آئیڈل ہندوستان کی علامت ، انا کی تاریخی ریلی

سنتوش بھارتیہ
آخر کس واقعہ کو تاریخی کہیں گے؟ وہ کون سے عناصر ہیں، جو کسی واقعہ کو تاریخی بناتے ہیں؟ تاریخی لفظ زبان پر لانا آسان ہے، لیکن تاریخی واقعہ کے تاریخی اسباب بھی ہونے چاہئیں۔ جب مجھ سے 30 جنوری کی شام پٹنہ میں ایک سینئر صحافی نے کہا کہ آج پٹنہ میں ایک نئی تاریخ رقم ہوتے دیکھی، تو میں نے اس سے پوچھا، کیسے؟ اس نے کہا کہ 40 سال پہلے لوک نائن جے پرکاش نارائن کے وقت ہم نے دیکھا تھا کہ کس طرح اپنے پیسے سے نہ صرف جھومتے ہوئے، بلکہ پرجوش ہو کر غریب اور نوجوان نظام میں تبدیلی کا نعرہ لے کر اکٹھے ہوتے تھے۔ انھوں  نے یہ بھی یاد دلایا کہ جے پرکاش جی جب گاندھی میدان آتے تھے یا چار نومبر کو آئے تھے، تو کس طرح گاندھی میدان عام اور خاص لوگوں سے بھر گیا تھا۔ انھوں  نے کہا کہ وہی نظارہ مجھے آج انّا ہزارے کی ریلی کو دیکھ کر یاد آ رہا ہے۔ دراصل، اسے لیے میں کہہ رہا ہوں کہ یہ ریلی ’تاریخی‘ ہے۔

میں یہ ساری باتیں اس یقین کے ساتھ لکھ رہا ہوں کہ آنے والے  تین مہینوں میں ملک انا ہزارے کے ساتھ کھڑا ہو سکتا ہے اور ان سیاسی پارٹیوں کو حاشیہ پر ڈال سکتا ہے،  اگر میرا یہ اندازہ غلط ثابت ہوا، تو شاید تین سے چار مہینے کے بعد میں جو پیس  لکھوں گا، اس میں مان لوں گا کہ میں ہندوستان کے عوام کو، نوجوانوں کو سمجھ نہیں پایا۔   میرا اندازہ غلط تھا۔ لیکن مجھے بھی انا ہزارے کی طرح پورا یقین ہے کہ یہ ملک اگلے چار مہینوں میں کھڑا ہو جائے گا اور پوری سیاسی مشینری کے خلاف ایک چنوتی پیش کرے گا اوراسے مجبور کرے گا کہ وہ لوگوں کے حق میں فیصلے لینا شروع کرے۔

 

میں اس صحافی دوست کی باتوں کا احترام کرتے ہوئے کچھ اور اسباب اس ریلی کو تاریخی کہنے کے لیے بتانا چاہوں گا۔ سیاسی پارٹیوں نے لوگوں میں یہ عادت ڈال دی ہے کہ اگر کہیں میٹنگ اور ریلی ہونی ہے، تو وہ لوگوں کو روزانہ کے حساب سے نہ صرف پیسے اور کھانا دیتے ہیں، بلکہ آنے جانے کے وسائل بھی فراہم کرتے ہیں۔ اتنا ہی نہیں، بہت سارے لوگوں کو اس کے علاوہ غیر قانونی وسائل بھی مہیا کراتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ  اس کے باوجود لوگوں کی ریلی ہزاروں تک سمٹ کر ہی رہ جاتی ہے اور جن کی ریلی لاکھ میں ہوتی ہے، انہیں اس کے لیے کروڑوں روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ پٹنہ میں عام طور پر دو لاکھ کی ریلی کے لیے پچاس سے ساٹھ کروڑ روپے سیاسی پارٹیاں خرچ کرتی ہیں، یہ اندازہ وہاں کے صحافیوں کا ہے۔ انا ہزارے کی ریلی اس معاملے میں تاریخی رہی کہ جتنے بھی لوگ آئے، ان میں سے کسی کو ایک کپ چائے تک نہیں پلائی گئی۔ کسی کو ایک رکشہ تک کی مدد نہیں دی گئی۔ اس کے باوجود لوگ ریلی میں آئے اور موٹے اندازہ کے حساب سے ڈیڑھ سے دو لاکھ لوگ اس سبھا میں موجود تھے۔ جوش سے بھرے ہوئے غریب لوگ اور 90 فیصد کے آس پاس نوجوان لوگ، جو انا ہزارے کی نظام میں تبدیلی کے نعرے سے متاثر ہو کر آئے تھے۔ انہیں لگا کہ پھر کوئی آیا ہے، جو گاندھی اور جے پرکاش کی طرح ’ایماندار‘ ہے اور عام لوگوں کے مسائل کے حل کے لیے اپنا جی جان لگانے والا ہے۔
مسائل بھی علاقائی نہیں، مسائل وہ جن سے سارا ملک کراہ رہا ہے، یعنی نظام کا مسئلہ۔ لیکن تعجب کی بات تو یہ ہے کہ اس ریلی کو کچھ ٹیلی ویژن چینلوں نے بیس ہزار، کچھ نے تیس ہزارکی بھیڑ والی ریلی بتایا۔  ایک چینل نے تو کہا کہ انا کا جادو ختم ہو رہا ہے۔ یہ کون لوگ ہیں، اس کے بارے میں ہم آپ کو تھوڑی دیر بعد بتائیں گے، لیکن پہلے ہم ریلی کی حقیقت سے آپ کو روبرو کراتے ہیں۔ انا ہزارے ملک میں بدلاؤ کا سفر شروع کرنے والے ہیں۔ اس بدلاؤ کو وہ نظام میں مکمل تبدیلی کے لیے عوامی بیداری کی ’جن تانترک یاترا‘ کہتے ہیں۔ ان کا ماننا یہ ہے کہ وہ ایک متعینہ مدعے کو لے کر لوگوں کے سامنے جائیں گے، انھیںبدلاؤ کے لیے تیار کریں گے اوران سے کہیں گے کہ یہ ساری سیاسی مشینری ان کے مفادات کے خلاف کھڑی ہے اور اسی لیے انہوں نے اس کے سامنے چنوتی پیش کرنے کا من بنا لیا ہے۔ گاندھی میدان ریلی کو لے کر انھیں امید تھی کہ بہار انہیں بانہیں پھیلا کر اپنی آغوش میں سمیٹ لے گا اور ان کے سر پر یہ ذمہ داری ڈالے گا کہ وہ ملک میں نظام میں مکمل تبدیلی کی لڑائی کی شروعات کریں۔ انا ہزارے کی اس امید کو بہار کے لوگوں نے بخوبی پورا کیا۔ بہار کے ہر ضلع میں انا ہزارے کی اپیل کو لے کر مباحثے ہوئے، لوگوں نے میٹنگیں کیں اور گاندھی میدان میں اپنا نمائندہ بھیجنے کا فیصلہ بھی کیا۔ انا کی ایک ایک بات، جو اخباروں میں چھپتی ہے یا انا کے کہے ہوئے جملے، جو ٹیلی ویژن پر چلتے ہیں، نے بہار میں ایک انوکھی عوامی بیداری کا کام کیا ہے۔ سب سے زیادہ اپیل نوجوانوں نے سنی۔ بہار کا شاید ہی ایسا کوئی ضلع رہا ہو، جہاں سے انا کی ریلی میں لوگ نہیں آئے ہوں۔ اس میں پی وی راج گوپال کی صدارت والی ایکتا پریشد کے لوگ  تھے، راجندر سنگھ جل پروش کی قیادت میں جو لوگ بھروسہ کرتے ہیں، جو پانی کے لیے لڑتے رہتے ہیں، وہ بھی اس ریلی میں تھے۔ لیکن سب سے زیادہ اس ریلی میں تھے کسان مزدور کے گھروں کے لڑکے، طالب علم اور نوجوان۔
اس ریلی کو منعقد کرنے کی ذمہ داری انا ہزارے نے جنرل وی کے سنگھ کو دی تھی۔ جنرل وی کے سنگھ نے انا ہزارے سے بات کر کے اس ریلی کے لیے دو اصول طے کر دیے۔ پہلا یہ کہ اس ریلی کے لیے کہیں کوئی عام چندہ وصول نہیں کیا جائے گا۔ سوال اٹھا اور خاص کر انا ہزارے کے کارکنوں نے ہی یہ سوال اٹھایا کہ تب کام کیسے ہوگا؟ جنرل وی کے سنگھ نے اس کا جواب دیا کہ ’کیش‘ میں نہیں ’کائنڈ‘ میں لوگوں سے مدد لی جا سکتی ہے۔ پرچہ چھپوانا ہے، کوئی پیسہ دینا چاہتا ہے، تو پریس والے کو دے دے، لاؤڈ اسپیکر چاہیے، تو لاؤڈ اسپیکر والے کو سیدھے پیسے دلوا دو، کوئی سواری دینا چاہتا ہے، تو سواری والے کو سیدھے  پیسے دلوا دو۔ کل ملاکر کیش تحریک چلا رہے لوگوں کے ہاتھ سے نکل کر کسی کے پاس نہیں جائے گا۔ اس کی بہت مخالفت ہوئی۔ جس دوسری بات کو انہوں نے اس ریلی کے لیے اصول بنایا، وہ یہ کہ کوئی مرکزی کمیٹی نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ایک لیڈر نہیں سو لیڈر، ایک آفس نہیں سو آفس۔ جو اپنے یہاں آفس کھولنا چاہے، آفس کھول لے اور جو اپنے یہاں بیس، پچیس، پچاس کا گروپ بنا لے، وہ لیڈر۔ ان سبھی کا رشتہ ایک ای میل اور فون کے ذریعے اپنے ساتھ رکھنے کی بات انہوں نے کہی اور سچ تو یہ ہے کہ لوگوں نے اس رشتے کو رکھا۔ اس کا ایک نقصان ہوا۔ دراصل، پرانے کارکن جنرل وی کے سنگھ سے دور چلے گئے، کیوں کہ انہیں لگا کہ اگر وہ چندہ نہیں لیں گے، تو وہ کام کیسے کریں گے، کیوں کہ انہیں اس نئے فارمولہ کے اوپر یقین ہی نہیں تھا۔ مرکزی کمیٹی نہ ہونے کی وجہ سے اپنے تعلقات کو چمکانے کا موقع بھی ان کے ہاتھ سے چلا گیا۔ نتیجتاً بہت سارے اہم کارکن اور لیڈر اس ریلی سے دور چلے گئے۔ لیکن اس کا فائدہ بھی ہوا۔ جگہ جگہ سینکڑوں نئے لوگ کھڑے ہو گئے۔ ان لوگوں نے آپس میں وسائل کا بارٹر کیا۔ انہوں نے آپس میں مل کر نہ صرف اپنی کمیٹیاں بنائیں، بلکہ اپنے یہاں پرچار بھی کیا۔ کل ملا کر مقامی قیادت ڈیولپ کرنے میں کمال کا کام کیا۔ ابھی تک اس ریلی میں عمومی طور پر چندہ جمع کرنے کی کوئی خبر سامنے نہیں آئی۔ انا کی تحریک اور 30 جنوری کی ریلی کا سب سے بڑا فائدہ یہی ہوا کہ جمہوریت کی ایک نئی شکل کا استعمال انھوںنے کیا۔ انا کی اس ریلی میں منچ پر ایک ٹیم دکھائی دی۔ آدیواسیوں اور بے زمینوں کے حق کے لیے لڑنے والے پی وی راج گوپال، جھار کھنڈ کی آدیواسی کارکن منی ہانسدا، کرناٹک کے لنگایت فرقے کے مذہبی گرو واسو وجے مرتینجے مہا سوامی جی، جل پروش راجندر سنگھ اور صوفی کاؤنسل کے صدر مولانا جیلانی اور بہت سارے دانشور اور صحافی، جنہوں نے آگے بڑھ کر، ملک کے تئیں اپنا فریضہ مان کر، اس ریلی کو کامیاب بنانے میں خود کواس کا حصہ بنا لیا۔ ان صحافیوں کو کوئی نہیں جانتا، لیکن وہ سبھی کو جانتے ہیں۔ انہوں نے نہ صرف خبریں لکھیں اور چلائیں، بلکہ انہوں نے وسائل جمع کرنے میں بھی اس ریلی کی خوب اور خوب مدد کی۔ بہت سارے قلم کار اور شاعر بھی انا کی اس تحریک سے جڑے۔ انا کی اس تحریک نے ان لوگوں کو بھی جوش دلایا، جو سرکاری افسر اور خاص کر پولس میں شامل ہیں۔ ان سبھی نے انا ہزارے کو الگ الگ آتے جاتے کہا کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ ہم کھل کر آپ کے ساتھ ضرور نہیں آ سکتے، لیکن ہم سبھی آپ کا ساتھ دیں گے۔اور یہ انا کی تحریک کاایک سب سے پُر اسرار پہلو ہے۔  جو سرکاری نوکریوں میں ہیں، چاہے وہ پولس کی نوکری ہو یا سول سروس کی، ہر آدمی انا کے پاس آکر ان کی حمایت کرنا چاہ رہا تھا سرکار کے وزیر چوری چھپے جنرل وی کے سنگھ سے بات کرنے کی کوشش کررہے تھے۔ بہار کے ایم پی اور ایم ایل اے انا ہزارے سے بات کرنا چاہتے تھے۔ انا ہزارے سے بات نہ کر پانے کی صورت میں انہوں نے جنرل وی کے سنگھ سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی، لیکن اس سے بھی کمال کی چیز یہ کہ بچے، عورتیں اور خاص کر مسلم سماج کے لوگ انا کے ساتھ جڑنے کے لیے بیتاب اور پرجوش دکھائی دیے۔ شاید یہ انا کے خیالات کا مضبوط پہلو ہے کہ جب جنرل وی کے سنگھ امارتِ شرعیہ کے سربراہ مولانا نظام الدین صاحب سے ملنے گئے، تو انہوں نے جنرل وی کے سنگھ سے نہ صرف یہ کہا کہ وہ ان کے مقصد سے متفق ہیں، بلکہ یہ بھی کہا کہ وہ اس کی حمایت کرتے ہیں۔ تقریباً ایک ہفتہ کے بعد مولانا صوفی جیلانی ،  مولانا نظام الدین صاحب سے ملنے گئے، تو انہوں نے کھلے عام کہا کہ میں انا کے مقصد سے متفق ہوں، ان کی حمایت کرتا ہوں اور اسی لیے مسلمانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ جائیں۔ نتیجہ کے طور پر مسلم نوجوان اور مسلم عورتیں اس ریلی میں پہنچیں۔
بہار میں ایک بیماری ہے۔ وہاں پر ہر آدمی کو اس کی قابلیت سے کم، اس کی ذات کے حساب سے زیادہ دیکھا جاتا ہے اور دراصل، اس لیے یہ افواہ پھیل گئی کہ جنرل وی کے سنگھ چونکہ راجپوت ہیں، اس لیے بہار کا راجپوت سماج ان کے ساتھ کھڑا ہو گیا ہے اور ہر جگہ راجپوت ہی راجپوت نظر آ رہے ہیں۔ اس افواہ کے اوپر کارکنوں نے تو بھروسہ کیا، لیکن عوام نے اس افواہ پر بھروسہ نہیں کیا، کیوں کہ جو بھیڑ انا ہزارے کی ریلی میں دکھائی دی، اس بھیڑ میں غریب زیادہ تھے، کمزور، دبے کچلے اور نوجوان زیادہ تھے اور ان کا تیور کہیں پر بھی ذات پر مبنی نہیں تھا۔ اس ریلی نے اس ’غلط فہمی‘ کو توڑا کہ بہار میں ذات پات ہر جگہ ابلتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔
انا ہزارے کی اس ریلی نے ملک کو ایک نیا پیغام دیا۔ صاف پیغام یہی تھا کہ عام آدمی میں نہ صرف طاقت ہوتی ہے، بلکہ عام آدمی بھی بدلاؤ کے لیے کھڑا ہو سکتا ہے۔ پیغام یہی تھا کہ ملک کے نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ بدلاؤ چاہتا ہے اور پیغام اس بات کا بھی کہ اگر بات دل سے نکلی ہو، تووہ سیدھے لوگوں کے دل تک جاتی ہے اور دماغ کو لڑنے کے لیے تیار کر دیتی ہے۔ اس ریلی میں یہی ہوا۔ انا ہزارے کی ہر بات پر تالیاں بجیں۔ جنرل وی کے سنگھ سمیت اسٹیج پر جتنے بھی مقرر تھے، ان میں شری پی وی راج گوپال، شری راجندر سنگھ اور مولانا صوفی جیلانی شامل تھے، ان کی تقریروں کو لوگوں نے غور سے سنا۔ اس ریلی کی ایک حصولیابی مولانا جیلانی ہیں، جنہوں نے ریلی میں موجود لوگوں کو جوش سے شرابور کر دیا۔ ریلی کی ایک خاص بات یہ بھی رہی کہ باپو کے خون سے سَنی مٹی کو گواہ مان کر انا ہزارے نے ریلی میں آئے لوگوں کو حلف دلایا۔ حلف ملک کے لیے سب کچھ نچھاور کرنے کا، ملک کو بڑا ماننے کا اور باپو کی وراثت کی حفاظت کرنے کا۔ پورا ماحول جذباتی ہوگیا۔ لوگوں کو لگا کہ گاندھی اور جے پرکاش کی شکل میں انا ہزارے ان سے بات چیت کر رہے ہیں۔ اس پوری صورتِ حال کو پٹنہ کے اخباروں نے جیسا تھا ویسا دکھایا، کیوں کہ اس ریلی میں پٹنہ کے سبھی بڑے ایڈیٹر موجود تھے۔لیکن کچھ ٹیلی ویژن چینلوں، جن میں زی ٹیلی ویژن اہم ہے اور دوسرا چینل سہارا ہے، نے اس ریلی کو بے شرمی کے ساتھ کم تر دکھانے کی کوشش کی۔ زی نے کہا کہ انا کا جادو ختم ہو رہا ہے۔ دوسری طرف سہارا اسے 20 سے 30 ہزار کی ریلی بتا رہا تھا۔ یہ بالکل ویسا تھا، جیسا کہ مثال کے طور پر سورج کی روشنی کو ہم کہیں کہ یہ سورج کی روشنی ہے ہی نہیں یا پھر ہم آسمان کے اوپر تھوکیں۔ دونوں صورت میں اپنی ہی بے عزتی ہوتی ہے۔ وہاں بیٹھے لوگ اور ملک میں باقی نیوز چینل، جن میں اے بی پی نیوز، آج تک، این ڈی ٹی وی وغیرہ شامل تھے، جو دیکھ رہے تھے کہ کس طرح تاریخ رقم ہو رہی ہے اور غریب آدمی کھڑا ہو رہا ہے۔ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ اُن دو چینلوں نے نہ صرف صحافت کی ایتھکس کو، بلکہ صحافت کی شرم کو بھی گھول کے پی لیا۔
اس ریلی کا سیاسی اثر نتیش کمار، لالو پرساد، رام وِلاس پاسوان جیسے لوگوں کے ردِ عمل میں نہیں دکھائی دیا، کیوں کہ ان تینوں کا ردِ عمل سہما ہوا تھا۔ اس کا سیاسی اثر اگلے دن، یعنی 31 جنوری کو اس وقت دکھائی دیا، جب آناً فاناً میں مرکزی کابینہ نے لوک پال بل کے اوپر بات چیت شروع کی اور لوک پال بل کا مسودہ پاس کر دیا۔ شاید سرکار کو لگا کہ اگر وہ لوک پال کا مسودہ پاس کر دیتی ہے، تو اس ریلی کا اِمپیکٹ ختم ہو جائے گا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ دراصل، سرکار آج کل جو کر رہی ہے، غلط کر رہی ہے اور لوگوں کے خلاف بھی کر رہی ہے۔ لوک پال کو لے کر لوگوں کے من میں جو تشویش تھی، وہ سچ ثابت ہوئی ۔  آنے والا لوک پال بل کمزور  ہے، ایسا انا ہزارے نے کھلے عام کہا، کیوں کہ آج بھی جن لوک پال کا موضوع انا ہزارے کے ردِ عمل کا انتظار کر رہا ہے اور لوگ بھی انا ہزارے کا ردِ عمل جاننا اور سمجھنا چاہتے ہیں۔ انا ہزارے نے پٹنہ میں کہا اور پہلی فروری کو دہلی میں بھی کہا کہ یہ لوک پال بل ملک کے ساتھ دھوکہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ دھوکہ پارلیمنٹ میں بیٹھی ہر سیاسی پارٹی کی طرف سے انہیں ملا ہے، کیوں کہ پارلیمنٹ نے اسے اتفاقِ رائے سے پاس کیا تھا۔ اس کے بعد وزیر اعظم نے انہیں ایک خط لکھا تھا، جس میںانھوں نے اس بارے میں وعدہ کیا تھا، پر وہ  اپنے وعدے سے پیچھے ہٹ گئے۔ سونیا گاندھی نے بھی انہیں جو کچھ خط میں لکھا، وہ صحیح نہیںتھا۔ انا ہزارے کے جواب کا انہوں نے کوئی جواب ہی نہیں دیا۔
انا ہزارے کا کہنا ہے کہ وہ جن لوک پال سمیت بدعنوانی کے خلاف ایک بڑی تحریک چلائیں گے اور ملک کے نوجوانوں کے لیے بنیادی تبدیلی کی بات کریں گے۔ 30 جنوری کی ریلی میں جنرل وی کے سنگھ نے انا ہزارے کے کہنے سے ایک 25 نکاتی پروگرام پڑھا۔ اس پروگرام کے اوپر انا ہزارے پورے ملک میں یاترا کرنے والے ہیں۔ اس کا ایک ایک نکتہ سیاسی پارٹیوں کے لیے چنوتی ہے، کیوں کہ مجھے لگتا ہے کہ یہ 25 نکاتی پروگرام ملک میں ایک نیا ایجنڈہ بننے والا ہے۔ انا ہزارے کا صاف ماننا ہے کہ اگر سیاسی پارٹیاں اس چارٹر کے اوپر اپنا رخ صاف نہیں کرتیں، تو وہ کہیں گے کہ عوام خود اپنے امیدوار لوک سبھا میں منتخب کرکے بھیجیں۔ بنا لوک سبھا میں بڑی تعداد میں تبدیلی کی حمایت کرنے والے لوگوں کے گئے نظام میں تبدیلی نہیں ہو سکتی، کیوں کہ قانون تو پارلیمنٹ میں ہی بننا ہے۔
انا ہزارے نے اس ریلی میں ایک ماسٹر اسٹروک کھیلا۔ انہوں نے کہا کہ اب میں انڈیا اگینسٹ کرپشن کا استعمال نہیں کروں گا۔ میں ایک نئی تنظیم کا اعلان کرتا ہوں، جو ان تمام لوگوں کو متحد کرے گی، جو تبدیلی چاہتے ہیں۔ اس تنظیم کا چارٹر پہلے ہی انہوں نے جنرل وی کے سنگھ سے پڑھوا دیا اور اعلان کیا کہ اس نئی تنظیم کا نام ہوگا ’جن تنتر مورچہ‘۔ جن تنتر مورچہ میں ابھی صرف انا ہزارے اور جنرل وی کے سنگھ لیڈر ہیں، لیکن اس کے معاون لیڈروں میں اسٹیج پر بیٹھے ہوئے نہ صرف سبھی لیڈر، جن میں پی وی راج گوپال، راجندر سنگھ اور مولانا جیلانی وغیرہ  شامل ہیں، بلکہ وہ تنظیمیں بھی ہیں، جنہوں نے اس ریلی میں حصہ لیا اور اس مورچہ کی معاون تنظیمیں بن گئیں۔ سب نے اس اعلان کا والہانہ خیر مقدم کیا۔ جن تنتر مورچہ کے ای میل اور فون نمبر کا بھی انا نے اعلان کیا۔ ای میل پتہ ہے jantantramorcha@gmail.com اور فون نمبر ہے 09650268680۔ انا ہزارے مارچ میں ملک میں گھومنا شروع کرنے والے ہیں۔ ان کے ساتھ جنرل وی کے سنگھ ، پی وی راج گوپال، راجندر سنگھ  اور مولانا صوفی جیلانی بھی  ہوں گے۔ یہ کارواں بڑھتا جائے گا، کیوں کہ انا ہزارے نے ان سب سے اپیل کی ہے کہ جو نظام میں تبدیلی چاہتے ہیں، چاہے وہ طالب علم ہوں، نوجوان ہوں، قلم کار ہوں، شاعر ہوں، صحافی ہوں، ادیب ہوں یا سیاست میں ہوں۔ انہوں نے کہا کہ سارے لوگ آگے آئیں اور ان کی اس تحریک میں ان کا ساتھ دیں۔ انا ہزارے کی اس اپیل کو اگر عوام سنتے ہیں، تو یہ ان نام نہاد لوگوں کے لیے ایک بڑی وارننگ ہوگی، جو اب عوام کی آواز کو سننا پسند نہیں کرتے، جو عوام کے دکھ درد سے پگھلتے نہیں، جنہیں مہنگائی اور بدعنوانی کوئی مسئلہ نہیں لگتا اور جو عوام سے دور اپنے ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر مسکراتے ہوئے انا ہزارے کی تنقید کرتے ہیں۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *