انا کی تحریک : مسلم سماج کو بھی بدلنے کی تحریک ہے

سنتوش بھارتیہ 

ملک میں نئے سیاسی حالات پیدا ہو رہے ہیں۔ لیکن اس کے اوپر ممبئی، کولکاتہ، چنئی اور بنگلور میں بیٹھے بڑے پیسے والے اور دہلی سمیت صوبائی راجدھانیوں میں بیٹھے سیاست چلانے والے سیاسی لیڈر دھیان نہیں دے رہے ہیں۔ میں نہ نکسل واد کی وکالت کر رہا ہوں، نہ ماؤ واد کی اور نہ بغاوت کی۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ جیسے حالات پیدا ہو رہے ہیں، اگر انا ہزارے کی بات دہلی، ممبئی، کولکاتہ اور بنگلور میں بیٹھے صنعت کاروں اور سیاست چلانے والوں نے نہیں سنی، تو وہ ملک کو نکسل واد، ماؤ واد یا پھر بغاوت یا انتشار کے حوالے کر دیں گے۔ اسے آج یہ سارے لوگ اَن سنا کر سکتے ہیں، لیکن آئندہ کل ان کے لیے خطرہ بن کر آنے والا ہے۔

ملک کے غریبوں میں سب سے بری اور پس و پیش والی حالت مسلم سماج کی ہے۔ اس نے سالہا سال تک لوگوں کو جتانے یا ہرانے کا کام کیا، لیکن اسے خود کیا چاہیے، اس کا اس نے فیصلہ ہی نہیں کیا۔ انا ہزارے کی آواز پر مسلم سماج کا ایک بڑا حصہ یہ سوچنے لگا ہے کہ اسے بھی تبدیلی کے لیے شروع ہونے والی اس نئی تحریک میں نہ صرف برابر کی حصہ داری کرنی چاہیے، بلکہ تعلیم، روزگار اور ملک کی زندگی پر اثر ڈالنے والے سوالوں کو طے کرنے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔ مسلم نوجوان، لڑکے، لڑکیاں پرانی زنجیروں سے آزاد ہونا چاہتے ہیں اور یہ چھٹپٹاہٹ مسلم سماج کے اندر ہونے والی تبدیلی کا خوش نما اشارہ ہے۔

ملک میں تقریباً 272 ضلعے نکسل واد کی چپیٹ میں ہیں۔ 1992 میں جب منموہن سنگھ وزیر خزانہ بنے تھے، تب لگ بھگ 55 یا 60 ضلعے نکسل واد کی چپیٹ میں تھے۔ اس وقت منموہن سنگھ نے کہا تھا کہ آنے والے 20 سالوں میں اس ملک میں بجلی آئے گی، سڑکیں بنیں گی، روزگار پیدا ہوں گے اور غریبی کم ہوگی۔ ان دلیلوں کے ساتھ انہوں نے بہت سارے وعدے ملک کو خوش حال بنانے کے پارلیمنٹ میں کیے تھے، کیوں کہ اسی کے ساتھ ملک میں بازار پر مبنی نیو لبرل ازم کی پالیسیاں نافذ ہوئی تھیں۔ ان پالیسیوں کے نافذ ہونے کے ساتھ آئین کے بنیادی مقاصد کی شکست ہو گئی۔ ہمارے آئین نے ملک میں رہنے والے ہر شہری کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کا ذمہ سرکار کو دیا تھا۔ آئین میں عوامی فلاحی ریاست (ویلفیئر اسٹیٹ) کا تصور ہے اور سماجوادی معاشرہ کی تعمیر کا اعادہ کیا گیا ہے، لیکن منموہن سنگھ نے اس وقت کے وزیر اعظم نرسمہا راؤ کی قیادت میں جو پالیسیاں نافذ کیں، انہوں نے آئین کے اس بنیادی مقصد کو بدل دیا اور ملک کے عوام کو اس کا احساس بھی نہیں ہونے دیا۔ جس متوسط طبقہ پر یہ ذمہ داری تھی کہ وہ اس طریقے سے چالاکی سے کیے گئے بدلاؤ کو ملک کو بتائے، وہ خود اس فریب میں پھنس گیا کہ اس کے بچے امریکہ جائیں گے اور اس کے گھر میں خوش حالی اور پیسوں کی بہتات ہو جائے گی۔
اسی فریب میں ملک کا میڈیا بھی پھنس گیا۔ کسی نے اس بات پر دھیان نہیں دیا کہ ملک میں بے روزگاری کے اعداد و شمار دن دونی رات چوگنی کی شرح سے بڑھے ہیں، کسان کی کھیتی برباد ہوئی ہے اور کسان کھیتی چھوڑ کر شہروں کی طرف بھاگ رہا ہے۔ کھیتی گھاٹے اور قرض کا ایک اندھا کنواں بنتی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے لاکھوں کسانوں نے خود کشی کر لی۔ غیر ملکی سرمایہ آیا، لیکن ترجیحی سیکٹر کی جگہ کنزیومر سیکٹر میں لگا، جس کی وجہ سے کسانوں کی زمین چھیننے کی مہم سرکار کی مدد سے بڑے سرمایہ داروں نے شروع کر دی۔ ملک کے نوجوانوں کو پڑھنے کے بعد بھی روزگار نہیں ملا اور ان کی آواز بھی میڈیا نے اَن سنی کر دی، بلکہ نوجوانوں کو مذہب کے نام پر بانٹنے کی کوشش کی گئی۔ آج نوجوان خود کو ٹھگا ہوا محسوس کر رہے ہیں۔ مزدوروں کا حال تو اور برا ہے۔ ان کی تنظیمیں بے دم ہو چکی ہیں، اور انہیں پیداوار کے منافع میں حصہ داری نہیں ملتی اور وہ اپنی آواز بھی نہیں اٹھا پاتے۔
مہنگائی نے ملک میں جو ہاہاکار مچایا ہے، اس ہاہاکاری کی آواز نہ پیسے والوں کے کانوں میں پہنچ رہی ہے، نہ سیاست دانوں کے اور نہ ہی نوکر شاہوں کے۔ ان تینوں کا یہ ماننا ہے کہ جتنی مہنگائی بڑھے گی، اس سے پریشان ہو کر متوسط طبقہ کا وہ حصہ جو نوکری پیشہ ہے، بدعنوانی میں زیادہ ملوث ہوگا، کیوں کہ اسے اپنا گھر چلانا ہے اور اس کے بدعنوانی میں ملوث ہونے سے سیاسی لیڈروں، سرمایہ داروں اور نوکر شاہوں کی بدعنوانی کو ایک مدلل راستہ ملے گا اور وہ کہہ سکیں گے کہ بدعنوانی تو سب جگہ ہے۔ مہنگائی نے لوگوں کی زندگی کو جہنم بنا دیا ہے اور مزے کی بات ہے کہ سیاست میں وہ، جو اپوزیشن میں ہیں اور میڈیا، جس کے اوپر تکلیف کو سامنے لانے کی ذمہ داری ہے، دونوں ہی اندھے اور بہرے ہو چکے ہیں۔
بدعنوانی کا تجزیہ کرنا یا یہ بتانا کہ وہ کہاں ہے اور کہاں نہیں ہے، آج بے مطلب ہو گیا ہے۔ 1992 کے بعد بازار نے اور سرکار نے منصوبہ بند طریقے سے ملک میں ایسی اسکیمیں نافذ کیں، جن سے روزگار کے مواقع نہیں بڑھے، لیکن لوگوں کو بدعنوانی میں ملوث ہونے کی افیم سرکار نے گاؤں گاؤں پہنچا دی۔ غریبوں کے لیے ایسی اسکیمیں بنیں، جن سے ان میں محنت کرنے کی اور اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کی خواہش ختم ہوگئی۔ وہ اس بدعنوانی کا حصہ بن گئے، جس میں پھنس کر ان کی مردانگی کو لقوہ مار گیا۔ کل ملا کر اس ملک میں بدعنوانی کے خلاف کوئی آواز نہ اٹھ سکے، اس کا ماحول بازار اور سرکار نے مل کر بنا دیا۔ تعلیمی نظام کا ڈھانچہ جان بوجھ کر توڑا گیا۔ طبی خدمات کو جان بوجھ کر بدحال کیا گیا۔ ایسا اس لیے کیا گیا، تاکہ غیر ملکی سرمایہ گاؤں گاؤں میں جائے اور گاؤں میں دو فیصد لوگوں کو مہنگی تعلیم اور مہنگی طبی خدمات کا فائدہ ملے اور باقی لوگ ان کے غلام بن جائیں۔ 1992 سے لے کر آج تک ایسا ہی ہو رہا ہے اور چونکہ اخبار صرف راجدھانیوں تک مرکوز ہو کر رہ گئے ہیںاور ان کے مالک پیسے کمانے کھانے کے کھیل میں سرکار، سرمایہ دار، نوکر شاہ کے چوتھے حصہ دار بن گئے ہیں، اس لیے اخباروں میں، ملک میں اس لوٹ اور نا انصافی کے خلاف چل رہی لڑائیوں کی آواز نہیں آتی اور ٹیلی ویژن چینل جان بوجھ کر نان ایشو کو ایشو بنانے میں لگے رہتے ہیں۔ لوگوں کی تباہی کو انہوں نے تفریح کا سامان بنا دیا ہے۔
ملک کے غریبوں میں سب سے بری اور پس و پیش والی حالت مسلم سماج کی ہے۔ اس نے سالہا سال تک لوگوں کو جتانے یا ہرانے کا کام کیا، لیکن اسے خود کیا چاہیے، اس کا اس نے فیصلہ ہی نہیں کیا۔ انا ہزارے کی آواز پر مسلم سماج کا ایک بڑا حصہ یہ سوچنے لگا ہے کہ اسے بھی تبدیلی کے لیے شروع ہونے والی اس نئی تحریک میں نہ صرف برابر کی حصہ داری کرنی چاہیے، بلکہ تعلیم، روزگار اور ملک کی زندگی پر اثر ڈالنے والے سوالوں کو طے کرنے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔ مسلم نوجوان، لڑکے، لڑکیاں پرانی زنجیروں سے آزاد ہونا چاہتے ہیں اور یہ چھٹپٹاہٹ مسلم سماج کے اندر ہونے والی تبدیلی کا خوش نما اشارہ ہے۔
لیکن کیا یہی سچائی ہے؟ میں ممبئی، کولکاتہ، چنئی اور بنگلور میں بیٹھے بڑے پیسے والوں، جن میں سر فہرست نام مکیش امبانی، انل امبانی کا ہے، کمار منگلم بڑلا کا ہے، رتن ٹاٹا کا ہے، بجاج کا ہے، باقی نام آپ خود جوڑ سکتے ہیں، انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ اگر آپ کی نیو لبرل پالیسیوں کا فائدہ ہندوستان کے عوام کو ہوا ہوتا، تو 60 سے بڑھ کر 20 سالوں میں 272 ضلعے نکسل واد سے متاثر نہیں ہوئے ہوتے۔ راجدھانیوں کے باہر نہ سڑکیں ہیں، نہ اسپتال ہیں، نہ اسکول ہیں، نہ روزگار کے وسائل ہیں اور نہ ہی کوئی مستقبل میں انہیں ملنے کی امید ہے۔اس لیے ان 272 ضلعوں کے 400 ضلعوں میں بدلنے کا امکان قوی ہے۔ نکسل واد کا فلسفہ عوام کو یہ بتا رہا ہے کہ سرکار، سیاسی لیڈر، پیسے والے اور میڈیا ان کی تکلیفوں کو کبھی دور نہیں کریں گے، اس لیے انہیں ہاتھ میں اسلحہ اٹھا کر اس نظام کا بائیکاٹ کرنا چاہیے۔ سرکار، سیاسی لیڈر اور پیسے والوں کے ذریعے کیے جا رہے کام نکسل وادیوں کی دلیل کی حمایت میں عوام کو کھڑا کر رہے ہیں۔
یہیں پر انا ہزارے کی افادیت نظر آتی ہے۔ انا ہزارے گاندھی وادی ہیں، 75 سال کے ہیں اور وہ ملک کی اس صورتِ حال سے دکھی ہیں۔ اسی لیے، جب انہوں نے 2011 میں بھوک ہڑتال کی تو سارا ملک ان کے ساتھ کھڑا ہوگیا۔ انا ہزارے کا کہنا ہے کہ اس ملک میں ایسی پارلیمنٹ چاہیے، جو عوام کے تئیں جوابدہ ہو۔ عوام کے تئیں جوابدہی کا مطلب ہے کہ نظام کو اس طرح فوری طور پر بدلا جائے کہ نظام عام آدمی کے حق میں کھڑا ہو۔ انا ہزارے کا کہنا ہے کہ گاؤں کو ایک با اختیار اکائی بنایا جائے اور ایک بلاک کے گاؤوں کی فیڈریشن بنے، تاکہ ایک گاؤں میں جس چیز کی کمی ہو، اسے دوسرے گاؤں کے وسائل سے پورا کیا جائے۔ سارے بلاکوں کے گاؤوں کا آپس میں تال میل ہو اور ضلع آخری کو آرڈی نیشن کی اکائی ہو۔ ہر گاؤں میں پانی، کھیتی، فصل کی مارکیٹنگ کا انتظام ہو اور وہاں پر روزگار کے وسائل ہوں۔ ان کا کو آرڈی نیشن ضلع میں بیٹھا آئی اے ایس افسر کرے اور اگر ضلع میں ایک بھی آدمی بے روزگار رہتا ہے، ایک بھی بھوکا مرتا ہے، کسی کی بھی فصل برباد ہوتی ہے یا کہیں پر پانی دستیاب نہیں ہوتا، تو اس کے کریئر کا خاتمہ وہیں مان لینا چاہیے۔ گاؤں اپنی ترقی کا منصوبہ بناکر ضلع کی سطح پر آپس میں کو آرڈی نیشن کریں۔ ضلع فیصلہ لینے والی اکائی نہ ہو، بلکہ کو آرڈی نیشن کرنے والی اکائی ہو۔ ضلع میں اسکول، اسپتال، سڑکیں، پل، کمیو نی کیشن اور بازار کے نظام کا نیٹ ورک تیار کرنے کا ذمہ ڈسٹرکٹ کو آرڈی نیشن یونٹ کے اوپر ہو

انا کا یہ بھی کہنا ہے کہ بغیر ذات، مذہب، مسلک کا فرق کیے ہوئے ملک کو کھڑا کرنے میں جو بھی افسر رکاوٹ بنتا ہے، اسے فوراً سبک دوش کرکے اس کے گھر بھیج دیا جانا چاہیے۔ نوجوانوں کو نہ صرف روزگار ملے، بلکہ انہیں فیصلہ کن جگہوں میں حصہ داری بھی ملے، یہ ضروری ہے۔ انا ہزارے کا کہنا ہے کہ اگر 18 سال کی عمر میں نوجوان کو فوج میں بھیج کر، سرحد پر جا کر جان دینے کی توقع سماج کرتا ہے، تو اس نوجوان کے اوپر فیصلہ لینے والی اکائیوں میں شامل کرنے کا بھروسہ بھی سماج میں ہونا چاہیے۔ انا کا کہنا ہے کہ آج ایسے ماہرین اقتصادیات کی بھرمار ہے، جو بازار پر مبنی سماج کو بانٹنے والے راستوں کی تلاش کرتے ہیں۔ انہوں نے ایسے ماہرین اقتصادیات سے اپیل کی ہے، جو آج کے چنوتی سے بھرے ماحول میں گاؤں کو بنیادی اکائی مان کر نئی اقتصادیات کا خاکہ ملک کے سامنے پیش کریں۔ ملک کے جل (پانی)، جنگل، زمین کو بچاتے ہوئے صنعتوں کا ایسا جال بچھے، جس میں ملک کے کچے مال کا پورا استعمال ہو سکے۔ انا کا یہ بھی کہنا ہے کہ آٹھویں کلاس کے بعد تعلیم روزگار دلانے لائق ہو اور ہر اسکول کے ساتھ کالج، کالج کے ساتھ پروڈکشن یونٹ بھی بنائی جائے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی رپورٹ کے حساب سے اگلے 20 سالوں تک ہمارے ملک میں دودھ اور دودھ پر مبنی اشیاء کی کمی رہنے والی ہے، اس لیے ندیوں کے کنارے کے سارے اسکول اور کالجوں کو دودھ اور دودھ پر مبنی صنعتوں کے ساتھ جوڑ دینا چاہیے۔ ان اسکولوں اور کالجوں کو یہ ذمہ داری سونپنی چاہیے کہ وہ اگلے سال بھر میں پانچ یا دس میل کے دائرے کے اندر کسی کو بھی اَن پڑھ نہ رہنے دیں۔ ان اسکولوں اور کالجوں میں تیار کیے گئے مال کو کوالٹی کنٹرول کی بنیاد پر سرکار خریدے، کیوں کہ سرکار کے پاس فوج، نیم فوجی دستے سمیت بہت ساری ایسی تنظیمیں ہیں، جہاں پر ان اشیاء کی کھپت ہو سکتی ہے۔ انا کا کہنا ہے کہ اس سے فوری طور پر کروڑوں لوگوں کو نہ صرف روزگار ملے گا، بلکہ انہیں با اختیار بننے کا حوصلہ بھی ملے گا۔ اسی طرح صحت کا ڈھانچہ جس بھی ضلع میں کمزور ہوتا ہے، اس ضلع کے افسروں کو اس کی سزا بھگتنی پڑے گی۔ انا کا یہ سوچنے کا ڈھنگ بتاتا ہے کہ یہ نظام میں تبدیلی کے پہلے قدم ہیں اور انا نظام میں تبدیلی کی بات اس لیے کہہ رہے ہیں، کیوں کہ وہ نہیں چاہتے کہ اس ملک میں بغاوت یا افرا تفری پھیلے۔ وہ نہیں چاہتے کہ اس ملک میں فساد ہوں۔ وہ نہیں چاہتے کہ اس ملک میں قتل عام ہو۔ انا کے بتائے ہوئے یہ اشارے ملک کے سبھی طبقوں کے غریبوں، محروموں کے اندر ایک نئی امید جگاتے ہیں۔ جس طرح سے انا کو پورے ملک میں حمایت مل رہی ہے، اس سے لگتا ہے کہ ملک میں اب جو پارلیمنٹ آئے گی، وہ ایسے قدم اٹھانے کے لیے بہت سارے قوانین کو ختم کرے گی اور نئے قانون بنائے گی۔ انا کا کہنا ہے کہ تمام سیاسی پارٹیوں کو ان سوالوں پر اپنا رخ صاف کرنا چاہیے۔ ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ لوک سبھا کے امیدواروں کو ایک پختہ عدالتی حلف نامہ (افیڈیوٹ) دینا چاہیے کہ میں ان اصولوں کے اوپر کام کروں گا اور اگر میں ان کے اوپر کام کرتا ہوا نہ پایا جاؤں تو میرا استعفیٰ لوک سبھا کے اسپیکر قبول کر لیں۔ شاید یہ رائٹ ٹو ریکال کا پہلا قدم ہو سکتا ہے۔ اگر کسی حلقہ کے 35 فیصد ووٹر کہیں کہ انہیں اپنے نمائندہ پر بھروسہ نہیں ہے، تو اس نمائندہ کو ریکال کے لیے اس کے حلقہ میں دوبارہ ووٹنگ کرائی جائے۔ یہاں ایک نیا امکان دکھائی دیتا ہے۔ اگر ملک کی سیاسی پارٹیاں انا کے ذریعے اٹھائے گئے ان سوالوں پر خاموش رہتی ہیں یا ان کی مخالفت کرتی ہیں، تو پھر ملک میں ایک نئی سیاسی تحریک کا آغاز ہو سکتا ہے، جس میں عوام خود ایک سیاسی پارٹی کی شکل میں بدل جائیں اور ایسے امیدوار منتخب کریں، جو اُن کے لیے حقیقتاً ایک نئے نظام کی تشکیل کرے۔
میں ایک صحافی کے ناتے، سماجیات کا طالب علم ہونے کے ناتے دہلی، ممبئی، کولکاتہ، چنئی میں بیٹھے بڑے پیسے والوں اور تمام سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں سے یہ اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ آج وقت ہے کہ وہ انا ہزارے کی بات سنیں، کیوں کہ انا ہزارے کی بات اس ملک کے سو کروڑ لوگ سن رہے ہیں۔ ان کے ساتھ جنرل وی کے سنگھ، پی وی راج گوپال، راجندر سنگھ اور مولانا سید صوفی جیلانی جیسے لوگ ملک میں گھومنا شروع کر چکے ہیں۔ جتنی بھی تنظیمیں ملک میں اس صورتِ حال کے خلاف تنہا تنہا جد و جہد کر رہی ہیں، اب وہ انا ہزارے کی قیادت میں متحد ہونے کا پیغام بھیج رہی ہیں۔ اتنا ہی نہیں، سیاسی پارٹیوں کے اندر بھی جو حساس لوگ ہیں، وہ بھی انا ہزارے کو پیغام بھیج رہے ہیں کہ وہ ان کی مہم میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ انا ہزارے نے ان کے لیے ایک حلف نامہ بنانے کی شروعات کی ہے کہ اگر وہ اس تحریک میں شامل ہوتے ہیں، تو انہیں کن کن چیزوں کا حلفیہ وعدہ عوام سے کرنا ہوگا اور یہیں سے جن تنتر امیدوار کا اصول بھی تیار ہوتا دکھائی دیتا ہے۔
اگر آج ملک کے صنعت کار، ملک کے سیاسی لیڈر اور ملک کے بیورو کریٹ انا کی آواز سنتے ہیں اور نیا نظام لانے میں مدد کرتے ہیں، تو ان کی جانیں بچ جائیں گی۔ ملک ایک خطرناک موڑ پر کھڑا ہے۔ عقلمند رہنما وہ ہوتا ہے، جو اگلے 20 سالوں میں ہونے والے واقعات کا اندازہ لگا سکے اور ان کے حساب سے ملک کو تیار کر سکے۔ ایسے ہی لوگ تاریخ میں اچھے لیڈر کے روپ میں یاد کیے جاتے ہیں، ورنہ تاریخ کے جوتے کھانے والے لیڈروں کی لسٹ میں شامل ہو جاتے ہیں۔ آج ملک کے لیڈروں اور پیسے والوں کو طے کرنا ہے کہ وہ اس ملک میں سبھی لوگوں کے لیے بہتر نظام کی تشکیل کی انا کی کوشش کی حمایت کرتے ہیں یا پھر ملک کو خانہ جنگی، بغاوت اور انتشار کی چپیٹ میں ڈالنے کی سازش کے حصہ دار بنتے ہیں۔
30 جنوری اس ملک کے لوگوں کے امتحان کا دن ہے۔ اگر بنا سہولت دیے انا کی تبدیلی کی آواز پر پٹنہ کے گاندھی میدان میں صرف 50 ہزار لوگ بھی پہنچتے ہیں، تو یہ ان لوگوں کے لیے آخری وارننگ ہوگی، جو عوام کے مفادات کے خلاف کھڑے ہیں، جو نوجوانوں کا مستقبل برباد کر رہے ہیں اور جو اس سیاسی نظام کو بنائے رکھنا چاہتے ہیں، کیوں کہ بہرے کانوں کو انقلاب کی آواز سنانے کا دن 30 جنوری طے ہو چکا ہے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *