اشتہار اور عورت

سامعہ جمال 
لڑکی ترقی کب پاتی ہے؟جب وہ خوبصورت ہوتی ہے۔ اگر لڑکی خوبصورت ہے تو وہ ڈاکٹر بن سکتی ہے،انجینئر بن سکتی ہے، اس کی شادی جلدی ہو جائے گی، ترقی بھی تبھی پائے گی جب دیکھنے میں خوبصورت ہویعنی کہ اگر ایک لڑکی کو اچھی زندگی گزارنی ہے تو اسے خوبصورت ہونا ہی پڑے گا۔ لیکن اتفاق کی بات تو یہ ہے کہ نہ تو کلپنا چائولہ خوبصورت تھیں اور نہ ہی برکھا دت خوبصورت ہیں۔ ان دونوں ہستیوں کو کبھی بھی زیادہ میک اپ میں نہیں دیکھا گیا۔ وہیں مثال Oprah winfrey کی بھی ہے۔ یہ ٹی وی پر اچھی تو لگتی ہیں لیکن خوبصورتی تو ان کی باتوں میں جھلکتی ہے۔ وہیں مثال میکائل اوبامہ کی ہے۔ اگر وہ باراک اوباما کی بیوی نہ ہوتیں تو کیا ہم انہیں خوبصورتی کی قطار میں کبھی لاتے۔ ہندوستان میں لڑکے اورلڑکیوں کے تناسب میں کافی فرق ہے۔ لڑکے زیادہ اور لڑکیاں کم ہیں۔ لڑکیوں کے کم ہونے کے باوجود بھی ان کا خیال نہیں رکھا جاتا ہے۔ کسی حد تک گھر والے تو ذمہ دار ہیں ہی لیکن ہمارے یا پھر دنیا کے کسی بھی ملک میں بن رہے اشتہار سب سے زیادہ ذمہ دار ہیں۔اشتہاروں میں جس طرح عورتوں، لڑکیوں اور بچیوں کو دکھایا جاتا ہے وہ کافی افسوسناک ہے۔ اشتہاروں میں عورتوں کو صرف خوبصورت دکھایا جاتا ہے۔ ان کے ذہن یا پھر کئے گئے کسی اچھے کام کی قدر نہیں ہوتی۔ حال ہی میں بنے ایک چوکلیٹ کے اشتہار میں عورتوں کو صرف پریشانی کی طرح دکھایا گیا ہے ۔ کافی افسوس ہوتا ہے یہ دیکھ کر۔( ربیعہ اسلام ، ٹیچر کلاس 10 اور 12 شمس پبلک اسکول،غازی آباد)

ایشوریہ رائے موٹی ہوکر خراب لگ رہی ہیں۔ اس بات کو کئی جگہ دکھایا گیا۔ لیکن ایشوریہ رائے نے کتنے اچھے کام کئے اس کے بارے میں اشتہاروں میں نہیں بتایا گیا۔مثال کے طور پر ہم ہیلر ی کلنٹن کو بھی لے سکتے ہیں۔ جب یہ باراک اوباما کے خلاف کھڑی ہوئیں تو پوری دنیا کے اشتہاروں میں یہ باتیں کہی گئیں: ہیلری نے باراک اوباما کو ٹھیک سے نہیں دیکھا، ہیلری نے کیا پہنا تھا،ہیلری کی قابلیت ہی کیا ہے،آخر ان کے پاس شوہر کے نام کے علاوہ اور ہے ہی کیا۔

ہم اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ اشتہاروں میں وہ بتایا یا دکھایا جاتا ہے جو سماج میں ہو رہا ہوتا ہے لیکن یہ تو کہنے کی باتیں ہیں۔ اشتہاروں میں وہ دکھایا جاتا ہے جیسا کہ کمپنیاں چاہتی ہیں ۔ اشتہار ان کے ذہن کی اپج ہوتے ہیں، سماج کی نہیں۔ آخر اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو اپنا سامان کیسے بیچیں گے؟ان کا اصل مقصد تو سامان بیچنا ہے، چاہے جیسے بکے، لیکن اس خود غرضی سے بنائے گئے اشتہار ہمارے سماج کی بہو بیٹیوں کوبہت حد تک متاثر کرتے ہیں ۔
ایشوریہ رائے موٹی ہوکر خراب لگ رہی ہیں۔ اس بات کو کئی جگہ دکھایا گیا۔ لیکن ایشوریہ رائے نے کتنے اچھے کام کئے اس کے بارے میں اشتہاروں میں نہیں بتایا گیا۔مثال کے طور پر ہم ہیلر ی کلنٹن کو بھی لے سکتے ہیں۔ جب یہ باراک اوباما کے خلاف کھڑی ہوئیں تو پوری دنیا کے اشتہاروں میں یہ باتیں کہی گئیں: ہیلری نے باراک اوباما کو ٹھیک سے نہیں دیکھا، ہیلری نے کیا پہنا تھا،ہیلری کی قابلیت ہی کیا ہے،آخر ان کے پاس شوہر کے نام کے علاوہ اور ہے ہی کیا۔اشتہاروں میں چھپی باتیں تو چلئے کسی حد تک ٹھیک مان بھی لی جائیں، لیکن حد تو تب ہو گئی جب ہیلری کلنٹن پر بنے کھلونے بازار میں آگئے۔ ستم یہ بھی رہا کہ انہیں کئی نیوز پروگرام میں Bitch کہہ کے بلایا گیا۔ یو ایس اے میں ہوئے ایک ریسرچ سے نیچے دی گئی باتیں کافی سوچ میں ڈالنے والی ہیں:امریکہ میں 13 سال کی 53 فیصد لڑکیاں اپنے جسم کی بناوٹ سے خوش نہیں ہیں۔17سال تک پہنچتے ہوئے یہ اعدادو شمار 78 فیصد ہوجاتے ہیں۔17 فیصد لڑکیاں خوبصورت نہ دکھنے پر خود کو چوٹ پہنچاتی ہیں۔ 2000-2010 تک ڈپریشن کی مریض دوگنی ہو گئیں۔امریکہ کے Dr. Condolezza Rice امریکہ کی سابق سکریٹری ہیں کہتی ہیں کہ ’’ یہ باتیں صرف امریکہ ہی نہیں ،پوری دنیا کو نقصان پہنچا رہی ہیں ۔ اشتہاروں کے پیغام کافی مؤثر ہوتے ہیں، لیکن ان کا استعمال صحیح طریقے پر نہیں ہوتا۔ آئیے یو ایس اے کے چند اعدادو شمار دیکھتے ہیں:۔2009 میں کل پیسہ جو اشتہار بنانے میں لگایا گیا وہ ہے 12958 کروڑ روپے۔عورتیں سجانے سنوارنے کے سامان پر ایک سال میں 600000-800000 روپے لگاتی ہیں۔19 سال سے کم عمر کی لڑکیوں پر کاسمیٹک سرجری 1997 سے2007 تک تین گنی بڑھ گئی۔ ایک فیس لفٹ کی قیمت 6 لاکھ روپے ہیں۔
یہی پیسہ اگر ہم دیکھیں تو 12958 کروڑ کئی ملکوں کا GDP ہے اور وہیں 7 لاکھ میں ایک لڑکی کی پوری پڑھائی ہو سکتی ہے۔یہاں پر ہم امریکہ کے اعدادو شمار اس لئے زیادہ لے رہے ہیں کیونکہ امریکہ ایک طاقتور ملک ہے۔ یہاں کی آبادی میں 51 فیصد عورتیں ہیں۔ ان میں سے صرف 17 فیصد سیاست میں آتی ہیں۔ 1979 سے کسی بھی عورت نے سیاسی طور پر ترقی نہیں کی ہے۔ حیران کرنے والی بات تو یہ بھی ہے کہ 67ملکوں میں کبھی نہ کبھی عورتیں صدر یا پھر وزیراعظم رہی ہیں لیکن امریکہ میں آج تک نہیں۔
اشتہاروں میں جس طرح کی عورتیں دیکھنے کو ملتی ہیں وہ صرف خوبصورت ہوتی ہیں۔ ان اشتہاروں سے ہمارے گھر کی بچیوں اور عورتوں کو صرف یہ سمجھ میں آتا ہے کہ انہیں خوبصورت ہی لگنا ہے، اس کے لئے انہیں اپنا کافی وقت، پیسہ اور ذہن اسی کام میں لگانا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 2008-09 تک جب ہندوستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں ڈپریشن آیا تو کاسمیٹک انڈسٹری کو کوئی نقصان نہیں ہوا۔ اس بات سے کہیں نہ کہیں عورتیں خود بھی واقف ہیں کہ وہ خود کو صرف ایک سامان یا چیز کی طرح دکھتی ہیں۔صرف خوبصورتی کو مقصد بنا کر عورت ذات اپنے ساتھ کافی زیادتی کرتی ہیں۔ ان کے اندر جس طرح کے جذبات اور خیال آنے لگتے ہیں وہ کافی ڈرانے والے ہیں:۔مثلاً خود کو سامان کی طرح دیکھنا۔ آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرنا۔ اپنی سمجھ سے کام نہ لینا۔ذہنی طور پر آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرنا۔اشتہاروں میں عورتوں کو خوبصورت ہی نہیں، کئی اور پہلوئوں سے بھی دکھایا جاتا ہے جیسے کہ سجاوٹ کا سامان، بیوقوف، لالچی، چالاک، دھوکہ باز،ہر وقت رونے والی اور پریشانی کی وجہ۔وہیں پر مردوں کو عقلمند،پیسے والا اور عزت دار دکھایا جاتا ہے۔مرد کو کبھی بھی روتے ہوئے نہیں دکھایا جاتا۔مردوں کو روتے ہوئے نہ دکھانے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ انہیں جذباتوں پر قابو ہے۔
ہیلری کلنٹن (67ویں سکریٹری آف اسٹیٹ امریکہ) اندرا نووی (سی ای او آف پیپسی کو) اندریا جنگ (سی ای او Avon)کا ماننا ہے کہ اشتہاروں سے زیادہ تر بے چینی اور پریشانی بڑھتی ہے۔ چاہے وہ عورت کے لیے ہو یا مرد کے لئے۔
اشتہار بنتے ہی اس لئے ہیں کہ لوگوں کے اندر احساس کمتری جگائیں۔ بس فرق یہ ہے کہ اشتہار عورتوں کو ایک سامان کے طور پر یا پھر مردوں سے کم دکھاتے ہیں۔ ایسا کرکے وہ کہیں نہ کہیں اپنے ہونے کا احساس کرواتے ہیں۔ اگر وہ ایسا نہ کریں تو ان کے ذریعہ بیچا گیا سامان بکے گا نہیں۔ اب یہ ایک عورت کے ہی اوپر ہے کہ وہ خود کو ان سب باتوں سے متاثر کرتی ہیں یا نہیں۔
ہمارے سماج میں ڈاکٹر سنتھا سنہا اور زویا حسن جیسے لوگ بھی ہیں۔ یہ وہ ہستیاں ہیں جو ذہنی صلاحیت کو ہی خوبصورتی مانتی ہیں۔ آخر خوبصورتی چہرے میں ہی نہیں بستی،خوبصورتی تو ایک انسان کی سیرت میں ہے اور ہیرے کی پرکھ ایک جوہری ہی کر سکتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *