عوام کے جذبات کو بھی سمجھے سرکار

کمل مرارکا
گزشتہ کچھ دنوں میں چار بڑے واقعات ہوئے۔پہلا: انا ہزارے نے پٹنہ میں 30 جنوری کو ایک ریلی کی۔ اس ریلی میں بڑی تعداد میں لوگ آئے۔ یہ لوگ کسی سیاسی پارٹی کی طرف سے گاڑی اور کھانا فراہم کرائے جانے کی وجہ سے وہاں نہیں آئے تھے بلکہ خود آئے تھے۔یقینی طور پر مختلف سرکاری ایجنسیوں نے آکر یہ سب دیکھا ہوگا اور ان سب سے کچھ سبق لیا ہوگا۔
دوسرا: مرکزی کیبنٹ نے لوک پال بل کا مسودہ پاس کر دیا۔ یہ مسودہ انا ہزارے کی مانگ کے مطابق تو بالکل نہیں ہے۔دراصل یہ مسودہ کسی ناٹک سے کم نہیں ہے۔ سوال ہے کہ آخر یہ ناٹک کیوں؟آخر اس طرح کا لوک پال بل لانے کا مطلب کیا ہے جو بے دانت ،بے ناخن ہو؟اس سے تو بہتر یہی  ہوتا کہ لوک پال بل کو ملتوی کردیا جاتا۔
تیسری بات:قانون بنانے کے سلسلے میں جسٹس ورما کمیٹی کی رپورٹ بھی آئی ہے۔کافی کم وقت میں کمیٹی نے اپنی رپورٹ سونپ دی جبکہ وزیر ِ قانون یہ بیان دے رہے تھے کہ ابھی تک ہم نے یہ فیصلہ نہیں لیا  تو ایسی حالت میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ اس بیچ کمیٹی نے اپنی رپورٹ کیوں اور کیسے سونپ دی۔
چوتھی بات یہ کہ نابالغ مجرم کی عمر کو لے کر ایک مسئلہ اٹھا۔ پارلیمنٹ کے ایک ممبر کا کہنا تھا کہ ایک نوجوا ن شخص  جو عصمت دری جیسا جرم کر سکتا ہے اس کی عمر،  سزا پانے کے لئے بھی جائز ہے۔ اس بات میں دم ہے۔ ہمیں اس بات کا ثبوت حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ ایک نوجوان جس نے عصمت دری کی ہے وہ ابھی نابالغ ہے یا وہ بالغ ہوا یا نہیں۔ہمیں صرف یہ پتہ لگانا ہے کہ اس نے یہ جرم کیا ہے یا نہیں ! اگر اس نے عصمت دری کی ہے، تو پھر عمر کا مسئلہ بے معنی ہوجاتا ہے۔ اس بارے میں ایک الگ نظریہ بھی ہے۔اس نظریہ کے مطابق جوے نائل (ایک نابالغ) یہ نہیں سمجھتا کہ وہ کیا کر رہا تھا ۔ عصمت دری کا مطلب کیا تھا؟
ظاہر ہے، عصمت دری  ایک سوچی سمجھی کوشش ہے۔ مجرم کو یہ سمجھ میں آنا چاہئے کہ وہ کیا کر رہا ہے اور اسے کسی بھی عام بالغ آدمی کی طرح ہی سزا ملنی چاہئے۔ اگر سرکار جوینائل ایج (نابالغ مجرم کی عمر) کے ایشو کو نہیں سلجھاتی ہے تو ایسی صورت میں عصمت دری کا اصلی گناہگار بچ نکلے گا اور دیگر ملزم کو عمر قید کی سزا مل جائے گی، جو غیر مناسب ہے۔دراصل یہ وقت کا تقاضہ ہے کہ منموہن سنگھ کچھ وزیروں کو ملا کر ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بنائیں جو اس معاملے کو دیکھے ، یہ دیکھے کہ ملک کی ضرورت کیا ہے؟ اگر آپ قانون بناتے ہیں تو سخت قانون بنائیں۔ایسا قانون بنانے کا کیا فائدہ جس سے کسی کوخوف ہی نہ ہو یا جس کا کسی پر اثر ہی نہ پڑے۔ اگر قانون سخت نہیں ہے تو اسے رد کردینا  بہتر ہے لیکن سرکار ایسا کرنا ہی نہیں چاہتی۔یہ ٹھیک ویسا ہی ہے جیسا کہ سرکار  ایک مضبوط لوک پال بل نہیں  لانا چاہتی۔
اب وقت آگیا ہے کہ سرکار عوامی جذبوں کو سمجھے ورنہ مخالفت کی آواز اور تیز ہوتی جائے گی، لوگوں کا غصہ اور بڑھتا جائے گا جو کہ آج نہیںدکھائی دے رہا ہے۔ اس لئے وہ اپنا غصہ ووٹنگ کے دوران دکھائیں گے،لہٰذا جتنی جلدی سرکار بیدار ہوتی ہے، اس کے لئے اتناہی اچھا ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *