چنتن شیور! ملک کی چنتا نہیں، 2014کی چنتا ہے

وسیم راشد 
ڈیزل کی قیمت بڑھ رہی ہے۔راجدھانی سمیت دوسرے شہروں میں عصمت دری کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے۔دہلی پولیس کمشنر یقین دہانی کراتے ہیں کہ خواتین کی شکایت پر فوری ایکشن ہوگا،اس کے باوجود سات سال کی ایک معصوم بچی درندگی کا شکار ہوجاتی ہے،مظفر نگرمیں ایک دلت لڑکی کی اجتماعی عصمت دری کی جاتی ہے۔ اسی طرح دیگر شہروں میں بھی عورتیں استحصال کا شکارہورہی ہیں۔آخر یہ کیا ہورہا ہے ۔ایسا لگ رہا ہے کہ ہم ہندوستانی پوری طرح مذاق بن گئے ہیں۔نہ عزت و آبرو محفوظ اور نہ ہی مہنگائی سے نجات۔گزشتہ سال کئی بار ڈیزل ،پٹرول کے دام بڑھے۔ ظاہر ہے اس کی وجہ سے دیگر اشیاء کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا،روز مرہ کی چیزیں مہنگی ہوئیں،تعلیم کا خرچہ بڑھا، باورچی خانہ مزید سمٹ گیا۔سمجھ میں نہیں آتا کہ اس حکومت کا اب اخلاقی طور پر حکومت کرنے کا کون سا حق باقی رہ گیا ہے۔ پورا ملک انتشار کا شکار ہے۔ عام آدمی کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے۔ ہم ایک بات سوچتے ہیں کہ آخر کوئی ملک ایک اچھا ملک کب کہلاتا ہے؟ جب اس کے عوام خوشحال اورملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو،وہاں کے عوام میں تحفظ کا احساس ہو،انہیں تعلیم ، روزگار کے مواقع حاصل ہوں اور عوام کو بنیادی سہولتیں جیسے بجلی، پانی دستیاب ہوں،مگر آج جب ہم اپنے ملک کا موازنہ کسی ترقی پذیر یا ترقی یافتہ ملک سے کرتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ ہم تو کہیں بھی نہیں ہیں۔نہ ہم خود محفوظ ہیں نہ ہماری سرحدیں۔ اگر ہماری سرحدیں محفوظ ہوتیں تو ہمارے 2 نوجوان اتنی بے رحم موت کیوں مارے جاتے اور ہم پھر بھی خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔وزیر اعظم ایک بیان دے کر خاموش ہوجاتے ہیں کہ ’پہلے جیسے رشتے نہیں ر ہ سکتے‘ مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ آج اگر ان دونوں ملکوں کے رشتے خراب ہورہے ہیں تو اس میں پاکستان چاہے کتنا بھی قصور وار کیوں نہ ہو، مگر بھگتنا پڑتا ہے دونوں ملکوں کے معصوم عوام کو اور ظاہر ہے مسلمانوں کو زیادہ،کیونکہ دونوں ہی ممالک کے رشتہ دار ایک دوسرے سے ملنے کے لئے تڑپ رہے ہیں اور ویزا کی نرمی کا اعلان ہونے کے باوجود عملی طور پر نرمی نہیں ہوپارہی ہے تو سرحدی عدم تحفظ کے ساتھ ساتھ ہماری حکومت روٹی ، کپڑا ، مکان، بجلی، پانی، تعلیم جیسی بنیادی چیزوں کے فراہم کرنے میں بھی ناکام ہوچکی ہیں اور اس ناکام حکومت کو اب خیا ل آیا ہے ’’چنتن شیور‘‘ کا۔ کانگریس کا ’’چنتن شیور‘‘ بقول شاہنواز حسین چنتن شیور نہیں بلکہ چنتا شیور ہے۔ کانگریس نے پوری طرح اس ملک کو بیچ دیا ہے۔ پورے ملک کی سماجی ، سیاسی ، معاشی حالت اس وقت انتہائی نازک دور سے گزر رہی ہے۔ سونیا گاندھی اپنے ’’چنتن شیور‘‘ میں پھر وہی بیوقوف بنانے والے ہنر کا استعمال کرکے اور منموہن سنگھ کی تعریف کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ انہوں نے ملک کی اقتصادی اور سماجی حالت کو بہتر بنایا ہے۔ہنسی آتی ہے سونیا جی کے اس بیان پر۔ منموہن سنگھ نے پورے ملک کو گھوٹالوں اور بدعنوانیوں کی آگ میں جھونک دیا ہے اور خود تماشائی ببوا بنے بیٹھے ہیں ۔چلئے سونیا کے 10 پوائنٹس پر بات کرتے ہیں جو انہوں نے اس ’چنتا شیور‘ میں اٹھائے ہیں۔

سونیا لیڈروں کو شاہی خرچ کم کرنے کی نصیحت کرتی ہیں اور خود جے پور میں سرکٹ ہائوس میں ٹھہرنے کے بجائے راج محل پیلیس میں قیام کرتی ہیں اور ساتھ میں شاہزادے بھی، جس کا ایک دن کا کرایہ 20,000روپے ہے اور جس میں ٹیکس الگ ہیں۔ جے پور میں 37 ہوٹل، 7 اسٹار ہوٹلز تقریباً 114 گاڑیاں اور 38 اے سی بسوں کو بُک کیا جاتا ہے۔ یہ خرچ کس کی جیب پر پڑے گا ۔یقینا غریب نادار مڈل کلاس اور نچلے طبقے پر اور سونیا بات کر رہی ہیں عوام کی بھلائی کی۔ غضب سیاست داں ہیں ہمارے پورے ملک کو بیچ کر کھا جاتے ہیں اور ڈکار بھی نہیں لیتے۔

(1)انہوں نے کہا کہ کانگریس ہر طبقہ ، ہر مذہب و ملت کی پارٹی ہے۔ اس کا جواب خود سونیا کو دینا ہوگا کہ ان کی پارٹی نے یوپی، بہار،گجرات الیکشن میں کتنے مسلمانوں کو ٹکٹ دیے ہیں۔اگر ان کی پارٹی تمام مذاہب کی ہے تو اس میں مسلمانوں کی نمائندگی اتنی کم کیوں ہے؟(2)سونیا گاندھی نے دوسری بات یہ کہی کہ بد عنوانی سے پورا ملک پریشان ہے۔ سونیا جی سے یہ سوال کیا جانا چاہئے کہ انہوں نے یا ان کی حکومت نے بد عنوانی سے نمٹنے کے لئے کیا اقدامات کئے ہیں ۔ساری بد عنوان تو ان کی پارٹی میں موجود ہے جو اپاہجوں اور معذورں تک کا فنڈ کھا جاتے ہیں۔ایسے میں کیا سونیا بد عنوانی سے ملک کو نجات دلانے اور کہنے کا کوئی حق رکھتی ہیں۔(3)سونیا جی نے کہا کہ ہر سال ایک کروڑ نوجوانوں کو روزگار چاہئے۔ سونیا جی سے مسلمانوں کو یہ سوال کرنا چاہئے کہ ان کی حکومت نے مسلمانوں کے لئے کتنے تعلیمی ادارے قائم کئے ہیں۔ مسلم ریزرویشن تک تو کانگریس کی حکومت دے نہیں پائی، جس میں کم سے کم او بی سی اور نہایت ہی پچھڑی ذاتوں کو کچھ فائدہ مل سکتا(4)سونیا جی نے کہا کہ انہیں سماج کے کمزور طبقہ کی فکر ہے، مگر جس دوران ان کا ’’ چنتا شیور‘‘ جاری تھا، اسی دوران ڈیزل کے دام بڑھائے گئے۔ ڈیزل کے دام بڑھنے کا مقصد آپ اور ہم سب جانتے ہیں کہ مڈل کلاس اور غریب طبقے کی مصیبتوں کا ایک نیا دور شروع ہونا۔اس کے علاوہ ڈیزل اور پٹرول کے داموں کو کمپنیوں پر چھوڑ دینے کا مقصد بھی یہی ہے کہ عوام بے حال اور کانگریس خوشحال۔یقینا یہ پیسہ 2014 کے الیکشن میں کام آئے گا۔(5)سونیا جی شادیوں میں فضول خرچی کرنے اور لیڈران کو کم خرچ کرنے کی نصیحت کرتی ہیں مگر کیا سونیا گاندھی اس بات کا جواب دے سکتی ہیں کہ لیڈران کی سیکورٹی پر جتنا پیسہ خرچ ہوتا ہے، اس کا آدھا حصہ بھی پورے ملک کے عوام کی فلا ح و بہبود پر نہیں خرچ ہوتا، پھر کونسی فضول خرچی کی بات کہی گئی ہےاور خود ان کے شیور پر کتنا روپیہ خرچ ہوا۔(6)سونیا جی نے عورتوں اور بچوں کے تحفظ اور فلاح و بہبود کی بات کہی ہے اور خاص طور پر’’ چنتن شیور‘‘ کا مقصد ہی عورتوں اور بچوں کی فلاح کی بات کرنا بتایا ہے مگر 23 سالہ طالبہ کی اجتماعی عصمت دری اور موت کے بعد کیا اس طرح کے دردناک حادثے تھم گئے ہیں ۔23 سالہ طالبہ کے معاملے میں مجرموں کی شناخت ہونے کے باوجود اور پورا جرم سامنے آنے کے باوجود حکومت نے ابھی تک کوئی ٹھوس قدم اٹھایا ہے؟کیا سونیا گاندھی اس بات سے انکار کرسکتی ہیں کہ 16 دسمبر کے بعد عصمت دری اورخواتین پر تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔(7)سونیا جی کہتی ہیں، دیش بھر میں کئی پروٹسٹ ہوئے ،انہیں سمجھنا ہوگا مگر کیا خود ان کی پارٹی نے کسی پروٹسٹ کو سمجھا ہے۔ کیا انہوں نے عصمت دری کے حادثے کے بعد ہوئے مظاہروں سے کچھ سبق سیکھا ہے۔(8)سونیا نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ دوسری پارٹیوں کی وجہ سے گجرات ،بہار میں ان کی پارٹی کو نقصان ہوا ہے اور ان کے ووٹ بینک کو سیندھ لگی ہے۔
سونیا جی کیا یہ نہیں سمجھ پارہی ہیں کہ یہ سیندھ نہیں ہے بلکہ اب نہرو خاندان کی اس مونوپلی سے ملک تنگ آچکا ہے۔ سونیا ،راہل ،پرینکا ،یہی اس ملک کی قسمت نہیں ہیں۔ اب ہندوستان کا جوان بیدار ہوچکا ہے اور اسے کانگریس سے بد عنوانی ، فرقہ پرستی کی بومحسوس آنے لگی ہے۔ ملک کا نوجوان راہل گاندھی کو نہیں چاہتا ۔ وہ صرف اور صرف بہتر ہندوستان کا خواب دیکھ رہا ہے۔(9)سونیا نے گٹھ بندھن کی سرکار میں دوسری پارٹیوں پر سیدھا وار کیا ہے کہ قیمتوں میں اضافہ ہو یا دوسرے معاملات۔ گٹھ بندھن کا دھرم نبھانا ہوگا یعنی ان پارٹیوں کو بھی برابر کی ذمہ داری لینی ہوگی،مگر سونیا اس بات سے انکار نہیں کرسکتیں کہ یو پی اے حکومت میں دوسری پارٹیوں کی وہ ذمہ داری نہیں ہے جو مرکزی حکومت میں مرکزی کرداروں کی ہے۔(10)سونیا نے کہا کہ یو پی اے کے آخری 9 سال میں معاشی ترقی سماجی تبدیلیاں اور ٹکنالوجی کی بہت زیادہ ترقی ہوئی ہے لیکن ہم ایک بات بتادیں کہ کانگریس کی اصلیت بس اتنی ہے:
UPA is Govt of the Corporate, By the Corporate, For the Corporate
سونیا جی کو اصل میں ملک کی چنتا نہیں ہے بلکہ راہل کو وزیر اعظم بنانے کی چنتا ہے اور بقول مرلی منوہر جوشی کہ کانگریس کو خود اپنی حالت پر چنتا کرنی چاہئے۔ سونیا جانتی ہیں کہ کانگریس اپنا وقار اور اعتماد دونوں کھو چکی ہے او بقول شاہنواز حسین ان کی بری پالیسیوں کی وجہ سے ہی ان کا یہ حال ہوا ہے۔ دگ وجے سنگھ کتنی ہی صفائی دیتے رہیں کہ گیس سلنڈر 6 سے بڑھا کر 9 کردیے گئے ہیں مگر وہ اس حقیقت سے انحراف نہیں کرسکتے کہ ایک ہاتھ سے راحت اور دوسرے ہاتھ سے طمانچہ مارا ہے۔ عوام کی بد حالی، ملک کی غریبی ، ان سب کی وجہ غیر ذمہ دار ،بے حس حکومت ہے اور اس کا بد عنوان سسٹم ہے اور اب ہمیں اس سے چھٹکارہ پانا ہوگا۔
سونیا لیڈروں کو شاہی خرچ کم کرنے کی نصیحت کرتی ہیں اور خود جے پور میں سرکٹ ہائوس میں ٹھہرنے کے بجائے راج محل پیلیس میں قیام کرتی ہیں اور ساتھ میں شاہزادے بھی، جس کا ایک دن کا کرایہ 20,000روپے ہے اور جس میں ٹیکس الگ ہیں۔ جے پور میں 37 ہوٹل، 7 اسٹار ہوٹلز تقریباً 114 گاڑیاں اور 38 اے سی بسوں کو بُک کیا جاتا ہے۔ یہ خرچ کس کی جیب پر پڑے گا ۔یقینا غریب نادار مڈل کلاس اور نچلے طبقے پر اور سونیا بات کر رہی ہیں عوام کی بھلائی کی۔ غضب سیاست داں ہیں ہمارے پورے ملک کو بیچ کر کھا جاتے ہیں اور ڈکار بھی نہیں لیتے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *