بل نمبر تیرہ۔۔۔۔ایک اور طمانچہ

عفاف اظہر
ٹورانٹو بورڈ آ ف ایجوکیشن کے بل نمبر تیرہ  نے ایک بار پھر ٹورانٹو کی بہت سی کمیونٹیز کی زندگیوں میں ہلچل مچا دی . چند برس قبل ٹورانٹو کے بورڈ اف ایجوکیشن کے دوسرے گریڈ میں جنسی تعلیم دینے کے فیصلے نے یہاں مقیم بہت سی کمیونٹیز کو سیخ پا کیا اور بہت شور اٹھا ، بہت ہاتھ پاؤں مارے گئے مگر جو ہونا تھا وہ ہو کر ہی رہا . تب میں بھی حیران تھی کہ آخر جنسی تعلیم دوسرے گریڈ میں دینے سے کونسی قیامت آ جانی ہے۔ آخر کون سی ایسی برائی ہے جو ہمیں ہضم نہیں ہو پا رہی ہے .ہمارے یہاں بچیوں کو انجان رکھ کر کون سا کمال کر رہے ہیں انجانے میں گھروں میں بیٹھی یہ معصوم بچیاں باہر آتے ہی ہوس کا نشانہ بن رہی ہیں۔ اگر ایسے میں ان کو جنسی تعلیم دی جائے گی تو وہ اپنی حفاظت کسی طور کر سکنے کے قابل تو ہو جائیں گی لیکن  اب کی بار معاملہ حقیقت میں ایک لمحۂ فکریہ ہے کہ بل نمبر تیرہ  نام کا ایک اور طمانچہ تیار ہو چکا  ہے . جس کے تحت ہم جنس پرستی کو بھی جنسی تعلیم میں شامل کیا جا رہا ہے . گو کہ فی الحالسبھی مخالفین کو اس پر آواز بلند کرنے کا اختیار دیا گیا ہے اور انھیں اپنے اس حق کو استعمال کرنا بھی چاہیے کہ ہو سکتا ہے مخالف رد عمل سے یہ معاملہ وقتی طور پرٹل جائے .لیکن ہمیں اس حقیقت کو بھی مد نظر رکھنا ضروری ہے کہ ہم جنس پرستی کو قانوناً سر پرستی حاصل ہو چکی ہے۔سبھی مذہبی طاقتوں کے شور مچانے کے باوجود قانون کا ہم جنس پرستی کے حق میں فیصلہ اس حقیقت کا کھلا ثبوت  ہے کہ ہمارے نزدیک ہم جنس پرست بھلے اقلیت سہی مگر ایک  چیونٹی بھی بڑے سے بڑے  ہاتھی کو مار سکتی ہے۔ ہم جنہیں کمزور سمجھ کر دباناچاہ رہے ہیں وہ تعداد میں بھلے کم ہوں مگر یہاں کے ہر حکومتی ادارے سے لیکر پارلیمنٹ تک اپنی نمائندگی رکھتے ہیں ۔ جس کی بنیاد پر یہاں اب ہم جنس پرستی سے جان چھڑانا  زیادہ دیر تک ممکن نہیں رہا . آپ آواز اٹھائیں ،شور مچائیں ،بورڈ کے دروازے پیٹیں، میری نظر ،میں سبھی حل عارضی ہیں ۔ یہاں اس مقام پہ ہمیں جوش کی نہیں ہوش کی ضرورت ہے .جس طرح اندھیرا نہ ہو تو روشنی کی اہمیت اجاگر نہیں ہو پاتی، جھوٹ نہ ہو تو سچ کی، گناہ نہ ہو توثواب کی، ظلم نہ ہو تو انسانیت کی اور بد اخلاقیاں نہ ہوں تو اخلاق کی۔  یہی مقام جہاد بھی ہے کہ اب ہمارے سامنے دو راستے ہیں اور یہ ہم  پر منحصر ہے کہ کون سا راستہ اختیار کریں طاقت کا یا عقل کا ؟ یاد رہے کہ طاقت سے کیا ہوا ہر فیصلہ وقتی اور عارضی ہوتا ہے اور عقل کا مستقل اور پائیدار بھی ۔ جسکی جیتی جاگتی مثال ہمارا اپناملک ہی ہے . ہم جنس پرستوں کی گردنیں اڑا دینا قانوناً جائز ہے لیکن کیا ہم جنس پرستی وہاں ختم ہو گئی ؟ کیوں کہ وہاں  ہمارا معاشرتی انحصار ہمیشہ طاقت پر ہی رہا ہے اور تبھی ہمارے سبھی حل وقتی اور عارضی ہیں مگر یہاں معاملہ قدرے مختلف ہے کہ یہاں طاقت کی نہیں عقل اور عمل کی ضرورت ہے ۔ برائی سے نظریں بچانے کی نہیں سامنا کرنے کی ضرورت ہے بد اخلاقیوں سے کترانے کی اخلاق سے مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ہمیں اپنے بچوں میں اس خود اعتمادی کو پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ اچھائی اور برائی کی تمیز خود کر سکیں . اس ہمت کی ضرورت ہے کہ وہ بد اخلاقیاں سامنے ہوتی دیکھ کر بھی اخلاق کا دامن نہ چھوڑیں۔ ہمارے بچوں کو اس نیکی کی لو کی ضرورت ہے جو ہزار گناہ ہوتے دیکھ کر بھی ماند نہ پڑے ۔ اس انسانیت کی ضرورت ہے جو ہر طرح حیوانیت پر غالب آ سکے  اور یہ تبھی ممکن ہے جب ہم انھیں ایسا ماحول مہیا کریں جو انکو ایک مکمل شخصیت بنا سکے۔ گھروں میں وہ پر سکون  فضاء قائم کی جائے کہ انکو باہر کی فضاء کا زہر صاف صاف دکھائی  دے سکے۔ ماں باپ کے رشتے میں دوستی کے اس رنگ کی ضرورت ہے جو انکے معصوم دل و دماغ کو ہمیشہ ہلکا پھلکا رکھ سکیں۔ اگر ہر دوسرے راستے کے بجائے اگر ہم میں سے ہر کوئی اپنے اپنے گھریلو ماحول کو ہی پر سکوں بنانے کی ٹھان لے تو میں دعوے سے کہتی ہوں کہ دنیا کی کوئی بھی برائی یا بد اخلاقی ان پُراعتماد شخصیتوں کا کچھ بھی نہ بیگار سکے گی جن کی بنیادیں ہمارے اقوال کی بجائے ہمارے ا عمال پر ہوں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *