سبق چھوڑ گیا بھارت بند

ابھیشیک رنجن سنگھ 
ملک کے عوام نے کئی مرتبہ’ بھارت بند ‘دیکھے ہیں۔ لال، ہرے، نیلے، بھگوا اور طرح طرح کے رنگوں کے جھنڈوں تلے کبھی بایاں محاذ، کبھی لوک دل، کبھی بہو جن سماج پارٹی، کبھی بی جے پی تو کبھی کانگریس نے سرکار کی عوام مخالف پالیسیوں کے خلاف عوام کو متحد کرنے کے لیے بند کا اعلان کیا۔ گزشتہ کچھ برسوں پر غور کریں تو ہر سال کسی نہ کسی ایشو پر سیاسی پارٹیوں کے ذریعہ ’بھارت بند‘ کیا گیا، راجدھانی دہلی اس کی گواہ ہے۔ اس بند میں عوام کی حصہ داری بھلے ہی نہ رہی ہو، لیکن سیاسی پارٹیوں کے لیے’ بھارت بند‘ کا اہتمام کسی اہم دستاویز کی طرح ہے۔ دہلی میں ایک طالبہ کے ساتھ چلتی بس میں ہوئی اجتماعی عصمت دری کے خلاف 3 جنوری کو ’بھارت بند‘ کا اہتمام کیا گیا۔ اس مرتبہ ’بھارت بند‘ کی خاص بات یہ رہی کہ اس میں کسی سیاسی پارٹی کا کوئی کردار نہیں رہا۔

دہلی ملک کی راجدھانی ہے، یقینی طور پر یہاں رہنے والے زیادہ تر لوگ انٹر نیٹ اور سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کا استعمال کرتے ہیں۔ کم و بیش یہی صورت حال ملک کے دوسرے بڑے شہروں کی بھی ہے۔ نوجوانوں کی یہ تحریک ایک تحریک نہ ہوکر انٹرنیٹ کا بھرم ہے، ایسا سوچنے والوں کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا ہے۔ ندوستان کی سبھی سیاسی پارٹیاں اس بات کو سمجھ لیں کہ اب انہیں ایسی ہی بھیڑ کا سامنا ہر جگہ کرنا پڑ سکتا ہے۔

آزاد ہندوستان کی تاریخ میں شاید ایساپہلی مرتبہ ہوا کہ جب طلبائ، نوجوان، خواتین اور سماجی تنظیموں نے اپنی سطح پر ’بھارت بند‘ اور ’یوم سیاہ‘ منانے کا فیصلہ کیا۔ حالانکہ سیاسی پارٹیوں کے ذریعہ ہونے والے ’بھارت بند‘ کی طرح اس بند کا اثر ٹریفک نظام اور کاروباری اداروں پر نہیں پڑا۔ ملک بھر میں عام زندگی پوری طرح معمول پر رہی اور بازار بھی عام دنوں کی طر ح ہی کھلے رہے، لیکن سڑکوں سے گزرنے والے لوگوں کے چہروں پر ان درندوں کے تئیں غصے کی جھلک صاف دیکھی جاسکتی تھی، جنہوں نے ’دامنی‘ کی زندگی اور اس کے خاندان کے خوابوں کو تباہ کر دیا۔ دہلی میں ’بھارت بند‘ کا اہتمام جواہر لال نہرو یونیورسٹی، دہلی یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ سمیت کئی تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے طلباء و طالبات نے کیا۔ یہ وہی طلباء تھے، جنہوں نے دامنی کے ساتھ ہوئی اجتماعی عصمت دری کی مخالفت میں راشٹر پتی بھون، انڈیا گیٹ اور وجے چوک کو مصر کے تحریر چوک میں تبدیل کر دیا تھا۔ کسی سیاسی پارٹی کی حمایت کے بغیر نوجوانوں اور طلباء کے اس غم و غصے نے ایمرجنسی کی یاد دلا دی۔ دہلی پولس نے بھی انڈیا گیٹ کے آس پاس کے علاقوں میں دفعہ 144 کا نفاذ کرتے ہوئے کئی اہم سڑکوں کو بند کر دیا۔ سنگاپور میں متاثرہ لڑکی کی موت کے بعد دو دنوں تک دہلی میٹرو کے 10 اسٹیشنوں کو بند کردیا گیا، تاکہ مظاہرین کہیں بھی جمع ہونے میں کامیاب نہ ہو پائیں۔
اس ’بھارت بند‘ کے بارے میںدانشوروں کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کے بیچ کوئی نہ کوئی لیڈر ہونا چاہیے، تاکہ تحریک کو صحیح قیادت مل سکے۔ ان دانشوروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ کوئی بھی لڑائی بنا لیڈر کے صحیح انجام تک نہیں پہنچتی۔ یہا ں سوال یہ ہے کہ ملک کے عوام آخر کسے لیڈر مانیں اور کیوں مانیں۔ دہلی میں گزشتہ دنوں ہوئے مظاہرے اور ’بھارت بند‘ کے بعد یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ کڑاکے کی ٹھنڈ کے باوجود سڑکوں پر ہزاروں کی تعداد میں اترے عوام کاغصہ کیا صرف متاثرہ لڑکی کو انصاف دلانے کے لیے تھا؟ شاید نہیں، کیونکہ درندگی کا شکار ہوئی دامنی کی موت بھلے ہی اس کا ایک فوری سبب ہو سکتی ہے، لیکن عوام کا یہ غصہ سرکار کی کئی عوام مخالف پالیسیوں اور ملک گیر بد عنوانیوں کی وجہ سے بھی پیدا ہوا، جس کی اب تک چشم پوشی ہوتی رہی ہے۔ ’بھارت بند‘ کرنے والے نوجوان مظاہرین کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ سرکار اجتماعی عصمت دری کرنے والے سبھی قصورواروں کو پھانسی جیسی سخت سزا دلائے۔ اس کے ساتھ ہی آئی پی سی کی دفعات میں ترمیم کر کے عصمت دری جیسی بدکاری کے لیے موت کی سزا متعین کی جائے، تاکہ ملک میں عورتوں کی آبرو کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی ہمت کوئی نہ کر سکے۔ ہندوستان کے لوگوں کے بارے میں اکثر کہا جاتا ہے کہ یہاں کے عوام ظلم سہنے کے عادی ہوچکے ہیں۔ پہلے انہوں نے راجائوں، مہاراجائوں کی غلامی کی، اس کے بعد انگریزوں کی اور اب اپنے عوامی نمائندوں کی غلامی کر رہے ہیں۔ جمہوریت میں ضرورت سے زیادہ یقین رکھنے والے لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ عوام کو جمہوری طریقے سے ہی مخالفت کرنی چاہیے، کیونکہ ان کے پاس ووٹ دینے کا اختیار ہے۔ اگر عوام چاہیں تو ملک کے نظام میں کافی تبدیلی لاسکتے ہیں۔ جمہوری اقدارکی ایسی دلیل دینے والوں کا احترام کیا جاسکتا ہے، لیکن ان کی یہ بات ماننے کا وقت اور صبر عوام میں نہیں رہ گیا ہے۔ ملک میں قانون بنانے کا کام پارلیمنٹ کے ممبران کا ہے، لیکن پارلیمنٹ ہائوس اور اسمبلی ہائوس میں بیٹھے کئی با وقار ممبران خود عصمت دری کے ملزم ہیں، جن کے اوپر کئی مقدمے چل رہے ہیں۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ اگر عصمت دری جیسے کاموں کے لیے پھانسی کی سزا مقرر کی جاتی ہے، تو کئی سفید پوش لیڈروں کی گردنوں کی بھی ناپ لے لی جائے گی اور انہیں بھی پھانسی پر لٹکا دیا جائے گا۔ اصل میں ملک کے عوام یہی چاہتے ہیں کہ مجرم چاہے لیڈر ہو یا عام آدمی، سزا سب کو برابر ملنی چاہیے۔ دہلی کی سڑکوں پر نوجوانوں کا یہ غصہ کئی اشارے دے رہا ہے۔ جو لوگ ایسا سوچتے ہیں کہ میڈیا اور سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کے ذریعہ ہی طلباء اور نوجوان سڑکوں پر اترے، ان کا یہ سوچنا غلط ہے۔ دہلی ملک کی راجدھانی ہے، یقینی طور پر یہاں رہنے والے زیادہ تر لوگ انٹر نیٹ اور سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کا استعمال کرتے ہیں۔ کم و بیش یہی صورت حال ملک کے دوسرے بڑے شہروں کی بھی ہے۔ نوجوانوں کی یہ تحریک ایک تحریک نہ ہوکر انٹرنیٹ کا بھرم ہے، ایسا سوچنے والوں کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا ہے۔ ہندوستان کی سبھی سیاسی پارٹیاں اس بات کو سمجھ لیں کہ اب انہیں ایسی ہی بھیڑ کا سامنا ہر جگہ کرنا پڑ سکتا ہے۔ جس طرح مشتعل بھیڑ ڈاکوؤں اور بد معاشوں کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالتی ہے، ویسی ہی صورت حال اب ملک میں ممبران اسمبلی، ممبران پارلیمنٹ اور وزیروں کی بھی ہو سکتی ہے۔ نوجوانوں کا یہ غصہ بد عنوان لیڈروں اور افسروں کے لیے ایک سبق ہے، جو ہندوستان کی جمہوریت کو لوٹ مار کی آماجگاہ بنانے پرآمادہ ہیں۔ دامنی کے بہانے ابھی تو صرف عصمت دری کے الزام میں پھانسی کی مانگ ہو رہی ہے، لیکن وہ دن بھی دور نہیں،جب کسانوں سے ان کی زمینیں چھیننے، مزدوروں کو ان کا واجب حق نہ دینے، بے روزگاروں کو روزگار نہ دینے، زمین سے محروم لوگوں کو زندگی بسر کرنے کے لیے زمین نہ دینے والی سرکاروں سے عوامی مفاد کے لیے قانون بنانے کا مطالبہ ہوگا۔ اگرسرکار پھر بھی ان کی باتیں نہیں مانے گی تو وہ دن دور نہیں، جب لیڈروں کو لوگ سڑکوں پر گھسیٹیں گے اور انہیں عوامی عدالت لگا کر سزا دیں گے۔ ہندوستان میں ایسے حادثے نہ ہوں، جمہوریت میں ہر کسی کو فائدہ حاصل ہو، چاروں طرف امن اور استحصال سے آزاد سماج بنے، اس کے لیے لیڈروں کو چاہیے کہ وہ عوام کو اپنے اعتماد میں لیں، ا نھیںووٹ بینک اور بیوقوف نہ سمجھیں، ورنہ دہلی سے پیدا ہونے والے اس غصہ کو پورے ملک میں پھیلنے میں دیر نہیں لگے گی۔

ابھیشیک رنجن سنگھ

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونکیشن (آئی آئی ایم سی) نئی دہلی سے صحافت کی تعلیم حاصل کرنے والے ابھیشیک رنجن سنگھنے اپنے صحافی کریئر کا آغاز سکال میڈیا گروپ سے کیا۔ اس کے بعد تقریباً سال بھر تک ایک کاروباری جریدہ میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دیں۔ سال 2009 میں دہلی سے شائع ہونے والے ایک روزنامہ میں کام کرنے کے بعد یو این آئی ٹی وی سروس میں اسسٹنٹ پروڈیوسر کے عہدہ پر فائز رہے۔ اس کے علاوہ ابھیشیک رنجن سنگھ آل انڈیا ریڈیو میں بھی مذاکرات کار کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ملککے کئی اہم اخبارات میں آپ کے مضامین مسلسل شائع ہوتے رہتے ہیں۔ آپ کو ہندی میں نظمیں لکھنے کے علاوہ غزلوں کے بے حد شوق ہے۔ فی الحال ہفت روزہ چوتھی دنیا میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
Share Article

ابھیشیک رنجن سنگھ

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونکیشن (آئی آئی ایم سی) نئی دہلی سے صحافت کی تعلیم حاصل کرنے والے ابھیشیک رنجن سنگھ نے اپنے صحافی کریئر کا آغاز سکال میڈیا گروپ سے کیا۔ اس کے بعد تقریباً سال بھر تک ایک کاروباری جریدہ میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دیں۔ سال 2009 میں دہلی سے شائع ہونے والے ایک روزنامہ میں کام کرنے کے بعد یو این آئی ٹی وی سروس میں اسسٹنٹ پروڈیوسر کے عہدہ پر فائز رہے۔ اس کے علاوہ ابھیشیک رنجن سنگھ آل انڈیا ریڈیو میں بھی مذاکرات کار کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کے کئی اہم اخبارات میں آپ کے مضامین مسلسل شائع ہوتے رہتے ہیں۔ آپ کو ہندی میں نظمیں لکھنے کے علاوہ غزلوں کے بے حد شوق ہے۔ فی الحال ہفت روزہ چوتھی دنیا میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *