تعلیم پر کھنچی تلوار

سروج سنگھ 
تین دنوں تک پٹنہ میں چلے اکھل بھارتیہ ودیارتھی پرشید ے قومی کنونشن میں یوں تو ملک کی سلامتی اور بہتری کے تمام مدعوں پرسنجیدگی سے غور خوض ہوا لیکن ملک اور خصوصاً ریاست بہار میں تعلیم کے معیار میں آ رہی تنزلی پر مرکز ی حکومت اور بہار حکومت کے خلاف کنونشن میں آر پار کی لڑائی کا آغاز ہو گیا۔ اتفاق رائے سے طے ہوا کہ اگر ملک کو سپر پاور بننا ہے تو پہلے اسے تعلیم کے شعبہ میں سپر پاور بننا ہوگا۔ اس کے بغیر ہندوستان دنیا کو نئی سمت نہیں دکھا سکتا۔ فی الوقت پوری دنیا کی نظریں ہندوستان پر مرکوز ہیں لیکن صورتحال ایسی ہے کہ دنیا کے بہترین چار سو تعلیمی اداروں میں ہندوستان کا ایک بھی تعلیمی ادارہ شامل نہیں ہے۔بہار کی یونیورسٹیوں میں اساتذہ کی12ہزار اور میڈیکل، انجینئرنگ کی چالیس فیصد اسامیاں خالی ہیں جو تشویش کاموضوع ہے۔اکھل بھارتیہ ودیارتھی پرشید کے قومی جنرل سکریٹری امیش دت نے بہار کی تعلیمی پالیسی پر سوالیہ نشان کھڑا کرتے ہوئے کہا کہ بہار کو صحیح معنوں میں ترقی کرنا ہے تو تعلیم کو فروغ دینا ہوگا۔انھوں نے مزید کہا کہ بہار حکومت اگر یونیورسٹیوں اور پرائمری تعلیم میں صحیح طریقہ سے اصلاح نہیں کرے گی تو اے بی وی پی کے نمائندے سڑکوں پر اتریں گے۔ بہار کے صوبائی وزیر پروین کمار نے کہا کہ کشن گنج میں اے ایم یو کی برانچ کھولنے کی کوششیںجاری ہیں،لیکن ہم لوگ ایسا کبھی نہیں ہونے دیں گے۔ غور طلب ہے کہ بہار حکومت ہر حال میں کشن گنج میں ایم یو کی برانچ کھولنے پر آمادہ ہے۔ ایسے میں ٹکرائو یقینی مانا جا رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مخلوط حکومت کی مجبوریوں کے سبب یہ کام سست روی کا شکار ہے ، ورنہ اس کام میں آ رہی تکنیکی خامیوں پہلے ہی دور کر لی گئی ہوتیں۔پٹنہ یونیورسٹی اسٹوڈینٹ یونین کے صدر آشیش سنہا کے لئے یہ کنونشن سنہرا موقع لے کر آیا۔ چونکہ وہ ابھی حال ہی میں انتخاب جیتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان کا کریز برقرار تھا۔ انھوں نے پٹنہ یونیورسٹی کی قابل رحم صورتحال سے بھی ملک بھر سے آئے نمائندوں کو مطلع کیا۔ انھوں نے کہا کہ پٹنہ یونیورسٹی میں پلیسمنٹ کی سہولت نہیں ہے۔20سال پہلے آٹھ ہزار طلبا تھے اور 952اساتذہ تھے۔ آج 18ہزار طلبا ہیں اور محض452اساتذہ ہیں۔ سال 2003سے اساتذہ کی کوئی بھرتی نہیں ہوئی۔ اشاروں ہی اشاروں میں حکومت پر طنز کرتے ہوئے آشیش سنہا نے کہا کہ بھلے ہی پوشاک منصوبہ اور سائیکل منصوبہ چل رہا ہے پر ابھی بھی خامیوں کی کمی نہیں ہے۔
گزشتہ سات سالوں سے بہار میں بی جے پی بر سر اقتدار ہے اور ان سات سالوں کے دوران یہ کبھی نہیں دیکھا گیا ہے کہ بی جے پی نے اٹل ہو کر اپنی پارٹی لائن پر کام کیا ہو۔ نتیش کبھی خوشامد تو کبھی کڑے تیور اپنا کر بی جے پی سے اپنی بات منواتے رہے ہیں، لیکن این ڈی اے کی دوسری مدت کار کے شروعاتی دنوں سے ہی بہار بی جے پی نے الگ الگ طریقے سے اپنی بات کہنا شروع کر دی ہے۔ سنگھ کا ثقافتی کنونشن پٹنہ میں ہوتا ہے۔ اشوک سنگھل اور سبرامنیم سوامی جیسے لیڈر موجود ہوتے اور جم کر آگ اگلی جاتی ہے اور بعد کے دنوں میں سنگھ کا سماگم بھی ہوتا ہے ۔ اب یہ کنوشن اقتدار میں رہتے ہوئے بھی بہار بی جے پی کھل بول نہیں سکتی ہے،لیکن حال ہی میں یہ دیکھا گیا ہے کہ اپنی بات کہنے کے لئے اس نے الگ الگ راستے ضرور اختیار کئے ہیں۔ اے بی وی پی ان دنوں کئی وجوہات سے سرخیوں میں رہی ہے۔ 28سالوں بعد ہوئے پٹنہ یونیورسٹی الیکشن میں اے بی وی پی کے آشیش رنجن نے صدر کے عہدہ پر قابض ہوئے ساتھ ہی ودیارتھی پریشد نے مسلسل علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی بہار برانچ کی مخالفت بھی ہے۔ حالیہ دنوں میں پریشد کے ممبر وزیر اعلیٰ کے خلاف سڑکوں پر اترے نظر آئے۔ بیگو سرائے میں اے بی وی پی کے ممبران نے وزیر اعلیٰ کے خلاف مظاہرہ کیا ،وہیں ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ اورنگ آباد میں نتیش کمار کے جلسے کے دوران ان کے پوسٹر بھی پرشید کے ممبران کے ذریعہ ہی جلائے گئے۔
ودیارتھی پرشید بی جے پی لیڈروں کی فیکٹری مانی جاتی ہے۔ خود ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ سشیل کمار مودی دو بار اے بی وی پی کے جنرل سکریٹری کے عہدہ پرفائز ہو چکے ہیں۔ جونیئر مودی اسی کنونشن کا حوالیہ دیتے ہوئے سینئر مودی (نریندر مودی) کی حلف برداری تقریب میں نہیں گئے۔ اپنے خطاب میں مودی قبول کرتے ہیں کہ اعلیٰ تعلیم کو بہتر بنانے کی ضررت ہے، ساتھ ہی انھوں نے وائس چانسلرس کی تقرری پر ہوئے تنازعہ پر تشویش کا اظہار بھی کیا۔ خطاب کے دوران انھوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پرشید کا کنونشن پورے ملک میں ہر سال منعقد ہوتا ہے۔ حکومت کو طلباء سیاست کے رہنمائوں کا تعاون کرنا چاہئے، تاکہ لیڈروں کی نئی نسل ملک کے حوالہ کی جا سکے۔
پرشید کے قومی جنرل سکریٹری امیش دت نے نتیش کمار پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ غریب اور عام طلبا سے تعلیم دور ہوئی ہے اور ایسے میں ترقی کا مطلب ہی نہیں بنتا ۔پرشید کے سابق قومی صدر ملن مراٹھے کنونشن کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بہار میں اے ام یو کھولنے کی مخالفت جاری رہے گی۔ کنونشن کی حصولیابی محض اتنی کہی جا سکتی ہے کہ جب نتیش کے ساتھ رہتے ہوئے بی جے پی اپنی بات کھل کر نہیں کہہ سکتی ہے ، تو ایسی صورت میں ودیارتھی پرشید کا یہ کنونشن ایک ذریعہ بنا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پرشید کے اس کنونشن یہ تو ثابت کر ہی دیا ہے کہ بی جے پی بنیادی طور پر کتنی مضبوط ہے۔ بھلے ہی اکھل بھارتیہ ودیارتھی پرشید کا باضابطہ طور پر کسی جماعت سے کوئی ناطنہ نہ لیکن زمینی حقیقت سے سب ہی واقف ہیں۔ ایم یو کو لے کر نتیش کمار بے حد سنجیدہ ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سیمانچل کے مسلمانوں کے درمیان وہ اپنی مضبوط پکڑ بنانا چاہتے ہیں۔ لیکن کنونشن میں اے ایم یو کو لے کر جس طرح سے تلخ تیور انھوں نے دکھائے اس سے واضح ہے کہ نتیش کے لئے یہ راہ آسان نہیں ہے۔ بی جے پی بھلے ہی واضح الفاظ میں کچھ نہ کہہ رہی ہو لیکن اس کی طلبا تنظیموں نے وہ تمام باتیں کہہ ڈالیں جو وہ دل سے چاہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس کا احساس جے ڈی یو کے لوگوں کو بھی ہو رہا ہے۔ تین دن تک پٹنہ میں بی جے پی کے تمام ایجنڈے زیر بحث رہے۔مخلوط سیاست کو لے کر بی جے پی کی مجبوریاں اسے ان مدعوں کی بحث کی اجازت نہیں دیتی ہیں۔ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پرشید کے کنونشن پر تو کسی کسی کا زور نہیں تھا اور نہ ہی اس کے سامنے کوئی مجبوری تھی۔ اس لئے کھل کر تمام باتیں ہوئیں اور آگے کی حکمت عملی طے ہوئی ۔ کل ملا یہ کنونشن بی جے پی کے لئے ہر لحاظ سے بے حد مفید ثابت ہوا ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *