نظام کو تبدیل کیجئے

سنتوش بھارتیہ 
نظام میں تبدیلی کیسے ہو اور اس کی شروعات کیسے ہوگی، اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔ جب ہم نظام کہتے ہیں تو اس میں سرکار بھی آتی ہے، سماج بھی آتا ہے اور سرکار و سماج سے پیدا ہونے والی ساری تنظیمیں بھی آتی ہیں۔ نظام میں تبدیلی کی بات ہی اس لیے اٹھ رہی ہے، کیوں کہ موجودہ نظام 80 فیصد لوگوں کے لیے ناکارہ ہو چکا ہے۔ اچھا نظام وہ مانا جاتا ہے، جو 99 فیصد لوگوں کے لیے کام کرے اور ان کے دکھ اور تکلیف کے سوالوں کو ترجیحات کی بنیاد پر حل کرے۔
ہم ایک ایسے نظام میں جی رہے ہیں، جس میں نہ نوجوان خوش ہیں، نہ طلبا مستقبل کو لے کر پرامید ہیں، نہ بے روزگار کوئی نیا راستہ دیکھ پا رہے ہیں۔ کسان، مزدور، دلت، پچھڑے اور مسلمان جیسے تمام طبقات صرف ناامیدیوں کے بھنور میں گھوم رہے ہیں۔ متوسط اور اعلیٰ کہی جانے والی سماجی ذاتوں کے غریبوں کا حال تو اور بھی خراب ہے۔ وہ نہ تو اِدھر کے ہیں اور نہ اُدھر کے۔ وہ اپنے لیے تحریک بھی نہیں چلا سکتے۔ سوال یہ ہے کہ ایسا نظام کس کام کا، جو کسی بھی طبقہ کو خوش نہ رکھ سکے۔
اس لیے اس نظام کے خلاف تمام لوگ آواز اٹھا رہے ہیں۔ ایک بڑا طبقہ ملک کے 270 ضلعوں میں ہتھیار لے کر سرکار یا نظام نام کے ادارہ سے سیدھے لوہا لے رہا ہے، پر اب یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ عظیم دانشور، عظیم ماہر اقتصادیات اور عظیم سیاسی لیڈر اس صورتِ حال کو کیوں نہیں سمجھنا چاہتے اور کیوں آپس میں بیٹھ کر اس سوال پر بات نہیں کرتے۔ پارلیمنٹ میں موجود تقریباً سبھی پارٹیاں ایک دوسرے سے نہ صرف کتراتی ہیں، بلکہ لوگوں کی پریشانیوں کا حل نکالنے کا کوئی راستہ ہے، اس پر کنفیوز نظر آتی ہیں۔ یہ صورتِ حال پہلے بھی کبھی رہی ہوگی۔ شاید تبھی تلسی داس جی نے لکھا ’کوئی نرپ ہوئے ہمیں کا ہانی‘ (کوئی بادشاہ ہو جائے تو اس سے ہمارا کیا نقصان ہے؟)، کیوں کہ اس وقت لوگوں کے من میں اتنی مایوسی چھا گئی تھی اور انہیں لگنے لگا تھا کہ تبدیلی کا کوئی امکان ہے ہی نہیں، لیکن آج ایسا نہیں ہے۔ آج لوگ تبدیلی کی، نظام میں تبدیلی کی بات سنجیدگی اور مضبوطی کے ساتھ کرتے ہیں۔
ایک مثال لیتے ہیں اور اسے منصوبہ یا ترقی کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ آج پورے ملک کا منصوبہ بنتا ہے، ترقی ہوتی ہے، لیکن ہر چیز میں نتیجہ نہیں نکلتا۔ نہ لوگوں کی بات سنی جاتی ہے اور نہ لوگوں کو اس کا فائدہ ملتا ہے۔ دہلی میں بیٹھ کر بہار، اتر پردیش، مدھیہ پردیش، تمل ناڈو اور کیرالہ سمیت تمام صوبوں کے گاؤوں کے منصوبے بنتے ہیں۔ اس کا نتیجہ نکلا کہ گاؤں سے پانی ختم ہو گیا، زمین کی زرخیزی ختم ہو گئی، جنگل ختم ہو گئے، روزگار ختم ہوگئے، فصل کی پیداوار زہریلی ہو گئی، تعلیم اور صحت کا ڈھانچہ ٹوٹ گیا اور زیادہ تر گاؤں مٹی کی زندہ لاشوں کے قبرستان میں بدلنے لگے۔ چیزیں اتنی تیزی سے بگڑیں، جس کا اندازہ بگاڑنے والوں کو بھی نہیں رہا ہوگا۔
اب ذرا دوسرے ڈھنگ سے سمجھتے ہیں۔ منصوبہ بنانے کی بنیادی ذمہ داری اگر ضلع کے پاس ہو اور ضلع اپنے سبھی بلاکوں کے گاؤں کا منصوبہ بنائے اور تعلیم، صحت، روزگار، پیداوار، اس کے بازار اور وہاں دستیاب خام مال پر مبنی صنعت تیار کرنے کو ترجیح دے تو ملک کی ترقی کا نقشہ بدلنا شروع ہو جائے گا، کیوں کہ اس وقت ایک ضلع اپنے گاؤں کے پانی کو جمع کرے گا، وہاں دستیاب خام مال کو پروسیس کرے گا، پیداوار کی صحیح ذخیرہ اندوزی کا منصوبہ بنائے گا، قدرتی وسائل کی لوٹ کھسوٹ نہیں کرے گا، جس سے گاؤں سے نوکری یا روزگار کے لیے باہر جانا رک جائے گا۔ چونکہ ضلع ترقی کی اہم اکائی بنے گا، اس لیے اگر کسی کو نوکری یا روزگار کے لیے جانا بھی ہے تو وہ ایک بلاک سے دوسرے بلاک جائے گا۔ ضلع اپنے پانی کا بٹوارہ سارے بلاکوں میں ضرورت کے مطابق کر سکتا ہے۔ حالات کے مطابق ہر ضلع آسانی سے سڑکوں اور اسکولوں کا جال بچھا سکتا ہے۔ پورے ضلع کے لوگوں کو ترقی میں آسانی سے شامل کیا جا سکتا ہے۔ جو افسر سرکار کی طرف سے تعاون کرنے کے لیے وہاں رہے اور اسے یہ معلوم ہو کہ اس کے کریئر کی چابی ضلع کی ترقی سے جڑی ہوئی ہے، تو وہ دن دونی رات چوگنی محنت کرے گا۔ ایسے میں بہت سارے جھگڑوں کا نمٹارہ ضلعوں میں ہو جائے گا اور لوگوں کو ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ نہیں جانا پڑے گا۔ لوگوں کو اپنی دوڑ بھی راجدھانی کی جگہ اپنے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر تک محدود رکھنی پڑے گی۔
اگر ضلع میں خام مال کی کمی ہے، تیار مال کی کمی ہے، کامگاروں کی کمی ہے تو پہلا ضلع دوسرے ضلع سے آسانی سے منگا سکتا ہے۔ ایسے میں ٹکنالوجی کا استعمال اور بہتر ہو سکتا ہے۔ تب ٹکنالوجی کا استعمال اس ضلع کی اقتصادی صورتِ حال اور دستیاب خام مال کو دھیان میں رکھ کر ہوگا اور ایسے میں وہ سارے لوگ، جو امن و سلامتی کو برقرار رکھنے کے کاموں میں لگائے جا رہے ہیں، ان کے اوپر بھی بوجھ کم پڑے گا۔ ایک ہی پریشانی ہے کہ جب منصوبہ بندی اور خرچے کی ذمہ داری ضلع کے اوپر ہوگی، تو پھر کمیشن اور بدعنوانی کی وجہ سے آنے والا نقلی، خراب اور بیکار سامان ضلعوں میں نہیں پہنچ پائے گا۔ ملاوٹ ایک سنگین سوال بن چکا ہے اور اس کا جواب بھی ضلع اور گاؤں کو مضبوط بنانے میں پوشیدہ ہے۔ اسی طرح پانچ یا دس ضلعوں کا ایک ژون بنایا جاسکتا ہے اور اس علاقے کی کمیوں یا سرپلس چیزوں کے بارے میں بغیر وقت ضائع کیے ہوئے منصوبے بنائے جاسکتے ہیں۔ اگر بدعنوانی کو بڑھاوا نہیں دینا ہے تو ایسے منصوبہ پر عمل کرنا پڑے گا، لیکن ہمارے لیڈروں اور خاص کر نوکر شاہوں کا نہ ملک کے لوگوں کے اوپر اعتماد ہے اور نہ بھروسہ۔ اس لیے بھی وہ خود کو سپریم مانتے ہوئے موجودہ نظام کو ہی سب سے بہتر مانتے ہیں۔ لیکن ہمیں لگتا ہے کہ وہ غلطی کر رہے ہیں۔ یہ کام آسان بھی ہے اور مشکل بھی۔ یہی وقت ہے جب ملک کے لوگ متحد ہوں، فیصلہ کریں اور ایک ساتھ دہلی کی طرف کوچ کریں۔ اگر لوگ دہلی کی طرف کوچ کریں گے تو وہاں بیٹھے سب سے زیادہ طاقتور جاگیر داروں کو تھوڑا ڈر لگے گا۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *