محبتِ رسولؐ کے مطالبات اور ہمارا طرز عمل

شیخ مقبول احمد 
میلاد النبی ؐ کے موقع پر مختلف تقاریب اور کاروائیاں عمل میںآتی ہیں۔ ہر گائوں ہر شہر میں سیرت ؐ کے جلسے منعقد ہوتے ہیں۔مسلمانوںکے محلوں کو بجلی کے رنگین قمقموں سے روشن کیا جاتا ہے۔ پھریرے اور جھنڈے لگائے جاتے ہیں۔ گائوں کے نکڑ پر شہر کے چوراہوں پر بینرس اور ہورڈنگس کے ذریعہ حرمین شریفین کی تصاویر پیش کی جاتی ہیں۔ حضور ؐ کی سیرت پرعلماء کی تقاریر اور خطابات ہوتے ہیں۔کھیر اور فیرنی بناکر تقسیم کی جاتی ہے اور شربت کی سبیلیں سجتی ہیں اور بڑے بڑے جلوس نکالے جاتے ہیں، نعتیہ مشاعروں کا انعقاد عمل میں آتا ہے۔ ان تمام کارروائیوں میں جہاں بیشتر تقاریب قابل قدر اور قابل ستائش ہیں وہیں پر کچھ باتیں قابل مذمت اور باعث ندامت بھی ہیں۔
قابل ستائش تقاریب: میلادالنبی ؐ کے ضِمن میں سیرت پاک ؐ کے جلسے، بچوں کی تلاوت قرآن، حمد، نعت اور تقاریر کے مقابلے، علمائے کرام کی تقاریر اور خطابات ، شعرائے کرام کے نعتیہ مشاعرے قابل ستائش ہیں۔ اِن سے بچوں اور بڑوں کو حضورؐ کی حیات طیبہؐ کے جاننے اور سمجھنے کا موقع ملتا ہے اور حضور ؐ کی الفت و عقیدت میں اضافہ بھی ہوتا ہے۔ لیکن یہاں پر بھی چنداں احتیاط کی ضرورت ہے۔ آپ ؐ کی ذات گرامی کی توصیف میں بیجا غلو سے پرہیز کیاجاناچاہئے اور کوئی ایسا عمل نہیں کرنا چاہئے جو اسلام سے میل نہیں کھاتا ہے۔عام طور پر اس دن کچھ عمل ایسے کئے جاتے ہیں جن سے دوسروں میں غلط پیغام جاتا ہے۔ اس دن جلوس نکالا جاتا ہے۔اس جلوس میں خوب ہنگامہ،شور شرابہ ہوتا ہے ، بڑے بڑے اسپیکرس اورسائونڈ سسٹم لاریوں اور ٹریکٹروں میں لاد کر لائے جاتے ہیں ، جس طرح اوروں کے تہوار میں ہوتا ہے۔ فلک شگاف آوازوں میں نعتیں بجانا،ہمارے نوجوان نعتوں اور موسیقی کی دھن پر بے تحاشہ فلمی انداز میں ناچتے ہیں، کسی جلوس میں پٹاخے بازی تو کہیں چمکی اسپرے اتنی شدت سے کی جاتی ہے جیسے ہولی کے تہوار میں رنگ کھیلا جاتا ہے۔ جلوسوں کی وجہ سے کئی شہروں میں مسلسل کئی گھنٹوں تک ٹریفک جام ہو جاتا ہے جس سے ہمیں بھی اور غیر مسلم بھائیوں کو بھی کئی طرح کی تکلیفیں اٹھانی پڑتی ہیں، یہ سارے منظر دیکھ کر برادران وطن کیا سوچتے ہوں گے؟ کیا ان کے دل اور دماغ میں یہ بات نہیں آتی ہوگی کہ اسلام بھی دیگر مذاہب کی طرح ہے۔ شور شرابے اور نمائش کا دین ہے؟ کیا وہ یہ سمجھنے میں حق بجانب نہیں ہیں کہ ہمارے اور ا ن کے عید اور تہوار منانے کا طریقہ بالکل ایک جیسا ہے؟ کیاہم نے کبھی سنجیدگی سے اس بات پر غور کیا ہے کہ حضو ر ﷺ کی سیرت کا پیغام کیا ہے اور ہم کیا کر رہے ہیں؟ان تمام خرافات کے ساتھ ساتھ ہم اپنے معاشی اعتبار سے پس ماندہ قوم و ملت کے سرمایہ کی بڑی رقم بجلی کے قمقموں، پھریروں، جھنڈوں، بینرس، ہورڈنگس، سائونڈ سسٹم اور بڑے بڑے جلوس میںبے تحاشہ خرچ کر رہے ہیں۔ اسی رقم سے ملت کے کئی تعمیری کام کئے جا سکتے ہیں اور ہمارے کئی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ بیوائوں اور یتیموں کی کفالت ہو سکتی ہے۔ بن بیاہی لڑکیوں کے نکاح کرائے جا سکتے ہیں۔ غریب بچوں کی تعلیم و تربیت کا انتظام ہو سکتا ہے جو محسن انسانیت کی محبت کے تئیں ہمارا فر ض عین ہے۔ حضور ؐ کی سب سے بڑی پہچان او ر شناخت یتیموں ، مسکینوں، اور بیوائوں سے ہمدردی اور حسن سلوک کے ذریعہ ہی دنیا کے سامنے آئیں۔ملت کے اکابرین اور پڑھے لکھے، سنجیدہ اور دردمند نوجوان اس سمت غور کریں اور عوام کی صحیح رہنمائی کریں ۔ میلادالنبی ؐ مناتے وقت سیرت عملی سے رہنمائی حاصل کرنے کی طرف برادران اسلام کو راغب کریں اور برادران وطن تک اسلام کا اور حضرت محمد ﷺ کی سیرت کاپیغام صحیح انداز میں اور احسن طریقے سے پیش کرنے کا اہتمام کریں۔ اس ضمن میں مندرجہ ذیل امور کی طرف خصوصی توجہ دلانے کی ضرورت ہے۔
مقصد بعثتِ رسول: سب سے پہلے ہماری نظر اس بات پر ہونی چاہئے کہ نبی کریم ؐ کی بعثت کا مقصد کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ قرآن مبین میں واضح الفاظ میں بیان فرماتا ہے کہ” انبیاء علیہم السلام کی بعثت کا مقصد انسانی معاشرے میں عدل و انصاف کا قیام ہے۔ ”
رحمت عالم محسنِ انسانیت: سیرت النبی ﷺکے جلسوں میں جو آیت سب سے زیادہ پڑھی جاتی ہے وہ یہ ہےہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بناکر بھیجا”(سورئہ الانبیائ107)یہ انسانی تاریخ کی سب سے بڑی حقیقت اور سچائی ہے جس کا اعتراف معاندین اسلام بھی کرتے ہیں کہ حضرت محمد ﷺ انسانیت کے لئے واقعتا رحمت بن کر آئے۔آپؐ کے بعد یہ ذمہ داری ہم سب اہل ایمان کی ہے کہ ہم زندگی کے ہر معاملے اور ہر شعبہ میں حضورؐ کی مکمل پیروی کرتے ہوئے انسانوں کے لئے رحمت بنیں نہ کہ زحمت اور انسانیت کو امن و سلامتی اورآشتی کا سبق سکھائیں۔
اسوئہ حسنہ: سیرت کے جلسوں میں دوسری اکثر پڑھی جانے والی آیت یہ ہےتمہارے لئے رسول اللہ ﷺ کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔”(سورئہ احزاب21) یہ آیت حضور ؐ پر ایمان رکھنے والے اور عشق رسول کا دعویٰ کرنے والے ہر مومن سے اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ اُس کی زندگی کا عمل کھانا، پینا،اٹھنا بیٹھنا، رہن سہن، معاشرت، معیشت، تجارت،سیاست، حکومت،عدالت غرض زندگی سے متعلق ہر پہلو اور گوشہ حضرت محمد ﷺ کے نمونے کے مطابق ہو۔
سیرت کا پیغام: میلادالنبی منانے کا سب سے بہترین، صحیح ترین اور افضل ترین طریقہ یہ ہے کہ ہر مسلمان حضرت محمد ﷺ کی تعلیمات کی مکمل پیروی کرتے ہوئے اسلام کا قولی اور عملی نمونہ دنیا کے سامنے پیش کرے اور قرآن کی آیات اورحضورؐ کی تعلیمات غیرمسلموں تک حسبِ استطاعت زیادہ سے زیادہ اُن لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کرتا رہے جن تک ابھی یہ نہیں پہنچی ہیں۔ اِسی بات کا حکم حضرت محمد ﷺ نے اپنے آخری حج کے خطبہ میں موجود سارے مسلمانوں کو دیا تھا ۔اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کے دل میں محبت رسول کے سچے جذبات پیدا فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *