بدلا ہوا ہے رنگ گلوں کا ترے بغیر

محمد فرقان عالم
حضرت مولاناسیدعبداللہ حسنی ندویؒ جنہیں ہم کل تک دامت برکاتہم، مدظلہ العالی یا پھراسی طرح کے دوسرے الفاظ سے یاد کیا کرتے تھے، آج ہمیں رحمۃ اللہ علیہ کہنے اورلکھنے پر مجبور ہونا پڑرہاہے، بلکہ سچ تویہ ہے کہ اس لفظ کوادا کرتے ہوئے انگلیاں کانپ جارہی ہیں اورذہن کسی بھی طرح اس بات پر آمادہ نہیں ہوتا کہ مولاناؒ واقعی ہمارے درمیان سے چل بسے، لیکن پھررب کائنات کے اٹل فیصلے ’’ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے‘‘ کے پیش نظر بالآخر ذہن ودماغ کو سکون، قلب مضطر کوآرام مل ہی جاتاہے۔ بلاشبہ مولانا کی شخصیت ایک عظیم، فعال، متحرک اورمعاملہ فہم شخصیت تھی جن کے چلے جانے سے نہ صرف یہ کہ دارالعلوم ندوۃ العلماء نے اپنے ایک قیمتی ہیرے کوتفسیروحدیث کے ایک بڑے استاذ کی شکل میںکھودیا ہے، بلکہ ملت اسلامیہ ایک عظیم داعی، زبردست مفکر، پیام انسانیت کے پکے علمبردار، بے کسوں کے مددگار، ہمدرد وغمخوار، خوش اخلاق ونرم گفتار شخصیت سے محروم ہوگئی مولانا عبداللہ حسنی ندویؒ نے زندگی کی تقریباً ۵۵ بہاریں دیکھیں، آپؒ کی پیدائش ۲۹؍جنوری ۱۹۵۷ئ؁ کوایک ایسے خاندان میںہوئی جوعلم وعمل، تقویٰ وپرہیزگاری، شرافت وخودداری، ساتھ ہی دعوت وتبلیغ کے میدان میںکارہائے نمایاں انجام دینے کے تعلق سے کافی معروف بھی ہے اورمقبول بھی بلکہ حقیقت تویہ ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کو بجاطورپر اس خاندان پر فخر کرنے کا حق حاصل ہے، ایسے خاندان اورعلمی وعملی ماحول میں جن کی پرورش وپرداخت ہوئی ہو،ان کی شخصیت بلندی کے کس مقام پر پہنچے گی، نیز وہ تربیت، عادات واطوار، اخلاق وکردار کے اعتبار سے کس بلندمعیارپر ہوگا وہ ظاہرہے، یہی وجہ ہے کہ مولاناؒ کی شخصیت بیک وقت بہت ساری صفات کا مجموعہ ہوا کرتیں، بلکہ اگریہ کہا جائے کہ ان کی شخصیت ہمہ جہت تھی تومبالغہ نہ ہوگا، مولاناؒ کے والدماجد مولانا محمدالحسنیؒ کا شمارعربی زبان وادب کے ان ممتاز ادیبوں میںہوتا تھا جنہوں نے زبان وادب کے گیسو سنوارنے کے ساتھ اپنی بے لاگ تحریروں کے ذریعہ نہ صرف یہ کہ عالمی پیمانے پراپنے وقت کے فتنوں کا مقابلہ کیا بلکہ اس میں زبردست کامیابی بھی حاصل کی جس کی بین دلیل ’’قومیت عربیہ‘‘ کے خلاف ’’البعث الاسلامی‘‘کے اداریوں کے ذریعہ محاذ آرا ہونا ہے۔

 امام حرم کی آمد پر دارالعلوم ندوۃ العلماء میں خطبۂ جمعہ سے قبل مولاناؒ نے جوتقریر کی تھی اس میںکس دردوسوز کا اظہارفرمایا تھا۔ اسی کے ساتھ اہل ایمان کے فضائل ومناقب بیان کرتے ہوئے ان کی غیرت وحمیت کو کس انداز میں للکارا تھا۔ یقینا اس تقریر نے عوام پر اتنا غیرمعمولی اثرڈالا کہ بعضوں کی آنکھیں ڈبڈباگئیں، یہی نہیں اس کے علاوہ مولاناؒ کی بے شمارایسی تقریریں ہوتیں جن کا مجمع پرکافی گہرا اثرپڑتا، اس کی وجہ یہ تھی کہ مولاناؒ کی تقاریرایمان وعقیدۂ توحید پرمبنی ہوتیں، ان میںصحابۂ کرام کے ایمان کا تذکرہ اس دردبھرے انداز میںہوتا کہ لوگوں کے دل موم ہوجاتے، اورآپؒ کا مقصد بھی توان تقاریر کے ذریعہ ہمہ دم اصلاح ہی ہوتا۔

راقم کوگرچہ مولانا عبداللہ حسنی ندویؒ کے درس سے استفادہ کا موقع نہ مل سکا تاہم مولاناؒ کے اصلاحی بیانات، پُردردخطابات سے دل میںتحریک ضرور پیدا ہوئی اوریہ جذبہ بیدار ہوا کہ زندگی کے میدان میں دشواریوں کی پرواہ کیے بغیر دعوتی مشن کو کس طرح آگے بڑھایا جائے جس سے پیاسی امت سیراب ہوجائے، اسی طرح مولاناؒ کی تقریروں سے دنیا کی بے ثباتی، بے لذتی کا بھی خوب خوب احساس ہوتا۔ قارئین کوخوب اچھی طرح یادہوگا کہ امام حرم کی آمد پر دارالعلوم ندوۃ العلماء میں خطبۂ جمعہ سے قبل مولاناؒ نے جوتقریر کی تھی اس میںکس دردوسوز کا اظہارفرمایا تھا۔ اسی کے ساتھ اہل ایمان کے فضائل ومناقب بیان کرتے ہوئے ان کی غیرت وحمیت کو کس انداز میں للکارا تھا۔ یقینا اس تقریر نے عوام پر اتنا غیرمعمولی اثرڈالا کہ بعضوں کی آنکھیں ڈبڈباگئیں، یہی نہیں اس کے علاوہ مولاناؒ کی بے شمارایسی تقریریں ہوتیں جن کا مجمع پرکافی گہرا اثرپڑتا، اس کی وجہ یہ تھی کہ مولاناؒ کی تقاریرایمان وعقیدۂ توحید پرمبنی ہوتیں، ان میںصحابۂ کرام کے ایمان کا تذکرہ اس دردبھرے انداز میںہوتا کہ لوگوں کے دل موم ہوجاتے، اورآپؒ کا مقصد بھی توان تقاریر کے ذریعہ ہمہ دم اصلاح ہی ہوتا۔ اورآپؒ بارہایہ بھی فرمایا کرتے’’صالح خودبنو، مصلح اللہ بنائے گا‘‘ یہی حال درس میںبھی تھا خواہ وہ تفسیر ہویا بخاری شریف،آپؒ علمی نکات کے ساتھ اصلاحی باتیں ضرور کرتے، آیات واحادیث کوعملی زندگی پرمنطبق کرنے کا جوملکہ آپؒ کوحاصل تھا وہ بہت ہی کم لوگوں میںنظرآتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ بڑوں کوبڑا مان کران کی زندگی، ان کے لمحات سے بھرپور استفادہ کرنا تھا وہ اس لئے کہ مولاناؒ نے مفکراسلام حضرت مولانا سیدابوالحسن علی حسنی ندویؒ سے بھرپوراستفادہ کیا تھا، بلکہ مفکراسلامؒ کے بعض پہلوئوں کوتواپنے اندرجذب کرلیاتھا۔ یہی وجہ تھی کہ جہاںآپؒ پیام انسانیت کے پلیٹ فارم سے برادران وطن میںمفید باتیں پہنچاتے نتیجتاً بڑی تعداد میںآپؒ کے ہاتھوں پروہ اسلام بھی قبول کرتے وہیں آپؒ لوگوں کی اصلاح کے ساتھ ساتھ نسل نوکوسنوارنے کی کوشش مختلف جہتوں سے کرتے جن میںایک عصری اسکول واکیڈمیز میںدینیات بالخصوص توحیدورسالت سے متعلق آیات کوانگریزی ترجمے کے ساتھ داخل کرنا ہے۔ مفکراسلامؒ کے انتقال کے بعد بھی بڑوں سے تعلق اوران سے استفادہ کا یہ سلسلہ برابر جاری رہا۔آپؒ محی السنۃ حضرت شاہ ابرارالحق حقیؒ کی خدمت میں بھی ہردوئی حاضر ہوتے، ان کے علاوہ حضرت مولاناسیدمحمدرابع حسنی ندوی مدظلہ العالی سے ہرچھوٹے بڑے معاملہ میںمشورہ لینا، ان کی باتوں کوغورسے سن کر ان کوعملی جامہ پہناناآپؒ کا شیوہ تھا۔ منکسرالمزاج ،بہت ہی سادہ لوح، حددرجہ متواضع  کہیں سے بھی احساس برتری کا ذرہ برابر بھی اظہار ہوتا نظرنہیںآیا۔ مولاناؒ نے دعوت واصلاح کے فریضہ کوانجام دینے کے لئے ایک پوری ٹیم تشکیل دے رکھی تھی بالخصوص برادران وطن کے درمیان کام کرنے کے لئے مختلف کیمپ بنارکھے تھے۔ ایک کیمپ میںراقم کوبھی شرکت کا موقع ملا، جس سے راقم پرکافی گہرا اثرپڑا ساتھ ہی یہ احساس بھی پیدا ہوا کہ واقعی مولاناؒ کا طریقہ کتنا مؤثر اوراس فریضۂ منصبی کوادا کرنے کے لئے کتنا کارگر ہے، اورمولاناؒ نے اس طرح کے کیمپ قائم کرنے، ٹیم تشکیل دینے کے لئے کیسی توانائیاں صرف کی ہوںگی، کیسے مجاہدے کیے ہوںگے، اس کا اندازہ مولاناؒ کے اسفار سے ہوتا کہ کس طرح دور دراز علاقوں کا سفرکرتے، اور ہرجگہ آپؒ کا پیغام مسلمانوں کے لئے بس اصلاح نفس، تزکیۂ قلب اور برادران وطن کے لئے پیام انسانیت ہی ہوتا، گویا اس معاملہ میںبلکہ دیگرمعاملوں میں بھی آپؒ اپنے دادا مفکراسلام حضرت مولاناسیدابوالحسن علی حسنی ندویؒ کی کاوشوں کے امین تھے۔ تعجب تواس پر ہوتا ہے کہ باوجود اتنی کاوشوں، جانفشانیوں اورمدارس و مکاتب، تنظیم وسوسائٹی کی سربراہی کے آپؒ کے کاموں کا چرچہ نہیں ہوتا، بلکہ آپؒ نام ونمود کے الفاظ سے ناواقف اورشہرت وناموری کی حقیقت سے ناآشناتھے۔ جس کا اعتراف ہرکس وناکس کوہے۔ شاید انہیں وجوہات کی بنیاد پر انتقال کی خبرملتے ہی جب راقم مولاناؒ کی قیام گاہ خاتون منزل امین آباد پہنچا توبعضوں کوجن کا دوردورتک مولاناؒ سے تعلق نہیں، انہیں دیکھا کہ جب وہ ایک دوسرے کوبذریعہ موبائل خبردیتے توآنکھیں بے اختیار چھلک پڑتیں۔ اس وقت اس بات کا اوربھی شدت سے احساس ہوا کہ واقعی جوبندۂ مومن اللہ ورسولؐ کی محبت اوراس کے دین کی اشاعت وترویج کے لئے اپنے کوصرف کردیتا ہے، تواللہ تبارک وتعالیٰ بھی نہ صرف یہ کہ ان کے لئے آخرت کوسنوارتا ہے بلکہ دنیا میںبھی لوگوں کے دلوںمیںاتنی محبت پیدا کردیتا ہے کہ پھرآدمی ان کی رحلت پر اپنے جذبات قابومیںنہیں رکھ پاتا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ حضرت مولاناؒ کوجنت الفردوس میںاعلیٰ مقام عطاکرے
(دارالعلوم ندوۃالعلمائ،لکھنؤ

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *