انا ہزارے کی ریلی: یقینا یہ مسلمانوں کے فائدے کا سودا ہے

وسیم راشد
ملک کے عوام کو عرصہ سے ایک ایسے قائد کا انتظار تھاجو ملک میں ہر طرف پھیلی بد عنوانی اور افسر شاہی کے خلاف آواز بلند کرسکے۔جب انا ہزارے نے حکومت اور حکومت میں بیٹھے افسروں اور لیڈروں کے ذریعہ انجام دیے جارہے گھوٹالوں اور بد عنوانیوں کے خلاف آواز بلند کی تو عوام کو ایسا لگا گویا ان کے دل کی مراد پوری ہورہی ہے اور انہیں ایک ایسا قائد مل گیا ہے جو ملک میں پھیلی بد عنوانی کے خلاف عوام کو متحد کرکے ایک ایسا نظام لانے میں کامیابی حاصل کرے گا، جو صاف ستھرا اور عوامی ہو۔2011 میں جب دہلی کے رام لیلا میدان میں انا ہزارے نے کرپشن کے خلاف ریلی کی، تو عوام کی ایسی بھیڑ امڈی کہ  شاید آزاد ہندوستان کی تاریخ میں اس سے پہلے کبھی نہ اکٹھا ہوئی ہو۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ لوگ نظام میں تبدیلی چاہتے ہیں اور بد عنوانی سے پریشان ہیں۔حالانکہ ان کی رام لیلا میدان کی ریلی کے بارے میں بہت سے لوگوں نے تنقید بھی کی اور یہ کہا کہ اس تحریک کے پیچھے آر ایس ایس اور بی جے پی کا ہاتھ ہے۔اس ریلی میں صرف آر ایس ایس کے کارکن ہی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ ان کی ریلی میں’وندے ماترم‘ جیسے نعرے لگائے جاتے ہیں جو اس بات کی علامت ہے کہ اس ریلی پر بھگوا رنگ چڑھا ہوا ہے۔کچھ مسلم دانشوروں نے یہ بات بھی اٹھائی تھی کہ انا ہزارے مسلمانوں کو اپنی تحریک سے جوڑنا ہی نہیں چاہتے ہیں اسی لئے ہم بھی ان کی تحریک سے نہیں جڑتے، کیونکہ مسلمانوں کے لئے ملک میں سب سے اہم ضرورت ہے ان کے جان و مال کے تحفظ اور تشخص کی ۔فسادات میں مسلمانوں کو بے قصورپھنسا دیا جاتا ہے،ان کے نوجوانوں کو بے قصور مجرم بنا کر سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جاتا ہے مگر انا ہزارے نے نہ تو ریلی میں اور نہ ہی اس سے پہلے کبھی اس موضوع پر بات کی اور نہ مسلمانوں پر ہورہے ظلم کے خلاف احتجاج کیا۔حالانکہ اس وقت بھی جواب دینے والوں نے یہ جواب دیا تھا کہ اس ریلی میں کسی مذہب کی کوئی تخصیص نہیں ہے ۔اگر آر ایس ایس کے لوگ وندے ماترم‘ کا نعرہ لگا رہے ہیں تو مسلمانوں کو بھی یہاں یہ اختیار حاصل تھا کہ ریلی میں شریک ہوں اور’ نعرہ تکبیر‘ بلند کریں۔جہاں تک بات ہے جان و مال کے تحفظ کی اور مسلمانوں پر ہورہے مظالم کے خلاف انا کی طرف سے بیان نہ آنے کی، تو سب سے پہلی بات یہ کہ انا نے جو موٖضوع اپنی تحریک کے لئے منتخب کیا ہے، اس کا تعلق کسی ذات برادری سے نہیں ہے۔یہ ایک عام موضوع ہے جس سے ملک کے ہر شہری کوسامنا ہے ،اس کے علاوہ انا نے اپنے ’’25 پوائنٹ چارٹر‘‘ میں گائوں دیہات اور پچھڑے ہوئے لوگوں کو ان کا حق دلانے کی جوبات کہی ہے اگر اس کو حکومت سے منوا لیا جاتا ہے تو فطری طور پر اس سے مسلمانوں کے جان و مال کو بھی تحفظ ملے گا۔سبھی نوجوانوں کے لئے روزگار اسکیموں کو لاگو کرنے کی بات انا نے کہی ہے،ظاہر ہے اس سے بھی مسلمنوجوانوں کو فائدہ ہوگا۔اس کے علاوہ مسلمانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہمیں کرپشن سے زیادہ فرقہپرستی سے خطرہ ہے، مگر انا کا سب سے پہلا پوائنٹ سب سے بڑی لڑائی ہی یہ ہے کہ’ بد عنوانی کو ختم کرکے ٹرانپرینسی لائی جائے اور عوام کو ہر فیصلے کو جاننے کا حق ملے۔ مرکز اور ریاستوں میں مضبو ط جن لوک پال قائم ہو‘۔انا کے اس اہم پوائنٹ سے اس بات کا احساس ہوجاتاہے کہ اگر ملک سے بد عنوانی کا خاتمہ ہوجائے گا تو فرقہ پرستی خود بخود ختم ہوجائے گی کیونکہ بد عنوانی کی وجہ سے ہی فرقہ پرستی کو بڑھاوا ملتا ہے ۔بد عنوانی ختم تو فرقہ پرستی بھی ختم ۔اسی طرح جب لوک پال لاگو ہونے کے بعد نظام میں ٹرانپرینسی آئے گی تو مسلمانوں کے نام پر جاری رقم کا خرچ بھی مسلم فلاح و بہبود کے لئے ہی ہوگا۔اب تک ایسا ہوتا آیا ہے کہ جس کی بھی حکومت اقتدارمیں آتی ہے،مسلمانوں کے لئے کوئی اسکیم لاگو کرتی ہے وہ فیل ہوجاتی ہے۔پیسہ کہاں سے آتا ہے ،کہاں چلا جاتا ہے ،کچھ پتہ ہی نہیں چلتا۔اگر نظام میں شفافیت ہو گی ’جس کا مطالبہ انا ہزارے کررہے ہیں‘ تو پھر ان اسکیموں میں آئی رقم کا اور مسلمانوں کے لئے کتنی رقم خرچ کی گئی، اس کا پورا حساب ہر شہری کی نظر میں رہے گا۔ ۔جہاں تک بات ہے اس تشویش کی کہ ’ وہ مسلمانوں کو اپنے ساتھ کرنا ہی نہیں چاہتے ہیں‘ تو گاندھی میدان کی ریلی میں انہوں نے کئی اہم اقدام کئے ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ انہیں مسلمان اور مسلم ایشوز سے گہری دلچسپی ہے جیسے انا تحریک کے اہم کارکن جناب وی کے سنگھ نے پٹنہ ریلی سے تقریباً دس دن پہلے امارت شرعیہ پٹنہ کے صدر مفتی صاحب سے ملاقات کی اور انکے سامنے انا تحریک کے اغراض و مقاصد کو بیان کیا۔ ان کی تحریک کے مقاصد کو سننے کے بعد مفتی امارت شرعیہ کافی متأثر ہوئے اور انہوں نے مسلمانوں سے اس ریلی میں شامل ہوکر تحریک کو کامیاب بنانے کی پرزوراپیل کی۔یہی نہیں مسلمانوں کی سہولت کے لئے جا بجا اردو میں پوسٹر س لگائے گئے،مسلمانوں میں اردو میں پمفلٹ تقسیم کئے گئے۔ اس کام کو خود مسلم رضاکاروں نے انجام دیا اور بڑھ چڑھ کر اس میں حصہ لیا،جمعہ کی نماز کے بعد ہر مسجد کے باہر مسلمانوں کو ریلی میں شریک ہونے کی دعوت دی گئی۔تین ایسی ٹیمیں بنائی گئیں جو مسلم محلوں میں جاکر ریلی کی افادیت کو بتائیں اور انہیں ریلی میں شریک ہونے کی دعوت دیں۔غرض مسلمانوں کو اس ریلی سے جوڑنے کے لئے بھرپور حکمت عملی اپنائی گئی ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلم نوجوانوں نے بڑی تعداد میںبڑھ چڑھ کر اس میں حصہ لیا ۔
خیر یہ بات تھی اس وقت کی، جب انا ہزارے کی تحریک کے پیچھے آر ایس ایس کا ہاتھ ہونے کا شبہہ کیا جارہا تھا۔ مگر انا ہزارے اور ان کی ٹیم نے اس طرح کی متنازع باتوں میں میں الجھنے کے بجائے اپنی مہم میں جٹے رہنے کو ترجیح دی ۔دھیرے دھیرے مسلم دانشوروں کو بھی یہ بات سمجھ میں آنے لگی کہ انا ہزارے کی تحریک کسی فرقہ پرست جماعت کے زیر اثر نہیں ہے بلکہ اس تحریک کا اپنا ایک خاص مقصد ہے ’’ انٹی کرپشن‘‘ ۔اور یہ ایک ایسا مقصد ہے جو ملک کے ہر مذہب کی ضرورت ہے۔ چنانچہ دھیرے دھیرے مسلمان بھی اس سے جڑنے لگے اور کئی تنظیموں کی طرف سے ان کی تحریک کی حمایت میں بیان آئے اور جب 30 جنوری2013 کو انا ہزارے نے گاندھی میدان پٹنہ کے وسیع و عریض میدان میں بد عنوانی کے خلاف ریلی کا اہتمام کیا تو، کیا ہندو اور کیا مسلمان ،کیا امیر اور کیا غریب،انسانوں کا سمندر امنڈ پڑا۔ اس ریلی کو دیکھنے کے بعد محسوس ہوا کہ کل تک ان کی تحریک پر آر ایس ایس کے زیر اثر ہونے کا جو شبہ کیا جارہا تھا اور مسلمان تشویش میں تھے، اب ایسا نہیں ہے اور مسلمان کثرت سے ان کی تحریک سے جڑنے لگے ہیں۔ چنانچہ پٹنہ ریلی پر تبصرہ کرتے ہوئے ’جن کلیاں یوا منچ ‘پٹنہ کے صدر محمد آزاد عالم کہتے ہیں کہ ’’ریلی میں جوش و خروش کے ساتھ بلا امتیاز مذہب و ملت لوگوں نے شامل ہوکر جو اتحاد پیش کیا ہے وہ قابل تعریف ہے‘‘۔
دراصل ملک کا کوئی بھی طبقہ ہو،کسی بھی ذات برادری سے تعلق رکھتا ہو بد عنوانی کے خلاف اور اور نظام میں تبدیلی چاہتاہے ۔خاص طور پر مسلمان جو معاشی اعتبار سے زیادہ ہی پچھڑا ہوا ہے ،اس کی قوت خرید ملک میںموجود دوسرے طبقوں میں سب سے کمزور ہے۔ ایسے میں اگر بد عنوانی پروان چڑھتی رہی تو سب سے زیادہ اثر ان پر ہی پڑے گا ۔اس حقیقت کو مسلمان سمجھ رہے ہیں اور انہیں انا ہزارے کی تحریک میں مسلمانوں کا بڑا فائدہ نظر آنے لگا ہے، یہی وجہ ہے کہ کچھ سیاسی تنظیموں کی طرف سے اس مرتبہ بھی تحریک مخالف بیانات آئے،مسلمانوں کو تحریک سے دور رکھنے کی کوشش کی گئی مگر اس مرتبہ مسلمانوں نے ان سیاسی بیانوں پر کاننہیں دھرے اور طلبائ، اساتذہ، سماجی کارکن ہر طبقے کے مسلمانوں نے ان کی اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔خاص طور پر جب گاندھیائی لیڈر انا ہزارے نے پٹنہ کے گاندھی میدان سے ایک نئی تنظیم’’جن تنتر مورچہ‘‘ کی تشکیل کے موقع پر یہ کہا کہ ’’ یہ تنظیم عوام کے حقوق کے لئے لڑے گی۔قومی سطح کی یہ تنظیم ملک میں ذات پات اور بھید بھائو سے اوپر اٹھ کر ملک کی تعمیر کرے گی‘‘۔اور گاندھی میدان کے حلف میں جب انا ہزارے نے یہ جملہ کہا کہ ’’ ہم باپو کے خون سے سنی مٹی کو گواہ مان کر یہ حلف لیتے ہیں کہ ہم گاندھی جی کے خوابوں کے ہندوستان کی تعمیر کریںگے جو صحیح روپ میں جمہوری ہو، بد عنوانی سے پاک ہو ،جس میں سب کو انصاف ملے‘‘ تو اس سے یہ بات صاف ہوگئی کہ انا ہزارے جس تحریک کولے کر چلے ہیں ،اگر اس میں کامیابی مل گئی تو سب سے زیادہ فائدہ مسلمانوں کا ہی ہونے والا ہے کیونکہ جب انصاف پر مبنی نظام ہوگا تو مسلمانوں کو آبادی کے حساب سے نوکریاں ملیںگی،بے قصوروں کو سلاخوں میں بند کئے جانے کا سلسلہ بند ہوگا اور معاشی پچھڑے پن کا خاتمہ بھی۔گاندھی میدان میں تنظیم کے مقاصد کا اعلان اور انا ہزارے کے حلف نے مسلمانوں کو یقین دلا دیا کہ انا تحریک کو بھگوا ذہنیت سے متاثر ہونے کا الزام محض ایک سیاسی چال تھی اور تحریک کو ناکام کرنے کے لئے اس طرح کی باتیں مسلمانوں میں پھیلائی گئی تھیں۔ مستقبل میں مزید مسلمانوں کو بھی اس میں شامل ہونا چاہئے کیونکہ اگر مسلمان غلط فہمی کا شکار ہوکر انا تحریک میں شامل نہیں ہوتے ہیں تو اس کا نقصان کسی نہ کسی طرح مسلمانوں کو ہی بھگتنا پڑسکتا ہے۔وہ اس طرح کہ انا تحریک کے بعد ملک میں جو بدلائو آئے گا اور مسلمان ا س میں شامل نہیں رہیں گے تو اس نئے نظام میںان کی حصہ داری اور لیڈر شپ نہیں رہے گی۔اس لئے مسلمانوں کو بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے اور اس غلط فہمی کو ذہن سے نکال دینی چاہئے کہ انا ہزارے مسلمانوں کو شامل ہی نہیں کرنا چاہتے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *