افضل گرو کی میت کے ساتھ غیر انسانی سلوک

وسیم راشد
نو  فروری کی صبح چینلز کے لئے زبردست مسالہ لے کر نمودار ہوئی۔دھڑا دھڑ افضل گرو کی پھانسی کی سزا سبھی چینلز پر ٹیلی کاسٹ ہونے لگی۔ ہر چینل پر خبر، ہر چینل پر افضل گرو کی پھانسی پر اہم شخصیات کے انٹرویوز، غرضیکہ تمام میڈیا کو اس دن کا موضوع مل چکا تھا۔وہ اس خبر سے پوری طرح کھیل رہے تھے۔جس طرح قصاب کی اچانک پھانسی کی خبر نے سب کو حیرت زدہ کردیا تھا اسی طرح افضل گرو کی خبر نے بھی لوگوں کو حیران کردیا اور ظاہر ہے اتنی بڑی خبر کے بعد کشمیر میں کرفیو لگانا ضروری تھا اور ملک کے اہم حصوں میں بھی ہائی الرٹ کردیا گیا۔
پھانسی صحیح دی گئی یا نہیں ، اچھا ہوا یا برا، وقت صحیح تھا یا نہیں؟ ان تمام باتوں سے ہمیں کوئی سروکار نہیں ۔ ظاہر ہے اگر ملک کا دشمن تھا توپھانسی ملنی چاہئے اور اگر جھوٹے طریقے سے پھنسایا گیا تو کیا کہہ سکتے ہیں ۔ہمارے نہ جانے کتنے جونوان اس وقت جیل میں ہیں جنکا کوئی پرسان حال نہیں ہے،جن پر کوئی الزام نہیں ہے، مگر پھر بھی ان کو پکڑ کر جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے،جن پر جھوٹے الزامات لگا کر ان کو دہشت گرد بتا کر پکڑ ا گیا ہے۔ہم بات کرنا چاہتے ہیں اس طریقۂ کار کی جس نے کئی سوال اٹھا دیے ہیں اور کئی گتھیوں کو اور پیچیدہ کردیا ہے۔
سب سے پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا افضل گرو کوٹرائل کے دوران صفائی کا موقع دیا گیا تھا،کیونکہ اس کے تعلق سے کیا جرح ہوئی، کیا بحث ہوئی، ان سب کا پتہ نہیں چل پایا ہے اور میڈیا بھی بار بار بس اپوزیشن کی پھانسی کی مانگ پر سوا ل اٹھاتا رہا ہے۔کبھی یہ سوال نہیں اٹھایا کہ افضل گرو سے کس طرح کی جرح کی گئی یا اس نے اپنی صفائی میں کیا بیان دیا۔ اس کے علاوہ جو سب سے اہم بات ہے وہ یہ کہ پھانسی کے لئے یہی وقت کیوں چنا گیاجبکہ الیکشن نزدیک ہیں۔ کانگریس کس طرح اپناوقار کھو چکی ہے ۔یہ تو اب بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔کیسے بے شرمی سے کانگریس نے پورے ملک کو بیچ ڈالا ہے۔گھوٹالوں کی ایک طویل فہرست ہے جس میں اعدا دو شمار اور ہندسے تک یاد نہیں ہیں۔ ایسے میں کانگریس نے یہی وقت کیوں چنا، جبکہ سالوں سے یہ پھانسی ٹلتی آرہی ہے۔
صدر کانگریس کا، وزیر اعظم کانگریس کا، راجدھانی میںچیف منسٹر کانگریس کی۔ظاہر ہے ایسے میں کانگریس کا فیصلہ ہی صدر کا فیصلہ مانا جائے گا۔ بی جے پی کیپاس ایک ہی ترپ کا پتہ تھا اور وہ تھا افضل گرو کی پھانسی پر سیاست کرنا۔ کانگریس بھی مودی کے بڑھتے قدم دہلی کی طرف محسوس کر رہی ہے، ایسے میں 2014 کا الیکشن یقینا ٹیڑھی کھیر ہے اور کانگریس نے وہ ترپ کا پتّہ خود کھیل کر کچھ حد تک 2014 کے لئے اپنی راہیں ہموار کر لی۔
ایک اور بڑا سوال جو انسانی حقوق کے زمرہ میں آتا ہے، وہ یہ کہ پھانسی سے پہلے اہل خانہ کو مطلع کرنا اور آخری بار ملوانا۔ اس کی پاسداری بھی نہیں کی گئی اور اسپیڈ پوسٹ کے ذریعہ ان کے اہل خانہ کو مطلع کیا گیا جو کہ افضل کی پھانسی کے دو دن بعد ملا۔ کیا آپ کی عقل اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ اس زمانہ میں جب کہ پوری دنیا سمٹ کر ایک بستی کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ آپ گھر بیٹھے لندن امریکہ منٹوں سکنڈوں میں بات کرلیتے ہیں، ایسے دور میں اسپیڈ پوسٹ کے ذریعہ مطلع کرنا بڑا ہی مضحکہ خیز تو لگتا  ہی ہے ، نہایت دردناک بھی ہے ۔کیا آپ اس گھر کے لوگوں کا درد محسوس کرسکتے ہیں۔جس وقت اہل خانہ اور خاص کر افضل گرو کی اہلیہ کو وہ خط ملا ہوگا اس وقت ان کی کیا حالت ہوئی ہوگی۔ کیا افضل کے وارثین کو وقت پر مطلع کرنا ضروری نہیں تھا۔سبھی مسلم تنظیموں اور مسلم لیڈروں نے اس بات پر اعتراض تو کیا ہے ، مگر ابھی تک کسی نے کانگریس سرکار سے یہ سوال نہیں کیا کہ اس سے بہتر تو امریکی حکومت ہے جس نے اپنے اتنے بڑے دشمن کو کم سے کم اسلامی طریقے سے سمندر برد کیا ، مگر کانگریس کی بربریت کی یہ کہانی ضرور اس بات کا احساس کرائے گی کہ کم سے کم آخری بار تو اہل خانہ کو شکل دکھائی جاتی۔ اگر کوئی شخص اس دنیا سے رخصت ہوجاتاہے تو اس کے اپنے سگے اس کے بچے، بھائی بہن ، رشتہ دار دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوں ،آخری دیدار کرنے کے لئے پاگلوں کی طرح دوڑتے ہیں۔ کم سے کم اس کے گھر والوں کو آخری بار شکل ضرور دکھائی جاتی۔
ہماری سرحدوں پر لڑنے والے ہمارے فوجی ہمارے ملک کی شان ہیں۔ اگر پڑوسی ملک ہمارے فوجیوں کو جسمانی نقصان پہنچائے تو ہم غصہ سے بے قابو ہوجاتے ہیں۔ ہم بالکل برداشت نہیں کرپاتے کہ ہمارے فوجیوں کو پڑوسی ملک سے شکست ہو،مگر جب لائن آف کنٹرول پر ہمارے فوجی جوان کی گردن کاٹ کر اسے پھینک دیا جاتاہے تو اس کا درد پورا ملک محسوس کرتا ہے ۔خود ہم بھی پڑوسی ملک کی فوج پر لعنت بھیجتے ہیں اور اپنے فوجی کی سرکٹی لاش کو دیکھ کر درد محسوس کرتے ہیں۔ اس فوجی کا درد پورے ملک نے محسوس کیا مگر افضل گرو کو جس طرح بنا کسی رشتہ دار سے ملوائے پھانسی  دے دی گئی اس نے ہمارے ملک کے سیکولر کردار کو  مجروح کیا ہے۔
بہت دن سے ہم سن رہے ہیں کہ حکومت ایک قانون لانے والی ہے کہ پھانسی کے فیصلے کے بعد اگر پھانسی ٹل جائے تو وہ خود بخود عمر قید میں بدل جائے گی ۔ اللہ جانے اس میں کتنی صداقت ہے،مگر یہ ضرور ہے کہ اگر اس فیصلے کو اسی لئے جلد بازی میں لیا گیا ہے تو پھر بے گناہ معصوم لڑکی جس کو 6 درندوں نے لہو لہان زخمی کرکے جس کی عزت و عظمت کو تار تار کرکے موت کے منہ میں دھکیل دیا وہ ابھی تک کیوں پھانسی پر نہیں لٹکائے گئے۔ ابھی تک ان کا مقدمہ چل رہاہے جبکہ گواہ بھی موجود ہے، شواہد بھی اور اقبال جرم بھی۔
افضل گرو کو جیل میں ہی کیوں دفنایا گیا؟اس کی لاش اہل خانہ کے حوالے کیوں نہیں کی گئی تاکہ وہ اپنے دل کو تسلی دے کر اس کی آخری رسومات ادا کرکے اپنی جگہ دفناتے۔ اب جیل کی چہار دیواری میں کون فاتحہ پڑھنے آئے گا۔کیا افضل گرو کی اہلیہ جیل آئیں گی، کیا اس کے بچے جیل میں آکر فاتحہ پڑھیں گے۔مرنے کے بعد کم سے کم اس کا حق بنتا تھاکہ جیل سے آزادی ملے کیونکہ اگر کوئی مجرم ہے تو وہ اس وقت تک حکومت یا ریاست کا ہوتاہے جب تک اس کی سزا کی میعاد پوری نہ ہو جائے یا پھر اس کی موت ہوجائے ۔مرنے کے بعد اس کی لاش پر ورثاء کا حق قانونی طور پر ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ انصاف کا تقاضہ بھی یہی ہے۔
آخری اور بہت ہی اہم سوال جو ہمارے ذہن کو جھنجھوڑ رہا ہے کہ اب جبکہ لاش کو اہل خانہ کے سپرد کرنے کی تیاری کی جارہی ہے تو اس وقت ایک مسئلہ درپیش ہوسکتا ہے کہ عام طور  پر لاش تین سے چار دنوں میں خراب ہوجاتی ہے جبکہ افضل گرو کو دفنائے ہوئے ہفتہ سے بھی زیادہ گزرچکا ہے۔ اب اگر اس کی لاش کو قبر سے نکالی جاتی ہے تو بے حرمتی کا امکان ہے۔اس لئے بہتر تو یہی ہوگا کہ اب اس کی لاش کو وہیں دفن رہنے دیا جائے اور جو شرعی احکام ہیں مثلاً نماز جنازہ وغیرہ پڑھنا ،تو علماء کرام سے پوچھ کر اس حکم کی بجاآوری کر دی جائے۔جہاں تک فاتحہ وغیرہ پڑھنے کی بات ہے تو اس کام کو زمین کے کسی بھی حصے سے انجام دیا جاسکتاہے۔البتہ ایک کسک ہمیشہ کے لئے افضل گرو کے اہل خانہ کے دل میں رہ جائے گی کہ وہ  اس کی قبر کی زیارت سے وہ ہمیشہ کے لئے محروم رہ جائیںگے جبکہ اہل خانہ کی خاص طور پر بچوں کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے والد کی قبر پر فاتحہ پڑھیں جو جیل میں آکر انجام دینا بہت مشکل ہوگا ،مگر ان سب کے باوجود ایک میت کی لاش کے احترام کے پیش نظر مناسب یہی لگتا ہے کہ افضل گرو کی لاش کو منتقل کرنے سے گریز کیا جائے  اوراہل خانہ اس کی مغفرت کی دعائیں کرتے رہیں۔ایک میت کے لئے محبت اور قربت کی سب سے بڑی نشانی یہی ہوتی ہے کہ اس کے لئے زیادہ سے زیادہ دعائیں کی جائیں۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

One thought on “افضل گرو کی میت کے ساتھ غیر انسانی سلوک

  • March 2, 2013 at 10:23 am
    Permalink

    بہت خوب آپ نے کہا بہت حد تک صحیح ہے

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *