رنگ راجن کمیٹی کی سفارش کسان مخالف: وی کے سنگھ

ابھیشیک رنجن سنگھ
گزشتہ دنوں راجدھانی دہلی میں گنّا پیدا کرنے والے کسانوں نے پارلیمنٹ کا محاصرہ کیا۔ تحریک چلانے والے کسانوں کی حمایت میں سابق آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ، ہریانہ کے سابق وزیر اعلیٰ اوم پرکاش چوٹالہ، ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ سلطان احمد بھی کھل کر سامنے آئے۔ ملک کی الگ الگ ریاستوں سے آئے کسان جب پارلیمنٹ کے باہر تحریک کر رہے تھے، اسی دن پارلیمنٹ کے اندر معزز ممبران ایف ڈی آئی کے مدعے پر بحث کر رہے تھے۔ ایف ڈی آئی کے سوال پر یوپی اے سرکار کا کہنا ہے کہ اس سے کسانوں کو کافی فائدہ ہوگا، وہیں اپوزیشن پارٹیاں اسے کسان مخالف بتاتے ہوئے سرکار سے اسے خارج کرنے کی مانگ کر رہی ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ کہ پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں ایف ڈی آئی کے مدعے پر جو اہم بحث ہوئی، اس میں حزب اقتدار اور اپوزیشن پارٹیوں نے کسانوں کے مفاد کے لیے لمبی چوڑی باتیں کیں۔ اس سے پہلے بھی کئی اہم فیصلوں پر اسی طرح کی بحثیں ہوئیں، لیکن آخرکار وہی ہوا جو سرکار نے چاہا۔ پارلیمنٹ کے اندر کسانوں کی بات اور پارلیمنٹ کے باہر تحریک کر رہے گنّا کسان۔ سرمائی اجلاس کے دوران ایف ڈی آئی کے مسئلے پر کھینچ تان چلتی رہی، لیکن گنّا کسانوں کی مانگوں پر کسی معزز رکن نے کوئی بحث نہیں کی۔ اگر کسی نے اس مسئلے کو اٹھانا بھی چاہا، تو وہ پارلیمنٹ میں جاری شور شرابے کے بیچ خاموش ہوگیا۔ پچھلے مہینے مہاراشٹر کے سانگلی میں بھی گنا کسانوں نے اپنی جائز مانگوں کو لے کر تحریک کی تھی۔ اس دوران ایک کسان کی موت بھی ہوگئی، لیکن سرکار کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ ملک میں جس طرح کے حالات بن رہے ہیں اور اس میں کسان خود کو جس طرح الگ تھلگ محسوس کر رہے ہیں، اسے دیکھ کر تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ سیاسی پارٹیوں کے لیے کسان ووٹ بینک کا حصہ ہو سکتا ہے، لیکن کسانوں کے مسائل سے انہیں کولی لینا دینا نہیں ہے۔ ایسی صورت میں اب کسانوں کا یقین سرکاروں پر سے اٹھنے لگا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسان اب غیر سیاسی لوگوں کی حمایت چاہنے لگے ہیں۔

ہندوستان کے کسان آج کئی محاذ پر تحریک چلا رہے ہیں۔ کہیں کسان اپنی زمین بچانے کے لیے جدو جہد کر رہے ہیں، تو کہیں اپنی کھیتی بچانے کے لیے۔ کہیں پروجیکٹوں کے نام پر ان سے جبراً زمین چھینی جا رہی ہے، تو کہیں انہیں فصلوں کی صحیح قیمت نہیں مل رہی ہے۔ اگر کسان اس کی مخالفت کرتے ہیں، تو انہیں سرکار غلط قرار دیتی ہے۔ اگر حکومت و انتظامیہ کا دماغ پھر جائے تو وہ کسانوں کے اوپر گولیاں چلانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ ملک کے کسان آج دو سطحوں پر مارے جا رہے ہیں۔ پہلا، پولس کی گولیوں سے اور دوسرا، خودکشی کرکے۔ ایک طرف سرکار اقتصادی بحران کے شکار صنعتی گھرانوں کو تمام طرح کی چھوٹ دے دیتی ہے، لیکن جب کسانوں کی بات آتی ہے تو وہ خاموشی اختیار کر لیتی ہے۔ اصل میں لیڈروں کے لیے کسان صرف ایک انتخابی مدعا ہے۔ الیکشن کے وقت چند اعلانات کردیے جاتے ہیں اور اس کے بعد پورے پانچ سالوں تک اس کی فصل کاٹی جاتی ہے۔

چینی شعبہ کو کنٹرول سے آزاد کرنے کی رنگ راجن کمیٹی کی سفارشوں کو نامنظور کرنے کی مانگ کرتے ہوئے سابق آرمی چیف وی کے سنگھ نے کہا کہ یہ سفارشیں چینی مل مالکوں کے مفاد میں اور کسان مخالف ہیں۔ ایسے میں اگر سرکار رنگ راجن کمیٹی کی رپورٹ خارج نہیں کرتی تو کسانوں کی تحریک آنے والے دنوں میں تیز ہوگی۔ یوپی اے سرکار پر وار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ سرکار صرف سرمایہ داروں کے فائدے کے لیے کام کر رہی ہے۔ کانگریس کی نظر میں ملک کے عام آدمی اور کسانوں کا کوئی مطلب نہیں رہ گیا ہے۔ کانگریس انتخاب جیتنے کے لیے اور یہاں تک کہ پارلیمنٹ میں ممبران پارلیمنٹ کے ووٹ خریدنے کے لیے بھی سرمایہ داروں کی دولت کا استعمال کرتی ہے۔ انڈین نیشنل لوک دل کے چیف اوم پرکاش چوٹالہ کے مطابق، عوام ملک کے موجودہ حالات سے کافی پریشان ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کسانوں کو کھیتی کے لیے بجلی اور پانی نہیں مل رہا ہے۔ باوجود اس کے کسانوں کے اوپر تمام طرح کے ٹیکس لگائے جا رہے ہیں۔ چوٹالہ کے مطابق، عوام نظام میں تبدیلی چاہتے ہیں نہ کہ حکمرانوں کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ اس موقع پر کسان لیڈر ٹھاکر بھانو پرتاپ سنگھ نے کہا کہ سرکار نے رنگ راجن کمیٹی کی سفارشیں چینی ملوں کے مالکوں سے ساز باز کرکے تیار کی ہیں۔ ان کے مطابق، اگر سرکار اس سفارش کو خارج نہیں کرتی ہے تو وہ ملک گیر سطح پر جدوجہد کریں گے۔

جنرل وی کے سنگھ اور کسان
اپنے ریٹائرمنٹ کے بعد سابق آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ ملک کے الگ الگ حصوں میں تحریک چلا رہے کسانوں کی حمایت میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ آرمی چیف رہتے ہوئے جس طرح انہوں نے بدعنوانی کا مدعا اٹھایا تھا، وہ ٹھہرے ہوئے پانی میں پتھر مارنے جیسا ہی تھا۔ ہندوستانی فوج کی تاریخ میں جنرل سنگھ پہلے ایسے آرمی چیف تھے، جنہوں نے دفاعی سودے میں ہو رہی گڑبڑیوں پر سے پردہ اٹھایا۔ اپنے ریٹائرمنٹ کے بعد جنرل وی کے سنگھ ہر سطح پر بدعنوانی کے خاتمے کی بات کرتے ہیں۔ تحویل اراضی کے خلاف تحریک کر رہے کسانوں کی حمایت کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ اس ملک میں قابل کاشت زمین پر قبضہ قطعی نہیں ہونا چاہیے، کیوں کہ اس سے کسانوں کو نقصان ہوگا۔

ابھیشیک رنجن سنگھ

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونکیشن (آئی آئی ایم سی) نئی دہلی سے صحافت کی تعلیم حاصل کرنے والے ابھیشیک رنجن سنگھنے اپنے صحافی کریئر کا آغاز سکال میڈیا گروپ سے کیا۔ اس کے بعد تقریباً سال بھر تک ایک کاروباری جریدہ میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دیں۔ سال 2009 میں دہلی سے شائع ہونے والے ایک روزنامہ میں کام کرنے کے بعد یو این آئی ٹی وی سروس میں اسسٹنٹ پروڈیوسر کے عہدہ پر فائز رہے۔ اس کے علاوہ ابھیشیک رنجن سنگھ آل انڈیا ریڈیو میں بھی مذاکرات کار کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ملککے کئی اہم اخبارات میں آپ کے مضامین مسلسل شائع ہوتے رہتے ہیں۔ آپ کو ہندی میں نظمیں لکھنے کے علاوہ غزلوں کے بے حد شوق ہے۔ فی الحال ہفت روزہ چوتھی دنیا میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
Share Article

ابھیشیک رنجن سنگھ

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونکیشن (آئی آئی ایم سی) نئی دہلی سے صحافت کی تعلیم حاصل کرنے والے ابھیشیک رنجن سنگھ نے اپنے صحافی کریئر کا آغاز سکال میڈیا گروپ سے کیا۔ اس کے بعد تقریباً سال بھر تک ایک کاروباری جریدہ میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دیں۔ سال 2009 میں دہلی سے شائع ہونے والے ایک روزنامہ میں کام کرنے کے بعد یو این آئی ٹی وی سروس میں اسسٹنٹ پروڈیوسر کے عہدہ پر فائز رہے۔ اس کے علاوہ ابھیشیک رنجن سنگھ آل انڈیا ریڈیو میں بھی مذاکرات کار کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کے کئی اہم اخبارات میں آپ کے مضامین مسلسل شائع ہوتے رہتے ہیں۔ آپ کو ہندی میں نظمیں لکھنے کے علاوہ غزلوں کے بے حد شوق ہے۔ فی الحال ہفت روزہ چوتھی دنیا میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *