ملک کو بدعنوانی سے آزاد کرائو، پٹنہ چلو

ڈاکٹر منیش کمار
ملک کی جمہوریت خطرے میں ہے۔ ملک چلانے والوں نے جھوٹ بولنے، دھوکہ دینے اور اخلاقیات کی تمام حدیں پار کر نے کو ہی سیاست سمجھ لیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ پارلیمنٹ میں لیڈر جھوٹ بولنے لگے ہیں۔ اور تو اور پارلیمنٹ میں اتفاق رائے سے بل پاس کرنے کے باوجود عوام کے ساتھ دھوکہ کیا جانے لگا ہے۔ سرکار ایسی ایسی پالیسیاں بنا رہی ہے، جن سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ آئین کو ہی طاق پر رکھ دیا گیا ہے۔ چیف منسٹر کا بیٹا چیف منسٹر، منسٹر کا بیٹا منسٹر اور ایم پی کا بیٹا ایم پی۔ تقریباً سبھی سیاسی پارٹیاں کسی نہ کسی خاندان کی جاگیر بن چکی ہیں۔ اقربا پروری سے متاثر جمہوریت کے ٹھیکہ داروں نے پورے نظام کو برباد کر دیا ہے۔ سرکاریں بنتی ہیں اور لیڈر افسروں کے ساتھ مل کر صرف ملک کے وسائل کو لوٹنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ قاعدے قانون کو توڑ مروڑ کر صنعت کاروں کو فائدہ پہنچایا جاتا ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ پارلیمنٹ اور اسمبلی جیسے ادارے بھی لوٹ کے حصہ دار بن گئے ہیں۔
سمجھنے والی بات یہ ہے کہ جب سے منموہن سنگھ نے اس ملک میں نیو لبرل ازم کی پالیسیوں کو نافذ کیا ہے، تب سے ملک میں استحصال میں اضافہ ہوا، قومی وسائل کی لوٹ بڑھ گئی، مہنگائی پر کسی کا کنٹرول نہیں رہا، سرکاری مشینری بدعنوانی کی گرفت میں آ گئی، دماغ ہلا دینے والے ایک سے بڑھ کر ایک گھوٹالے ہونے لگے، امیر پہلے سے کئی گنا زیادہ امیر بن گئے اور غریب پہلے سے غریب ہوتا چلا گیا۔ سرکار ترقی کے نام پر کسانوں کی زمین چھین کر پرائیویٹ کمپنیوں کو دینے لگ گئی، سڑکوں کا انتظام و انصرام اور کنٹرول پرائیویٹ کمپنیوں کو دیا جانے لگا۔ ندیوں کے پانی کو بھی سرکار نے بیچنا شروع کردیا۔ جنگلوں کی معدنیات اور کانکنی کے نام پر بھی غیر ملکی اور پرائیویٹ کمپنیوں کو فائدہ پہنچایا جانے لگا۔ مزدوروں کی جگہ مشینوں نے لے لی۔ آبادی بڑھتی چلی گئی، لیکن ان کے لیے کوئی انتظام نہیں ہو سکا۔ بے روزگاری بڑھ گئی، کسانوں کی حالت پہلے سے بری ہوتی چلی گئی۔ کسانوں کی خود کشی کے معاملے نے سارے ریکارڈ توڑ دیے۔ کہنے کا مطلب یہ کہ 1991 سے ملک میں جو اقتصادی پالیسی اپنائی گئی، اس سے ملک کے عوام کی زندگیوں پر برا اثر پڑا۔ اس اقتصادی پالیسی کا فائدہ صرف بڑی کمپنیوں کو ہوا۔
سرکار نے کس طرح سے پرائیویٹ کمپنیوں کو فائدہ پہنچایا، اس کا ایک نمونہ دیکھئے۔ یو پی اے سرکار نے 2005-06 میں 34 ہزار 614 کروڑ روپے کے کارپوریٹ ٹیکس میں چھوٹ دی، 66 ہزار 760 کروڑ روپے ایکسائز ڈیوٹی میں چھوٹ دی اور ایک لاکھ 27 ہزار 730 کروڑ روپے کسٹم ڈیوٹی میں چھوٹ دی۔ مطلب یہ کہ سرکار نے 2005-06 میں دو لاکھ 29 ہزار 108 کروڑ روپے کا فائدہ کمپنیوں کو پہنچایا۔ 2006-07 میں سرکار پرائیویٹ، غیر ملکی اور دیگر کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے میں اور بھی بے قرار دکھائی دی۔ 2006-07 میں 50 ہزار 75 کروڑ روپے کارپوریٹ ٹیکس، 99 ہزار 690 کروڑ روپے ایکسائز ڈیوٹی اور کسٹم ڈیوٹی کے طور پر ایک لاکھ 23 ہزار 682 کروڑ روپے کی چھوٹ دی گئی۔ کمپنیوں کو ملنے والا یہ فائدہ پچھلے سال سے بڑھ کر دو لاکھ 73 ہزار 447 کروڑ روپے ہو گیا۔ اس کے بعد سال 2007-08 آیا اور کمپنیوں کو ملنے والی چھوٹ بڑھ کر تین لاکھ تین ہزار 260 کروڑ روپے ہو گئی، جس میں 62 ہزار 199 کروڑ روپے کارپوریٹ ٹیکس، 87 ہزار 468 کروڑ روپے ایکسائز ڈیوٹی اور ایک لاکھ 53 ہزار 593 کروڑ روپے کسٹم ڈیوٹی کے شامل ہیں۔ یہ اس وقت کی بات ہے، جب سرکار لگاتار کسانوں کو ملنے والی سبسڈی ختم کر رہی تھی اور یہ دلیل دی جا رہی تھی کہ اس کے لیے سرکار کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ وزیر اعظم نے جب کرسی سنبھالی، تب انہوں نے کہا تھا کہ ملک کے وسائل پر پہلا حق ملک کی اقلیتوں کا ہے، لیکن یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سرکار بولتی کچھ ہے اور کرتی کچھ ہے۔ یہ اعداد و شمار یو پی اے سرکار کے ہیں، جسے وہ ہر سال پارلیمنٹ میں پیش کرتی آئی ہے۔ حیرانی اس بات سے بھی ہے کہ سرکار غریبوں اور عام آدمی کا حق کاٹ کر امیر کمپنیوں اور ان کے مالکوں کو فائدہ پہنچاتی رہی، لیکن دوسری پارٹیوں نے اس پر سوال نہیں اٹھایا۔
دنیا میں سب سے زیادہ بھوک سے مرنے والے ملک میں لوٹ کھسوٹ اور صنعتی گھرانوں کو فائدہ پہنچانے کا کام یہیں ختم نہیں ہوا۔ اب تک ہم نے آپ کو 2007-08 کے اعداد و شمار بتائے، اب ذرا 2008-09 کے اعداد و شمار کو دیکھئے۔ اس بار کارپوریٹ گھرانوں کو فائدہ پہنچانے میں سرکار نے سارے ریکارڈ توڑ دیے۔ پچھلے سال کے مقابلے اس چھوٹ میں ایک لاکھ 17 ہزار 686 کروڑ روپے کا اضافہ ہوا۔ اس سال سرکار نے کارپوریٹ گھرانوں کو چار لاکھ 20 ہزار 946 کروڑ روپے کا فائدہ پہنچایا۔ اس میں سے 66 ہزار 901 کروڑ روپے کی چھوٹ کارپوریٹ ٹیکس میں، ایک لاکھ 28 ہزار 293 کروڑ روپے ایکسائز ڈیوٹی اور دو لاکھ 25 ہزار 752 کروڑ روپے کسٹم ڈیوٹی کے طور پر معاف کردیا گیا۔ ملک میں ایک طرف لوگ مہنگائی سے پریشان تھے اور دوسری طرف لگاتار امیر ہو رہی صنعتی دنیا کے مالکوں کو چھوٹ پر چھوٹ دی جا رہی تھی۔ اگلا سال آیا تو صنعتی دنیا کو اور بھی چھوٹ دی گئی۔ 2009-10 میں کارپوریٹ ٹیکس کے طور پر 72 ہزار 881 کروڑ روپے کی چھوٹ کے ساتھ ہی ایک لاکھ 69 ہزار 121 کروڑ روپے ایکسائز ڈیوٹی اور ایک لاکھ 95 ہزار 288 کروڑ روپے کسٹم ڈیوٹی کے روپ میں معاف کیے گئے۔ اس طرح کل ملا کر چار لاکھ 37 ہزار 290 کروڑ روپے کی چھوٹ کارپوریٹ دنیا کو دی گئی۔
اب دیکھتے ہیں کہ 2010-11 میں کیا ہوا۔ اس سال کل چھوٹ بڑھ کر چار لاکھ 60 ہزار 972 کروڑ روپے ہو گئی، جس میں سے 88 ہزار 263 کروڑ روپے کارپوریٹ ٹیکس کے روپ میں معاف کر دیا گیا اور ایک لاکھ 98 ہزار 291 کروڑ روپے ایکسائز ڈیوٹی اور ایک لاکھ 74 ہزار 418 کروڑ روپے کی کسٹم ڈیوٹی میں چھوٹ دی گئی۔ ان اعداد و شمار کو بجٹ میں اسٹیٹمنٹ آف ریونیو فار گین کے ٹیبل میں درج کیا جاتا رہا ہے۔ ملک کے گاؤوں اور غریبوں کی حالت کو جو لوگ جانتے ہیں، ان کے لیے کوئی بھی دلیل کارپوریٹ گھرانوں کو ملنے والی اس چھوٹ کو صحیح نہیں ٹھہرا سکتی۔
ہندوستان جیسے غریب ملک میں کارپوریٹ گھرانوں کو دی جانے والی چھوٹ شرمناک ہے۔ اسے ہم گھوٹالہ نہیں کہہ سکتے، کیوں کہ اسے باقاعدہ بجٹ میں شامل کرکے پارلیمنٹ سے پاس کرایا گیا ہے۔ ایسے میں سیدھا سوال یہی اٹھتا ہے کہ یہ سرکار کس کی ہے؟ یہ پارلیمنٹ کس کی ہے؟ یہاں کس کے فائدے کے لیے فیصلے لیے جاتے ہیں؟ یہ سرکار عام عوام کے لیے ہے یا پھر جمہوریت کا ناٹک صرف اور صرف کارپوریٹ گھرانوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے ہے؟ ہندوستان جیسے غریب ملک میں صنعتی گھرانوں کو ملنے والی اس چھوٹ کو صحیح ٹھہرانے والی دلیلیں غیر انسانی مانی جائیں گی۔ کسی بھی جمہوریت میں یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک طرف کسان خود کشی کر رہے ہوں

بچے بھوک سے مر رہے ہوں اور سرکار یہ کہہ رہی ہو کہ اس کے پاس وسائل نہیں ہیں اور ساتھ میں صنعت کاروں کو اس طرح کی چھوٹ بھی دے دی جائے۔ جمہوریت کی یہ کیسی شکل ہے، جس میں غریبوں اور محروموں کے مسائل کی کوئی قدر نہیں ہے، ان کے حل کے لیے کوئی ایجنڈہ نہیں ہے۔ یہ عوام کے ذریعے منتخب کردہ کیسی سرکار ہے، جو عام آدمی کی بہتری کی بات پر ہاتھ کھڑے کر دیتی ہے؟ اقتصادیات کا یہ کیسا علم ہے، جس نے سرکار کو یہ سکھا دیا ہے کہ غریبوں کا حق مار کر امیروں کو فائدہ پہنچایا جائے۔ لبرل ازم کا یہ کون سا روپ ہے، جس میں سرکار کے پاس پبلک ڈسٹربیوشن سسٹم کو چلانے کے لیے پیسے نہیں ہیں، لیکن کارپوریٹ گھرانوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے سارے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ یہ بھولنے والی بات نہیں ہے کہ پوری دنیا میں ہندوستان سب سے بھوکا ملک ہے۔ یہاں بھوک سے متاثرہ لوگوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ ملک میں غذائی اجناس کی کمی ہے، لیکن لگتا ہے کہ سرکار کو گاؤوں اور شہروں اور غریبوں کی کوئی فکر نہیں ہے۔ ملک کی سرکار، اپوزیشن اور سارے ادارے ملک کے امیروں کی خاطرداری میں لگ گئے ہیں۔ جس کسی بھی گھوٹالے کو دیکھئے، اس میں کہیں نہ کہیں کارپوریٹ گھرانوں کا نام شامل ہوتا ہے۔ 1991 کے بعد سے سارے گھوٹالے کارپوریٹ سیکٹر کے ساتھ مل کر انجام دیے گئے۔ ملک کے وسائل کو سرکار، لیڈر اور صنعت کار مل جل کر لوٹ رہے ہیں۔ کسانوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کیا جا رہا ہے۔ آدیواسیوں کو جنگلوں سے باہر کیا جا رہا ہے۔ معدنیات کو ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں کو لوٹنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔ آزادی کے وقت جو خواب ملک کے عظیم رہنماؤں نے دیکھا تھا، اس میں آج جو ہندوستان میں ہو رہا ہے، وہ قطعی نہیں تھا۔ سرکار آئین کے خلاف فیصلے لے رہی ہے اور کوئی سوال بھی نہیں اٹھا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ کب تک چلتا رہے گا؟
اگر ملک میں بنیادی سطح پر تبدیلی نہیں لائی گئی، تو اس ملک میں جمہوریت نہیں بچے گی اور اگر جمہوریت بچ بھی گئی، تو اس کا چہرہ اتنا خوفناک ہوگا کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کو لوگ جمہوریت ماننے سے بھی انکار کریں گے۔ ملک کے سامنے صاف خطرہ ہے۔ ایک طرف عام آدمی حاشیے پر جارہا ہے، دوسری طرف ساری طاقتیں کچھ لوگوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ ہندوستان کی جمہوریت ایک ایسے مرض میں مبتلا ہے، جس کی وجہ سے تمام طاقتیں چند سو خاندانوں میں سمٹ کر رہ جائیں گی۔ سیاست کے شعبے کو دیکھئے۔ ملک کی چند پارٹیوں کو چھوڑ کر ساری پارٹیاں کسی ایک خاندان کی جائداد بن گئی ہیں۔ جن پارٹیوں میں یہ بیماری نہیں تھی، ان میںبھی اب یہ مرض لاحق ہو چکا ہے۔ اگر یہ مرض نہیں رکا، تو اس کا مطلب ہے کہ مستقبل میں ملک کی انتخابی سیاست پر چند خاندانوں کا قبضہ ہو جائے گا۔ اقتصادی شعبے میں بھی یہی ہو رہا ہے۔ کچھ بڑی کمپنیاں ہیں، جو چھوٹی کمپنیوں کو ختم کر دیتی ہیں۔ یہ کمپنیاں عوام کی نہیں، بلکہ کچھ گھرانوں کی ہیں۔ یہی صنعتی گھرانے سیاسی پارٹیوں کو پیسے دیتے ہیں اور انتخاب جیتنے کے بعد یہ سیاسی پارٹیاں قاعدے قانون بدل کر انہیں فائدہ پہنچانے کا کام کرتی ہیں۔ یہی نیکسس ہے، یہی خطر ہے اور یہی ملک کے لوگوں کی پریشانی کا بنیادی سبب ہے۔ ملک میں اگر جمہوریت کو بچانا ہے، تو اس نیکسس کو ختم کرنا ہوگا۔ امیروں کو فائدہ پہنچانے والی پالیسیوں کا پردہ فاش کرنا ہوگا، انہیں ختم کرنا ہوگا۔ سرکاری پالیسیوں میں عام لوگوں کے ویلفیئر اور ان کو فائدہ پہنچانے کو ترجیح دینی ہوگی۔ غریبوں کے لیے اور دبے کچلے لوگوں کی ترقی کے لیے اسکیمیں بنانی ہوں گی۔ سرکار کو لوگوں کے ساتھ مل کر لوگوں کی مدد سے اور لوگوں کے لیے اسکیمیں بنانی ہوں گی۔ ملک کے عوام کا بھروسہ جیتنا ہوگا۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ کام کون کرے گا۔ اس وقت ملک میں جتنی بھی سیاسی پارٹیاں ہیں، ان پر سے لوگوں کا بھروسہ اٹھ چکا ہے۔ وہ یہ کام نہیں کر سکتیں۔ یہ سیاسی پارٹیاں خود بدعنوانی میں ملوث ہیں، امیروں کو فائدہ پہنچانے والی مشینری میں حصہ دار ہیں، جمہوریت کو غلط سمت میں لے جانے والوں کی رہنمائی کر رہی ہیں۔
یہ کام انا ہزارے کے ساتھ ساتھ ملک میں بدعنوانی مخالف تحریکوں اور نظام میں تبدیلی کی تحریکوں کے ذریعے کیا جاسکتا ہے۔ اس کی شروعات پٹنہ کے گاندھی میدان سے ہو رہی ہے۔ اس میں انا ہزارے کے ساتھ ساتھ جنرل وی کے سنگھ، ایکتا پریشد کے صدر پی وی راج گوپال اور میگاسیسے ایوارڈ وِنر راجندر سنگھ کے ساتھ ساتھ ملک بھر کی کئی سماجی تنظیمیں اور ان کے لیڈر شامل ہو رہے ہیں۔ یہ ایک موقع ہے، جب ملک میں عوام پر مرکوز سرکار بنانے کی طرف ملک پہلا قدم رکھے۔ انا ہزارے کی اس تحریک کی کامیابی سے یہ طے ہوگا کہ مستقبل کا ہندوستان کیسا ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ جن لوگوں کو لگتا ہے کہ وہ موجودہ نظام سے مطمئن نہیں ہیں، انہیں انا کی تحریک کی حمایت کرنی چاہیے۔ 30جنوری کو پٹنہ کے گاندھی میدان پہنچنا چاہیے، کیوں کہ شاید یہ آخری موقع ہے۔ یہ ملک کے عوام کا امتحان ہے، کیوں کہ اگر اس وقت یہ تحریک ناکام ہو گئی تو یقین مانئے، اگلے 30-40 سالوں تک ملک میں کوئی تحریک نہیں ہو پائے گی اور تب تک پورا ہندوستان ملک کے چنندہ 100 گھرانوں کے قبضے میں چلا جائے گا۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *