کے رحمٰن خان صاحب! 350کروڑ کی ہیرا پھیری کا جواب کون دے گا؟

وسیم راشد 
سلمان خان 47 سال کے ہوگئے۔جی ہاں ! یہی خبر سارے چینلز پر ہم نے اُس وقت دیکھی جب دہلی میں گینگ ریپ کا شکار ہوئی لڑکی موت و زیست کی کشمکش میں مبتلا تھی اور اللہ جانے جب تک یہ آرٹیکل آپ کے ہاتھوں میں ہو،اس وقت تک لڑکی کی قسمت کیا رنگ دکھائے۔ اور اس وقت بھی جب نظام الدین پر ہزاروں طلباء و طالبات دہلی کے پولیس کمشنر کو ہٹائے جانے کا مطالبہ کر رہے تھے،جب دہلی میں کالکاجی میں ایک 42 سالہ عورت کی اجتماعی عصمت دری کا واقعہ سامنے آچکا تھا ،جب چنڈی گڑھ میں ایک بچی کے ساتھ عصمت دری کا واقعہ ہوا،جب بنگلور میں ایک لڑکی کی عصمت دری ہوئی ، جب ناسک میں ایک بچی کے ساتھ عصمت دری کا واقعہ ہوا،ایسے وقت میں ہمارے ملک کا سارا میڈیا اس بات پر خوش تھا کہ آج سلمان خان کا 47 واں جنم دن منایا جارہا ہے۔اس بات پر بحث ہورہی تھی کہ وہ کتنے فٹ ہیں اور اس بات کو لے کر افسوس کیا جارہا تھا کہ سلمان خان نے اب تک شادی کیوں نہیں کی۔ایک مزیدار بات اور کہ ہوم منسٹر الجھے ہوئے ہیں دہلی پولیس اور گینگ ریپ کے چکر میں اور غریب معصوم لڑکی کے لئے سارے ملک سے نوجوان لڑکے لڑکیاں سڑکوں پر ہیں اور ہوم منسٹر کی بیٹیاں سلمان خان کی برتھ ڈے پارٹی میں صبح کے 3 بجے تک انجوائے کر رہی ہیں ۔ صدر محترم پرنب مکھرجی کے بیٹے بیان دے رہے ہیں کہ جتنی لڑکیاں مظاہرے میں شامل ہوتی ہیں وہ میک اپ کرکے ڈینٹنگ پینٹگ کرکے آتی ہیں اور رات میں ڈسکو کرتی ہیں۔

دہلی میں تو جو بندر بانٹ ہوئی ہے اس کا سب کو اندازہ ہے۔ کے رحمان خاں اب مرکزی اقلیتی کمیشن کے وزیر نامزد ہوئے ہیں تو ان کے ذمہ ملک کی وقف بورڈ کی تمام جائدادیں آتی ہیں۔ ایک ایسے شخص پر کس طرح بھروسہ کیا جاسکتا ہے جس نے 350 کروڑ روپے کا اپنے عزیزوں، رشتے داروں میں بندر بانٹ کردیا ہو۔ وہ ساڑھےتین سو کروڑ روپے جو نہ جانے کتنے مسلم نوجوانوں کی تقدیر بدل سکتے تھے ،کتنے مدرسوں کے طلباء کو روشن مستقبل دے سکتے تھے۔ کتنی بیوائوں کی شادیاں ہو سکتی تھیں،کتنے یتیم خانوں میں اس ساڑھےتین سو کروڑ روپے سے غریب و نادار بچوں کی پرورش ہوسکتی تھی۔ اس ساڑھےتین سو کروڑ روپے کو اگر اسکالر شپ کے ذریعہ مسلم نوجوانوں کو دیا جاتا تو آج ہزاروں نوجوانوں کا مستقبل بہتر ہوجاتا۔

لیکن اس وقت ہم یہ سب نہیں کہنا چاہتے بلکہ اس وقت ہم بات کرنا چاہتے ہیں اس دھماکے دار خبر کی جس کو’ ٹائمز نائو‘ نے صرف ایک بار بریکنگ نیوز میں دکھایا اور وہ اتنی اہم خبر تھی کہ سارا میڈیا بھی اس پر بات کرتا تو کم تھا۔ہم بات کر رہے ہیں کے رحمان خاں کی۔ کرناٹک اسٹیٹ مائنارٹی کمیشن نے ایک FIR لوک آیکت جناب ایس بی بجا گے کو داخل کی ہے،جس میں وزیر برائے اقلیتی امور محترم کے رحمان خان پر جب وہ بینک کے صدر تھے ،اس وقت 350 کروڑ کے فنڈ کے غلط استعمال کا الزام لگا ہے۔ نائب لوک آیکت کے مطابق 6 نومبر کو کمیشن کے چیئرمین انور منی پڑی نے ایک ایف آئی آر ان کے سامنے پیش کی جو سید احمد عباد اللہ ایڈوکیٹ ایس اے آئی نے کمیشن کو بھیجی تھی،جس میں 350 کروڑ کے فنڈز کے غلط استعمال کرنے کی شکایت درج تھی اور یہ اس وقت ہوا تھا جب کے رحمان خاں’ امانت کوآپریٹیو بینک‘ کے صدر تھے۔ اس ایف آئی آر میں زمین جائداد کا کام کرنے والے ایک شخص ضیاء اللہ شریف،’ الامین ٹرسٹ‘ کے چیئرمین ممتاز احمد خان،ان کے علاوہ کچھ ڈائریکٹرز اور بینک کے آفیسرز کے نام بھی درج ہیں۔ اس کے علاوہ 2008 کی بیلنس شیٹ کے مطابق 350کروڑ سے زیادہ فنڈ کا کے رحمن خاں کے رشتے داروں کے نام جو فرم ہیں ان میں اور بورڈ کے سابق ڈائریکٹرز کے ذریعہ غلط استعمال ہوا ہے۔ اس کے علاوہ جولَون دیے گئے ہیں ان کو بھی وصول نہیں کیا گیا۔ کمیشن نے یہ بھی بتایا ہے کہ بینک کی CEO شہر بانو نے اسی سال 9 فروری کو رحمن خاں کے نام پولیس میں شکایت درج کرائی تھی،جس میں صاف طور پر فنڈز کے غلط استعمال کے بارے میں درج ہے۔ یہ وہ کے رحمان خاں ہیں جن پر اس وقت مسلمانوں کی آنکھیں ٹکی ہوئی ہیں۔جب سے وہ وزیر برائے اقلیتی امور بنے ہیں،مسلمان اس بات کو لے کر بے حد خوش تھے کہ اب ان کی پریشانیوں کا حل نکلے گا۔ ابھی کچھ ہی دن پہلے انہوں نے ایک پریس کانفرنس بلائی تھی۔ جس میں اردو صحافی بھی موجود تھے،خود میں بھی اس کانفرنس میں شریک تھی۔اس کانفرنس میں سبھی نے مسلم نوجوانوں کی گرفتاری ،مسلم نوجوانوں کے لئے روزگار ،ان کی تعلیمی و سماجی ترقی کے بہت سے مسائل پر بات کی تھی،مگر نہ جانے کیوں کسی بھی موضوع پر وہ بہت زیادہ پُر اعتماد نظر نہیں آرہے تھے لیکن پھر بھی ہمیشہ سے ان کی شبیہ اچھی رہی ہے۔کرناٹک میں انہوں نے مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لئے بہت کام کئے ہیں ۔ایسے میں مسلمان ان پر بھروسہ کرتے ہیں لیکن 350کروڑ کے فنڈ کا غلط استعمال کون سے خانے میں ڈالا جائے۔350کروڑ روپے تو شاید پوری کرناٹک حکومت کو چلانے کے لئے بھی نہیں ہوں گے۔ کروڑ روپے اگر مسلمانوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کئے جاتے تو نہ جانے کتنے ہی نوجوان پڑھ لکھ کر ملک و قوم کا نام روشن کرسکتے تھے۔ اس کے علاوہ اس وقت کے رحمن خان اقلیتی امور کے وزیر ہیں۔ اس کا مقصد بھی اقلیتوں سے متعلق پالیسیوں اور منصوبوں کی تشکیل کرنا ہے ۔یہی نہیں ،وقف جائدادوں کی ذمہ داری بھی اسی وزارت کے سپرد ہے ۔ اور یہ بتانے کی تو شاید یہاں بالکل ضرورت نہیں ہے کہ وقف جائدادوں کو کس طرح ہڑپ لیا گیا ہے۔ خود مسلمانوں نے ان جائدادوں پر قبضہ کرکے نقصان پہنچایا ہے۔ کرناٹک میں وقف جائدادوں سے متعلق ہزاروں کروڑ کا گھوٹالہ سامنے آیا۔کرناٹک میں وقف کی زمینیں پرائیویٹ پارٹیوں کے ہاتھوں بیچ دی گئیں۔ کرناٹک میں ہی وقف بورڈ کی 33,741 جائدادیں 54 ہزار ایکڑ کی رجسٹرڈ زمینوںپر پھیلی ہوئی ہیں جس میں سے 27 ہزار ایکٹ زمینوں کو اس مصرف کے لئے استعمال نہیں کیا گیا جس کے لئے وہ وقف کی گئی تھیں اور انہیں غیر قانونی طریقے سے بیچا گیا۔ لکھنؤ میں وقف کی زمینوں کو، قبرستانوں کو بیچ دیا گیا۔ دہلی میں تو جو بندر بانٹ ہوئی ہے اس کا سب کو اندازہ ہے۔ کے رحمان خاں اب مرکزی اقلیتی کمیشن کے وزیر نامزد ہوئے ہیں تو ان کے ذمہ ملک کی وقف بورڈ کی تمام جائدادیں آتی ہیں۔ ایک ایسے شخص پر کس طرح بھروسہ کیا جاسکتا ہے جس نے 350کروڑ روپے کا اپنے عزیزوں، رشتے داروں میں بندر بانٹ کردیا ہو۔ وہ ساڑھےتین سو کروڑ روپے جو نہ جانے کتنے مسلم نوجوانوں کی تقدیر بدل سکتے تھے ،کتنے مدرسوں کے طلباء کو روشن مستقبل دے سکتے تھے۔ کتنی بیوائوں کی شادیاں ہو سکتی تھیں،کتنے یتیم خانوں میں اس ساڑھےتین سو کروڑ روپے سے غریب و نادار بچوں کی پرورش ہوسکتی تھی۔ اس ساڑھےتین سو کروڑ روپے کو اگر اسکالر شپ کے ذریعہ مسلم نوجوانوں کو دیا جاتا تو آج ہزاروں نوجوانوں کا مستقبل بہتر ہوجاتا۔ اس وقت مسلمانوں کو اسکولوں کی ضرورت ہے،کالجوں کی ضرورت ہے۔ میٹرک اسکولوں ، پری میٹرک اسکولوں کی تعداد پورے ملک میں بہت کم ہے۔ اس بد قسمت قوم کا المیہ دیکھئے کہ اس کے بچوں کے لئے حکومت نے جو اسکالر شپ متعین کئے ہیں ،انہیں پتہ ہی نہیں ہے ،انہیں نہیں معلوم کہ اسکولوں ،کالجوں میں اگر ان کے غریب ماں باپ پڑھانے کے قابل نہیں ہیں تو ان کے لئے اسکالر شپ ہیں ، مگر یہ کہاں سے اور کیسے حاصل کی جاسکتی ہیں ،ان کا نہیں پتہ۔ایسے میں اگر وزیر موصوف ہی خود ساڑھےتین سو کروڑ روپے کے گھوٹالہ میں شامل ہوںگے تو وہ مسلم قوم کا کیا بھلا کریں گے۔ اب اس میں یقینا شک و شبہہ پیدا ہوگیا ہے۔ مرکزی حکومت نے قانون بنادیا ۔ اس کی ذمہ داری ختم، مرکزی وزیر نے احکامات جاری کرکے اسے انگریزی اخبارات میں شائع کرادیا، ویب سائٹ پر ڈلوادیا۔ اس کی ذمہ داری ختم۔ لیکن اقلیتوں کی بہبود کے لئے یہ پیسہ ان تک پہنچ پاتا ہے یا نہیں ،یہ پلٹ کر کوئی نہیں دیکھتا۔ آج کے رحمان خاں مسلمانوں کی عدالت میں ہیں۔ ان سے ساڑھےتین سو کروڑ کا حساب بھی ضرور لینا چاہئے اور انہوں نے اپنے وزیر بننے کے بعد مسلمانوں کی بہبود کے لئے کیا کیا اسکیمیں بنائیںاور نافذ کیں ،اس کا بھی جواب ضرور لینا چاہئے۔ ساڑھےتین سو کروڑ آج بھی ہمارے سینے پر سانپ بن کر لوٹ رہے ہیں۔ہمیں دُکھ دے رہے ہیں۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *