اقلیتوں کے لئے سرکاری پروگرام ایک ڈھونگ

ڈاکٹر ماجد دیوبندی 
اس سال چند ریاستوںمیں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں، جن میں مرکزی خطے میں واقع دہلی ریاست بھی شامل ہے۔ انتخابات کے دوران حکمراں جماعتیں، خاص طور پر کانگریس مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے لمبے چوڑے وعدے کرتی ہیں، لیکن ان وعدوں پر 25 فیصد بھی عمل نہیں ہوتا۔ اس کی تازہ ترین مثال وزیر اعظم کا 15 نکاتی پروگرام، جو خاص طور سے اقلیتوں کی بہبود کے لیے ہے۔ ابھی تازہ ترین رپورٹ آئی ہے کہ دہلی کی حکومت اس پروگرام کو نافذ کرنے میں پوری طرح ناکام رہی ہے۔ 90 مسلم اکثریتی آبادی والے اضلاع میں بھی یہ پروگرام ابھی تک تشنۂ تکمیل ہے۔ مرکزی حکومت کی مدت بھی آئندہ سال ختم ہونے والی ہے اور عام انتخابات ہونے والے ہیں، لیکن یو پی اے حکومت میں اقلیتی فرقہ سے تعلق رکھنے والا وزیر اعظم ہونے کے باوجود اقلیتوں کے مسائل حل نہیں ہو رہے ہیں۔ یہی اقلیت سے تعلق رکھنے والے وزیر اعظم سکھوں کے معاملات میں بے انتہا فکر مند اور جلد باز نظر آتے ہیں۔ فرق خود سمجھا جا سکتا ہے کہ اقلیت اقلیت میں بھی فرق کر کے دیکھا جا رہا ہے اور مسلم اقلیت کو کم تر سمجھنے کا پرانا طریقہ کانگریس چھوڑ نہیں پا رہی ہے۔

مدرسوں اور تعلیمی اداروں کو بھی حکومت جس طرح سہولت پہنچانا چاہتی تھی، ابھی اس نشانے پر پہنچنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کی باز آبادکاری اور ان کے گھر کا خواب بھی پانچ فیصد پورا ہو گیا ہو تو بہت بڑی بات ہوگی۔ مسلمانوں کے لیے منصوبے بنتے رتے ہیں، اسکیمیں نافذ ہوتی رہتی ہیں، لیکن ان کی حالت میں کوئی سدھار نظر نہیں آتا۔

حال ہی میں وزیر اعظم نے ایک مسلم وفد سے ملاقات میں وعدہ کیا تھا کہ بے قصور مسلم نوجوانوں کی گرفتاری پر قد غن لگانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے، لیکن اس پر ابھی تک کوئی عمل در آمد نہیں ہوا۔ جب کبھی ان بے قصور مسلمانوں کی رہائی کے امکانات پیدا ہوتے ہیں، جانبدار پولس ان نوجوانوں پر دوسرے الزامات عائد کر کے انھیں جیل بھیج دیتی ہے۔ مرکزی کانگریسی حکومت ملک میں مسلمانوں کی حالت کو دلتوں سے بد تر بتانے والی سچر کمیٹی کی سفارشات پر عمل کرنے کی سمت میں وزیر اعظم کے پندرہ نکاتی پروگرام سے متعلق منصوبوں کی عمل درآمدگی کی زمینی حقیقت سے بے خبر ہے۔ مرکزی حکومت نے حق اطلاعات (آر ٹی آئی) قانون کے تحت دائر عرضی کے جواب میں خود یہ تسلیم کیا ہے کہ وہ وزیر اعظم کے پروگرام کے منصوبوں کے اثرات کا اندازہ نہیں لگایا پا رہی ہے۔ مراد آباد کے آر ٹی آئی کارکن سلیم بیگ کی طرف سے دی گئی درخواست کے گزشتہ 20 دسمبر کے جواب میں وزارت اقلیتی امور نے کہا ہے کہ ملک میں اقلیتوں کی فلاح کے لیے وزیر اعظم کے پندرہ نکاتی پروگرام میں شامل منصوبوں کے اثرات کا جائزہ نہیں لیا گیا ہے۔ ایسے میں یہ پتہ نہیں ہے کہ وزیر اعظم کے حوصلہ افزا پروگرام میں شامل منصوبوں کا کیا اثر پڑ رہا ہے اور ان کے عمل درآمدگی کی زمینی حقیقت کیا ہے۔ بیگ نے گزشتہ سال 16 نومبر کو ایک آر ٹی آئی درخواست کے ذریعہ مرکزی اور دہلی کی حکومت سے پوچھا تھا کہ سچر کمیٹی کی سفارشات کو نافذ کرکے ملک کے اقلیتی طبقے کو سماج کے میں اسٹریم میں لانے کے لیے نافذ تمام منصوبوں کے اثرات اور عمل درآمد کی کی نگرانی کے لیے کون سا نظام بنایا گیا ہے۔
واضح رہے کہ یکم اپریل 2007 سے نافذ وزیر اعظم کے پندرہ نکاتی پروگرام میں مسلمانوں کی ترقی اور ان کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے بہت سے نشانے مقرر کیے گئے تھے، لیکن ان پر عمل آوری جس سست روی سے ہو رہی ہے وہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ کانگریس کی حکومت کے پہلے حصے میں جب وزیر اعظم نے پندرہ نکاتی پروگرام کا اعلان کیا، تو اس وقت بھی فرقہ پرست افسران کے تبادلے نہیں کیے گئے یا دوسرے لفظوں میں یوں کہیے کہ متعصب ذہن افسران کو نہیں ہٹایا گیا۔ دوردرشن دہلی میں اردو خبریں پڑھنے کے دوران راقم الحروف نے خود دیکھا کہ وزیر اعظم کے پندرہ نکاتی پروگرام کی تفصیل دوردرشن اردو میں بھی نہیں بتائی گئی۔ ہو سکتا ہے یہ ڈر ہو کہ اگر مسلمانوں کو معلوم ہو گیا تو وہ کچھ مراعات حاصل کر لیں گے۔
میٹرک سے پہلے اورمیٹرک کے بعد مسلم بچوں کو وظیفے دینے کا اہتمام ہے، مگر بیشتر ریاستوں میں یا تو بہت تاخیر سے پیسے دیے جاتے ہیں یا کہیں کہیں تو بالکل نہیں دیے جاتے۔ اسی طرح قومی اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کا بھی معاملہ ہے۔ یہ ادارہ اپنی مختلف ایجنسیوں کے ذریعے ہنر مند، بے روزگار اور بیکار مسلمانوں کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنے اوران کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا، لیکن مسلمانوں کو اس کے قرضے اونٹ کے منھ میں زیرے کے برابر ملتے ہیں۔ ضلعی سطحوں سے لے کر ریاستی سطح تک اور ریاست سے لے کر مرکز تک اتنی بھول بھلیوں اور اتنے قانون و اصول و ضوابط کے دائرے میں اسے سمیٹ دیا گیا ہے کہ بہت کم لوگوں کو اس کا فائدہ پہنچ پاتا ہے۔ مسلمانوں میں غریبی اور بے روزگاری میں اضافہ ہی ہوا ہے، کمی بالکل نہیں آئی ہے۔دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین نے ایک تقریب میں یہ اعلان کیا تھا کہ مسلمان اپنے روزگار اور دوسرے کاموں کے لیے کمیشن سے فارم بھر کر قرض لے سکتے ہیں۔ یہ قرض 25 لاکھ روپے تک دیا جا سکتا ہے۔ جب معلوم کیا گیا تو دیکھا گیا کہ اس قدر سخت قانون بنادیا گیا ہے کہ ایک بھی مسلم یہ سہولت حاصل نہیں کر سکتا۔ مثال کے طور پر کسی مرکزی یا صوبائی حکومت کے ذمے دار افسر یا ملازم کی ذمے داری اور سفارش پر یہ قرض دیا جا سکتا ہے۔ ظاہر ہے، کون کسی مسلمان کے لیے اپنی نوکری دائوں پر لگا سکتا ہے۔ خود ایک بھی مسلمان نے آج تک کسی کی باقاعدہ سفارش نہیں کی، جس سے کوئی مسلمان کمیشن سے قرض لے سکے۔ یہی حال دہلی صوبے کی اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کا ہے، جس کے صرف اشتہارات اور اخبارات میں تصویریں اور خبریں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ اس کی طرف سے دہلی کے مسلمانوں کے لیے کوئی ٹھو س کام یا ان کی مدد کی گئی ہو یا کسی غریب مسلم کو قرض دیا گیا ہو، اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ دہلی کے مسلمانوں کے لیے اس سے بڑی بد قسمتی اور کیا ہو سکتی ہے کہ وہ صرف وعدوں سے بہلا دیے جاتے ہیں اور اس کے بعد کچھ نہیں۔ دہلی کے لوگ جو اِن کارپوریشنوں میں ہوتے ہیں، وہ صرف وزیر اعلیٰ کے گھر روزانہ حاضری لگاکر اپنا فرض پورا کرتے رہتے ہیں، ساتھ ہی وزیر اعلیٰ بھی ان سے خوش رہتی ہیں کہ وہ ایک وفادار حاضر باش کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔
مدرسوں اور تعلیمی اداروں کو بھی حکومت جس طرح سہولت پہنچانا چاہتی تھی، ابھی اس نشانے پر پہنچنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کی باز آبادکاری اور ان کے گھر کا خواب بھی پانچ فیصد پورا ہو گیا ہو تو بہت بڑی بات ہوگی۔ مسلمانوںکے لیے منصوبے بنتے رتے ہیں، اسکیمیں نافذ ہوتی رہتی ہیں، لیکن ان کی حالت میں کوئی سدھار نظر نہیں آتا۔ الیکشن کا زمانہ آتے ہی مسلمانوں کی یاد حکومتوں کو ستانے لگتی ہے۔ سبز باغ دکھا کران کا ووٹ حاصل کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں اورپھر انھیں بالکل بھلا دیا جاتا ہے۔ ان کی ترقی، روزگار اور دیگر بنیادی ضرورتوں سے نظر بچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اب چونکہ پھر عام انتخابات کا زمانہ قریب آ رہا ہے، اس لیے امید ہے کہ مسلمانوں کے حوالے سے کچھ خوش کن وعدے بھی کیے جائیں اور تھوڑے بہت ان کے لیے فلاحی کام بھی ہو جائیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *