اے نوجوانو! اب تم ہی سنبھالو ملک کی باگ ڈور

وسیم راشد 
کڑا کے کی سردی، پاکستان اور ہندوستان کا میچ،لگاتار ملک کے مختلف حصوں میں عصمت دری کے واقعات، نفرت کی سیاست کرتے آر ایس ایس لیڈر بھاگوت اور اکبر الدین اویسی کا بیان اور گینگ ریپ کا شکار لڑکی کی موت کے بعد لگاتار مظاہرے اور ریلیاں۔یہ ہیں ہمارے ملک کی سرگرمیاں،جن پر بعض اوقات شرم آجاتی ہے مگر ان تمام شرمناک اور دردناک واقعات کے باوجود ایک امید کی کرن پہلی بار نظر آئی ہے،اور وہ ہے دہلی کی سڑکوں پر نوجوان لڑکے لڑکیوں کا مظاہرہ۔اجتماعی عصمت دری کا شکار ہوئی لڑکی کے درد نے سارے ہندوستان کے نوجوانوں کو متحد کردیا ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ تمام مظاہرے ،یہ ریلیاں بنا کسی لیڈر کے ہو رہی ہیں۔ ان بڑی بڑی ریلیوں میں کوئی بڑا نام نہیں ہے ،کوئی لیڈر شپ نہیں ہے۔مختلف تنظیمیں اور این جی اوز مل کر بھی مظاہرے کر رہے ہیں لیکن پہلی بار اس ملک کا نوجوان سڑک پر اتر ا ہے۔پہلی بار کسی حادثے نے سارے ملک کو ایک جگہلا کر کھڑا کردیا ہے۔ آپ ان مظاہروں ،ان ریلیوں ،جلسے جلوس کی خبریں لگا تار پڑھ رہے ہیں مگر کیا فرق نظر آیا آپ کو اس مرتبہ؟یہی کہ اس بار نوجوان نسل ہار نہیں مانے گی۔بنا کسی سیاست کے ،بنا کسی سیاسی لیڈر کے ،بنا کسی سماجی لیڈر کے ،بنا کسی ہنگامے اور مارپیٹ کے ان نوجوانوں نے جن میں بلا شبہہ لڑکیاں زیادہ ہیں ،ملک کی گھنائونی سیاست کو اور لیڈر شپ کو یہ بتا دیا ہے کہ بس اب اور نہیں ،اب ہمیں تمہاری ضرورت نہیں ہے،ہم اس بار اپنے حق کی لڑائی خود لڑیں گے۔
اس پورے منظر نامہ میں ایک اور بات نکل کر سامنے آئی ہے اور وہ یہ ہے کہ Our youth is not corruptجی ہاں! ہماری نوجوان نسل بد عنوان نہیں ہے۔وہ ’’چلتا ہے‘‘ کے فارمولہ پر عمل نہیں کرتی۔ہماری نوجوان نسل نہ صرف اپنے حق کے لئے ایمانداری سے لڑ سکتی ہے بلکہ وہ دوسروں کے لئے بھی اسی طرح ،ان ہی جذبات و احساسات کے ساتھ اس لڑائی میں شریک ہو سکتی ہے ۔ہمارے سیاست دانوں نے بیچ ڈالا ہمارے ملک کو،اربوں کھربوں کے گھوٹالے اتنے سامنے آچکے ہیں کہ اب ان کا ذکر کرتے ہوئے بھی گھن آجاتی ہے۔بے شرمی سے سنگھاسن پر بیٹھی کانگریس حکومت نے ان چار سالوں میں وہ تاریخ رقم کی ہے جس کی مثال نہیں ملتی۔ بے شمار گھوٹالوں اور بدعنوان سیاست دانوں کے بیچ نہ صرف وزیر اعظم پر سے اعتماد ختم ہوا ہے بلکہ سارے لیڈران چاہے وہ کسی بھی سیاسی پارٹی کے ہوں، سبھی کی اصل شکل سامنے آچکی ہے۔اسی ملک میں ان کے ساتھ ان کے حق کی لڑائی میں حکومت ان کے ساتھ نہیں ہے اور یہ اعتماد پولیس پر سے بھی ختم ہوچکا ہے۔ ویسے بھی پولیس خود سب سے بڑی دہشت گرد ، سب سے بڑی ریپیسٹ ہے۔ کوئی بھی عورت کسی قیمت پر بڑے سے بڑے حادثہ میں بھی پولیس اسٹیشن جانا پسند نہیں کرتی۔ وہ جانتی ہے کہ اگر اس کی عصمت باہر محفوظ نہیں ہے تو پولیس اسٹیشن میں تو چاروں طرف درندے ہیں ۔وہ سب سے پہلے اسے بے لباس کرکے اس کی پریڈ کراسکتے ہیں اور عصمت دری کر سکتے ہیں۔ ایسے میں جب چاروں طرف سے نوجوانوں کی امید دم توڑ چکی ہے ۔ایسے میں خود سڑکوں پر آنا اور درندوں کے لئے پھانسی کی سزا مانگنا، اس بات کی علامت ہے کہ ہمارے ملک کا نوجوان جاگے ہوئے ضمیر والا نوجوان ہے۔ہماری لڑکیاں اپنی عصمت و عزت کی حفاظت کے لئے خود اپنی لڑائی لڑیں گی۔

اب وقت آگیا ہے کہ نوجوان نسل اس بوڑھی اور کینسر زدہ لیڈر شپ کو خیر باد کہہ کر نوجوان سیاست دانوں کو سامنے لائیں۔ نوجوان لیڈر شپ پر بھروسہ کریں کیونکہ یہ بوڑھے لیڈران اپنے تجربہ کی خوش فہمی میں نوجوان نسل کو گمراہ کرتے ہیں اور تجربہ کا نعرہ دے کر انہیں Underestimate کرتے ہیں۔وہ تجربہ جو نوجوان نسل کو نفرت کی سیاست ، گھوٹالے،فرقہ پرستی کے سوا کچھ نہیں سکھا سکتا ہے ،اس لیڈر شپ سے نجات ملنی چاہئے۔ ایک بات اور ہے کہ یہ بوڑھے لیڈران پروگریسیو ہو ہی نہیں سکتے۔

آج اپنے اس اداریے کے ذریعہ ایک اور پیغام میں نوجوان نسل کو دینا چاہتی ہوں او ر وہ یہ ہے کہ ہم 65 برسوں سے بوڑھی سیاست جھیل رہے ہیں اور اس بوڑھی سیاست کو چلانے والے مطلب پرست سیاست دانوں نے ہمیں مایوسی اور ناکامی کے سوا کچھ نہیں دیا۔اگر ہمیں کچھ دیا تو بد عنوانی،چور بازاری، لڑکیوں کے لئے غیر محفوظ ماحول ،بے روزگاری،مہنگائی اور فرقہ پرستی کا زہر۔ اب وقت آگیا ہے کہ نوجوان نسل اس بوڑھی اور کینسر زدہ لیڈر شپ کو خیر باد کہہ کر نوجوان سیاست دانوں کو سامنے لائیں۔ نوجوان لیڈر شپ پر بھروسہ کریں کیونکہ یہ بوڑھے لیڈران اپنے تجربہ کی خوش فہمی میں نوجوان نسل کو گمراہ کرتے ہیں اور تجربہ کا نعرہ دے کر انہیں Underestimate کرتے ہیں۔وہ تجربہ جو نوجوان نسل کو نفرت کی سیاست ، گھوٹالے،فرقہ پرستی کے سوا کچھ نہیں سکھا سکتا ہے ،اس لیڈر شپ سے نجات ملنی چاہئے۔ ایک بات اور ہے کہ یہ بوڑھے لیڈران پروگریسیو ہو ہی نہیں سکتے۔ یہ آج بھی ان ہی فرسودہ رسم و رواج پر چل رہے ہیں جو وقت کے ساتھ زنگ آلود ہوچکا ہے،اس لئے نوجوانوں کو اب آنے والے الیکشن میں بہت ذمہ داری سے حکومت بنانے میں حصہ لینا چاہئے۔ جم کر نوجوانوں کو ووٹ دینا چاہئے۔ جو سیاست داں داغدار ہیں یا کسی جرم میں ملوث ہیں، انہیں ہرگز ووٹ نہیں دینا چاہئے ،تبھی آج کے اس اتحاد کا کوئی نتیجہ نکل سکتا ہے۔اس کے علاوہ نفرت کی سیاست کرنے والوں کو بھی نہیں بخشنا چاہئے ۔ ہزاروں نوجوان جو متحد ہوکر جنتر منتر یا انڈیا گیٹ پر مظاہرہ کر رہے تھے، کیا وہ کسی ایک فرقہ یا مذہب کے تھے ۔کیا جو لڑکی اس دردناک حادثے کا شکار ہوئی ،اس لڑکی کے لئے کسی نے ایک بار بھی یہ کہا کہ وہ ہندو تھی یا مسلمان تھی۔بس وہ ملک کی ایک بیٹی تھی۔سارے دیش نے اس کے لئے لڑائی کرنے کا عہد کیا۔
ہم جانتے ہیں کہ اس ملک میں مسلمانوں کے ساتھ بہت زیادتیاں ہوئی ہیں مگر ہمیں رہنا تو یہیں ہے۔ہمیں اپنے بچوں کو اپنے نوجوانوں کو بھی محفوظ رکھنا ہے اور ان کو اچھی تعلیم اور روزگار دینا ہے ۔ایسے میں اگر ہم پبلک مقامات پر کھلے عام زہر اگلیںگے تو اس کا خمیازہ ہماری نوجوان نسل کو ہی بھگتنا پڑے گا۔اکبر الدین اویسی نے جو بھی نفرت انگیز تقریر کی، ہم اس کی سخت مذمت کرتے ہیں کیونکہ ہزاروں کی بھیڑ،جسمیں نوجوان بھی تھے، کواگر اس طرح اکسایا جائے گا تو ان کو ان کے ٹریک سے ہٹایا جا سکتا ہے۔ ان کے اندر جو نفرت پیدا ہوگی وہ ان کو غلط جگہ دھکیل سکتی ہے۔وہ دہشت گرد بھی بن سکتے ہیں۔وہ فرقہ وارانہ فساد بھی بپا کرسکتے ہیں۔اویسی جی! آپ خود تو بیان دے کر انگلینڈ چلے گئے مگر آپ اپنے پیچھے وہ زہر چھوڑ گئے جس سے ملک میں آگ لگ سکتی تھی ۔کیوں آپ لوگ یہ بات نہیں سمجھتے کہ بابری مسجد ، میرٹھ ملیانہ، گجرات سے نوجوانوں کی دلچسپی نہیں رہی۔اب بس کیجئے۔ اب ان مسئلوں پر کوئی اور نفرت مت پھیلائیے۔اب ہماری نوجوان نسل کو ان سے آگے بڑھنے دیجئے، تعلیم حاصل کرنے دیجئے۔ذرا سوچئے!گھر میں اگر کسی کی موت ہوجاتی ہے تو باقی گھر کے لوگ جینا نہیں چھوڑ دیتے ۔ ایسے میں اگر گجرات میں ہماری نسل کشی ہوئی تو وہ یقینا دردناک تاریخ ہے، مگر ہمیں اس سے آگے بڑھنا ہے ۔ اسی طرح بابری مسجد کے نام پر جتنی سیاست ہوسکتی تھی،ہوچکی۔اب مسلمانوں کو ان باتوں سے آگے نکل کر صرف اپنے بچوں کو نئی راہ دکھانی ہے۔ہمارا ملک اس وقت بدلائو کی دہلیز پر کھڑا ہے۔ چاروںطرف سے سیاست اور نفرت پھیلانے والوںکے خلاف آوازاٹھ رہی ہے۔مسلمان تعلیم کی طرف راغب ہورہے ہیں۔نوجوان نسل بیدار ہورہی ہے اور نئی راہیں تلاش کررہی ہے ۔ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ اس نئے ہندوستان کو بنانے میں ہم زیادہ سے زیادہ حصہ لیں تاکہ ہم پر سے فرقہ پرستی کا داغ مٹ جائے اور ہمیں بار بار اپنے وطن پرست ہونے کا سرٹیفکیٹ نہ دینا پڑے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *