آسٹریائی معاشرہ مسلمانوں کے لئے پرکشش ہے

وسیم احمد 
آسٹریا یوروپ کے ان ملکوں میں سے ہے جس کا مسلمانوں کے ساتھ قدیم رشتہ رہا ہے،اگر چہ یہ رشتہ فوجی نوعیت کا تھا مگر اسی رشتے کی وجہ سے مسلمان آسٹریا کے ساتھ منسلک رہے ہیں۔ عثمانیہ خلافت کے پھیلائو کو یوروپ میں روکنے میں آسٹریائی فوج کا اہم کردار رہا ہے۔اس تاریخی کڑواہٹ کے باجوود مسلمان اس ملک میں نہ صرف عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں بلکہ چاہتے ہیں کہ یوروپ کے دوسرے ملکوں میں رہنے والے مسلمانوں کے ساتھ بھی وہی سلوک روا رکھا جائے جو آسٹریا میں انہیں حاصل ہے۔یہاں پہلی نظر میں کوئی دیکھ کر یہ تمیز نہیں کرسکتا ہے ان میں سے کون مسلمان ہے او ر کون غیر مسلم ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ آپس میںبہت ہی مل جل کر اور اتفاق باہمی کے ساتھ رہتیہیں۔ سماجی زندگی میں ایک دوسرے سے اس طرح مل جل کر رہتے ہیں کہ دیکھنے والا تمیز ہی نہیں کرسکتا کہ وہ الگ الگ مذہب کے پیروکار ہیں۔یہی نہیں حکومت کی طرف سے اسلامی تعلیمات کی کھلی آزادی ہے اور دینی تبلیغ پر بھی کسی طرح کی کوئی روک نہیںہے۔البتہ ایسے لباس کو ناپسند کیا جاتا ہے جس سے معاشرے میں تفریق کا تصور پیدا ہوتا ہو۔یہاں مسلمان نصف ملین یعنی مجموعی آبادی کا تقریباً 5فیصد ہیں۔ان میں سے زیادہ تر راجدھانی’ ویانا‘ میں رہتے ہیں ۔راجدھانی میں آباد مسلمانوں کی تعداد لگ بھگ ایک لاکھ22ہزار ہے یعنی یہاں مسلمانوں کا تناسب 7.8 فیصد ہے۔عربوں کی بڑی تعداد ہے جو ہجرت کرکے یہاں آئے اورپھر یہیں مقیم ہوگئے۔یہاں مسلمانوں کو اپنے مذہب پر عمل کرنیمیں کسی طرح کی کوئی رکاوٹ کا سامنانہیں کرنا پڑتا ہے ۔ چنانچہ آسٹریا میں تقریبا 135 مسجدیں ہیں ، ان میں سے 53 مساجد صرف راجدھانی’ ویانا‘ میں ہیں۔ البتہ یہاں مسجدوں میں مینارے نہیں بنائے جاتے ۔ہاں! ویانا میں ایک بڑی مسجد ہے، جس میں مینار دیکھنے کو ملتا ہے۔1912 میں قانونی طور پر یہ اعتراف کیا گیا کہ آسٹریا میں جتنے مذاہب کے پیروکار ہیں، ان میں سے ایک مذہب اسلام بھی ہے، لیکن تقسیم آسٹریا اور پہلی عالمی جنگ کے بعد باضابطہ طور پر مذہب اسلام کوقومی مذہب میں شمار نہیں کیا گیا، مگر اسلام کو احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا۔وہاں کے مسلمان مسلسل اس کوشش میں رہے کہ انہیں مذہبی تنظیم قائم کرنے کی اجازت دی جائے۔1979 میں مسلمانوں کو مذہبی ادارے قائم کرنے، تنظیمیں تشکیل دینے کا اختیار ملا۔ اس اختیار کے بعد عالم عرب اور دوسرے ملکوں سے مسلم طلباء بڑی تعداد میں یہاں کا سفر کرنے لگے۔یہی نہیں آسٹریا کے اسکولوں میں بھی طلباء کو دینی تعلیم حاصل کرنے کا حق دیا گیا۔یہاں مسلمانوں کی ایک بڑی تنظیم ہے ۔ جس کا نام ’’ الھیئۃ الدینیۃ الاسلامیہ‘‘ہے۔ یہ تنظیم 1979 میں عرب اور ترکی سے آئے ہوئے مہاجرین اور طلباء کی کوششوں سے وجود میں آئی۔ اس وقت اس کی حیثیت انتہائی مستحکم اور مضبوط ہے۔ جب بھی کوئی اجتماعی فیصلہ کرنا ہوتا ہے، چاہے وہ مذہبی ہو یا سیاسی تو اسی تنظیم کے پلیٹ فارم سے تمام مسلمانوں کو پیغام دیا جاتا ہے۔ وہاں کے مسلمان بھی اس تنظیم کے پیغام کو سنتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں۔ یہاں ’ویانا‘میںمسلمانوں کا ایک بڑا قبرستان بھی ہے جس کا رقبہ 34 ہزار مربع میٹر ہے۔
مسلمانوں کیجوبھی آبادی یہاں ہے، اس میں دو طرح کے طبقے ہیں ۔ ایک طبقہ وہ ہے جو بہت پہلے ہی یہاں آکر آباد ہوا۔دراصل یہ وہ لوگ ہیں جو تعلیم کے غرض سے یہاں آئے تھے اور پھر یہاں کی آب و ہوا ان کے من کو بھا گئی لہٰذا یہیں ٹھہر گئے۔ یہ طبقہ انتہائی پڑھا لکھا اور با شعور ہے۔ ان میں ڈاکٹر اور اعلیٰ پیشہ ور زیادہ ہیں ۔ان کے علاوہ تاجر اور ٹیکنکل ہینڈ کی تعداد بھی خاصی ہے۔ البتہ دوسرا طبقہ وہ ہے جو مزدور پیشہ ہے۔ اس میں زیادہ تر وہ لوگ ہیں جو مزدوری کی غرض سے آسٹریا میں آئے اور پھر یہیں رک گئے۔ ایسے لوگ زیادہ تر ترکی ،بوسنیا، کوسوفا سے آکر آباد ہوئے ہیں ۔ یہ وہ طبقہ ہے جو خود تو پڑھا لکھا نہیں تھا اور نہ ہی ٹیکنکل ہینڈ تھا مگراس نے خود کو وہاں کے ماحول میں ایڈجسٹ کرنے کی کوشش کی اوراپنے بچوں کو مدارس میں تعلیم دلوائی اور پھر اعلیٰ یونیورسٹیوں تک پہنچایا۔ جیسا کہ اوپر بتایا گیا کہ وہاں کے لوگ اتفاق باہمی پر یقین رکھتے ہیں ۔ وہ معاشرتی زندگی میں ایک دوسرے کا کھل کر تعاون کرتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ مسلمان یہاں بہت ہی آزادی محسوس کرتے ہیں۔ البتہ نائن الیون کے بعد جب پوری دنیا میں کچھ یوروپی ممالک کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈہ پھیلایاجارہا تھا تو اس وقت یہاں کے مسلمانوں کی معاشرتی زندگی بھی متاثر ہوئی تھی۔ اگر چہ یہاں کی دوسری قوموں کے لوگ مسلمانوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کرتے تھے اور نہ ہی معاشرتی زندگی پر اس کا اثر عام طور پر نظر آتا تھا مگر کہیں نہ کہیں نفرت کی بو محسوس ہوتی تھی ،خاص طور پر جب کوئی مذہبی اجلاس ہوتا یا تبلیغی کام ہوتا تو ایسے موقع پر لوگ ان اجلاسوں سے کتراتے تھے جبکہ اس سے پہلے ایسا نہیں تھا۔نفرت کو پھیلانے میں وہاں کی کچھ متعصب سیاسی پارٹیوں نے اہم کردار ادا کیا۔ظاہر ہے یہ صورت حال ملک کے لئے بہتر نہیں تھی چنانچہ وہاں کی حکومت نے اس طرف توجہ دی اور مسلمانوں کو دیگر قوموں سے قریب کرنے کے لئے باضابطہ کوششیں ہوئیں اور عوام کو کسی بھی ایسی سرگرمیوں ، حرکتوں اور کاموں سے گریز کرنے کی تلقین کی گئی جس سے مسلمانوں کو معاشرے میں الگ تھلگ ہونے کا احساس ہو۔ اس کا خاطر خواہ اثر ہوا اور لوگ پھر پہلے کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہنے لگے۔لیکن کہا جاتا ہے کہ جب کسی پر سے ایک مرتبہ اعتماد اٹھ جاتا ہے تو پھر دوبارہ بحال ہونے میں وقت لگتا ہے۔ اگر چہ مسلمانوں نے بھی دیگر قوموں کے ساتھ بہترین معاشرتی زندگی کا نمونہ پیش کیا، مگر کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی حد تک انہیں یہ محسوس ہوا کہ مذہبی شناخت کے ساتھ زندگی گزارنے میں ہی امن و سلامتی ہے چنانچہ ایک آسٹریاوی اخبار ’’ بریسہ‘‘ کی رپورٹ کے مطابق ہجرت کر کے آنے والوں میں 45 فیصد لوگ اپنے مذہب پر سختی سے عمل کرنے لگے ہیں۔ان کی اس مذہبی پابندی کو کچھ متعصب ذہنیت کے لوگوں نے معاشرتی ہم آہنگی کے مخالفہونے کا پروپیگنڈہ کرنا شروع کردیا،خاص طور پر ان کے عربی اور اسلامی لباس کو یہ کہہ کر حوصلہ شکنی کی جانے لگی کہ اس سے آسٹریاوی معاشرے میں پائی جانے والی ہم آہنگی متاثر ہوتی ہے،مگر اسلامی تنظیم کی طرف سے اس پروپیگنڈے کی مخالفت کی گئی اور کہا گیا ہے کہ اس طرح کی سوچ اسلامی مزاج کو نہ جاننے کا نتیجہ ہے۔یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اس طرح کے اعتراضکا مقصد اسلامی شعار کی مخالفت نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کی بڑی تعداد میں ہجرت کرکے یہاں آنے اور آباد ہونے پر تشویش کا اظہار کرنے کے طور پر ہے کیونکہ جس طرح سے بوسنیا او کوسوفہ وغیرہ سے مسلمان یہاں آکر آباد ہورہے ہیں، اگر یہی صورت حال باقی رہی تو ’بریسہ‘‘ اخبار کے مطابق 2050 تک ملک کے تعلیمی اداروں میںہر تین میں سے ایک طالب علم مسلم ہوگا۔
یوروپ کے دیگر ملکوں کی بہ نسبت آسٹریا کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں کی مسلم خواتین نے مسلم تہذیب کو نہ صرف مذہبی طور پر بلکہ سیاسی طور پر بھی نمایاں کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔یہاں عورتیں بڑی تعداد میں مسجدوں میں جاتی ہیں ۔ اس وقت ان کا جسم چادر میں لپٹا ہوا ہوتا ہے۔ یہی نہیں کہ یہ یہاں آکر صرف نماز ادا کرتی ہیں بلکہ تبلیغی کام بھی انجام دیتی ہیں اور اجلاسوں میں نہ صرف مذہبی بلکہ سیاسی بیداری لانے کی بھی تلقین کرتی ہیں۔ان کے اس عمل کی وجہ سے کچھ دیگر مذاہب کی تنظیموں کی طرف سے اعتراض بھی اٹھائے گئے، یہ اعتراضات نہ صرف سیاسی بیداری لانے کے اوپر تھے بلکہ ان کے حجاب کے اوپر بھی تھے ۔ اس سلسلے میں تنظیم ’’ھییۃ الدینیۃ الاسلامیۃ ‘‘ کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ وہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے رہا ہے اور جو لوگ مسلم خواتین کے طرز و طریقہ پر اعتراض کر رہے ہیں ان کو مطمئن کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔بہر کیف نائن الیون اور اسلام کے خلاف پروپیگنڈہ نے کسی حد تک آسٹریا کے لوگوں کے دلوں میں بھی تفریق پیدا کی ہے،مگر ان سب کے باجود وہاں کے مسلمان دیگر قوموں کے ساتھ گھل مل کر رہتے ہیں اور بہترین معاشرتی زندگی کا نمونہ پیش کررہے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *