عرب سے عجم تک رشتے کا احترام مٹتا جا رہا ہے

(عفاف اظہر (کناڈا
ایک عرب باپ کی اپنی پانچ سالہ معصوم لخت جگر سے جنسی زیادتی کے بعد جسمانی تشدد سے ہلاک کر دینے کی خبر نے جہاں لمحہ بھر کو میرے دل و دماغ ماؤف کر دیا وہیں اسی خبر کے آئینے نے مجھے ایک بار پھر عالیہ کا چہرہ دکھا دیا ۔حال کے اس ایک ہی جھٹکے نے مجھے کچھ برس قبل ماضی میں لا پٹخا اور عالیہ کا چہرہ میری نظروں کے سامنے گھومنے لگا۔ وہ نوجوان پاکستانی لڑکی جب مجھ سے پہلی بار ملی تھی ،اسکی وہ کھوئی کھوئی سی آنکھیں جو ہر لمحہ کسی درد کو لئے پریشان سی رہتی تھیں تو چہرے پر ایک دل دہلا دینے والا سکوت ہوتا تھا کہ وہ یقینا کسی نفسیاتی الجھن کا بری طرح سے شکار تھی ۔وہ کچھ سال پہلے ہی پاکستان سے شادی یہاں آئی تھی . مگر ایک نارمل زندگی نہ گزار سکنے کی وجہ سے اس کا شوہر بھی اسکا ساتھ چھوڑ چکا تھا۔ ہمیشہ خاموش خاموش اور خود میں گم صم رہنے والی عالیہ، جس سے میں جب بھی ملتی اکثر اسے جینے کی امنگ پیدا کرنے پر بھر پور لیکچر دیتی تو کبھی زندگی سے لڑنے کی ہمت بندھاتی اور وہ ہمیشہ سب کچھ خاموشی سے سنتی اور ہنس دیتی تھی . ایک دن کہنے لگی باجی کیا آپ میری مدد کریں گی ؟ میرے سوالیہ انداز میں دیکھنے پر پھر بولی باجی کسی بھی طرح کوئی کام دھندا اگر کرنے کو مل جائے، کوئی بھی محنت مزدوری ہو میں کر لونگی ۔ میں نے کہا ابھی کیا ضرورت ہے یہ سب کرنے کی ؟پہلے تم خود کو صحت مند تو کرلو پھر کر لینا جو بھی کرنا ہو۔ زندگی پڑی ہے یہ سب کچھ کرنے کو، تو کہنے لگی باجی اب تو زندگی کا صرف ایک ہی مقصد ہے کہ کسی بھی طرح اس قابل ہو جاؤں کہ اپنے باپ کو جتنی جلدی ہو سکے یہاں اپنے پاس بلا لوں . مجھے ایک بیٹی کا اپنے باپ کیلئے اس طرح تڑپنا بہت اچھا لگا ۔ ایک باپ کا رشتہ کیا ہے یقینا یہ ایک بیٹی سے بہتر کوئی بھی نہیں جان سکتا اور پھر کچھ ہفتوں میں وہ یہاں ایک فیکٹری میں کام کرنے لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے اپنے باپ کو سپانسر بھی کر دیا ۔ کام کی بے پناہ مصروفیت کے وجہ سے پھر سال بھر ہماری کوئی بھی ملاقات نہ ہو سکی۔ اچانک ایک دن اسکا مجھے فون آیا کہ باجی میرے والد کو ویزا مل گیا ہے اور اگلے ہفتے یہاں آ رہے ہیں۔میں نے جھٹ سے پرجوش مبارکباد پیش کردی ۔ مگر جواب میں ایک گھمبیر خاموشی تھی جس سے مجھے کافی حیرانی ہوئی، پھر چند لمحے کے سکوت کے بعد اسکی بھرائی ہوئی آواز آئی باجی اب آپ کی مجھے ایک بار پھر ضرورت پڑے گی جو مناسب وقت آنے پرآپ کو بتاؤں گی۔ پلیز باجی اسے آخری دفعہ سمجھ کر میری مدد کردینا۔ میں اسکے لب و لہجے سے کچھ حیرانی اور کچھ پریشانی کی سی کیفیت میں ہی تھی کہ فون بند ہو گیا ۔
دو ہی ہفتے گزرے ہونگے کہ ایک دن اس کا فون پھر آ گیا فون اٹھاتے ہی درد سے بھری اسکی ہچکیوں نے یکدم میرے تمام تر حواس چھین لئے ۔کچھ لمحے بعد وہ سسکیاں روکنے کی کوشش کرتی ہوئی ٹھہر ٹھہر کر بولی۔ باجی وہ وقت آ گیا ہے مجھے اب آپ کی مدد کی ضرورت ہے ۔مجھے ابھی اور اسی وقت آپ سے ملنا ہے اور پھر تھوڑی ہی دیر میں وہ میرے سامنے تھی۔ بکھرے بال سوجی ہوئی آنکھیں رات بھر روتے رہنے کی داستانیں سنا رہی تھیں مگر اب کی بار چہرے کے سکوت میں بلا کی طمانیت تھی ایک سکون سا تھا اس بھٹکے ہوے راہی کی مانند جو ایک لمبی مسافت طے کرکے بالآخر اپنی کھوئی ہوئی منزل پا لینے میں کامیاب ہو گیا ہو ۔ ہاتھوں میں پکڑا ہوا ایک لفافہ وہ مجھے تھماتے ہوے اگلے ہی لمحے ایک سوکھی ہوئی شاخ کی مانند میری بانہوں میں جھول گئی۔کچھ دیر دھواں دھار رو لینے کے بعد اس نے جو کچھ مجھ سے کہا وہ میرے رونگٹے کھڑے کرنے کے لئے کافی تھا۔
وہ نو سال کی تھی جب اسکی ماں بستر مرگ سے جا لگی۔گھر میں آٹھ بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھی ۔ماں کی بیماری کی وجہ سے اسکی سبھی ذمہ داریاں اسکے نازک کندھوں پر آ پڑیں حتی کہ باپ کی جنسی پیاس بجھانے کی بھی ۔ باپ گھر ہی میں چوری چھپے جنسی ہوس کا نشانہ بنانے لگا۔ دو سال بعد ماں مر گئی تو باپ کو تو جیسے بالکل ہی آزادی مل گئی اور اپنی جنسی ہوس اپنی بیٹی ہی سے پوری کرتا رہا۔ جب جوان ہوئی تو عزیز رشتہ داروں نے بن ماں کے بچی سمجھ کر اسکا رشتہ باہر کروا دیا۔ شوہر تو بہت اچھا تھا مگر وہ خود کو اس کے قابل نہ سمجھتی تھی اور یہ دکھ بانٹنے سے بھی ڈرتی رہی۔ اسی خوف نے ذہنی حالت دماغی دوروں تک پہنچا دی اور نوبت نیند کی گولیاں لے کر ہفتوں بیہوش رہ کر ماضی کو بھلانے کی ناکام کوششوں تک آ گئی۔ماضی کو تو بھلا نہ پائی ہاں مگر شوہر کو بھلانے پر مجبور کر دی گئی ۔
ہر پل بیہوشی کے انتظار اور ہوش میں اپنی بے بسی پر کڑھتے کڑھتے نہ جانے کب زندگی نے یہی مقصد پا لیا کہ میں تو سبھی کچھ لٹا کر بھی بے سکوں رہی اور مجھے لوٹنے والا میرا سب کچھ لوٹ کر بھی سکوں سے کیوں ہے ؟ مجھے بے عزت کر کے وہ عزت سے کیوں ؟ بس اسی لمحے باپ کو یہاں بلانے کا فیصلہ کر لیا کہ پاکستان میں کچھ بھی کرنا میرے لئے ممکن نہ تھا اور یہاں میرا اپنا کوئی بھی نہیں۔ اس باپ نما درندے کے ساتھ ایک چھت کے نیچے یہ دو ہفتے میں نے کس عذاب میں گزارے ہیں یہ ذکر چھوڑیں ۔ہاں اتنا تو کرہی لیا کہ اس سے اقبال جرم کروا چکی ہوں ،ریکارڈنگ اس لفافے میں ہے ۔ میرا کام اتنا ہی تھا ،میں اپنے مجرم کو یہاں تک لے آئی ہوں جہاں سے مجھے انصاف کی توقع ہے ۔ اسکے چہرے پر چھائے سکون و طمانیت کے بادلوں کا یہ سلگتا ہوا راز جان کر میں خود بے سکوں ہو چکی تھی کہ آج بھی جب لوگ مجھ سے عذاب کا ذکر کرتے ہیں اور گناہ و ثواب کے قصے سنا کر جہنم سے ڈرانے کی کوشش کرتے ہیں تو میں سوچتی ہوں کہ گھروں میں بیٹھی معصوم بچیاں باپ کے مقدس رشتے کی ہوس کا نشانہ بنتی ہیں، اس سے بڑھ کر دنیا کا عذاب کیا ہوگا کہ دختران مشرق ہی اپنے سگے باپ بھائیوں ماموں اور چچاؤں کے حمل گرانے کے طریقے ڈھونڈتی پھریں ۔ قانون اگر ایسے مجرم کوبھلے جتنی بھی سزا دے دے مگر کیا کوئی قانون مذہب یا معاشرہ ایسی بیٹیوں اور بہنوں کے دلوں میں باپ بھائیوں جیسے مقدس رشتوں کی حرمت دوبارہ پھر کبھی بھی جگا پائے گا. ؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *