خواتین سے متعلق سوال

میگھناد دیسائی
دہلی میںہوئے اجتماعی عصمت دری کے واقعہ کے بعد پورے ملک میں تحریک ہوئی۔ یہ تحریک ، سیاسی تحریک کی سطح پر اپنی رسائی نہیںکر پائی۔گزشتہ تحریکوں سے الگ ، اس تحریک نے خواتین کی پسماندگی کی صورتحال کی بات نہیں اٹھائی، بلکہ یہ تحریک خواتین کو برابری کا درجہ دلانے کا مطالبہ کر رہی تھی۔ اس تحریک نے ہندوستان کی تحریک آزادی کے وقت چھوٹے ہوئے کچھ اہم مدعوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ انگریزی حکومت کے خلا ف تحریک کانگریس نے مہاتما گاندھی کی قیادت میں چلائی۔ اس تحریک کو بھی جان بوجھ کر ہندو سماج میں اصلاح کی تحریک سے الگ رکھا گیا تھا۔ گاندھی جی نے بھی دلتوں کے مدعے پر سمجھوتہ کرلیا اور اسے صرف چھوا چھوت تک محدود رکھا، جو کہ بعد میں ناکام ہی کہاجا سکتا ہے۔ ذات کے مدعے پر مہاتما گاندھی قدامت پسند تھے۔ آزاد ہندوستان سیاسی اعتبار سے انقلابی تھا اور اقتصادی زندگی میں وہ سوشلزم کی بات کرتا تھا، لیکن بہت سارے مدعوں پر وہ خاموش ہی رہا، جس میں ہندو سماج کے اندر کی کمزوری اہم تھی۔ کانگریس کے اہم لیْدر پٹیل، راجندر پرساد اور پی ڈی ٹنڈن سخت گیر ہندو ذات کے تھے اورانھوں نے امبیڈکر کی انقلابی تبدیلی سے متعلق نظریے کی مخالفت کی تھی۔ نہرو نے بھی اس بات کو جلدی ہی سمجھ لیا۔
منڈل نے روایتی ہندو سماج کے اندر پسما ندہ طبقے کو ایک اچھی حالت دینے کے کی پہل کی۔ دلت تحریک نے بھی ہندو سماج میں ایک اچھی حالت دینے پر سمجھوتہ کر لیا، لیکن مساوات کے لیے کوشش نہیں کی۔ ہندو سماج میں سب سے زیادہ استحصال اسی طبقہ کا کیا گیا۔ خواتین کی حالت بھی کم وبیش یہی رہی۔ان کی کوئی سیاسی جماعت نہیں تھی، جو ان کے مدعے کو زور شور سے اٹھاتی۔ اس کی وجہ سے ہندوستانی سماج میں جنین کشی، جہیز، گھریلو تشدد، زچگی کے دوران موت اور جنسی عدم مساوات جیسی برائیاں قائم رہیں اور کئی جگہوں پر ان میں اضافہ بھی ہوا۔ یہ ہمارے ملک کے مہذب سماج کے لیے شرم کی بات ہونی چاہیے۔ حال میں ہوئی تحریک کو عصمت دری پر مرکوز کیا گیا اور اس کی دوسری ترجیح پولس کی توجہ خواتین کی حفاظت کی طرف مرکوز کرنا تھی۔ اس تحریک نے قانون بنانے اور اور سزا دینے میں اپنا پورا اعتماد جتایا، لیکن اس تحریک نے خواتین سے متعلق سب سے اہم مدعے کی طرف دھیان نہیں دیا۔خواتین کے ساتھ ان کی پیدائش سے لیکر موت تک یا پھر یوںکہیں کہ پیدائش سے بھی پہلے جب وہ رحم میں ہوتی ہے، جس طرح کا سلوک کیا جاتا ہے، اس کے بارے میں کوئیذکر نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی مطالبہ کیا گیا۔
ہندوستان میں خواتین کی صورتحال پر ایک وسیع تنقیدی بحث کی ضرورت ہے۔ ہندوستانی تہذہب، معیشت اور سیاست میںاس کی صورتحال پر ایک سنجیدہ بحث کی ضرورت ہے۔ مغرب میں خواتین سے متعلق مدعوں پر تحریک گزشتہ چالیس سالوں میں شروع ہوئی ہے۔ جب میں پہلی بار ساٹھ کی دہائی کے اوائل میںمغرب گیا تھا، تو وہاں خواتین میں عدم مساوات کی صورتحا ل تھی۔ سنیما، تھیٹر، سماجی زندگی اور سیاست میں ان کی حالت اچھی نہیں تھی اور انکے ساتھ ان سبھی شعبوں میں جنسی امتیازبرتاجاتاتھا۔سول رائٹ موومنٹ اور ویتنام کی جنگ کی مخالفت میں ہونے والی تحریکوں کے وقت خواتین سے متعلق سوالوں کو اٹھایا گیا۔ خواتین اپنے دوستوں، شوہر، باپ، استاد، بچوں اور اپنے بوس سے اپنے ساتھ ہونے والے روزمرہ کے سلوک پر تذکرے کرنے لگی تھیں۔ وہاں کے مردوں کو اس بات سے تعجب ہوا۔ ستر کی دہائی اور اس کے بعد خواتین تحریک ایک اہم سیاسی طاقت بن گئی اور سبھی سیاسی جماعتوں نے اس مدعے کو ہوا دی۔ جیسا کہ اندازہ تھا، بائیں بازو کی جماعتوں نے اس کی شروعات کی۔ اس نے سبھی سطح کی سیاسی تنظیموں میں خواتین کو جگہ دی۔ نتیجتاً مقامی سطح پر جنسی تفریق پر بحث کی جانے لگی۔
سیاسی جماعتوں نے خواتین کو الیکشن میں امیدوار بنایا اور انھیں مردوں کے برابر تنخواہ دی جانے لگی۔ دفاتر میں بوس کے ذریعے کیا جانے والا استحصال بند کیا گیا۔ ان کے خلاف روزانہ جس طرح کی زبان کا استعمال کیا جاتا تھا، اسے بدلنے کے لیے سخت قدم اٹھائے گئے۔ لیڈروں کے ذریعے جنسی زبان کے استعمال کو بدلنا تھا۔ اس کے لیے اگر انھیں سزا نہیں دی گئی، توتجاویز ضرور دی گئیں۔ اس طرح کی تبدیلی کالج،یونیورسٹی اور سیاسی جماعتوں کے اندر مردوں اور عورتوں کے بیچ مباحثہ سے ہوئی۔ ہم لوگ جو خود کو ترقیپسند سمجھتے تھے، اس وقت سب حیران رہ گئے، جب عورتوں نے ہمارے بارے میں کہا کہ ہم لوگ عورتوں کے تعلق سے کتنے قدامت پسند ہیں۔ بائیں بازو کے ہونے کے سبب ہم لوگ طبقہ کی اہمیت پر بات کرتے تھے، لیکن عورتیں سماج میں اپنی صورتحال کے بارے میں تجزیہ کرکے ہمیں خاموش کر دیتی تھیں۔ عدم مساوات ایک جنسی مدعا ہے۔ ہندوستان کے لیے اسے پہچاننے کے لیے یہ صحیح وقت ہے۔ اب پیچھے ہٹنا مناسب نہیں ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *