نئی تحریک کی راہ پر ہندوستان

میگھناد دیسائی 
تیونس میں تحریک کی شروعات گلیوں میں سامان بیچنے والے ایک تاجر کی بے عزتی کے سبب ہوئی تھی۔ کیا ہندوستان میںبھی سماجی اور سیاسی زندگی میں اسی طرح کی تحریکیں شروع ہو گئی ہیں؟ ہندوستان کے مختلف شہروں میں جو غم و غصہ ہے اور مظاہرے ہو رہے ہیں، وہ نئی نسل کے تاثرات ہیں، جو سیاست کو پہلے کے لوگوں کے نظریے سے الگ دیکھتے ہیں۔ 1960 کی دہائی میں یو کے، یو ایس اور فرانس میں ہوئی طلباتحریک کی طرح، جس نے وہاں کی سیاست کو دور ہٹادیا تھا۔ ہندوستان کا یہ مظاہرہ بھی ہندوستانی نوجوانوں کا پہلا مظاہرہ ہے۔ راجیو گاندھی کے دور میں ہندوستانی سیاست میں بہت سے نوجوان چہرے دیکھنے کو ملے تھے، لیکن ان کی بے وقت موت کے ساتھ ہی حالات بدل گئے۔فی الحال جاری یہ تحریک ایک نئی تحریک ہے۔ انّا ہزارے کی گاندھی وادی سیاست سے الگ یہ جدید ہندوستان کی پہلی ایسی تحریک ہے، جس میں نوجوانوں کی ہمدردی سڑکوں پر مظاہرے کی شکل میں دکھائی دی۔ جس طرح یہ تحریک چلی ہے، اسے ہندوستان کے لیے عدیم النظیر کہا جا سکتا ہے۔

ہندوستان ایک چمکدار جمہوری ملک ہو سکتا ہے، لیکن اس کے لیڈر اپنے لوگوں سے عدم تحفظ کے خوف سے معذور ہو گئے ہیں۔ وہ خود کا قتل ہونے سے ڈرتے ہیں۔ نہ صرف بڑے لیڈر، بلکہ چھوٹی سطح کے لیڈر بھی اپنے ساتھ بھاری سیکورٹی چاہتے ہیں۔ مظاہرہ کرنے والے نوجوانوں کو اقتدار یا پھر حزب مخالف کے کسی طاقتور شخص پر اعتماد نہیں ہے۔ لیڈروں میں اس قدر خوف ہے کہ وہ کسی بھی طرح ذاتی طور پر ان لوگوں کا سامنا نہیں کر سکتے۔

بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ تا ہے کہ عصمت دری ہندوستان کے لیے کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں ہے، کیونکہ یہاں روزانہ یہ واقعہ رونما ہوتا ہے۔ عصمت دری کرنے والے لوگ عموماًعصمت دری کا شکار ہونے والی کے شناسا ہوتے ہیں۔ مردوں کی بالا دستی کی بات ہندوستان میں صرف ایک قیاس نہیں ہے، بلکہ یہ روزمرہ کی حقیقت ہے۔ حالانکہ اس واقعہ نے بھی ہندوستان کے سماجی اسٹرکچر کی بے شمار خامیوں کو اجاگر نہیں کیا ہے۔ یہ گینگ ریپ ہی اپنے آپ میں بہت خوفناک تھا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس لڑکی اور اس کے ساتھی کو پیٹا جانا توسنگ دلی کو اور بڑھا دیتا ہے۔ وہ لوگ کسی نائٹ کلب یا بار میں نہیں تھے۔ وہ لوگ ایک بس میں تھے۔ دہلی اور سارے ملک کی عورتوں پر ان کی سرگرمیوں کو لے کر باتیں کی جاتی ہیں، لیکن اس بس میں، جولوگوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتی ہے، جس طرح کا سلوک اس لڑکی اوراس کے ساتھی کے ساتھ ہوا، ان پر تو کسی طرح کے الزام نہیں لگائے جا سکتے۔ سبھی عورتیں آج اپنے آپ کو اس بہادر لڑکی کی شکل میں دیکھ رہی ہیں، جو اب زندہ نہیں ہے، لیکن سیاسی طبقہ کے لوگ اسے نہیں سمجھ پارہے ہیں۔
ہندوستانی سیاسی طبقہ نے اپنی ذمہ داری کے بارے میں ناسمجھی کا ثبوت دیا ہے۔ بے شک ان لوگوں کو یہ پتہ نہیں ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ کس طرح غیر محفوظ ہے۔ وہ اپنی گاڑیوں میں لال بتی کے ساتھ گھومتے ہیں۔ ان گاڑیوں کاخرچ ہمارے ملک کے ٹیکس دہندگان اٹھاتے ہیں۔ وہ اپنے لیے حفاظت کا انتظام کرتے ہیں۔ وہ نہ تو اپنی ذمہ داریوں سے انکار کرتے ہیں اور نہ ہی اپنی حفاظت پر مامور حفاظتی دستے کو ہٹانے کی بات کرتے ہیں۔ وہ لوگوں کی بھیڑ میں جانے سے ڈرتے ہیں۔ براک اوبامہ اس اسکول میں جا سکتے ہیں، جہاں بچے مارے گئے تھے۔ وہ کچھ لوگوں کو اپنے یہاں بات کرنے کو مدعو کرتے ہیں اور اپنے محفوظ گھر میں ان کے ساتھ بات چیت کرتے ہیں، وہ بھی کچھ دنوں کے بعد۔ کوئی بھی لیڈر ذاتی طور پر بھیڑ کو خطاب نہیں کرتا ہے۔ وزیر اعظم ٹی وی پر موجود ہوتے ہیں اور ان کے خطاب کو بھی ایڈٹ کرکے دکھایا جاتا ہے۔ وزیر مملکت برائے امورِ داخلہ مظاہرین سے راہل گاندھی کی حفاظت کے لیے سیکورٹی فورس کا مطالبہ کرتے ہیں۔
ہندوستان ایک چمکدار جمہوری ملک ہو سکتا ہے، لیکن اس کے لیڈر اپنے لوگوں سے عدم تحفظ کے خوف سے معذور ہو گئے ہیں۔ وہ خود کا قتل ہونے سے ڈرتے ہیں۔ نہ صرف بڑے لیڈر، بلکہ چھوٹی سطح کے لیڈر بھی اپنے ساتھ بھاری سیکورٹی چاہتے ہیں۔ مظاہرہ کرنے والے نوجوانوں کو اقتدار یا پھر حزب مخالف کے کسی طاقتور شخص پر اعتماد نہیں ہے۔ لیڈروں میں اس قدر خوف ہے کہ وہ کسی بھی طرح ذاتی طور پر ان لوگوں کا سامنا نہیں کر سکتے۔ اس واقعہ نے ہندوستانی سیاسی نظام کے دل کی سڑاند کو اجاگر کیا ہے۔ عدالتی تاخیر کا مطلب ہوتا ہے، انصاف سے ا نکار کر دینا۔ عورتوں کو جب پولس کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ اس کی مدد کے لیے دستیاب نہیں ہوتی۔ بہت سارے اور سخت قانون ہیں، لیکن انھیں نافذ نہیں کیا جاتا۔ عورتوںکی حفاظت کی تو بات الگ ہے، یہاں تو لوگوں کو اس بات کا بھروسہ ہے کہ کسی بھی طرح کا جرم کر کے وہ بچ جائیں گے، عدالت کو دھوکہ دینے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ کئی درجن لیڈروں کے نام ایسے جرائم میں آئے ہیں۔ گزشتہ کچھ مہینوں میں پنجاب، راجستھان اور ہریانہ میں کئی عورتوں کا قتل ہوایا پھر انھوں نے خود کشی کر لی، جن میں وزیر یا لیڈر کے نام سامنے آئے۔ سیاسی نظام تو اپنے اندرونی جھگڑے میں پھنسا ہوا ہے۔ اگر پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلایا بھی جاتا ہے تو یہ وقت کی بربادی ہوگی اور لگتا نہیں ہے کہ اس میں کسی بھی سطح پر خواتین نمائندگی بل پاس کیے جانے پر بات چیت کی جائے گی۔ ہندوستان میں عوام پانچ سال میں ایک بار ووٹ دے کر لیڈروں کی خدمت کرنے کے لیے ہیں، وہ اپنے تحفظ کے اختیار کا مطالبہ کیسے کر سکتے ہیں، یہاں تو لیڈروں کو خصوصی اختیار ملا ہوا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *