اب اس طوفان کو روکنا مشکل ہے

ڈاکٹر منیش کمار
ایک بار لکھنؤ میں وزیر اعلیٰ کے دفتر کے باہر زبردست مظاہرہ ہوا۔ یہ لوگ پوروانچل کے الگ الگ شہروں سے لکھنؤ پہنچے تھے۔ احتجاجیوں کی تعداد تقریباً 1500 رہی ہوگی۔ اس میں کسان، مزدور اور اسٹوڈنٹ لیڈر بھی تھے، جو اپنی تقریروں میں وزیر اعلیٰ کے خلاف آگ اگل رہے تھے۔ یہ سب اپنی تقریروں میں سیدھے وزیر اعلیٰ پر نشانہ لگا رہے تھے۔ اس مظاہرہ کی قیادت سماجوادی لیڈر چندر شیکھر کر رہے تھے۔ یہ مظاہرہ تقریباً دو تین گھنٹے تک چلا۔ دھکا مکی بھی ہوئی۔ یہ لوگ وزیر اعلیٰ سے ملنا چاہتے تھے۔

عصمت دری کے شرمناک حادثہ کے اگلے دن جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے طلبا و طالبات نے دہلی کے منیرکا علاقہ میں راستہ جام کیا، تو یہ کسی کو نہیں لگا کہ یہ تحریک کی شکل میں پورے ملک کو ہلا دے گا۔ سرکار سے اس حادثہ کو سمجھنے میں چوک ہوئی۔ سرکار کو لگا کہ یہ عصمت دری کا چھوٹا واقعہ ہے، معاملہ جلد ہی ٹھنڈا پڑ جائے گا۔ نہ وزیر اعظم سامنے آئے اور نہ وزیر داخلہ اور نہ ہی کوئی یقین دہانی کرائی گئی۔ لوگوں کا غصہ بڑھتا گیا۔ نوجوانوں نے جب پہلے دن کینڈل مارچ کیا، اس وقت اگر سرکار کی طرف سے کوئی ٹھوس یقین دہانی کرائی جاتی، تو شاید بات یہاں تک نہیں پہنچتی۔

ان کی کچھ مانگیں تھیں اور یہ لوگ وزیر اعلیٰ سے مل کر اپنی مانگ ان کے سامنے رکھنا چاہتے تھے۔ اس وقت اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ تھے وشو ناتھ پرتاپ سنگھ۔ احتجاجیوں کے کچھ لیڈروں کو وزیر اعلیٰ سے ملنے کے لیے بلایا گیا۔ جب وی پی سنگھ سے ان کا سامنا ہوا، تو پہلا سوال وی پی سنگھ نے چندر شیکھر جی سے یہ پوچھا کہ سویرے سے آپ لوگ اپنے گھر سے چلے ہیں، کھانے پینے کا انتظام تو آپ لوگوں نے کیا نہیں ہے۔ چندر شیکھر جی غصے میں تھے، انہوں نے کہا کہ ہم آپ کے سامنے اپنی مانگ رکھنے آئے ہیں، باقی آپ جانئے۔ اس پر وی پی سنگھ نے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ آپ لوگ سویرے سے بھوکے ہیںاور آپ لوگوں نے کھانے پینے کا انتظام بھی نہیں کیا ہے۔ یہی سوچ کر میں نے کھانے پینے کا انتظام پہلے سے ہی کر رکھا ہے، اس لیے پہلے کھانا کھا لیجئے، پھر بات چیت کریں گے۔ انہوں نے اپنے اہل کاروں سے سارے احتجاجیوں کو کھانا کھلانے کے لیے کہا، اس کے بعد بات چیت کی۔ یہ واقعہ سیاست میں عام آداب کو ظاہر کرتا ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج یہ آداب ہندوستان کی سیاست سے غائب ہوگئے ہیں، کیوں کہ لیڈروں کی جگہ بونوں نے سیاست کی کمان سنبھال رکھی ہے۔ آج کی سرکار عوام کی تحریکوں کا ایک ہی جواب جانتی ہے، یعنی ظلم و جبر۔ پہلے تحریک کرنے والوں کو روکنا، پھر پانی برسانا اور اس سے بھی نہ مانیں تو ان پر پولس کی لاٹھی برسانا۔ شکر ہے ابھی گولیاں نہیں چلی ہیں۔
ایسا اس لیے ہو رہا ہے کیو ںکہ مقننہ، عاملہ اور عدلیہ لوگوں کی امیدوں کے مطابق کام نہیں کر رہی ہیں۔ ہندوستان میں جمہوریت کی نئی تعریف رقم کی جا رہی ہے۔ جمہوریت کے اس ڈھانچہ میں عوام کی حصہ داری نہیں ہے۔ پبلک اوپینین کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ غریبوں اور مظلوموں کی کوئی سنوائی نہیں ہے۔ مظلوم طبقہ کا تحفظ نہیں ہے۔ جمہوریت کا یہ نیا روپ ڈرانے والا ہے، کیوں کہ یہ نوجوان ہندوستان کی امیدوں اور خواہشوں کے بالکل برعکس ہے۔ سرکار اور سرکار چلانے والی پارٹی کو اس بات کی بھنک بھی نہیں ہے کہ لوگوں کی سوچ اور ان کے رویے میں آسمان زمین کا فرق ہو گیا ہے۔ افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ جن لوگوں پر ملک کی جمہوریت کو بچانے کی ذمہ داری ہے، انہوں نے اسے آئی سی یو دیا ہے۔ کسی تحریک اور لوگوں کی مانگوں کو دبا دینے کو سرکار جیت سمجھنے لگی ہے۔ اس کے لیے جھوٹ، فریب اور سازش کے استعمال سے بھی کوئی گریز نہیں ہے۔
ملک کے لوگ عصمت دری جیسے گھناؤنے معاملے میں سرکار سے سخت قانون کی مانگ کر رہے تھے، فوری کارروائی چاہ رہے تھے۔ اس کے لیے نوجوان انڈیا گیٹ پر احتجاج کر رہے تھے، تحریک چلا رہے تھے۔ کانگریس پارٹی، میڈیا اور پولس نے ایک کانسٹیبل کی موت کا ایسا تماشہ بنایا کہ پورا ملک سہم گیا، جب کہ جس دن سے کانسٹیبل سبھاش تومر رام منوہر لوہیا اسپتال پہنچے، اسی دن سے یہاں کے ڈاکٹر لگاتار یہ کہہ رہے تھے کہ ان کے جسم پر نہ تو کوئی باہری زخم ہے اور نہ ہی کوئی اندرونی زخم۔ پولس اور سرکار نے میڈیا کی مدد سے ایک سپاہی کی موت کے ذریعے ایک پرامن تحریک کو نہ صرف بدنام کیا، بلکہ یہ الزام بھی لگا دیا کہ تحریک چلانے والوں نے ان کا قتل کیا ہے۔ حالانکہ ابھی اس معاملے میں کورٹ کا فیصلہ آنا باقی ہے، لیکن انتظامیہ کی طرف سے یہی کوشش ہے کہ کسی بھی طرح کچھ لوگوں کو کانسٹیبل سبھاش تومر کی موت کے لیے ذمہ دار بنا کر تحریک میں شامل لوگوں کو شرمسار کیا جائے۔
عصمت دری کے شرمناک حادثہ کے اگلے دن جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے طلبا و طالبات نے دہلی کے منیرکا علاقہ میں راستہ جام کیا، تو یہ کسی کو نہیں لگا کہ یہ تحریک کی شکل میں پورے ملک کو ہلا دے گا۔ سرکار سے اس حادثہ کو سمجھنے میں چوک ہوئی۔ سرکار کو لگا کہ یہ عصمت دری کا چھوٹا واقعہ ہے، معاملہ جلد ہی ٹھنڈا پڑ جائے گا۔ نہ وزیر اعظم سامنے آئے اور نہ وزیر داخلہ اور نہ ہی کوئی یقین دہانی کرائی گئی۔ لوگوں کا غصہ بڑھتا گیا۔ نوجوانوں نے جب پہلے دن کینڈل مارچ کیا، اس وقت اگر سرکار کی طرف سے کوئی ٹھوس یقین دہانی کرائی جاتی، تو شاید بات یہاں تک نہیں پہنچتی۔ لوگوں کی ناراضگی نے تحریک کی شکل اختیار کر لی، جس میں نوجوانوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ سرکار نے بات چیت کے بجائے طاقت کا استعمال کیا۔ ٹھوس یقین دہانی کی جگہ سرکار کی طرف سے پہلا ردِ عمل یہ آیا کہ انڈیا گیٹ کی تحریک میں سماج دشمن عناصر شامل ہیں۔ ان نوجوانوں کا ساتھ دینے بابا رام دیو، جنرل وی کے سنگھ اور اروِند کجریوال بھی میدان میں کود پڑے۔ نوجوانوں کو اس سے تقویت حاصل ہوئی۔ تحریک میں شدت پیدا ہوگئی اور دہلی کے باہر بھی ملک کے الگ الگ شہروں میں جلوس اور مارچ نکلنے لگے۔ ان کی مانگ صرف اتنی تھی کہ سرکار جلد از جلد ملزموں کو سخت سزا دے اور عصمت دری کے خلاف ایک سخت قانون بنے، لیکن سرکار اور پولس کی طرف سے ایسی ایسی دلیلیں دی گئیں، جن سے لوگوں کی ناراضگی اور بڑھتی گئی۔
دراصل، ان سب کے پیچھے کانگریس اور سرکار کی ذہنیت کام کر رہی تھی۔ کانگریس پارٹی اور سرکار کی سوچ یہ ہے کہ ملک میں سب کچھ صحیح چل رہا ہے۔ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ کسی چیز کی کمی نہیں ہے اور ملک کے عوام بہت خوش ہیں، لیکن کچھ لوگوں کو ہنگامہ کھڑا کرنے کی عادت ہے۔

کانگریس کو لگتا ہے کہ یہ سب بدامنی پھیلانے والے لوگ ہیں اور میڈیا کی وجہ سے انہیں لوگوں کی حمایت مل جاتی ہے۔ سرکار چلانے والی پارٹیوں اور اہل کاروں کو یہ پختہ یقین ہے کہ اگر میڈیا اور کیمرہ نہ پہنچے تو ملک میں کوئی تحریک نہ ہو۔ لوگ ٹی وی کیمرے کو دیکھ کر بے تاب ہو جاتے ہیں، ورنہ اس ملک میں کوئی تحریک ہی نہ ہو۔ سمجھنے والی بات یہ ہے کہ ملک میں جس طرح لوگ سڑکوں پر اترنے لگے ہیں، لوگ اپنی ناراضگی جس طرح انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر ظاہر کرنے لگے ہیں، جس طرح آج کے دور میں لوگوں تک میسج پہنچانا آسان ہو گیا ہے، ایسے میں سرکار اب اپنی طاقت کے بل پر سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ نہیں بنا سکتی۔
کانسٹیبل سبھاش تومر کے بارے میں سب سے پہلے دلی پولس کے ایک آفیسر نے یہ بتایا کہ ان پر چاقو سے حملہ کیا گیا ہے۔ وزیر داخلہ تک نے یہ کہہ دیا کہ وہ اسپتال میں زخمی پڑا ہے۔ پولس کمشنر نے تو یہ بھی بتایا کہ سبھاش تومر کے جسم پر کہاں کہاں چوٹیں آئی ہیں۔ لیکن یہ سب اس وقت جھوٹے ثابت ہو گئے، جب فیس بک اور ٹویٹر پر سبھاش تومر کی تصویریں آنے لگیں۔ مجبوراً میڈیا کو بھی ان تصویروں کو دکھانا پڑا۔ اس واقعہ کے چشم دیدایک لڑکا اور ایک لڑکی نے بہادری دکھائی اور سچ کو سامنے رکھا۔ اُدھر رام منوہر لوہیا اسپتال کے ڈاکٹر نے بھی یہ تصدیق کی کہ سبھاش تومر کو پہلا ہارٹ اٹیک تحریک کے دوران ہوا اور پھر دوسری بار ہارٹ اٹیک اسپتال میں اس وقت ہوا، جب ان کی موت ہوئی۔ لیکن پولس نے 8 عام لڑکوں پر قتل کرنے کی کوشش کا معاملہ درج کرکے انہیں گرفتار کر لیا۔ جب انہیں کورٹ میں پیش کیا گیا، تو دلی پولس کوئی بھی ثبوت نہیں دے سکی۔ کورٹ نے انہیں ضمانت دے دی، جب کہ 307 کے معاملے میں ملزموں کو ضمانت نہیں ملتی۔ سوال یہ ہے کہ بغیر ثبوت کے لوگوں پر اس طرح کی سخت دفعات کو لگانے کا کیا مطلب ہے؟
لگتا ہے کہ سرکار نے یہ طے کر لیا ہے کہ جو بھی مخالفت کی آواز کو مضبوط کرے گا، اسے سبق سکھایا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ان آٹھ لڑکوں کے علاوہ پولس نے جنرل وی کے سنگھ، بابا رام دیو، اروِند کجریوال اور منیش سیسودیا پر تشدد بھڑکانے کے معاملے درج کیے، جب کہ یہ سب پرامن طریقے سے مظاہرہ کر رہے تھے۔ جنرل وی کے سنگھ تو لگاتار یہ اپیل کر رہے تھے کہ یہ تحریک پرامن ہے اور انہیں انڈیا گیٹ جانے دیا جائے۔ عجیب بات ہے، ایک طرف لگاتار بدلہ لینے اور سبق سکھانے کی نیت کی وجہ سے سرکار غلطی پر غلطی کرتی رہی اور اس کی ہر چال کا پردہ فاش ہوتا رہا ہے، پھر بھی سرکار نے اس درمیان ایک ایسا فیصلہ لیا، جو یہ دکھاتا ہے کہ ہندوستانی سیاست کو کس قسم کی ذہنیت کا گھن لگ گیا ہے۔ سرکار کا فرمان آیا کہ جنرل وی کے سنگھ کو دی گئی زیڈ – سیکورٹی ہٹا لی گئی ہے۔ میڈیا نے بھی اس خبر کو اہمیت دی، لیکن کسی ٹی وی چینل نے اپنے پرانے ٹیپ کو کھنگالنے کی زحمت نہیں اٹھائی۔ اگر انہوں نے یہ کام کیا ہوتا، تو پتہ چلتا کہ پچھلے کچھ مہینوں میں جنرل وی کے سنگھ ملک کے کئی شہروں میں گئے، کئی تحریکوں میں جنتر منتر پہنچے، رام لیلا میدان گئے، لیکن کہیں بھی ان کے ساتھ کوئی بندوق بردار یا سیکورٹی اہل کار نظر نہیں آتا ہے۔ جنرل وی کے سنگھ جہاں جاتے ہیں، اکیلے ہوتے ہیں۔ جب جنرل وی کے سنگھ کے ساتھ کوئی سیکورٹی نہیں ہے تو پھر سرکار نے کس زیڈ – سیکورٹی کو ہٹانے کا حکم دیا؟ دراصل، یہ معاملہ بھی سرکار کی ذہنیت سے جڑا ہوا ہے۔ سرکار نے جنرل وی کے سنگھ کو بے عزت کرنے کی کوشش کی۔ لیکن ہم نے ٹویٹر پر ایک کمینٹ پڑھا، جس میں لکھا تھا کہ جنرل وی کے سنگھ کو سیکورٹی کی ضرورت نہیں ہے، کیو ںکہ ملک کے لوگ ہی ان کی حفاظت میں لگے ہوئے ہیں۔ زیڈ – سیکورٹی کی ضرورت ان لوگوں کو ہے، جو عوام سے ڈرتے ہیں۔
اس پورے معاملے میں سرکار کی جو کرکری ہوئی ہے، اس کے لیے وہ خود ہی ذمہ دار ہے۔ اس تحریک کے دوران سرکار کے پاس کئی موقعے آئے، جب تحریک کرنے والوں کو مطمئن کیا جاسکتا تھا، لیکن انہیں مطمئن کرنے کی بجائے سرکار نے ایسا رویہ اپنایا، جس سے لوگوں کی ناراضگی بڑھ گئی۔ سب سے پہلا موقع تب آیا، جب تحریک کی شروعات میں ہی سرکار یا پارٹی کے کسی بڑے لیڈر نے یقین دہانی کرائی ہوتی تو مخالفت تحریک کی شکل اختیار نہیں کرتی۔ لیکن کانگریس کا مسئلہ یہ ہے کہ اس پارٹی کے اندر ایسا کوئی نہیں ہے جس کی یقین دہانی پر لوگ بھروسہ کرتے۔ دوسرا موقع تب آیا، جب لوگ انڈیا گیٹ پہنچے۔ تب وزیر داخلہ نے وہاں جاکر تحریک کرنے والے لوگوں سے بات کی ہوتی، تو بھی انہیں بھروسہ ہو جاتا، لیکن انہوں نے ایسا بیان دے دیا، جس سے معاملہ اور بگڑ گیا۔ انہوں نے یہ پیغام دیا کہ ملک کے وزیر داخلہ کا تحریک کرنے والے لوگوں کے پاس جانا ان کی توہین ہے۔ سرکار نے دلی پولس کی لاپرواہی پر کوئی کارروائی کی ہوتی تو بھی لوگوں کو لگتا کہ یہ عوام کی منتخب کی ہوئی سرکار ہے، لیکن سرکار کے سب سے اعلیٰ عہدیدار نے الٹا دلی پولس کمشنر کی پیٹھ تھپتھپا دی۔ سرکار کے پاس آخری موقع تب آیا، جب بابا رام دیو، جنرل وی کے سنگھ اور اروِند کجریوال ایک وقت پر تحریک کرنے والے لوگوں کے ساتھ تھے۔ سرکار انہیں بلا کر بات کر سکتی تھی اور تحریک کرنے والوں کو سمجھانے کی ذمہ داری ان پر چھوڑ سکتی تھی، لیکن سرکار ان لوگوں کو ہی باہری اور سماج دشمن عناصر بتانے کی مہم میں جٹ گئی اور ان کے خلاف تشدد برپا کرنے کا معاملہ درج کر دیا۔ سرکار نے میڈیا کے ذریعے ایک کانسٹیبل کی موت کی جھوٹی کہانی بتا کر تحریک کرنے والوں کے حوصلے کو پست کرنے کی کوشش کی۔ لوگ گھروں میں لوٹ گئے، لیکن سرکار کو یہ سمجھنا پڑے گا کہ ملک کے لوگ پریشان ہیں، مہنگائی، بے روزگاری، بدعنوانی، عوام مخالف پالیسیوں، جل (پانی)، جنگل، زمین کی لوٹ اور سیاسی طبقہ کی بے حسی سے پریشان ہیں۔ لوگ ملک میں بنیادی تبدیلی چاہتے ہیں، اس لیے کوئی چھوٹی سی چنگاری بھی بھیانک آگ میں بدل سکتی ہے۔ ملک تبدیلی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ تبدیلی موجودہ سیاسی پارٹی خود کی ذہنیت کو بدل کر لائے گی یا پھر ملک میں کوئی نئی طاقت پیدا ہوگی، جو لوگوں کی امیدوں کے مطابق نئے ہندوستان کی تعمیر کرے گی۔

سی بی آئی کے گھیرے میں آ سکتے ہیں بی آئی ایف چیئر مین
انیس سو اسی کی دہائی میں ملک کی خستہ مالی حالت کو سدھارنے کے لیے ایک قانون بنایا گیا تھا، جس کا نام تھا سک انڈسٹریل کمپنیز (اسپیشل پروویژن) ایکٹ 1985، یعنی سیکا۔ اسی کے تحت بورڈ آف انڈسٹریل اینڈ فائننشیل ری کنسٹرکشن (بی آئی ایف آر) جنوری 1987 میں قائم کیا گیا تھا۔ سیکا کی نگرانی میں ملک کی سرکاری کمپنیوں کو لایا گیا۔ اس کا بنیادی مقصد تھا بیمار کمپنیوں کی پہچان کرنا اور ان کی بہتری کا علاج ڈھونڈنا۔ بہرحال، بی آئی ایف آر کی اہم ذمہ داری جہاں بیمار صنعتوں کو ٹھیک کرنے کی ہے، وہیں بی آئی ایف آر سے کچھ ایسی خبریں آ رہی ہیں، جو خود بی آئی ایف آر کے بیمار ہونے کی کہانی کہتی ہیں اور خاص کر اس کے چیئرمین کا رول کافی مشکوک نظر آ رہا ہے۔
بورڈ آف انڈسٹریل اینڈ فائننشیل ری کنسٹرکشن کے چیئرمین جس طریقے سے اپنی ریٹائرمنٹ سے پہلے کچھ خاص فیصلے لینے کی کوشش کر رہے ہیں، اس سے کئی لوگوں کی تیوریاں چڑھ گئی ہیں۔ بی آئی ایف آر کے چیئرمین جنوری میں ریٹائر ہونے والے ہیں۔ ایک بہت ہی خاص کیس میں، جس کا تعلق مغربی اتر پردیش کے ایک صنعتی گھرانے سے ہے، بی آئی ایف آر کے چیئرمین ایک فیملی گروپ کو دوسرے فیملی گروپ کے خلاف فائدہ پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سب سے پہلے انہوں نے آئی ڈی بی آئی پر دباؤ بناکر ایسی سفارش دینے کو کہا، جیسا وہ چاہتے تھے۔ حالانکہ آئی ڈی بی آئی ان کے دباؤ میں نہیں آئی۔ اب چیئرمین محترم نے ایک نوٹ تیار کیا ہے اور وہ یہ چاہتے ہیں کہ بی آئی ایف آر کے ان کے ساتھی اس پر دستخط کر دیں، تاکہ وہ اپنے آدمی سے کیے گئے وعدے کو پورا کر سکیں، وہ بھی اپنی ریٹائرمنٹ سے پہلے۔ حالانکہ بی آئی ایف آر ـکے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس نوٹ کی ایک کاپی سی بی آئی کے ہاتھ لگ گئی ہے اور اب چیئرمین محترم سی بی آئی کے شک کے گھیرے میں آ گئے ہیں۔ اگر وہ اس معاملے کو آگے بڑھاتے ہیں، تو یقینا وہ سی بی آئی کے جال میں پھنسیں گے۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *