دراوڑ، لکشمن، سچن : کون سنبھالے گا ان کی وراثت

سلمان علی 
دراوڑ گئے، لکشمن گئے اور اب سچن تیندولکر۔ تینوں ٹیم انڈیا کے وہ کھلاڑی تھے، جنھوں نے ہندوستانی کرکٹ کو ایک طویل عرصہ تک نئی بلندیاں عطا کیں، لیکن ان کے جانے کے ساتھ ہی ہندوستانی کرکٹ کے اس سنہرے دور کا خاتمہ ہو گیا، جس نے دنیائے کرکٹ میں اپنا لوہا منوایا۔ ان کے جانے کا مطلب ہے ٹیم میں ایک بہت بڑا خلاء پیدا ہو جانا اور شایدیہ خلاء اتنی جلد پر نہ ہو، کیونکہ کرکٹ اعتماد کا کھیل ہے، اتحاد کا کھیل ہے۔ اگر 11 رکنی ٹیم میں حوصلہ نہ ہو، ہمت نہ ہو، بھروسہ نہ ہو، تو ٹیم کا کمزور ہو جانا یقینی ہے اور سچن، دراوڑ، لکشمن ٹیم انڈیا کے لیے اعتماد، بھروسہ، ہمت اور جرأت مندی کی ایک مثال تھے۔ میدان میں ان تینوں کی موجودگی ہی ٹیم کی نوجوان نسل کے لیے حوصلے کا باعث تھی۔ کہنے کو کہا جا سکتا ہے کہ راہل دراوڑ کو اور لکشمن کو ابھی اور کھیلنا چاہیے تھا اور کھیلنا ہی چاہیے تھا، کیونکہ اگر سچن کو چھوڑ دیا جائے تو دراوڑ اور لکشمن اتنی خراب فارم سے دو چار نہیں تھے جتنا کہ سچن، لیکن ان قدآور کھلاڑیوں پر آسٹریلیا سے سیریز ہارنے کے بعد میڈیا اور ناقدین کے ذریعہ اتنا دبائو بنا دیا گیا تھا کہ ان قدآور کھلاڑیوں نے اپنی انا کو ٹھیس نہ پہنچنے دی اور کرکٹ کو الوداع کہہ دیا۔ آخر ہم اور ہمارا میڈیا اتنا بے حس کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک طرف تو جب یہ کھلاڑی کوئی فتح کا پیغام لاتے ہیں تو انہیں عظیم، شیر، ملک کا ہیرو اور اس سے بھی بڑھ کر کرکٹ کے بھگوان کا درجہ تک دے دیا جاتا ہے، لیکن جب یہی کھلاڑی ہارتے ہیں تو ہم انہیں آڑے ہاتھوں لیتے ہیں اور انہیں بھگوان سے ولین بنانے میں دیر نہیں لگاتے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ سچن، دراوڑ اور لکشمن نے جس پر اسرار اور مایوس کن طریقے سے وداعی لی، کیا ایسا ہونا چاہیے تھا؟ نہیں، ایسا بالکل نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اگر ہم شین وارن، مرلی دھرن، رکی پونٹنگ جیسے عظیم کھلاڑیوں کی کرکٹ سے وداعی پر نظر ڈالیں گے تو ہمیں تھوڑا افسوس ضرور ہوگا۔ سچن ابھی ون ڈے سے دستبردار ہوئے ہیں اور شاید آئندہ ماہ فروری میں آسٹریلیا سے سیریز کھیلنے کے بعد وہ ٹیسٹ کو بھی الوداع کہہ دیں۔
ان تینوں یعنی سچن، دراوڑ اور لکشمن کے جانے کے بعد ٹیم انڈیا سے ایک دور کا خاتمہ ہو گیا ہے اور اس وقت ٹیم میں کوئی بھی اتنا تجربہ کار کھلاڑی موجود نہیں ہے، جو 11 رکنی ٹیم کی رہنمائی مناسب سمت میں کر سکے، ان کے لیے حوصلے اور اعتماد کا ذریعہ بن سکے۔ دھونی خود اپنی کپتانی کو لے کر ناقدین کے نشانے پر ہیں اور انہیں اپنی ٹیسٹ کپتانی کب گنوانی پڑ جائے کچھ نہیں پتہ۔ اس معاملے میں نیشنل میڈیا کا رول بھی کم مایوسی کا باعث نہیں ہے۔ آخر ہمارے ملک کا میڈیا اس قسم کا دوہرا معیار کیوں اپناتا ہے کہ جب ٹیم جیتتی ہے تو ٹیم انڈیا کو شیر کا لقب دیا جاتا ہے اور اگر وہ ایک بھی میچ یا سیریز ہار جاتی ہے تو میڈیا جارحانہ رویہ اختیار کر لیتا ہے اور بات ناک کٹنے تک آ پہنچتی ہے۔ سچن، دراوڑ اور لکشمن جیسے کھلاڑیوں نے ہندوستانی کرکٹ کیا، دنیائے کرکٹ کو اتنے ریکارڈ عطا کیے ہیں کہ انہیں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ کیا ایسے عظیم کھلاڑیوں پر ریٹائرمنٹ کے لیے دبائو بنانے کی ضرورت تھی؟ کیا دراوڑ اور لکشمن کی آسٹریلیا کے خلاف کولکاتہ میں کھیلی گئی باری کو فراموش کیا جا سکتا تھا؟
اب اگر نظر ڈالیں موجودہ نوجوان ٹیم انڈیا پر تو وِراٹ کوہلی کے علاوہ کوئی بھی ایسا دعویدار نہیں ہے، جو کرکٹ کی تینوں طرز میں فٹ بیٹھتا ہو۔ 2011 کے ورلڈ کپ کے بعد ٹیم میں بھاری الٹ پھیر جاری ہے۔ اس کے علاوہ 2011 کے ورلڈ کپ کے ہیرو رہے ظہیر خان کو تو گویا کسی کی نظر سی لگ گئی ہے۔ سال 2012 ان کے کریئر کے انتہائی بدترسالوں میں سے ایک رہا، جس میں ان کا گیند بازی اوسط سب سے کم رہا اور انہیں کئی بار ٹیم سے اندر باہر بھی ہونا پڑا۔ بات اگر 2012 میں ٹیم انڈیا میں آئے نئے چہروں کی کی جائے، تو ان میں امیش یادو، ورون ایرون، اشوک ڈنڈا، بھونیشور کمار، پروندر اوانا جیسے نوجوان کھلاڑیوں نے کچھ امیدیں ضرور پیدا کی ہیں، لیکن ابھی تک کوئی بھی ٹیم میں اپنی جگہ پکی کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے۔ سال 2012 میں ٹیم انڈیا نے یک روزہ میچوں میں ورلڈ کپ جیتا اور ملک کے میڈیا اور کرکٹ شائقین نے مہندر سنگھ دھونی سے لے کر تمام کھلاڑیوں کو سر آنکھوں پر بٹھایا، لیکن آج تقریباً دو سال بعد وہی ٹیم انڈیا لاچاری، بے بسی کی زندہ تصویر بنی بیٹھی ہے۔ آخر اس درمیان ایسا کیا ہوگیا کہ گھر میں کبھی نہ ہار نے والی ٹیم بھی گھر میں ہی زیر ہوگئی۔ ٹیم کے لیے سال 2012 انتہائی مایوس کن سالوں میں شمار کیا جائے گا، خاص کر ٹیسٹ کرکٹ میں، جس میں اس نے تین بڑی ٹیسٹ سیریزیں، جن میں سے ایک اپنے ہی گھر میں انگلینڈ سے 28 سال بعد ہاری اور ایک ایک انگلینڈ اور آسٹریلیا میں، وہ بھی 0-4 کے بڑے فرق سے۔ ہاں، اس میں ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ سے ون ڈے اور نیوزی لینڈ سے ون ڈے ٹیسٹ سیریز ضرور اپنے نام کیں۔
ہندوستانی ٹیم اس وقت ایک غیر یقینی کے دور سے گزر رہی ہے اور انگلینڈ اور پاکستان سے سیریز ہونے کے بعد شاید بی سی سی آئی کو کئی کھلاڑیوں کے مستقبل کا فیصلہ بھی کرنا پڑے۔ ٹیم انڈیا کی حالت اس وقت ٹیسٹ کرکٹ میں بے حد نازک ہے۔ اگر موجودہ تمام کھلاڑیوں میں سے آپ اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کی ٹیم بنانا چاہیں گے تو آپ کو بے حد تذبذب کا شکار ہونا پڑے گا اور بار بار سوچنا پڑے گا کہ کس کو لیں اور کس کو نہ لیں۔ ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی برتری کو قائم کرنے کے لیے ٹیم انڈیا کو طویل جدوجہد کرنی پڑے گی، کیونکہ ٹیسٹ کرکٹ میں بلے بازی کے ساتھ ساتھ بالنگ اٹیک کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور اس وقت ٹیم انڈیا کی گیند بازی، خاص کر اسپن اٹیک بے حد حد کمزور کڑی ہے ۔
آخر میں ہم دعا کرتے ہیں کہ ٹیم انڈیاکے لیے نیا سال خوشیوں کا پیغام لے کر آئے اور سال کا خاتمہ وہ جیت کے ساتھ کرے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *