عوام کی خاموشی کو مجبوری مت سمجھئے

سنتوش بھارتیہ 
شاید سرکار کے پاس اب ایسے ماہرین اقتصادیات نہیں ہیں، جو اسے مہنگائی کو کنٹرول کرنے کا طریقہ کار بتا سکیں اور نہ سرکار کے پاس ایسے آئی اے ایس آفیسر ہیں، جو مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے مشورے دے سکیں۔ سرکار کو یہ لگتا ہے کہ جب تک کسی چیز سے پریشان ہو کر لوگ توڑ پھوڑ نہ کریں، سرکاری ملکیت کو نقصان نہ پہنچائیں، لوٹ پاٹ نہ کریں یا دنگے نہ بھڑکائیں، تب تک اس مسئلہ پر دھیان دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ مہنگائی کا عالم یہ ہے کہ غریب کے پاس سبزی اور دال ایک ساتھ کھانے کا متبادل ختم ہو گیا ہے۔ جب میں غریب کہتا ہوں تو اس میں متوسط طبقہ کے بڑے حصے کو جوڑ لیتا ہوں۔
کسی بھی چیز کی قیمت دیکھئے، گیہوں، جوار، باجرا، مکا، چنا یا پھر دالوں میں کوئی بھی دال، تیل، گھی، ان سب چیزوں میں جیسے آگ لگ گئی ہے۔ سرکار کے نت نئے قدم مہنگائی کو بڑھانے والے ہوتے ہیں اور دلیل وہی کہ بازار ایسا کر رہا ہے، ہم کیا کریں۔ اب ڈیزل بھی بازار کے حوالے ہو گیا ہے۔ سامان کی ڈھلائی کے کام میں ڈیزل بڑا رول ادا کرتا ہے۔ اب قیمتیں اور بڑھیں گی۔ اس کا اثر ملک کے 80 فیصد لوگوں پر ہونے والا ہے، کیوں کہ قیمتیں بڑھنے کا فائدہ مال پیدا کرنے والے کو بالکل نہیں ملتا۔ کھانے لائق جتنی بھی چیزیں کسان پیدا کرتا ہے، جن میں گیہوں سے لے کر دال، تیل، گھی اور سبزیاں سب شامل ہیں، اس کے پاس سے کوڑیوں کے دام میں بازار میں پہنچتی ہیں اور وہاں سے بہت مہنگی قیمتوں پر صارفین کے پاس پہنچتی ہیں۔ مہنگائی کو جان بوجھ کر بے لگام ہونے دینا یا قیمتوں کا بڑھنا سرکاری مشینری ایک طے شدہ مقصد کے تحت کر رہی ہے۔ اس کے پیچھے ایک بڑا سبب ایف ڈی آئی کو رٹیل سیکٹر میں نافذ کرنے کی صحیح وجہ بتانا ہے۔ کچھ مہینوں کے بعد ایف ڈی آئی کے تحت شروع ہونے والے بازار سنٹر تھوڑی سی بڑی قیمتوں پر کسان کے سامان خریدیں گے اور کہیں گے کہ ہم نے اس ملک کے کسانوں کو زیادہ قیمتیں دلوائیں، اس لیے ایف ڈی آئی کا فیصلہ صحیح ہے۔ یہ بالکل اسی طرح کی حکمت عملی ہے کہ پہلے دانہ ڈال کر پالتو بناؤ اور پھر اسے غلام بنا کر روز سٹا سٹ پیٹو۔

اب سارا غصہ اکٹھا ہو رہا ہے اور لوگوں کی نظریں جمع خوری کے گودام پر گڑنے لگی ہیں۔ صرف جمع خوری کے گوداموں پر ہی نہیں، لوگوں کی نظریں سیاسی پارٹیوں کے معزز کارکنوں کو بھی گھورنے لگی ہیں۔سیاسی پارٹیوں نے لوگوں کو ذات پات اور مذہب و مسلک کے خانوں میں تقسیم کر دیا ہے، کیوں کہ انہیں لگتا ہے کہ اس سے ان کا منتخب ہونا آسان ہو جائے گا۔ پر شاید وہ یہ نہیں جانتے کہ ان کا یہی نسخہ ایک بڑے ہتھیار کی شکل میں انہی کے خلاف دوا بن جائے گا۔ مہنگائی ایک ایسا مدعا ہے، جس نے نہ کسی ذات کو چھوڑا ہے، نہ کسی مذہب کو چھوڑا ہے اور نہ کسی مسلک کو۔ جن مدعوں نے سیاسی پارٹیوں کو اقتدار میں پہنچایا، وہی مدعے انہیں پریشانی میں ڈالیں گے۔

دراصل، پہلے جب مہنگائی بڑھتی تھی، تو سیاسی پارٹیاں فوراً سرکار کے خلاف تحریک چلاتی تھیں۔ لوگ بھی ان تحریکوں میں شامل ہوتے تھے اور ناٹک کے لیے ہی سہی، سرکاروں کو منافع خوری پر کنٹرول کرنے کے لیے کچھ قدم اٹھانے پڑتے تھے۔ اب اپوزیشن کے نام پر برسر اقتدار پارٹی کی بی ٹیم بنی سیاسی پارٹیاں اس رواج سے بھی آزاد ہو گئی ہیں۔ اب مہنگائی کو لے کر بیان بازی بھی نہیں ہوتی۔ دراصل، بڑھی ہوئی مہنگائی نہ سیاسی پارٹیوں کو پریشان کرتی ہے، نہ ان کے کارکنوں کو، کیوں کہ کارکنوں کا بھی کردار بدلا ہے۔
پہلے سیاسی پارٹیوں کے کارکن عام لوگوں میں سے آتے تھے، اب وہ ٹھیکے کے پیسوں سے بنے نو دولتیے طبقہ سے آتے ہیں۔ اس طبقہ کو مہنگائی کا دکھ نہیں ستاتا۔ عام کارکن تو اب لیڈروں کے ڈرائنگ روم میں بھی نہیں جا پاتا۔ اسی لیے لوگ مہنگائی سے پریشان ہیں، یہ خبر سیاسی پارٹیوں کو پریشان نہیں کرتی۔ کارکنوں کی اس بدلی نسل پر سرکار اور اپوزیشن میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اسی لیے لوگوں کو ٹکٹ بھی پیسے کی بنیاد پر ملتے ہیں۔ کس کے پاس کتنی گاڑیاں ہیں اور کس کے پاس کتنا پیسہ الیکشن میں خرچ کرنے کی صلاحیت ہے، بس یہی ایک بنیاد بن گیا ہے۔ پہلے جب سیاسی پارٹیاں مہنگائی جیسے مسئلہ پر تحریک کرتی تھیں، تو اس سے لوگوں کا غصہ تھوڑا ٹھنڈا ہو جاتا تھا، وہ تحریک سیفٹی والو کا کام کرتی تھی۔
اب سارا غصہ اکٹھا ہو رہا ہے اور لوگوں کی نظریں جمع خوری کے گودام پر گڑنے لگی ہیں۔ صرف جمع خوری کے گوداموں پر ہی نہیں، لوگوں کی نظریں سیاسی پارٹیوں کے معزز کارکنوں کو بھی گھورنے لگی ہیں۔سیاسی پارٹیوں نے لوگوں کو ذات پات اور مذہب و مسلک کے خانوں میں تقسیم کر دیا ہے، کیوں کہ انہیں لگتا ہے کہ اس سے ان کا منتخب ہونا آسان ہو جائے گا۔ پر شاید وہ یہ نہیں جانتے کہ ان کا یہی نسخہ ایک بڑے ہتھیار کی شکل میں انہی کے خلاف دوا بن جائے گا۔ مہنگائی ایک ایسا مدعا ہے، جس نے نہ کسی ذات کو چھوڑا ہے، نہ کسی مذہب کو چھوڑا ہے اور نہ کسی مسلک کو۔ جن مدعوں نے سیاسی پارٹیوں کو اقتدار میں پہنچایا، وہی مدعے انہیں پریشانی میں ڈالیں گے۔
مہنگائی پر لوگوں کا غصہ پھوٹنے کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ یہ 80 فیصد لوگ، جو مہنگائی سے پریشان ہیں، ٹھیک ویسے ہی متحد ہو رہے ہیں، جیسے پچھلے دنوں دہلی اور ملک میں طلبا اور نوجوان متحد ہوئے تھے۔ وہ غصہ تو 15 دنوں میں ٹھنڈا ہوگیا، کیوں کہ اس غصے کا اتنا ہی مقصد تھا، لیکن مہنگائی پر پھوٹنے والا غصہ شاید اتنی جلد ٹھنڈا نہ ہو۔ یہ غصہ کہیں فساد کی شکل نہ اختیار کر لے، اس کا بھی بہت بڑا ڈر ہے۔ مہنگائی شہروں اور گاؤوں میں، یعنی سب جگہ پر ہے۔ لوگوں کو مہنگائی سے زیادہ غصہ سرکار اور اپوزیشن پارٹیوں کے ذریعے مہنگائی کو اندیکھا کرنے پر ہے اور اگر مہنگائی پر فساد ہوئے تو ان فسادوں کو سرکار سنبھال نہیں پائے گی۔ اس لیے سرکار سے یہ توقع کرنی چاہیے کہ وہ اس ملک میں رہنے والے ہر شہری، ہر خاندان کو ستانے والی، پریشان کرنے والی مہنگائی کو روکنے کی سمت میں قدم اٹھائے۔
اب یہ سرکار کے اوپر ہے کہ وہ قدم اٹھاتی ہے یا نہیں۔ پر جو سرکار خود بازار کے حوالے ہوگئی ہو، وہ قدم کیسے اٹھائے گی؟ جس سرکار پر بازار کو کنٹرول کرنے کی ذمہ داری تھی، اس نے ملک کے 80 فیصد لوگوں کو تباہ کرنے کے لیے بازار کو کھلا چھوڑ دیا ہے۔ دیکھتے ہیں کہ مہنگائی پر کنٹرول ہوتا ہے یا لوگ مہنگائی کو برداشت کرتے ہیں یا پھر مہنگائی پر فساد ہوتے ہیں۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *