کھیلوں کے ماہر

نوین چوہان 
دنیا بھر میں بیشتر کھلاڑی بچپن سے ہی اپنی پسند کے کھیل کی ضرورتوں کے مطابق ڈھلنے میں لگ جاتے ہیں، تاکہ آگے چل کر وہ بین الاقوامی سطح پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ملک کا نام روشن کر سکیں۔ ایک طرف جہاں ہندوستان جیسے ملک میں کسی ایک کھیل کو کریئر بنانا مشکل کام ہے، وہیں دنیا میں کئی ایسے کھلاڑی بھی ہوئے ہیں، جنھو ںنے ایک سے زیادہ کھیلوں میں اپنے ملک کی نمائندگی کی اور ان تمام کھیلوں میں اپنی چھاپ چھوڑی۔ کچھ دنوں بعد ہندوستان میں خاتون کرکٹ کے عالمی کپ کا انعقاد ہونے والا ہے۔ اس میں حصہ لینے والی خاتون کھلاڑیوں میں ایسی کھلاڑی بھی شامل ہیں، جنہیں دوسرے کھیلوں میں بھی مہارت حاصل ہے۔ کرکٹ کے علاوہ فٹبال، باسکٹ بال جیسے دوسرے کھیلوں میں بھی وہ بین الاقوامی سطح پر اپنی چھاپ چھوڑنے میں کامیاب رہی ہیں۔ کئی کھیلوں میں اپنے ملکوں کی نمائندگی کرنے والے کھلاڑیوں کی کمی نہیں ہے۔ کئی کھلاڑیوں کے نام اہمیت کے حامل ہیں۔ ہندوستان جیسے کرکٹ کریزی ملک میں ان کھلاڑیوں کا انتخاب کرتے وقت کئی کرکٹ کھلاڑیوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ ان کھلاڑیوں میں سے کئی ایسے ہیں، جنھوں نے ایک ساتھ دو یا اس سے زیادہ کھیلوں میں حصہ لیاہے، تو کئی نے ایک کھیل کو چھوڑ کر دوسرے کا دامن اتنی مضبوطی سے تھاما کہ ان کی پکڑ کے نشان آج بھی ان کی حصولیابیوں کی شکل میں نظر آتے ہیں۔ حال ہی میں انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اینڈریو فلنٹاف نے باکسنگ کو اپنے نئے کریئر کی شکل میں چنا۔ اس کے ساتھ ہی دنیا کے سب سے تیز رنر اسین بولٹ نے 2016کے ریو اولمپک کے بعد کرکٹ کو اپنا نیا کریئر بنانے کی خواہش ظاہر کی ہے۔آیئے نظر ڈالتے ہیں ایسے ہی کئی کھلاڑیوں کے کریئر پر، جن کی حصولیابیاں آسانی سے آپ کو حیران کر دیں گی۔
ایلس پیری :ایلس پیری ہندوستان میں ہو رہے آئی سی سی خاتون عالمی کپ میں آسٹریلیائی ٹیم کی تیز گیند بازی کی کمان تھامے نظر آئیں گی۔ وہ آسٹریلیا کی پہلی کھلاڑی ہیں، جنھوں نے کرکٹ اور فٹبال دونوں کے عالمی کپ میں ٹیم کی نمائندگی کی ہے۔ انھوں نے کرکٹ اور فٹبال دونوں کے بین الاقوامی کریئر کی شروعات 16سال کی عمر میں کی تھی۔ جولائی 2007میں انھوں نے اپنے کرکٹ کریئر کی شروعات کی تھی۔ اس کے بعد ایک مہینے بعد ہی انھوں نے آسٹریلیا کی خاتون فٹبال ٹیم کی طرف سے پہلا میچ کھیلا تھا۔ کرکٹ کے میدان میں وہ تیز گیند بازی کرتی ہیں، توفٹبال کے میدان میں ڈفینڈر کے کردار میں نظرآتی ہیں۔انھوں نے 2010میں ویسٹ انڈیز میں ہوئے ٹی 20عالمی کپ کے فائنل میں نیوزی لینڈ کے خلاف 18رن دے کر تین وکٹ لئے اور مین آف دی میچ رہیں۔ 2011میں جرمنی میں ہوئے خاتون عالمی کپ میں وہ ٹیم میں چنی گئیں اور دو کھیلوں کے سینئر عالمی کپ میں حصہ لینے والی آسٹریلیا کھلاڑی بن گئیں۔
سوجی بیٹس :نیوزی لینڈ کی خاتون کرکٹ ٹیم کی کپتان ایک بہترین باسکٹ بال کھلاڑی بھی ہیں۔ انھوں نے 2007میںنیوزی لینڈ کی باسکٹ بال کی قومی ٹیم میں جگہ بنائی تھی۔ وہ نیوزی لینڈ میں ٹال فینس ٹیم کے لئے باسکٹ بال کھیلتی ہیں۔ ان کے نام نیوزی لینڈ میں کسی خاتون کھلاڑی کے ذریعہ سب سے بڑی پاری کھیلنے کا ریکارڈ ہے۔
لوٹی ڈاڈ:انگلینڈ کی لوٹی ڈاڈ آرگنائزڈ اسپورٹس کی سب سے بہترین خاتون کھلاڑی تھیں۔ وہ ٹینس، ہاکی، تیر اندازی اور گولف کی بہترین کھلاڑی تھیں۔ انھوں نے اپنے سات سال کے وقفہ میں پانچ بار ومبلڈن کے ایک خاتون خطاب پر قبضہ کیا۔ ٹینس کھیلنے کی ان کی بہترین تکنیک تھی۔ وہ اپنے کریئر میں صرف پانچ میچ ہاریں۔ٹینس چھوڑنے کے بعد وہ ہاکی کھیلنے لگیں۔ انھوں نے انگلینڈ کی خاتون ہاکی ٹیمبنانے میں اہم تعاون دیا۔جلد ہی وہ ٹیم کی کپتان بھی بن گئیں۔ اس کے علاوہ وہ بہترین گولف کھلاڑی تھیں۔ وہ 1904میں گولف کی قومی چمپئن بنیں۔ اس کے علاوہ وہ بہترین تیر انداز بھی تھیں۔ 1908میں انھوں نے اولمپک کھیلوں میں تیر اندازی میں سلور میڈل بھی جیتا۔
جانٹی روڈس :جنوبی افریقہ کے سابق کرکٹ کھلاڑی جونٹی روڈس اپنی بلے بازی سے زیادہ فیلڈنگ اور چستی پھرتی کے لئے دنیا میں جانے جاتے ہیں۔لیکن ان کیتیزی جنوبی افریقہ کی ہاکی ٹیم کے بھی بہت کام آئی۔ جونٹی 1992میں جنوبی افریقہ کی ہاکی ٹیم کے رکن تھے۔ اس کے کچھ دنوں بعد وہ آسٹریلیا، نیوزی لینڈ میں کرکٹ عالمی کپ کے لئے منتخب جنوبی افریقی ٹیم کے رکن رہے۔ پھر انھوں نے کرکٹ کو ہی ہمیشہ کے لئے اپنا کریئر بنا لیا اور 2003میں جنوبی افریقہ میں ہوئے عالمی کپ کے بعد بین الاقوامی کرکٹ سے رٹائرمنٹ لے لی۔
کیتھی ٹیلر:60کلو گرام کے زمرے میں باکسنگ میں عالمی، اولمپک اور یوروپین چمپئن ہیں۔ اس کے ساتھ وہ آئرلینڈ کی خاتون فٹبال ٹیم کی ممبر بھی ہیں اور آئرلینڈ میں خاتون فٹبال کو فروغ دینے کے سبب بے حد مقبول ہیں۔ انھوں نے حال ہی میں لندن اولمپک میں60کلو کے زمرے میں طلائی تمغہ جیتا تھا۔
سائمسن اگسٹائن :ناروے کے سائمن اگسٹائن نے شطرنج اور فٹبال میں ملک کی نمائندگی کی۔ وہ 15سال کی عمر میں شطرنج کے قومی چمپئن بنے۔ وہ شطرنج کے گرینڈ ماسٹر بنے اور شطرنج کے کئی بین الاقوامی مقابلے بھی جیتے۔ شطرنج کے ساتھ ساتھ وہ فل ٹائم فٹبالر تھے۔ انھوں نے فٹبال کی قومی ٹیم کی نمائندگی کی اور کلب لیول پر بھی فٹبال کھیلتے رہے۔ گھٹنے کی چوٹ کے سبب انھوں نے فٹبال کھیلنا چھوڑ دیاتھا۔
ووین رچرڈس :کرکٹ کے میدان میں بلیک بریڈمین کے طور پر پہچانے جانے والے کیربیائی کرکٹر ووین رچرڈس کا فٹبال سے گہرا ناطہ تھا۔ ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم کے مقررہ کھلاڑی ہونے کے ساتھ ساتھ وہ اینٹگا کی ٹیم کے ممبر تھے۔
ڈینس کامپٹن:ڈینس کامپٹن نے انگلینڈ کی طرف سے 78ٹیسٹ میچ کھیلے اور 5807رن بنائے۔ انھوں نے ٹیسٹ کریئر میں17سنچری لگائیںانھوں نے مڈل سیکس کائونٹی کی طرف سے کھیلتے ہوئے 38000سے زیادہ فرسٹ کلاس رن بنائے، جس میں 100سے زیادہ سنچری شامل ہیں۔ وہ آرسینل کی طرف سے فٹبال بھی کھیلا کرتے تھے۔ انھوں نے اپنے فٹبال کریئر میں60میچ کھیلے اور 16گول کئے۔ انھوں نے باضابطہ طور پر ملک کے لئے فٹبال نہیں کھیلا،لیکن دیگر میچوں میں ملک کے لئے 12میچ کھیلے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *