پوسٹ بینک آف انڈیا کو درپیش مسائل

ستیش سنگھ
کیش ٹرانسفر اسکیم کو پورے ملک میں سال 2013 میں نافذ کرا پانا یو پی اے سرکار کے لیے کسی چنوتی سے کم نہیں ہے۔ پہلے یہ اسکیم یکم جنوری، 2013 سے ملک کے 51 ضلعوں میں شروع کی جانے والی تھی، جو نشان زد کیے گئے ضلعوں میں فنانشیل انکلوژن یا مالیاتی شمولیت (جس کے تحت نفع حاصل کرنے والے تمام لوگوں کے بینک کھاتے کھولے جانے تھے) نہ ہونے کی وجہ سے شروع نہیں کی جاسکی۔ مجبوری میں سرکار نے یہ اسکیم محض 20 ضلعوں میں خانہ پری کے طور پر شروع کی۔ غور طلب ہے کہ منریگا اور سرکار کے ذریعے چلائی جا رہی دیگر اسکیموں کی کامیابی کے راستے میں اسی کمی کو سب سے بڑا روڑا مانا گیا ہے۔ ظاہر ہے، سرکاری اسکیموں کی کامیابی کے لیے دور دراز کے دیہی علاقوں میں بینکوں کی برانچ کا ہونا ضروری ہے، جب کہ ابھی بھی دیہی علاقوں میں اس کی کمی ہے۔ جہاں بینک کی برانچ ہے، وہاں بھی سبھی لوگ اس سے جڑ نہیں پائے ہیں۔ ایک اندازہ کے مطابق، ہندوستان کے تقریباً 68 فیصد لوگوں کے پاس بینک کھاتے نہیں ہیں۔ بی پی ایل زمرے میں صرف 18 فیصد لوگوں کے پاس ہی بینک کھاتے ہیں۔ ناخواندگی اور غریبی کے سبب وہ بینکوں میں اپنا کھاتہ کھلوانے کی حالت میں نہیں ہیں۔ بینکوں کے پاس معقول وسائل بھی نہیں ہیں کہ وہ ان کے کھاتے کھلوا سکیں۔

دور دوراز کے دیہی علاقوں میں ان کے ذریعے دراندازی کرنا آسان ہوگا۔ لہٰذا، کے وائی سی (اپنے صارف کو جاننے) کے مدعے پر مجوزہ پوسٹ بینک آف انڈیا پوری طرح سے دریا دلی نہیں دکھا سکتاہے، کیوں کہ کسی کی پیشانی پر یہ نہیں لکھا ہوتا ہے کہ وہ مجرم ہے یا دہشت گرد۔ ایک بڑا اور ہمہ گیر نیٹ ورک مالیاتی شمولیت کو نافذ کرنے میں مددگار تو ضرور ہے، لیکن اسے یوٹو پیا نہیں مانا جاسکتا ہے۔ موجودہ کمیوں اور خامیوں کو دور کیے بغیر پوسٹ بینک آف انڈیا کو کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

بھلے ہی مالیاتی شمولیت کے تصور کو بروئے کار لانے کے لیے بینکوں میں کاروباری نمائندوں کی تقرری کی گئی ہے، لیکن گزشتہ برسوں میں ان کا رول مؤثر نہیں رہا ہے۔ سال 2008 تک بینکوں میں صرف 1.39 کروڑ ’نو فرلس‘ کھاتے کھولے جا سکتے تھے۔ ’نو فرلس‘ کھاتے کا مطلب صفر رقم (زیرو بیلنس) سے اکاؤنٹ کھولنا ہے۔ اس طرح کے کھاتے کھولنے میں کے وائی سی (اپنے صارف کو جاننے) کے تئیں لی جانے والی دستاویزوں میں رعایت دی جاتی ہے۔ گاؤں والوں کو بینک سے جوڑنے کے لیے اس نئی اسکیم کو سب سے اہم ہتھیار مانا جاتا ہے۔ باوجود اس کے، گزشتہ سالوں میں ریزرو بینک کے ذریعے لگاتار کوشش کرنے کے بعد بھی مالیاتی شمولیت کو بروئے کار لانے کے معاملے میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ آج کل ہندوستانی ڈاکخانہ کو مالیاتی شمولیت کے تصور کو بروئے کار لانے کی سمت میں ایک اہم متبادل کی شکل میں دیکھا جا رہا ہے، کیوں کہ دیہی علاقوں میں ڈاکخانوں کی نمایاں موجودگی ہے۔ 31 مارچ، 2009 تک پورے ملک میں ہندوستانی ڈاکخانوں کی ایک لاکھ 55 ہزار 15 سے زیادہ شاخیں تھیں، جو سبھی کاروباری بینکوں کی شاخوں سے تقریباً دو گنا تھیں۔ غور طلب ہے کہ ان میں سے 89.76 فیصد، یعنی ایک لاکھ 39 ہزار 144 شاخیں دیہی علاقوں میں تھیں۔ آزادی کے وقت ڈاکخانوں کی تعداد صرف 23 ہزار 344 تھی۔ سرکار کی طرف سے کی گئی کوششوں سے اس کے نیٹ ورک میں لگاتار اضافہ ہو رہا ہے۔ اس معاملے میں ڈاک ملازمین کی لگن اور محنت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ دور دراز کے دیہی علاقوں میں ڈاکخانوں کی موجودگی تو ہے ہی، ساتھ میں دیہی باشندوں کا بھروسہ بھی ان پر اٹوٹ ہے۔ دیہی علاقوں میں ڈاک ملازمین چوبیس گھنٹے کام کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ عام طور پر گاؤوں میں ڈاک ملازمین کھیتی باڑی کے ساتھ ساتھ ڈاکخانے کا کام کرتے ہیں۔ ڈاکخانے کا کام ان کے گھر سے ہوتا ہے۔ ضرورت اور سہولت کے مطابق گاؤں کے باشندے ڈاکخانہ سے جڑے ہوئے اپنے کام کراتے ہیں۔ ڈاکخانوں کی اسی عام رسائی کے سبب 31 مارچ، 2007 تک ڈاکخانوں میں کل 3 لاکھ 23 ہزار 781 کروڑروپے جمع کیے گئے تھے، جن میں سے بچت کھاتوں میں 16 ہزار 789 کروڑ روپے جمع تھے۔ ڈاکخانوں کی اتنی مقبولیت تب ہے، جب وہ ٹکنالوجی سے زیادہ لیس نہیں ہیں اور نہ ہی سنٹرل سروَر کے ذریعے تکنیکی طور پر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
یوروپی ممالک میں ڈپارٹمنٹ آف پوسٹ کے ذریعے پوسٹل گرو جیسی اسکیم کے توسط سے شہریوں کو جس طرح سے بینکنگ سہولیات مہیا کرائی جا رہی ہیں، وہ قابل تعریف ہے۔ اس اسکیم کی خاص بات یہ ہے کہ یوروپی شہریوں کو منی آرڈر جیسی سہولت کے ساتھ ساتھ رقم کی ادائیگی کی سہولت بھی گھر پر فراہم کی جاتی ہے۔ ہندوستان میں بھی ڈاکخانوں کے ذریعے اس طرز پر یہ سہولت فراہم کی جا سکتی ہے۔ آج موبائل فون ہر گھر میں دستیاب ہے اور دیہی علاقوں میں ڈاکخانوں کا مضبوط نیٹ ورک بھی ہے۔ ہندوستان میں بھی منی آرڈر کی سہولت سالوں سال سے مہیا کرائی جا رہی ہے، لیکن گھر پر رقم کی ادائیگی کی سہولت یہاں دستیاب نہیں ہے۔ وسیع نیٹ ورک اور موبائل فون کی مدد سے ڈاکخانوں کے ذریعے اپنے صارفین کے لیے گھر پر رقم کی ادائیگی کی سہولت فراہم کرائی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ بیمہ، پنشن، وظیفہ اور سرکاری اسکیموں کو عملی جامہ پہنانے جیسے کاموں کو بھی ہندوستانی خاکخانوں کے توسط سے کیا جاسکتا ہے۔ اس نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو مالیاتی شمولیت کے تصور کو بروئے کار لانے کے لیے صحیح معنوں میں ہندوستانی ڈاکخانے پوری طرح تیار ہیں۔ بیشک، تکنیک اور اقتصادی سطح پر ضرور کچھ کمیاں ہیں، جنہیں سرکاری مدد سے دور کیا جاسکتا ہے۔ بنیادی ڈھانچوں کو مضبوط کرنے کے لیے سرکار اس سلسلے میں پرائیویٹ سیکٹر کی بھی مدد لے سکتی ہے۔ اس معاملے میں سرکار بے حد سرگرم ہے۔ وہ ہر طرح کے امکانات کو تلاش کر رہی ہے۔ دراصل، وہ جانتی ہے کہ آئندہ الیکشن اور مستقبل کی سیاسی حکمت عملی کو طے کرنے میں مالیاتی شمولیت کا رول اہم ہونے والا ہے۔
کچھ سالوں سے مالیاتی شمولیت کے تصور کو بروئے کار لانے کی سمت میں محکمہ برائے مالی خدمات، محکمہ اقتصادی امور، محکمہ ڈاک اور انویسٹ انڈیا ایکانومک فاؤنڈیشن کے ذریعے کام کیا جا رہا ہے۔ فی الحال دشواری ہے ہندوستانی ڈاکخانہ کی نان بینکنگ ہیئت کو لے کر۔ اگر ہندوستانی ڈاکخانے بینکنگ سہولیات مہیا کرانا شروع کرتے ہیں، تو مالیاتی شمولیت کے راستے کا سب سے بڑا کانٹا صاف ہو جائے گا۔ اس لیے ہندوستانی محکمہ ڈاک بینکنگ سہولیات مہیا کرنے کی سمت میں ایک اسکیم پر کام کر رہا ہے۔ اسکیم کی تفصیلی رپورٹ ایک دو ماہ کے اندر آ جائے گی۔ اس رپورٹ میں ڈاکخانہ کی جگہ پوسٹ بینک آف انڈیا کا بنیادی خاکہ تفصیل کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔ اس بابت جولائی، 2012 میں محکمہ ڈاک کے ذریعے ایک آزاد صلاح کار کی تقرری کی گئی تھی۔ محکمہ ڈاک کو پوسٹ بینک آف انڈیا میں تبدیل کرنے کی اسکیم کو عملی جامہ پہنانے کے لیے محکمہ نے ٹنڈر طلب کیا تھا، جس میں میکنجی اینڈ کمپنی، بوسٹن کنسلٹنگ گروپ، کے پی ایم جی ایڈوائزری سروِس اور اَرنسٹ اینڈ ینگ نے دلچسپی دکھائی تھی۔ اسی سلسلے میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی، جس نے اپنی رپورٹ حال ہی میں سرکار کو سونپی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق، مجوزہ بینک کا فوکس دیہی علاقے کی طرف رہے گا اور یہ کاروباری بینکوں کی طرح دیہی علاقوں میں اے ٹی ایم کی سہولت مہیا کرائے گا۔ ساتھ ہی ضرورت کے مطابق، دیہی باشندوں کے لیے قرض فراہم کرنے کی سہولت بھی مہیا کرائے گا۔ کور بینکنگ کی سہولت سے لیس یہ بینک دیہی باشندوں کی ہر مالی ضرورت کا خیال رکھے گا۔ سرکار اس بینک کے ذریعے اپنی اسکیموں کو نافذ کرانے میں بھی اہل ہوگی۔ اس نئے بینک کی افادیت کو مد نظر رکھتے ہوئے وزارتِ خزانہ نے ہندوستانی ڈاکخانہ کو ہدایت دی ہے کہ بارہویں پنج سالہ منصوبہ کے دوران وہ اس بینک کا آغاز کسی بھی حالت میں کرے۔
سوال ہے کہ ڈاکخانوں کو تکنیکی سطح پر بنیادی سہولیات سے لیس کیے بنا مجوزہ پوسٹ بینک آف انڈیا کو شروع کرنا کیا مناسب قدم ہوگا؟ یہ سوال اٹھنا اس لیے بھی لازمی ہے کہ ملک کے دور دراز کے دیہی علاقوں میں متعدد ڈاکخانے خسارے میں چل رہے ہیں۔ اس مدعے پر سرکار نے کسی بھی اسکیم کا خلاصہ ابھی تک نہیں کیا ہے۔ انسانی وسائل اور دیگر وسائل کی کمی کا سامنا ڈاکخانے پہلے سے کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ پچھلے کچھ سالوں میں کے وائی سی پر عمل کرنے کے سلسلے میں لاپرواہی برتنے کے سبب بینکوں میں دھوکہ دہی کی وارداتیں بڑھی ہیں۔ ایسی وارداتوں کے ڈاکخانوں میں بھی ہونے سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ دہشت گرد بھی ڈاکخانوں کی اس کمزوری کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ دور دوراز کے دیہی علاقوں میں ان کے ذریعے دراندازی کرنا آسان ہوگا۔ لہٰذا، کے وائی سی (اپنے صارف کو جاننے) کے مدعے پر مجوزہ پوسٹ بینک آف انڈیا پوری طرح سے دریا دلی نہیں دکھا سکتاہے، کیوں کہ کسی کی پیشانی پر یہ نہیں لکھا ہوتا ہے کہ وہ مجرم ہے یا دہشت گرد۔ ایک بڑا اور ہمہ گیر نیٹ ورک مالیاتی شمولیت کو نافذ کرنے میں مددگار تو ضرور ہے، لیکن اسے یوٹو پیا نہیں مانا جاسکتا ہے۔ موجودہ کمیوں اور خامیوں کو دور کیے بغیر پوسٹ بینک آف انڈیا کو کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
موٹے طور پر مالیاتی شمولیت کا مطلب ہوتا ہے، ہر کسی کو بینک سے جوڑنا۔ بینک سے جڑے رہنے پر ہی کسی کو سرکاری مدد شفاف طریقے سے دی جاسکتی ہے۔ اس سلسلے میں بینک کے توسط سے جمع کرنا اور نکالنا بینکنگ کارروائی کا صرف ایک پہلو ہے۔ نقد منافع پہنچانے کے علاوہ سرکار کے ذریعے بی پی ایل طبقہ کو قرض بھی مہیا کرایا جاتا ہے، جو فی الحال ڈاکخانوں کے ذریعے مہیا نہیں کرایا جا رہا ہے۔ بینکوں کی طرح دیگر سہولیات فراہم کرنے سے بھی وہ ابھی پرہیز کر رہا ہے۔ اس میں دو رائے نہیں ہے کہ کوئی بھی ادارہ یا اسکیم مکمل نہیں ہو سکتی ہے۔ کامیابی کے فیصد سے ہی اس کی کامیابی یا ناکامی کا تعین کیا جا سکتا ہے۔ ہندوستانی ڈاکخانہ کے ذریعے شروع کیے جانے والے مجوزہ پوسٹ بینک آف انڈیا کو بھی ایک مکمل بینک کا نام نہیں دیا جاسکتا ہے، لیکن امید ضرور کی جاسکتی ہے کہ وہ تمام طرح کی کمیوں اور خامیوں کو دور کرنے میں اہل ہوگا۔ امید ہے کہ اس کے توسط سے سرکار مالیاتی شمولیت کے خواب کو پورا کر سکے گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *