تیسرا محاذ : کیسی ہوگی اس کی شکل وصورت ؟

سنتوش بھارتیہ 
لوک سبھا میں ایف ڈی آئی کے مدعے پر دو پارٹیوں نے جو کیا، یہ مستقبل کی ممکنہ سیاست کا اہم اشارہ مانا جا سکتا ہے۔ شاید پہلی بار ملائم سنگھ اور مایاوتی کسی ایشو پر یکساں سوچ رکھتے ہوئے، ایک طرح کا ایکشن کرتے دکھائی دیے۔ یہ ماننا چاہیے کہ اب یہ تصور ناممکن نہیں ہے کہ چاہے اتر پردیش کا چار سال کے بعد ہونے والا اسمبلی الیکشن ہو یا پھر ملک کی لوک سبھا کا آئندہ انتخاب، یہ دونوں ساتھ مل کر بھی الیکشن لڑ سکتے ہیں۔

کیا یہ تیسرا محاذ یا غیر کانگریسی اور غیر بی جے پی پارٹیاں آپس میں مل سکتی ہیں؟ تین پارٹیاں ہیں سماجوادی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی اور جنتا دل یونائٹیڈ۔ ان تینوں کے لیڈر آپس میں ہی بات نہیں کرتے ہیں۔ ملائم سنگھ کی بات نہ تو نتیش کمار سے ہوتی ہے اور نہ مایاوتی سے۔ مایاوتی کی بات نہ تو نتیش کمار سے ہوتی ہے اور نہ ملائم سنگھ سے اور نتیش کمار کی تو دونوں سے ہی بات نہیں ہوتی ہے۔ ان میں آپس میں بات نہ ہو، سمجھ میں آتا ہے، لیکن کچھ اور پارٹیاں ہیں، جن کے لیڈروں سے بھی اِن کی بات چیت نہیں ہوتی۔ چندر بابو نائڈو، جے للتا، کروناندھی، نوین پٹنائک، اوم پرکاش چوٹالہ، یہ ایسے نام ہیں جو اپنے اپنے علاقوں میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ غیر کانگریسی یا غیر بی جے پی، جو بھی محاذ بنے گا، اس محاذ میں ان میں سے ایک کو چھوڑ کر سبھی کو شامل کرنا پڑے گا، نہیں تو تیسرا محاذ مانا ہی نہیں جائے گا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی سے کرناٹک میں یدیورپا باہر نکل آئے ہیں۔

سوال صرف یہ ہے کہ اگر یہ مل کر انتخاب لڑتے ہیں، تو بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس کو کچھ سیٹیں مل پائیں گی یا نہیں مل پائیں گی؟ اس کا سیدھا جواب ہے کہ اگر دونوں مل کر سیٹ شیئرنگ کی بنیاد پر الیکشن لڑتے ہیں، تو بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس کو ملنے والی سیٹوں کا نمبر آٹھ سے نیچے ہی ہوگا، باقی ساری سیٹیں ان دونوں پارٹیوں کے کھاتے میں چلی جائیں گی۔ لیکن کیا ایسا ہی رزلٹ ہندوستان کے دوسرے صوبوں میں بھی ہوگا؟ اس کا جواب ہے ’نہیں‘، کیوں کہ ساری کوششوں کے باوجود اتر پردیش کے باہر نہ سماجوادی پارٹی کوئی مقام بنا پائی ہے اور نہ بہوجن سماج پارٹی۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ دونوں ہی لیڈروں کا سو فیصد سے زیادہ دھیان صرف اتر پردیش پر ہی رہتا ہے۔ دوسرے یہ کہ یہ دوسرے صوبوں میں انتخاب لڑتے ہیں تو صرف اس لیے کہ قومی پارٹی کا درجہ حاصل کر سکیں۔ ایسے میں تیسرے محاذ کی تصویر کیا ہوگی؟
ابھی چند ہفتے قبل، کانسٹیٹیوشن کلب کے وِٹھّل بھائی پٹیل ہال میں ایک میٹنگ ہوئی، جس میں بایاں محاذ سے وابستہ پارٹیوں کے نمائندے اور سماجوادی پارٹی کے صدر ملائم سنگھ یادو شامل ہوئے۔ وہاں اے بی بردھن، جو باحیات لیڈروں میں سب سے بزرگ اور سب سے سمجھدار لیڈر ہیں، نے اسٹیج سے کھلے عام یہ پیشکش کی کہ اگر ملائم سنگھ وقت دیتے ہیں، تو شاید تیسرا محاذ بن سکتا ہے۔ تقریباً سبھی لیڈروں نے اسی طرح کی بات کہی اور ملائم سنگھ نے بھی ایسا کرنا قبول کیا۔ بایاں محاذ کے لیڈروں نے متحد ہو کر چند سال قبل مایاوتی جی کے نام کا اعلان وزیر اعظم کے عہدہ کے امیدوار کے طور پر کر دیا تھا۔ اس اعلان کے بعد بھی ان لوگوں نے نہ مل کر انتخاب لڑا اور نہ ملک کو یہ یقین دلایا کہ واقعی وہ مایاوتی کو وزیر اعظم بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اب تک مایاوتی کے سیاسی دشمن رہے ملائم سنگھ کو تیسرا محاذ بنانے کی کمان اس امید کے ساتھ سونپی ہے کہ آنے والے لوک سبھا الیکشن میں تیسرا محاذ جیتے گا اور اس سرکار کے مکھیا ملائم سنگھ ہوں گے۔ اس تیسرے محاذ میں مایاوتی کہیں نہیں ہیں۔ مایاوتی ہی نہیں، اس تیسرے محاذ میں کوئی دوسرا دلت لیڈر بھی نہیں ہے۔ ڈی راجا، جو کمیونسٹ پارٹی کے سکریٹری ہیں، ضرور دلت ہیں، لیکن ان کو نہ کوئی شمال میں اور نہ ہی جنوب میں دلت لیڈر مانتا ہے۔ انہیں صرف کمیونسٹ پارٹی کا سکریٹری مانا جاتا ہے۔
اب جب کہ بی جے پی نریندر مودی کو وزیر اعظم کے عہدہ کا واجب امیدوار بتا رہی ہے، ایسے میں تیسرے محاذ کی شکل و صورت کیا ہوگی، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا۔ پہلی حقیقت یہ ہے کہ اس وقت لوک سبھا میں 300 سے زیادہ ایسے ممبرانِ پارلیمنٹ ہیں، جنہوں نے غیر کانگریس اور غیر بی جے پی کی کبھی نہ کبھی سیاست کی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ غیر کانگریس اور غیر بی جے پی کی سیاست کرتے ہوئے کچھ کانگریس میں چلے گئے اور کچھ بی جے پی میں۔ یہ بات اہم اس لیے ہے، کیو ںکہ ملک کے لوگ ان لوگوں کو کچھ حد تک زیادہ ایماندار مان رہے ہیں، جو روایتی طور پر نہ کانگریس میں رہے ہیں اور نہ بی جے پی میں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر غیر کانگریسی اور غیر بی جے پی پارٹیاں متحد ہو جاتی ہیں، تو ان کا امکان کچھ حد تک روشن ہو سکتا ہے۔ لیکن کیا یہ تیسرا محاذ یا غیر کانگریسی اور غیر بی جے پی پارٹیاں آپس میں مل سکتی ہیں؟ تین پارٹیاں ہیں سماجوادی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی اور جنتا دل یونائٹیڈ۔ ان تینوں کے لیڈر آپس میں ہی بات نہیں کرتے ہیں۔ ملائم سنگھ کی بات نہ تو نتیش کمار سے ہوتی ہے اور نہ مایاوتی سے۔ مایاوتی کی بات نہ تو نتیش کمار سے ہوتی ہے اور نہ ملائم سنگھ سے اور نتیش کمار کی تو دونوں سے ہی بات نہیں ہوتی ہے۔ ان میں آپس میں بات نہ ہو، سمجھ میں آتا ہے، لیکن کچھ اور پارٹیاں ہیں، جن کے لیڈروں سے بھی اِن کی بات چیت نہیں ہوتی۔ چندر بابو نائڈو، جے للتا، کروناندھی، نوین پٹنائک، اوم پرکاش چوٹالہ، یہ ایسے نام ہیں جو اپنے اپنے علاقوں میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ غیر کانگریسی یا غیر بی جے پی، جو بھی محاذ بنے گا، اس محاذ میں ان میں سے ایک کو چھوڑ کر سبھی کو شامل کرنا پڑے گا، نہیں تو تیسرا محاذ مانا ہی نہیں جائے گا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی سے کرناٹک میں یدیورپا باہر نکل آئے ہیں۔ ان سے کون سی پارٹی پہلے بات چیت کرتی ہے، یہ بھی دیکھنا کافی دلچسپ ہوگا۔ لیکن ہم پھر شمالی ہند کی پارٹیوں کی طرف آئیں۔ ہم نے کئی جنوبی ہند کے یا اڑیسہ جیسی ریاستوں کے لیڈروں سے بات کرنی شروع کی، تو سب کا یہی کہنا ہے کہ جب تک شمالی ہند میں کوئی سیاسی ہلچل نہیں ہوتی، تب تک ملک میں سیاسی تبدیلی کا نقشہ نہیں بن سکتا۔ شمالی ہند، جس میں راجستھان، مدھیہ پردیش، اتر پردیش اور بہار شامل ہیں، میں ملائم سنگھ، مایاوتی، نتیش کمار کے آگے آئے بغیر شاید ہلچل پیدا نہیں ہوگی۔ ان ریاستوں کا کارکن، چاہے وہ سماجوادی پارٹی میں ہو یا جنتا دل یونائٹیڈ میں، وہ یہی چاہتا ہے کہ کم از کم ملائم سنگھ اور نتیش کمار آپس میں مل جائیں۔ لیکن یہیں پر ایک تضاد لالو پرساد یادو اور رام وِلاس پاسوان کے روپ میں ہے۔ ملائم سنگھ یادو لالو پرساد یادو کو ساتھ رکھنا چاہیں گے اور نتیش کمار لالو یادو سے دور رہنا چاہیں گے۔ ابھی تک تو یہی نظر آ رہا ہے کہ رام ولاس پاسوان کہنے کو تو راجیہ سبھا میں اپنی پارٹی کے اکلوتے نمائندہ ہیں، لیکن ان کے گھومنے اور لڑنے کی صلاحیت کو کم کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔ اس کے بعد بھی دلت سماج میں مایاوتی اور رام ولاس پاسوان، یہ دونوں نام کہیں نزدیک آتے دکھائی نہیں دیتے، بلکہ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ کون، کب دوسرے کو نیچا دکھا دے۔
ہریانہ کا تیسرے محاذ کی تشکیل میں کوئی اہم رول نہیں ہے، لیکن اس کا شامل ہونا بازی کی اہم کڑی ہے۔ چونکہ ان تینوں لیڈروں میں آپس میں بات نہیں ہوتی یا پھر تینوں لیڈروں میں بات چیت کرنے کی یا پھر تینوں لیڈروں کی بات چیت کرنے کی قوتِ ارادی نہیں ہے، اس کی وجہ سے کارکن واقعی میں بہت مایوس دکھائی دے رہے ہیں۔ اب کارکن بھی کافی ہوشیار ہوگئے ہیں۔ پہلے وہ اپنے لیڈر سے کہتے تھے کہ نیتا جی تھوڑا آپ دوسروں سے بات چیت کیجئے، ملک میں یہ پریشانی ہے، یہ مسائل ہیں۔ آج کے کارکن بھی چاپلوسی میں استاد ہو گئے ہیں۔ وہ اپنے اپنے لیڈروں، چاہے وہ ملائم سنگھ ہوں، مایاوتی ہوں یا نتیش کمار جی ہوں، سے کہتے ہیں کہ آپ کے بغیر سرکار بن ہی نہیں سکتی۔ ’پاور آف اسمال‘ کی طرز پر وہ کہتے ہیں کہ بس 30 یا 35 ایم پی ہونے چاہئیں اور 30 یا 35 ایم پی والی پارٹی کے مکھیا کو لوگوں کو مجبور ہو کر وزیر اعظم بنانا پڑے گا۔ اپنے کارکنوں کی اسی تھیوری پر شمالی ہند کی تینوں اہم پارٹیاں چل رہی ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ملک کے مسائل کو دھیان میں رکھ کر یہ لیڈر دروازے دروازے جاتے اور انہیں متحد ہوکر لڑنے کے لیے یا منظم ہو کر دہلی کا اقتدار حاصل کرنے کے لیے آمادہ کرتے ، لیکن ہو یہ رہا ہے کہ یہ تینوں لیڈر اس بات میں بھروسہ کرتے ہیں کہ 30 سے 35 ممبرانِ پارلیمنٹ ان کے رہے تو انہیں وزیر اعظم بننے سے کوئی روک نہیں سکتا۔
یہ خطرناک صورتِ حال ہے۔ لیفٹسٹ دباؤ ڈالنے کی حالت میں نہیں ہیں۔ پرکاش کرات کا دامن بالکل صاف ہے، لیکن پرکاش کرات کوئی بھی پہل کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی پورے ملک میں سکڑ گئی ہے اور کوئی بھی پہل وہ ہندی ریاستوں میں نہیں کرنا چاہتی۔ کمیونسٹ پارٹی کے پاس ہندی بیلٹ میں اچھے لیڈر ہیں، جن میں ایک نام اتل کمار انجان کا ہے۔ اتل کمار انجان کسانوں کے درمیان کافی اچھا کام کر رہے ہیں اور شروعات انہوں نے اسٹوڈنٹ لیڈر کے طور پر کی تھی۔ لیکن اتل کمار انجان یا شمالی ہند کی کسی بھی ریاست کی کمیونسٹ پارٹی کے سامنے کوئی بھی ایسا خاکہ نہیں ہے، جسے لے کر وہ لوگوں کے پاس جا سکیں اور عام لوگوں کو اپنے ساتھ شامل ہونے کا راستہ بتا سکیں۔ ہو یہ رہا ہے کہ پوری کمیونسٹ پارٹی کیرالہ اور مغربی بنگال میں سمٹ کر رہ گئی ہے۔ ایسے میں تبدیلی کا دور دور تک کوئی نشان نظر نہیں آتا۔ ملائم سنگھ، مایاوتی، نتیش کمار اپنے اپنے صوبوں کے علاوہ باہر کچھ اثر ڈالتے دکھائی نہیں دے رہے۔
ذرا ان تینوں لیڈروں کو قریب سے دیکھیں۔ ملائم سنگھ کی سیاست کی 20 فیصد دلت مخالفت سے شروعات ہوتی ہے۔ مایاوتی کے کسی بھی ذریعہ سے ملائم سنگھ غیر متفق دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے ساتھ اتر پردیش میں ساری پچھڑی ذاتیں تھیںاور ملائم سنگھ سب سے لڑاکو نیتا مانے جاتے تھے۔ انہیں چودھری چرن سنگھ کا بھی اعتماد حاصل تھا اور آگے چل کر انہوں نے چندر شیکھر جی سے جب ہاتھ ملایا اور خاص کر جب امر سنگھ جی ان کے ساتھ آئے، تو ملائم سنگھ کے ساتھ اونچی ذاتوں کا بھی کچھ حصہ جڑا۔ لیکن ملائم سنگھ کبھی بھی کل پچھڑے طبقہ کے لیڈر نہیں بن سکے اتر پردیش میں دو مضبوط ذاتیں لودھ اور شاکیہ کہی جاتی ہیں۔ یہ دونوں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ اب تک رہی ہیں، جب کہ چھوٹی چھوٹی ذاتیں – کمہار، دھوبی، بڑھئی – اکثر مایاوتی کے ساتھ رہی ہیں۔ ملائم سنگھ جی جب سرکار میں تھے، تو خود کسان ہوتے ہوئے انہوں نے کسانوں کے مفادات کا خیال نہیں رکھا۔ شاید اس کی وجہ ان کے دوست امر سنگھ رہے ہوں، جنہوں نے ممبئی کے سارے بڑے بزنس مین کو لکھنؤ میں بلا لیا تھا اور لگتا تھا کہ ان سارے بزنس مین کا وزن ملائم سنگھ کی پیٹھ کے اوپر ہے اور وہ ملائم سنگھ کو پی ایم کے روپ میں دیکھنا چاہتے ہیں۔
امر سنگھ کے جانے کے بعد تھوڑے دن تک تو ملائم سنگھ جی نے سبھی سے کنارہ کیا، لیکن اچانک پھر ان کے ساتھ انل امبانی اور کبھی کبھی مکیش امبانی نظر آنے لگے۔ اس بار ملائم سنگھ کو اقتدار میں لانے میں مایاوتی کی کچھ غلطیوں نے بڑا رول ادا کیا۔ مایاوتی اتر پردیش میں مغرور خاتون کے طور پر مشہور ہو گئیں۔ مایاوتی کے آس پاس رہنے والوں نے ان کی ایسی تصویر بنا دی، جو کسی تانا شاہ کی ہوتی ہے۔ مایاوتی کے سامنے کوئی بھی سیاسی لیڈر جائے یا کسی بھی طبقہ کا نمائندہ جائے، اس افواہ کو مایاوتی کے سیاست کرنے کے طریقے نے واضح کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ساری بڑی، متوسط ذاتیں اور بڑی ذاتیں مایاوتی سے دور ہو گئیں، جس کا نتیجہ ملائم سنگھ کو فتح کے روپ میں ملا۔ ملائم سنگھ نے اپنے بیٹے اکھلیش یادو کو وزیر اعلیٰ بنایا۔ لوگوں نے اکھلیش یادو میں نئے امکانات دیکھے اور اکھلیش یادو کے صرف ایک علامتی کام نے انہیں اب تک سماجوادی پارٹی کی لیک سے ہٹ کر چلنے والا لیڈر بنا دیا۔ وہ واقعہ تھا اسمبلی الیکشن میں غازی آباد کے شہ زور لیڈر ڈی پی یادو کو سماجوادی پارٹی میں شامل کرنے کا پہلے اعظم خاں کے ذریعے اعلان کرنا اور پھر اکھلیش یادو کے ذریعے اس پر ویٹو لگا دینا۔ لوگوں کو لگا کہ اکھلیش یادو کچھ الگ طرح کی سیاست کریں گے، لیکن اب اتر پردیش میں اکھلیش یادو کی بری طرح تنقید ہو رہی ہے۔ اتر پردیش کی نوکر شاہی ملائم سنگھ، شو پال یادو، اعظم خاں اور رام گوپال یادو کے درمیان بٹی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ سارے بڑے نوکر شاہ ملائم سنگھ جی کے منتخب کردہ ہیں، جو اکھلیش یادو کو گھاس نہیں ڈالتے۔ اکھلیش یادو بھی تہذیب یافتہ ہونے کی وجہ سے کسی خاتون سکریٹری کو آنٹی جی کہتے دکھائی دیتے ہیں، تو کسی آئی اے ایس افسر کو انکل جی کہتے دکھائی دیتے ہیں۔ اب آنٹی اور انکل ان کے افسر ہوں گے، تو پھر وزیر اعلیٰ کے عہدہ کا رتبہ اکھلیش یادو کے لیے ہے یا اکھلیش یادو وزیر اعلیٰ کے عہدہ کا استعمال صوبے کی ترقی کے لیے کر پا ئیں گے، اس میں شک دکھائی دیتا ہے۔ اتر پردیش سے باہر یہ افواہ پھیلی ہوئی ہے کہ اکھلیش یادو صوبے کو منظم طریقے سے نہیں چلا پا رہے ہیں۔ سچائی اس کے برعکس ہے، لیکن اکھلیش یادو کی پوری مشینری اسی سچائی کو واضح کرنے میں لگی ہوئی ہے، بجائے اس کے کہ وہ اکھلیش یادو کی اس تصویر کو ابھارتی، جس نے انہیں سماجوادی پارٹی کی جیت کا ہیرو بنایا تھا۔ مایاوتی اتر پردیش میں پرانی حکمت عملی کے تحت خاموش بیٹھی ہوئی ہیں کہ جب سماجوادی پارٹی سے لوگوں کا بھرم ٹوٹے گا، تو لوگ انہیں ووٹ دیں گے۔ یوں بھی مایاوتی کے ارد گرد تیسرا محاذ نہیں بن سکتا، کیوں کہ مایاوتی کی سوچ تیسرے محاذ کو لانے کی یا غیر کانگریسی، غیر بی جے پی پارٹیوں کو ساتھ لانے کی دکھائی نہیں دیتی۔
تیسرا محاذ بنانے میں تیسرا آدمی جو سب سے اہم رول ادا کر سکتا ہے، وہ نتیش کمار ہیں۔ نتیش کمار میں لوگوں نے بہت سے امکانات دیکھے اور بہت سے لوگ نتیش کمار کے پاس گئے، لیکن نتیش کمار کے کام کرنے کے طریقے پر جس چیز نے سب سے زیادہ اثر ڈالا ہے، وہ ہے ان کا اپنے ہی سیاسی ساتھیوں پر بھروسہ نہ کرنا۔ انہوں نے بہار میں ایک چھاپ چھوڑی ہے کہ وہ صرف اور صرف بیوروکریٹک انداز کے لوگوں سے بات کرنے میں اپنے آپ کو محفوظ محسوس کرتے ہیں اور بیوروکریسی کے ذریعے کام کروانا زیادہ مناسب سمجھتے ہیں۔ نتیجہ کے طور پر پورے بہار میں جنتا دل یونائٹیڈ ایک طرح سے سرکار کا وہ حصہ بن گیا ہے، جس کا عوام میں اثر ختم ہو رہا ہے۔ جنتا دل یونائٹیڈ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ نتیش کمار کے لیے پورا ہندوستان ان کا اپنا ضلع ہے اور ان کی اپنی سوچ کبھی دہلی کی گدی پر آنے کی ہے ہی نہیں۔ اس لیے نتیش کمار ان پارٹیوں سے بات کرنے میں ہچکچاتے ہیں، جو بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس سے صرف تکنیکی طور پر جڑے ہیں۔ پہلے سیاست میں بات چیت کی ایسی کمی نہیں تھی۔ لوگ دوسری پارٹیوں کے لوگوں سے بات کرتے تھے اور انہیں بلاتے تھے اور کچھ وقت گزارتے تھے۔ اب وہ روایت ختم ہو گئی ہے۔ اسی ختم ہوئی روایت نے تیسرے محاذ کا مستقبل اندھیرے میں ڈال دیا ہے۔ لیکن جنتا دل یونائٹیڈ کے لیڈروں کے سامنے ایک اور مصیبت آنے والی ہے۔ نریندر مودی کو اگر واقعی میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے وزیر اعظم کے عہدہ کا امیدوار بنا دیا ہے، تو نتیش کمار کیا کریں گے؟ کیا نتیش کمار فوری طور پر این ڈی اے چھوڑیں گے؟ اگر وہ این ڈی اے نہیں چھوڑتے ہیں، تو ان کی ساکھ پورے ملک میں تین کوڑی کی ہو جائے گی۔ اب ا س کا فیصلہ تو نتیش کمار کو ہی کرنا ہے کہ اس وقت کوئی قدم اٹھانے سے کیا وہ اس طاقت کے ساتھ دوسری پارٹیوں کے ساتھ بات کر پائیں گے، جس سے تیسرا محاذ بن سکے یا جنتا دل یونائٹیڈ بہار تک ہی سمٹ کر رہ جائے گی۔
اس نام نہاد تیسرے محاذ کے امکان میں انا ہزارے بھی ایک فیکٹر ہیں۔ انا ہزارے اور جنرل وی کے سنگھ اگر کوئی ایسا ایجنڈا ملک کی سیاسی پارٹیوں کے سامنے رکھتے ہیں، جس ایجنڈے کو ماننے اور سمجھنے میں سیاسی پارٹیوں کو پسینہ آ جائے، تو وہاں سے غیر کانگریسی، غیر بھاجپائی اور غیر مستحکم سیاسی پارٹیوں سے الگ ایک نئی سیاست کی شروعات ہوتی ہے۔ ابھی یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ اگلے دو مہینوں میں انا ہزارے اور جنرل وی کے سنگھ سیاسی پارٹیوں اور ملک کے سامنے کیسا ایجنڈا رکھتے ہیں؟ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ فروری تک سیدھے تیسرے محاذ کی شکل ابھرے گی یا ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی اور ساتھ ہی یہ کہ کیا فروری تک ملک میں کوئی غیر سیاسی، سیاسی طاقت جسے انا ہزارے اور جنرل وی کے سنگھ کی حمایت حاصل ہو، ابھرنے کے عمل میں آ پائے گی یا نہیں؟ سیاسی پارٹیاں ابھی بھی اس بات کو بھول رہی ہیں اور شاید انا ہزارے اور جنرل وی کے سنگھ بھی بھول رہے ہیں کہ آئندہ مئی-جون میں لوک سبھا کا وسط مدتی انتخاب ہو سکتا ہے۔ پارلیمنٹ میں جو بھی اشارے آئیں، پر اقتصادی صورتِ حال کا دباؤ اور سیاسی پارٹیوں کے اپنے تضادات الیکشن کرانے کے لیے سبھی کو مجبور کر سکتے ہیں۔
ایک اہم بات یہ کہ ملائم سنگھ اور مایاوتی نے سی بی آئی کی وجہ سے لوک سبھا میں کانگریس کا ساتھ دیا۔ ملائم سنگھ کے خلاف آمدنی سے زیادہ اثاثے کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر غور ہے۔ سپریم کورٹ اس کا فیصلہ سنانے والا ہے۔ جو خبریں ہمارے پاس آ رہی ہیں، وہ خبریں یہ ہیں کہ فیصلہ سنایا جا چکا ہے۔ اس فیصلہ کو جلدی نہ سنایا جائے، اس کی کوشش حکومت ہند کر رہی ہے اور وزیر قانون کی یہ کوشش ہے کہ فیصلہ چاہے ملائم سنگھ کے خلاف ہو یا حق میں ہو، ابھی نہ سنایا جائے۔ جتنا ٹالا جا سکتا ہے، اتنا ٹالا جائے۔ اس کا ایک ہی مطلب نکلتا ہے کہ سرکار اس فیصلہ، جس پر تین ججوں کے دستخط ہو چکے ہیں، کا استعمال ملائم سنگھ کو ڈرانے کے لیے کر رہی ہے، تاکہ وہ کوئی سیاسی فیصلہ نہ لے سکیں۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *