے اس بات کا پورا یقین ہے کہ کنبھ میں لیے گئے فیصلے ہمیشہ اس کے حق میں رہے ہیں اور اس بار بھی ایسا ہی ہوگا۔ وہ چاہے 1989 میں اجودھیا میں شیلا نیاس کا فیصلہ ہو یا 1992 میں کار سیوا کا ، سارے فیصلے اسی جگہ لیے گئے تھے۔ بس ضرورت ہے، اسی تاریخ کو دہرانے اور 1992 جیسا مذہبی جنون پیدا کرنے کی۔ اس معاملے میں نریندر مودی کی ہندو شدت پسندوں میں مقبولیت آگ میں گھی ڈالنے کا کام کر سکتی ہے۔ اس لیے ایک بار پھر بی جے پی قیادت کنبھ میں آر ایس ایس اور وی ایچ پی قیادت اور سنت سماج کے ساتھ بیٹھی ہے۔ اس پر جنتا دل یو کے شیوانند تیواری کا بیان اصولی طور پر تو صحیح ہے، مگر یہ دیکھتے ہوئے کہ یہ معاملہ بی جے پی سے متعلق ہے او ربی جے پی کو سنگھ پریوار نے آج تک مکمل سیاسی پارٹی بننے ہی نہیں دیا ہے، اس لیے وہ سادھو سنتو ں کے سہارے ہی چل سکتی ہے اور سادھو سنت اسے جو کرنے کے لیے کہیں، وہی کر سکتی ہے۔ انہیں اپنا بیان ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
بہار میں حکمراں جنتا دل یو بھی یہی چاہتا ہے کہ بی جے پی جلد از جلد اس معاملے کو سلجھائے اور اگر وہ اسی وقت اپنے وزیر اعظم کے امید وار کا اعلان کرنا چاہتی ہے، تو وہ اس کے لیے آزاد ہے، لیکن ویسی صورت میں اس کا بی جے پی کا ساتھ دینا مشکل ہو جائے گا۔ یہ بات اس نے مختلف مواقع پر مختلف طریقوں سے بی جے پی پر واضح کر دی ہے۔ بی جے پی کی طرف سے باقاعدہ اس الٹی میٹم کا تو جواب نہیں دیا گیاہے اور پارٹی کے ذمہ دار رہنما بھی اکثر اس معاملے میں کھل کر کچھ بولنے سے گریز کرتے نظر آتے ہیں، مگر یشونت سنہا جیسے پارٹی کے کئی سینئر رہنما کھل کر کہہ چکے ہیں کہ اگر مودی کی امید واری سے کسی کو پریشانی ہے یا وہ الگ ہونا چاہتا ہے، تو وہ اس کے لیے آزاد ہے۔ اس لیے اب بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور جنتا دل یو کے دیگر رہنما یہی چاہتے ہیں کہ اگر اس اتحاد کا انجام یہی ہونا ہے، تو جلد ہی ہو جائے تاکہ لوک سبھا انتخاب کی تیاری اسی کے مطابق کی جا سکے۔ عین وقت پر رسہ کشی کے نتیجے میں ہونے والی علیحدگی انتخابی تیاریوں پر اثر ڈال سکتی ہے۔
بہار میں اپوزیشن راشٹریہ جنتا دل، لوک جن شکتی پارٹی اور کانگریس بھی اس صورت حال سے پُرجوش ہے اور اس سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی تاک میں ہے۔ راشٹریہ جنتا دل کے قومی صدر لالو پرساد یادو نے تو 2014 کے لوک سبھا انتخاب کے ساتھ ہی اسمبلی انتخاب کی تیاری شروع کردی ہے اور آئندہ 28 اپریل کو پریورتن ریلی کا اعلان کر دیا ہے۔ لالو پرساد نے پارٹی رہنمائوں سے پارٹی کی پریورتن ریلی اور آئندہ پارلیمانی اور اسمبلی انتخابات کی تیاریوں میں جٹ جانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کو سامنتی نہ کہیں، کسی کا دل نہ دکھائیں، کسی کو تکلیف نہ دیں اور ہر معاملے میں صبر و ضبط سے کام لیتے ہوئے مصیبت زدگان کی مدد کرنے اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کریں، کیوں کہ ہر فرقہ او رہر ذات برادری میں ہمارے ووٹروں کی اچھی خاصی تعداد ہے، اس لیے سب کو ہمارا سیلوٹ ہے۔ ہمیں بہار کی جنتا نے جتنا مان اور سمان دیا وہ کسی کو نہیں دیا۔ انہوں نے بہار کے عوام سے اپیل کی کہ وہ ان کی غلطیوں کو معاف کرکے ایک بار پھر موقع دیں۔ اب انہیں کسی شکایت کا موقع نہیں دیں گے۔ لالو کی نظر چونکہ بی جے پی میں نریندر مودی کو آگے بڑھانے اور اس کے نتیجے میں این ڈی اے میں ہونے والی ٹوٹ پھوٹ پر بھی ہے، اس لیے انہوں نے کہا کہ پارٹی نے لگاتار ان کو قیادت سونپ کر جس اعتماد کا اظہار کیا ہے، وہ اس پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے اور ہر حال میں اس اعتماد کی لاج رکھیں گے۔ ہر فرقہ اور ذات کے لوگوں کو ساتھ لے کر چلیں گے اور کسی بھی حالت میں دہلی کے تخت پر فرقہ پرست طاقتوں کو قابض نہیں ہونے دیں گے۔ سیکولر طاقتوں کو جوڑنے کی کوشش کریں گے اور بہار میں بی جے پی کا راستہ روکنے کی کوشش کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ چھوٹی سی بھول سے بہار میں بی جے پی کو قدم جمانے کا موقع ملا۔ اب وہ بھول نہیں ہونے دی جائے گی۔ انہوں نے جھارکھنڈ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جھارکھنڈ میں ابھی صدر راج نافذ ہو گیا ہے، لیکن ان کی کوشش ہوگی کہ سیکولر جماعتوں سے بات چیت کرکے وہاں 6 ماہ کے اندر غیر بی جے پی حکومت قائم کی جائے۔ آئندہ لوک سبھا انتخاب میں پارٹی کی پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے لالو نے کہا کہ اس بار 50 فیصد ٹکٹ نئی نسل کے مرد و خواتین کو دیے جائیں گے، لیکن 50 فیصدسیٹوں پر پرانے، تجربہ کار اور آ زمود ہ لوگوں کو موقع دیا جائے گا، کیوں کہ ان کے تجربہ کی پارٹی اور حکومت کو قدم قدم پر ضرورت پڑے گی۔
لالو کا اندازہ غلط نہیں ہے۔ ایک طرف تو عوام میں نتیش حکومت میں بری طرح پنپ رہی بد عنوانی اور نا انصافی سے مایوسی ہے، تو دوسری طرف آنے والے انتخاب میں گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کے ممکنہ قائدانہ رول اور بی جے پی کی ہندوتو کی طرف واپسی سے ریاست کے سیکولر عوام، بالخصوص مسلمانوں میں سخت بیزاری ہے اور وہ ابھی سے لالو اور ان کی پارٹی کے حق میں گول بند ہوتے نظر آرہے ہیں۔ نتیش کمار کے اس دعوے کے بر عکس کہ لالو یادو کا دور ختم ہو چکا ہے اور اب وہ کبھی بہار کی سیاست میں واپسی نہیں کر سکتے۔ لالو کی حالیہ پریورتن یاترا کے دوران یہ بات عام طور پر دیکھنے میں آئی کہ جہاں بھی لالو گئے، ہر جگہ یکساں جوش و خروش اور حمایت کا والہانہ انداز نظر آیا۔ ہر فرقہ اور طبقہ کی یہی خواہش تھی کہ آرجے ڈی حکومت دوبارہ قائم ہو۔ لالو اپنی پریورتن یاترا کے دوران اب تک 60 ہزار کیلو میٹر کا دورہ کر چکے ہیں اور جس بڑے پیمانے پر ان کا استقبال ہو رہا ہے، اس سے لوگوں کے بدلتے ہوئے رجحان کا اندازہ ہوتا ہے اور اسی سے حوصلہ پاکر انہوں نے پریورتن ریلی کا اعلان کیا ہے۔ پریورتن ریلی، جس کی کامیابی کا ان کے مخالفین کو بھی یقین ہے، بہار کی سیاست میں تبدیلی کا نقطہ آغاز بن سکتی ہے اور اسی کو یقینی بنانے کے لیے لالو اب اپنے پرانے اور جانے پہچانے انداز میں دوبارہ سرگرم ہو چکے ہیں۔
لوک جن شکتی پارٹی کے رہنما رام ولاس پاسوان بھی بہار بچائو یاترا کے توسط سے پورے بہار میں بی جے پی، جنتا دل اتحاد حکومت کی غلطیوں اور خامیوں سے عوام کو روشناس کراتے ہوئے انتخابی ماحول تیار کرنے اور لوگوں سے این ڈی اے کے خلاف مودی کے نام پر متحد کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ کانگریس فی الحال دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ وہ اگرچہ مودی کو بی جے پی کا اندرونی معاملہ بتا رہی ہے، لیکن وہ بھی چاہتی ہے کہ مودی دھماکہ میں این ڈی اے بکھر جائے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *