بلاول بھٹو! ایک نیا بھٹو

(اعجاز حفیظ (پاکستان
بھٹو صاحب اپنی شہادت کے بعد بھی ہماری سیاست کا مرکزی کردار ہیں ۔مجھے یہ بھی کہنے دیجئے کہ گڑھی خدا بخش قبرستان آج بھی پاکستان کا سب سے بڑا ’’سیاسی ایوان ‘‘ ہے ۔قارئین کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ اُن کا مزار تاج محل سے ملتا جلتا ہے ۔دور سے رات کے وقت روشنی میں تو بالکل ویساہی دکھائی دیتا ہے ۔ وہ دن آج بھی اچھی طرح سے یاد ہیں کہ جب ہم ڈکٹیٹر ضیا ء کے ڈریکولین مارشل لاء کے دنوں میں بھٹو صاحب کی برسی پر وہاں جایا کرتے تھے ۔ اُس وقت مزار صرف ایک قبر کی صورت میں ہوا کرتا تھا۔تمام رکاوٹوں اور تھکاٹوں کے باوجود اُس روز وہاں لاکھوں کا اجتماع ہوتا تھا۔3 اپریل 1979ء کی رات ڈکٹیٹر ضیاء نے بھٹو صاحب کے قتل کے دو تین گھنٹے قبل اپنے رُفقا ء سے کہا کہ ’’آج بھٹو بھٹو کی رَٹ ختم ہو جائے گی‘‘۔بھٹو صاحب کی شہادت پر اُس نے اور اُس کے رُفقا ء نے جام پر جام چڑھا کر جشن منایا تھا۔بھٹو صاحب نے موت کی کوٹھری میں آخری ملاقات کے دوران اپنے وکیل یحییٰ بختیار سے کہا تھا کہ’’میرے بعد بھی بھٹو جنم لیتے رہیں گے‘‘۔ برسہا برس تک اُن کا عَلم شہید رانی بے نظیر بھٹو نے اُٹھائے رکھا ۔اُن کی شہادت کے پانچ برس بعد عوام کو ایک نیا بھٹو مل ہی گیا ۔

صدرزرداری کے ’’مصری ماڈل ‘‘کے بیان پر ہمارے یہاں عجیب و غریب منطق پیش کی جا رہی ہے ۔صدر مملکت نے تو اُن لوگوں کی طرف اشارہ کیا تھا جو اسلام آباد کے شاہراہ ِ دستور کو تحریک چوک بنانا چاہتے ہیں ۔صدر زرداری نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ ’’انتخا بات روکنے والوں نے ڈرایا تو اُن کے ساتھ بھرپور طریقے سے لڑیں گے‘‘۔ہمارے سیاسی وژن کے مطابق اس ایشو پر عوام اُن کے شانہ بشانہ ہوں گے۔ہمیں جمہوریت کسی نے پلیٹ میں رکھ کر نہیں دی ۔اس کے لئے شہید رانی سمیت ہزاروں افراد نے جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں ۔ بدقسمتی سے پانچ سال بعد بھی اُن کے قاتلوں کے بارے میں قوم لاعلم ہے ۔

عالم ارواح میں یہ دیکھ کر محترمہ بے نظیر بھٹو خوشی کے ساتھ ساتھ حیران بھی ہو رہی ہوں گی کہ بلاول اتنا بڑا ہوگیا کہ اب اُس نے اپنے نانا کی جگہ لے لی ہے ۔ جب وہ بلاول کے ایڈمیشن کے لئے لندن گئیں تو انہوں نے اپنی ایک دوست کو کہا کہ ’’بچے اتنی جلدی بڑے کیوں ہو جاتے ہیں ‘‘۔بلاشبہ آج پیپلز پارٹی کے چیئر مین جناب بلاول بھٹو کو بڑے بڑے مسائل اور مصائب کا سامنا ہے ۔لیکن پہلے بھی یہ بھٹو خاندان کو جیسے ورثے میں ملے۔بھٹو صاحب نے جب ملک کی باگ ڈور سنبھالی تو اُن دنوں ہمارے کچھ اپنوں نے بھی پاکستان پر نظر رکھنا شروع کر دی تھی ۔بھٹو صاحب کی سیاست کا سب سے بڑا کرشمہ پاکستان کو مستحکم کرنا تھا اور اس قدر کر دیا کہ ڈکٹیٹر ضیاء کی آنکھیں للچا گئیں ۔اُس نے صدیوں کے بیٹے کا قتل کر کے ہمارے وطن کے تمام خواب ،عذاب بنا ڈالے۔آج کل ہمارے یہاں آزاد عدلیہ کے ترانے اور افسانے سنائے جا رہے ہیں ۔اخبار کی ایک کالم خبر کا بھی نوٹس لیا جا تا ہے ۔ایسے میں چیئر مین بلاول بھٹو کی اس بات میں بڑا وزن ہے کہ ’’قائدِ عوام کا رات کی تاریکی میں اٹھنے والا جنازہ نظر آتا ‘‘۔دشمنان ِ بھٹو کو یہ بات بڑی ناگوار گزری ۔اداروں کے درمیان تصادم …اگر جان کی امان پائیں تو ایک سوال بھی کئے دیتے ہیں کہ کیا ہمارے ادارے جنگجو ہیں؟جب کوئی فیصلہ ہو گا تواُس پر باتیں بھی ہوں گی ۔باتیں اور چاہتیں… کا بھی تو ایک سنگم ہے ۔یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ حالات تو ہوں لیکن جذبات …
معا ف کیجئے گا !جمہوریت کے میدان میں صرف کسی ایک کے وجدان سے بات نہیں بنتی۔اپنے ڈیکورم سے ہٹ کر خطاب کرنے والوں کو دوسروں کی باتیں سننے کا بھی حوصلہ ہونا چاہیے ۔صرف سزائوں سے بھی کوئی مسئلہ حل ہوا ہے ؟پیپلز پارٹی تو دار کو ہار بھی بنا تی رہی ہے ۔جناب یوسف رضا گیلانی سزایافتہ ہیں لیکن عوام کے لئے …وہ سند یافتہ ہیں۔جنوبی پنجاب کی سیاست میں پیپلز پارٹی کے لئے سب سے بڑے ریسکیو ثابت ہوں گے ۔کل سے بہت قارئین یہ پوچھ رہے ہیں کہ گڑھی خدا بخش کا اجتماع کتنا بڑا تھا؟ہم وہاں نہیں گئے تھے ،اس بارے میں کیا کہہ سکتے ہیں ۔ چینلز کے مطابق حدِ نظر تک لوگ ہی لوگ تھے۔تعداد کے چکر میں پڑ گئے تو پھر ایک بار سے کیلکیو لیٹر ہاتھ میں لینا پڑے گا ،پہلے ہی ہم ڈاکٹر طاہرا لقادری صاحب کے جلسے کے حساب کتاب سے چکرا کر رہ گئے ہیں ۔ہمارے عمران خان بھی حیرت انگیز شخصیت کے مالک ہیں ۔ابھی چند روز قبل انہوں نے اپنی ’’خودی ‘‘ میں خود کو ہی آئندہ وزیر اعظم بننے کا اعلان تک کر ڈالا ۔اُن کاارشادِ زریں کچھ یوں تھا کہ ’’اس بار وزیراعظم میانوالی سے ہو گا ‘‘۔بات یہاں تک رہتی تو کچھ نہ کچھ سسپنس بھی رہ جانا تھا ۔انہوں نے یہ کہہ کر کہ ’’وہ میں ہوں گا۔۔‘‘ اور نجومیوں کو پریشان کر دیا ۔ویسے تو ہمارے یہاں اِ ن لوگوں کی گُڈی پچھلے پانچ سال سے چڑھی ہوئی ہے ۔اِنہوں نے زرداری صاحب کے حوالے سے جو ’’شہرت ‘‘حاصل کی، اس کا ذکر بھی ہماری تاریخ میں آئے گا۔وہ انہیں دو ماہ بھی نہیں دے رہے تھے۔ اب زرداری صاحب بھی اپنے منڈیٹ کی تکمیل کی جانب رواں دواں ہیں ۔اصل میں ہمارے جیوتشی اور نجومی کے کاروبار کی ’’گڈ وِل ‘‘کسی اور کے ہاتھوں میں ہوتی ہے ۔یاد آیا کہ جناب علی احمد کرد نے بھی اُن دنوں بہت کچھ کہا تھا ۔اب وہ ایشو پرانے ہونے کے ساتھ ساتھ ختم بھی ہو چکاہے ،لہٰذا ہم بھی اسے داخل ِ دفتر کئے دیتے ہیں۔ ہمارے یہاں اسے بھی قومی نعرہ بنا لیا جائے گا کہ ’’سیاست نہیں، ریاست بچائو ‘‘تو اس پر کسی کی ہنسی کو کیسے روکا جا سکے گا ۔اس پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے ،ہم یہی عرض کریں گے کہ پڑھے لکھوں کو ایسی باتیں زیب نہیں دیتیں ۔اگر دل میں کچھ ہے تو زبان کو بھی تکلیف دے دیں۔اس سے دل کا بہت سا بوجھ بھی ہلکا ہو جائے گا ۔گڑھی خدا بخش کے جلسے نے کئی باتیں واضح کر دی ہیں۔ ایک الیکشن وقت پر ہوں گے اور دوسرے ہمارے یہاں مصری ماڈل نہیں چلے گا۔ خدا جانے ہمارے یہاں کے انقلاب پسندوں نے اب پاکستان کو کیوں ٹارگٹ پر رکھ لیاہے ۔مجھے یہ بھی کہنے دیجئے کہ ہمارے یہاں یہ باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں ،جن کے خلاف انقلاب کی سخت ضرورت ہے ۔ڈکٹیٹروں کے یہ پیارے آج بھی ہمارے راج دلارے کیوں بنے ہو ئے ہیں؟
صدرزرداری کے ’’مصری ماڈل ‘‘کے بیان پر ہمارے یہاں عجیب و غریب منطق پیش کی جا رہی ہے ۔صدر مملکت نے تو اُن لوگوں کی طرف اشارہ کیا تھا جو اسلام آباد کے شاہراہ ِ دستور کو تحریک چوک بنانا چاہتے ہیں ۔صدر زرداری نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ ’’انتخا بات روکنے والوں نے ڈرایا تو اُن کے ساتھ بھرپور طریقے سے لڑیں گے‘‘۔ہمارے سیاسی وژن کے مطابق اس ایشو پر عوام اُن کے شانہ بشانہ ہوں گے۔ہمیں جمہوریت کسی نے پلیٹ میں رکھ کر نہیں دی ۔اس کے لئے شہید رانی سمیت ہزاروں افراد نے جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں ۔ بدقسمتی سے پانچ سال بعد بھی اُن کے قاتلوں کے بارے میں قوم لاعلم ہے ۔
بلاول بھٹو کا یہ کہنا کہ ’’میری والدہ کے قاتلوں کو سزا کیوں نہیں دیتے جو گرفتار بھی ہیں‘‘بھلا اس سے اداروں کے درمیان تصادم ہونے کا خطرہ کیسے پیدا ہو گیا۔ اصل میں خطرہ ان لوگوں کو ہے ،جنہیں پارلیمنٹ کی بالا دستی قبول نہیں ۔اپنی بات کو بلاول بھٹو صاحب کے اس عزم سے ختم کرتے ہیں کہ’’میری رگوں میں شہید بھٹو کا خون ہے ‘‘۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *