بچوں کے ادیب: رئیس صدیقی

بسمل عارفی
رئیس صدیقی اپنے فرضِ منصبی کی مصروفیات کے باوجود جس جذبے اور انکسار کے ساتھ اردو زبان و ادب کی آبیاری میں مصروف ہیں اور تصنیف و تالیف کا جو عمدہ ذوق اپنا رکھا ہے، وہ انہیں ممتاز رکھنے کے لیے کم نہیں ہے۔ ان کی ہمہ جہت صلاحیتوں کا اعتراف اردو دنیا پہلے ہی کر چکی ہے اور انہیں سرکاری اور غیر سرکاری ایوارڈ سے نوازا بھی جا چکا ہے۔ رئیس صدیق ریڈیو سے باضابطہ طور پر منسلک ہونے سے قبل ہی بچوں کے پروگرام ترتیب دینے کی وجہ سے ریڈیو آرٹسٹ کے طور پر معروف ہو چکے تھے۔ انہوں نے بچوں کے لیے بہت سے پروگرام ترتیب دیے، جن میں انہوں نے اداکاری بھی کی۔ پروگرام کے توسط سے انہیں بچوں سے ملنے جلنے اور ان کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع ملا، یہیں انہیں بچوں کی دلچسپیاں معلوم ہوئیں، ان کی نفسیات رک رسائی ہوئی اور انہیں بچوں کے لیے لکھنے کی تحریک بھی یہیں سے ملی، جسے بعد میں انہوں نے مشن بنا لیا۔
رئیس صدیقی کی ادبی زندگی کی شروعات بچوں کی کہانیوں سے ہوئی اور انہوں نے بہت سی کہانیاں لکھیں۔ ان کہانیوں میں طبع زاد اور ترجمہ دونوں شامل ہیں۔ رئیس صدیقی نے جتنی بھی کہانیاں لکھیں، خواہ وہ طبع زاد ہوں یا تراجم، اس بات کا خیال ضرور رکھا کہ بچوں کی نفسیات پر اس کے برے اثرات نہ ہوں اور نہ ہی کہانی دلچسپیوں سے خالی ہو، بلکہ کہانی ختم ہوتے ہوتے کوئی ایسا سبق آموز نکتہ ضرور قائم کر جائے، جو بچوں کی کردار سازی میں معاون ہو اور آگے چل کر ان کے روشن مستقبل کی ضامن بنے۔ رئیس صدیقی کی کہانیاں تخلیق کے ابتدائی دنوں سے ہی اخبار و رسائل میں شائع ہونے لگیں اور انہیں بچوں کے ادیب کے طور پر جانا پہچانا جانے لگا، جس کا شہرہ ان کی کہانیوں کی پہلی کتاب ’’شیروں کی رانی‘‘ کی اشاعت کے بعد ہوا۔

رئیس صدیقی کی ادبی زندگی کی شروعات بچوں کی کہانیوں سے ہوئی اور انہوں نے بہت سی کہانیاں لکھیں۔ ان کہانیوں میں طبع زاد اور ترجمہ دونوں شامل ہیں۔  رئیس صدیقی نے جتنی بھی کہانیاں لکھیں، خواہ وہ طبع زاد ہوں یا تراجم، اس بات کا خیال ضرور رکھا کہ بچوں کی نفسیات پر اس کے برے اثرات نہ ہوں اور نہ ہی کہانی دلچسپیوں سے خالی ہو، بلکہ کہانی ختم ہوتے ہوتے کوئی ایسا سبق آموز نکتہ ضرور قائم کر جائے، جو بچوں کی کردار سازی میں معاون ہو اور آگے چل کر ان کے روشن مستقبل کی ضامن بنے۔

’’شیروں کی رانی‘‘ نے خاصی مقبولیت حاصل کی۔ اس مقبولیت کے بعد رئیس صدیقی کی کہانیوں کا انتظار کیا جانے لگا۔ مدیران و قارئین کے اس تقاضے سے انہیں وہ قوت حاصل ہوئی، جو ہر فنکار کو اپنے فن کی داد ملنے کے بعد حاصل ہوتی ہے اور وہ مسرور ہو کر مزید خود سپردگی کے ساتھ اپنے کام میں مصروف ہو جاتا ہے۔ بچوں کے لیے کہانیاں لکھتے لکھتے رئیس صدیقی ان کی نفسیات کے ساتھ ساتھ ان کے مسائل میں بھی دلچسپی لینے لگے اور پھر اردو زبان نے انہیں سنجیدہ کر دیا۔ انہیں شدت سے احساس ہوا کہ اردو زبان کی ابتدائی درسی کتابیں جو موجود ہیں، ان میں اضافہ کرنے اور انہیں نئے سرے سے ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ لہٰذا، انہوں نے ’’زبانِ اردو‘‘ حصہ اوّل اور حصہ دوم ترتیب دے کر شائع کی، ظاہر ہے، ان کی یہ پیش کش بھی بچوں ہی کے لیے تھی۔
ان دونوں درسی کتابوں کی پذیرائی کے بعد ان کے حوصلے بلند ہوئے اور اس سے آگے کی منزل پر کام آنے والی کتاب ’’اچھا خط کیسے لکھیں‘‘، جس کا تعلق بھی بچوں ہی سے ہے، ترتیب دی اور بچوں کو خط لکھنے کی طرف راغب کرنے اور انہیں اسی بہانے مشق کرانے کی سبیل پیدا کی۔ زبان کے معاملے میں رئیس صاحب ایسے اور اتنے سنجیدہ ہوئے کہ ایک اور کتاب ’’اردو لرننگ کورس‘‘ بھی ترتیب دے ڈالی، جو ہندی سے اردو سیکھنے والوں کے لیے بیش قیمت تحفہ ثابت ہوئی۔
ان کی کتاب ’’جان پہچان‘‘ دہلی اردو اکیڈمی کے مالی تعاون سے شائع ہو چکی ہے۔ انٹرویو کے اس مجموعہ میں ان 20 شاعر و ادیب کے انٹرویو شامل ہیں، جو بچوں کے ادیب کے طور پر معروف ہیں۔ انٹرویو کے لیے سوالوں کو ترتیب دیتے وقت رئیس صدیقی نے بچوں کے ذہن میں ابھرنے والے سوالات کو اہمیت دی ہے، جس نے انٹرویو کو دلچسپ اور معلوماتی بنا دیا ہے۔ بچوں کی کہانیوں سے اپنی ادبی زندگی کا آغاز کرنے والے جب اردو زبان و ادب کی بقا کے لیے سنجیدہ ہوئے، تو ایسے ہوئے کہ کئی کتابیں ترتیب دے ڈالیں۔
مکتبہ جامعہ دہلی نے حال ہی میں رئیس صدیقی کا بچوں کی 25 کہانیوں پر مشتمل مجموعہ ’’ننھا بہادر‘‘ شائع کیا ہے، جس پر رئیس الدین رئیس، علی گڑھ نے اپنے خیالات کا اظہار یوں کیا ہے : ’’جیسا کہ سبھی کہتے چلے آ رہے ہیں کہ بچوں کے لیے لکھنا کوئی آسان کام نہیں ہے، حقیقت پر مبنی ہے۔ کچھ اہلِ قلم تو بچوں کے لیے قلم اٹھانے سے اس لیے گریز کرتے ہیں کہ یہ کام انہیں اپنے شایانِ شان نہیں معلوم ہوتا، مگر جو لوگ ادبِ اطفال کی تخلیق میں دلچسپی رکھتے ہیں، وہ عملی طور پر جانتے ہیں کہ بڑوں اور بچوں میں ذہنی طور پر خاصا فرق ہوتا ہے۔ بچوں کے ادیب یا شاعر کو اس کام کے لیے اپنی ذہنی سطح سے نیچے اتر کر بچوں کی ذہنی سطح کے قریب آنا پڑتا ہے۔ بچوں کی مبان، ان کی طرزِ فکر اور ان کی دلچسپیوں کو مد نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے اور ساتھ ہی بچوں کو بالواسطہ نیکی کا پیغام دیا جائے، اس بات کا بھی التزام و اہتمام روا رکھنا پڑتا ہے۔
رئیس صدیقی بطور بچوں کے ادیب چونکہ ان تمام مراحل سے بخیر و خوبی گزر چکے ہیں، اس لیے اس فن میں وہ ایک مشاق کھلاڑی کا درجہ رکھتے ہیں۔ آپ بچوں کو سات کتابیں عطا کر چکے ہیں، ان میں ان کی بچوں کی کہانیوں کی کتاب ’’شیروں کی رانی‘‘ شرفِ قبولیت سے سرفراز ہو چکی ہے اور اب بچوںکی کہانیوں پر مشتمل ان کی نئی کتاب ’’ننھا بہادر‘‘ جلوہ گہہِ آفاق پر جلوہ افروز ہو کر خراجِ تحسین وصول کر رہی ہے۔ قریب سو صفحات کو محیط رنگین و حسین سرورق سے آراستہ اس کتاب کو مکتبہ پیامِ تعلیم، جامعہ نگر، دہلی جیسے معیاری مطبع گھر نے شائع کیا ہے، جو بچوں کی معیاری کتب شائع کرنے میں شہرت رکھتا ہے۔ کتاب میں پچیس کہانیاں پیش کی گئی ہیں۔ یہ سبھی کہانیاں بچوں کی زبان، ان کا مزاج اور ان کی دلچسپی کو ملحوظِ خاطر رکھ کر تخلیق کی گئی ہیں اور اس بات کو بھی ذہن میں رکھا گیا ہے کہ کہانیوں کے وسیلے سے بچوں میں مذہب کی عظمت، قومیت اور حب الوطنی کے جذبات بیدار ہوں۔ ان کی پیش کردہ ہر کہانی بچوں میں انسانیت نوازی اور تہذیب و اخلاق کی روح پھونکنے کا کام انجام دیتی ہے۔‘‘
بچوں کے لیے خود کو وقف کر دینے والے رئیس صدیقی کا قلمی سفر جاری ہے اور ان کی کتاب ’’باتونی لڑکی‘‘، جس میں پچیس کہانیاں شامل ہیں، بس منظر عام پر آنے ہی والی ہے۔ رئیس صدیقی کی اس خود سپردگی کے بعد یہ کہنے میں کوئی مبالغہ نہیں کہ وہ بچوں کے ادیب ہیں، جن کا سفر جاری ہے اور ماضی کی روشن لکیروں کو دیکھتے ہوئے بچوں کو ان سے مزید دلچسپ اور سبق آموز کہانیوں کی توقعات رکھنی چاہئیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *