بہترین معاشرہ اسلامی تعلیمات سے بن سکتا ہے

آصف اقبال، نئی دہلی
معاشرے میں موجود لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی بھی فرد کی عزت نفس کو ٹھیس نہ پہنچائیں کیونکہ ہر شخص قابل عزت و قابل قدرہے ۔ لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ معاشرہ میں خوشگوار ماحول پروان چڑھانے میں بھر پورکردار ادا کریںلیکن معاملہ یہ ہے کہ چند لوگوں کو چھوڑ کر اکثریت اس پہلو پر نہ غور کرتی ہے اور نہ ہی عمل۔یہاں غور و فکر سے مراد عمل میں تبدیلی سے ہے نہ کہ اس پر مذاکرے، بحثیں،دھرنے ،ریلیاں اور اسی طرز کی دیگر سرگرمیاں۔حالات کے پہلوئوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے مسلمانوں کو چاہیے کہ مکمل طور پر فکری اور عملی میدان میں اسلامی تعلیمات کو نہ صرف پوری طرح سے واضح کردیں بلکہ اس کے قیام و بقا کے لیے بھی سرگرم عمل ہو جائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آج جدیدیت اس نظام فکر و نظر کی علامت بن گئی ہے جو فی الوقت رائج ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہر میدان میں جدیدیت کا غلبہ ہے۔ وہ تعلیمی میدان ہویاسیاسی ، معاشی ہو یا معاشرتی و تمدنی ہر میدان میں قوت و اقتدار رکھنے والا طبقہ جدیدیت کو اختیار کرنے میں نہ صرف عزت بلکہ اس کے تراشے و سنوارے لبادے میں ہر قسم کی خوشی بھی محسوس کر تا ہے۔برخلاف اس کے عام طبقہ جسے عوام کہتے ہیں ، فکر ِ جدیدیت کے نتیجہ میں رونما ہونے والے واقعات سے بہت حد تک اکتا چکا ہے۔یہی وجہ ہے کہ حالیہ دہلی آبروریزی معاملہ میں عوام الناس کی ایک بڑی تعداد اسلامی قوانین کو لاگو کرنے کی بات کر رہی ہے۔اندرونی کسک و جذبات نہ صرف دہلی کے بلکہ پوری دنیا کے ہیں۔کیونکہ انسان ہمیشہ ہی امن پسند رہا ہے اور اسلام و اسلامی قوانین امن کے علمبردار۔
اخلاقیات سے آزادمغربی دنیا جن نعروںکو بلند کرتی ہے ان میںسر فہرست آزادی نسواں ہے۔ اس کا مطلب قید سے آزادی بھی ہے اور اخلاقی اصولوں سے آزادی بھی ہے۔واقعہ یہ ہے کہ یہ پاکدامن، عفت و عصمت کی علمبردار عورت کھلے عام نیلام ہو رہی ہے اور وہ ان حالات سے بخوبی واقف بھی ہے۔ اس کے باوجوداس نے ان خوبصورت نعروں کی زینت بننا پسند کیا اور مسلسل کیے جا رہی ہے۔دیکھنا یہ چاہیے کہ مختلف مذاہب و تہذیب سے تعلق رکھنے والی یہ عورت اپنے رویہ میں تبدیلی کیوں نہیں لا رہی ہے۔کیا اس کی بھی کوئی معقول وجہ ہے؟معلوم ہوا کہ ایک طرف عورت کو بازار میں سر عام بے عزت کیا جاتا ہے تو وہیں دوسری طرف گھروں میںلڑکے اور لڑکیوں میں تفریق کی جاتی ہے۔مختلف انداز میں ہر مقام پر ان کی عزت نفس کو ٹھیس پہنچائی جاتی ہے ۔کبھی شوہر اوردیگر رشتے داروں کے ذریعہ رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے،جو جانوروں سے بھی بڑھ کر نہ صرف اُن پر ظلم و زیادتی کرتے ہیں بلکہ معمولی جہیز کی خاطر انھیں زندہ جلادینے تک سے گریز نہیں کرتے۔یہ اور ان جیسے بے شمار ظلم و زیادتیوں کے واقعات ہی دراصل وہ پس منظر ہے جو عورت کو آزادی ٔ نسواں کے نعروں کو پسند کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔پھر ان نعروں کی آڑ میں کہیں زمانہ کی ماری ہوئی تو کہیں عزت و ذلت سے ناواقف عورت ان تمام امور کو اختیار کرنے سے گریز نہیں کرتی جو آج رائج ہیں۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان نعروں کو بلند کرنے والے ،ان پر عمل کرنے والے اور ان کوفروغ دینے والے اللہ رب العزت کی تعلیمات کو عام کریں جس نے ان تمام مسائل کا حل بہت پہلے ہی پیش کر دیا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *