اتر پردش: اپوزیشن کے بکھرائو سے کافی خوش ہے سماجوادی حکومت

اجے کمار 
اقتدار ہاتھ میں آتے ہی سماجوادی پارٹی کے رنگ، ڈھنگ اور سُر بدلنے لگے ہیں۔ ایس پی سپریمو سے لے کر معمولی سے معمولی لیڈر اور کارکن تک کو ہر وہ شخص اور تنظیم غلط لگنے لگی ہے، جو ان کی حکومت یا ان کے مکھیا – وزیر اعلیٰ پر انگلی اٹھاتا ہے۔ سماجوادی چاہتے ہیں کہ وہ کچھ بھی کرتے رہیں، کوئی بھی فیصلہ لیں، اس پر کوئی سوال نہ کھڑا کیا جائے، کچھ پوچھا نہ جائے۔ سماجوادی ٹھیک ویسے حکومت چلانا چاہتے ہیں، جیسے مایاوتی چلاتی تھیں۔ بی ایس پی سپریمو کو ان کا غرور لے ڈوبا تھا، لیکن لگتا ہے کہ اس سے سبق لینے کے بجائے ایس پی حکومت بھی بی ایس پی کے نقوش پر چلتے ہوئے خودکشی کرنا چاہتی ہے۔ مایاوتی نے عوامی جذبات کا مذاق اڑاتے ہوئے پتھروں پر پیسہ بہایا تھا، تو اکھلیش حکومت کو صوبہ کی ترقی سے زیادہ فکر ان پارلیمانی حلقوں کی ستا رہی ہے، جہاں سے اس کے قد آور لیڈر جیتے ہیں۔ تمام ترقیاتی اسکیمیں وی آئی پی پارلیمانی حلقوں یعنی اٹاوہ، قنوج، مین پوری اور فیروز آباد کے لیے بنائی جا رہی ہیں۔ ملائم سنگھ کے گاؤں سیفئی اور اعظم خاں کے اسمبلی حلقہ رامپور کو بھی ترجیح دی جا رہی ہے۔ ایس پی حکومت میں نمبر دو سمجھے جانے والے اعظم خاں طرہ یہ دیتے ہیں کہ اس میں غلط کیا ہے؟ ویسے بھی یہ وزیر اعلیٰ کا خصوصی اختیار ہوتا ہے کہ وہ اپنی پسند کے ضلعوں میں کام کرائے۔ گزشتہ پانچ سالوں میں سیفئی – قنوج کے ساتھ کیا ہوا، یہ کسی کو یاد کیوں نہیں آتا؟ رکے ہوئے پروجیکٹ کو شروع کرنا، غلط کیسے ہوگیا؟
اعظم کا یہ بیان 5861 کروڑ روپے کے ضمنی بجٹ کے دوران آیا۔ گزشتہ دنوں اپنے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے اکھلیش حکومت نے ضمنی بجٹ پیش کیا تھا، لیکن اپوزیشن یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ ضمنی بجٹ سیفئی – قنوج وغیرہ کچھ علاقوں تک سمٹ کر رہ گیا۔ بی ایس پی نے ضمنی بجٹ کو تھیلی بھرنے کا ناٹک قرار دیا۔ بی جے پی کے لیڈر اسمبلی حکم سنگھ نے الزام لگایا کہ حکومت نے ترقیاتی کاموں کو تین چار ضلعوں تک مرکوز کر دیا ہے۔ انہوں نے اٹاوہ، سیفئی اور قنوج کے لیے زیادہ رقم مختص کرنے پر سوال کھڑا کرتے ہوئے کہا کہ کیا سماجواد کی یہی تعریف ہے؟ بجٹ میں مغربی اتر پردیش کے 16 ضلعوں میں بین الاقوامی سطح کی کھیل سے متعلق سہولیات کے لیے دو کروڑ اور سیفئی جیسے چھوٹے سے گاؤں کے لیے 25 کروڑ روپے مختص کرنا کیسے صحیح ہو سکتا ہے۔ سیفئی فیسٹیول اور اٹاوہ نمائش میں 50-50 لاکھ روپے خرچ کیا جانا اپوزیشن کو راس نہیں آیا۔ اس نے اسے عوام کی گاڑھی کمائی کی بربادی قرار دیا۔ وہیں پاور لوم بنکروں کے بجلی کے بل معاف کرنے، مسلم لڑکیوں کے لیے مالی مدد اسکیم، ڈاکٹر لوہیا گرام وکاس یوجنا اور کنیا وِدیا دھن یوجنا کو لے کر بھی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا گیا۔ کانگریس کے پردیپ ماتھر نے کہا کہ موجودہ حکومت گزشتہ حکومت کے نقش قدم پر چل رہی ہے۔ نچلی سطح پر کافی گڑبڑیاں ہیں، جنہیں درست کیا جانا چاہیے۔ بی ایس پی نے کہا کہ ابھی تک پہلے بجٹ کی رقم جاری نہیں کی گئی ہے، جس سے ترقیاتی کام رکے ہوئے ہیں۔ نہروں میں پانی نہیں ہے، سلٹ کی صفائی نہیں ہو رہی ہے، جب کہ بے روزگاری بھتے اور لیپ ٹاپ – ٹیبلیٹ کے نام پر پیسے کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ حکومت کسانوں کی ہمدرد ہونے کا دعویٰ کرتی ہے، لیکن گنّے کی قیمت ابھی تک طے نہیں ہو پائی ہے۔
یہ اور بات تھی کہ اپوزیشن حکومت کے اوپر گرم تو تھا، لیکن اتحاد کی کمی کے سبب وہ حکومت کے لیے کوئی مشکل نہیں کھڑی کر پایا، جب کہ مدعوں کی کمی نہیں تھی۔ یہ بھی دیکھنے کو ملا کہ ایک ہی مدعے کو سیاسی پارٹیاں اپنے اپنے حساب سے بھنانا چاہتی ہیں۔ طبی نظام کی حالت میں سبھی اصلاح چاہتے تھے، گنّا کی قیمت 400 روپے کرنے کی مانگ پورا حزبِ اختلاف کر رہا تھا، لیکن ایک ہوکر نہیں۔ سبھی نے الگ الگ واک آؤٹ کیا۔ اپوزیشن کی پھوٹ ثابت کر رہی تھی کہ تمام پارٹیوں کے لیڈروں کا دھیان کسی مسئلہ کے حل سے زیادہ اپنی سیاسی روٹیاں سینکنے پر زیادہ تھا۔ اس پھوٹ کی چٹکی حزبِ اقتدار بھی لیتا دکھائی دیا۔ حکومت نے گول مٹول جواب دے کر اپوزیشن کو ٹرخا دیا۔ فرقہ وارانہ فسادات کے لیے بھی حکومت نے اپوزیشن کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ اعظم خاں نے اسے فرقہ وارانہ طاقتوں کی کرتوت بتایا۔ اعظم خاں نے ایسا پہلی بار نہیں کہا تھا۔ کچھ دنوں پہلے وہ اس کے لیے گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی پر بھی شک ظاہر کر چکے تھے۔ ان کا اشارہ ہمیشہ بی جے پی کی طرف رہتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ ان کی حکومت یہ سب جانتے بوجھتے ہوئے بھی بی جے پی لیڈروں اور کارکنوں کے خلاف کارروائی کرنے میں پس و پیش کرتی رہتی ہے۔
سماجوادی پارٹی جس طرح حکومت چلا رہی ہے، اس سے تو یہی لگتا ہے کہ پانچ سال پورے ہوتے ہوتے یہ حکومت پوری طرح اپنا اعتبار کھو نہ دے۔ سماجوادی حکومت کہیں ناکام دکھائی دے رہی ہے تو کئی موقعوں پر عوام کو ورغلا بھی رہی ہے۔ اسمبلی انتخاب کے دوران سماجوادی پارٹی کے منشور میں عوام سے کیے گئے وعدوں کے ساتھ تو یہی ہو رہا ہے۔ ابھی تک حکومت نے جتنے بھی وعدے پورا کرنے کا اعلان کیا ہے، قریب قریب سبھی میں ایک دو نکتے لگا کر ان کے بنیادی مقصد کو فوت کردیا گیا ہے۔ سبھی خود کو ٹھگا محسوس کر رہے ہیں، چاہے مسلمان ہوں یا پھر دیگر ۔ سماجوادی پارٹی نے کہا تھا کہ اس کی حکومت بننے پر دسویں پاس مسلم لڑکیوں کو آگے کی تعلیم حاصل کرنے یا شادی کے لیے 30 ہزار روپے کی مالی مدد دی جائے گی، لیکن جب حکومت بنی تو کہا گیا کہ مدد ان لڑکیوں کو ملے گی، جن کے خاندان کی سالانہ آمدنی 36 ہزار روپے سے کم ہوگی۔ اسی طرح جیل میں بند بے قصور مسلم نوجوانوں کو فوراً رہا کرنے اور انہیں معاوضے کے ساتھ انصاف دینے کی بات کہنے والی سماجوادی پارٹی نے حکومت بنتے ہی رہائی کے لیے جو طریقہ اپنایا، اس پر اچھا خاصا تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ حکومت کو عدالت سے پھٹکار لگی، مرکزی حکومت نے بھی اسے سوچ سمجھ کر فیصلہ لینے کی بات کہہ کر کٹہرے میں کھڑا کردیا۔ یہی بے روزگاری بھتہ بانٹتے وقت عمر کی حد مقرر کرکے کیا گیا۔ یہی نظارہ آنے والے دنوں میں لیپ ٹاپ – ٹیبلیٹ کی تقسیم کے وقت بھی دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ کسانوں کے 50 ہزار تک کے قرض معاف کرتے وقت بھی نکتہ جوڑ دیا گیا کہ صرف انہی کسانوں کے قرض معاف ہوں گے، جو دس فیصد قرض ادا کر چکے ہوں گے۔ سماجوادی حکومت کے ایسے تمام پہلو اور اعلانات ہیں، جن پر عوام خود کو ٹھگا ہوا محسوس کر رہے ہیں۔ سماجوادی پارٹی اور حکومت کو اس وقت اگر کچھ سیاسی فائدہ مل رہا ہے، تو اس کی وجہ اپوزیشن کا بکھراؤ ہے، جو اس کے حوصلوں کو باغ باغ کیے ہوئے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *