سیاسی پارٹیاں اور حکومت چاہے تو مسلمان بھی ترقی کر سکتے ہیں

ڈاکٹر قمر تبریز 
مسلمانوں کو لے کر ملک میں گزشتہ چند سالوں سے کافی سیاست دیکھنے کو مل رہی ہے۔ اس سیاست کا منفی پہلو زیادہ اور مثبت پہلو کم ہے۔ منفی پہلو زیادہ اس لیے ہے، کیوں کہ ملک کی زیادہ تر پارٹیاں چاہے وہ کانگریس ہو، سماجوادی پارٹی ہو، بہوجن سماج پارٹی، ترنمول کانگریس، راشٹریہ جنتا دل یا پھر کوئی اور پارٹی ہو، ان سبھی نے مسلمانوں کا استعمال زیادہ تر ووٹ بینک کی پولیٹکس کے طور پر کیا ہے۔ لیکن ’بدنام ہوئے تو کیا نام نہ ہوگا‘کی مصداق، مسلمانوں کا ووٹ حاصل کر لینے کے بعد ان سیاسی پارٹیوں کو نہ چاہتے ہوئے بھی مسلمانوں کی فلاح کے لیے کچھ نہ کچھ کرنا ضرور پڑتا ہے، تاکہ وہ اگلے الیکشن سے پہلے جب مسلمانوں کے پاس ان کا ووٹ مانگنے کے لیے جائیں، تو ان کے پاس کہنے کو کم از کم یہ تو ہو کہ انہوں نے مسلمانوں کے لیے فلاں فلاں کام کیے ہیں۔ مثال کے طور پر یو پی میں اکھلیش کی حکومت اسی سال فروری میں ہونے والے اسمبلی الیکشن کے دوران پارٹی کے منشور میں مسلمانوں کے تعلق سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں جی جان سے لگی ہوئی ہے۔ یہی حال مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کا ہے، جو مسلمانوں کے تعاون سے مغربی بنگال سے کمیونسٹ حکومت کو شکست دینے میں کامیاب رہیں اور اب مسلمانوں کی فلاح سے متعلق کئی فیصلے نافذ کرنے میں مصروف ہیں۔ بہار میں نتیش حکومت، مہاراشٹر میں این سی پی اور کانگریس کی مخلوط حکومت اور اسی طرح آندھرا پردیش، کرناٹک، کیرالہ وغیرہ کی حکومتوں نے بھی گزشتہ چند سالوں میں مسلمانوں کی فلاح سے متعلق کچھ اچھے فیصلے کیے ہیں، جن کا نتیجہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔

ایف ڈی آئی اور یو آئی ڈی آج کل ملک بھر میں بحث کا ایک بڑا موضوع بنا ہوا ہے۔ مرکزی حکومت کے ان دونوں فیصلو ں پر بعض حلقوں کی طرف سے تشویش کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے، لیکن اس پر اس کا کوئی اثر پڑتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔ ان سب کے درمیان اگر کوئی سب سے زیادہ پریشان دکھائی دے رہا ہے، تو وہ ہے اس ملک کا مسلمان، کیوں کہ اس کا مستقبل غیر یقینی کا شکار ہو کر رہ گیا ہے۔ ایسے میں مرکزی حکومت اور دیگر صوبائی حکومتیں اگر چاہیں تو ترقیاتی اسکیموں میں اردو زبان کو شامل کرکے نہ صرف ملک بھر کے مسلمانوں کو ان اسکیموں سے جوڑ سکتی ہیں، بلکہ اپنے مستقبل کو لے کر ان کی غلط فہمیوں کو بھی دور کر سکتی ہیں۔

جہاں تک مرکزی حکومت کا سوال ہے، تو کانگریس کی قیادت والی یو پی اے حکومت نے اس ملک کے مسلمانوں کو بڑے بڑے خواب دکھائے ہیں، ان کے لیے خوب وعدے کیے ہیں، بہت سی نئی اسکیمیں چلائی ہیں، لیکن زمینی سطح پر ان تمام چیزوں کا فائدہ مسلمانوں کو اتنا نہیں ملا ہے، جتنا ملنا چاہیے۔ بلکہ اگر کانگریس حکومت کے حوالے سے یہ بات کہی جائے، تو بے جا نہ ہوگا کہ اکثر اوقات کانگریس نے مسلمانوں کا مذاق اڑانے کی ہی کوشش کی ہے، چاہے وہ ریزرویشن کے تعلق سے ہو، مسلم بنکروں اور مزدوروں کو سرکاری قرض مہیا کرانے کے تعلق سے ہو، مدرسوں کی جدید کاری کا معاملہ ہو، مسلم لڑکیوں کے لیے تعلیم کا خصوصی انتظام کرنے کی بات ہو، بے زمین اور بے گھر مسلمانوں کو زمین اور گھر مہیا کرانے کی بات ہو یا پھر اس قسم کے اور بھی متعدد کئی وعدے جو کانگریس اکثر انتخاب سے قبل کرتی ہے اور پھر حکومت بن جانے کے بعد اپنے انہی وعدوں کو بھول جاتی ہے۔
اس وقت پورے ملک کے سامنے دو اہم موضوعات زیر بحث ہیں اور ان دونوں کا تعلق ملک کے مستقبل سے ہے۔ پہلا موضوع ہے، یو آئی ڈی (یونیک آئڈنٹی فکیشن) کا، جس کے تحت ’آدھار کارڈ‘ بنائے جا رہے ہیں اور دوسرا موضوع ہے ایف ڈی آئی (فارین ڈائریکٹ انویسٹ مینٹ) یعنی غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری کا۔مرکزی حکومت کی ان دونوں پالیسیوں کے بارے میں اس ملک کا مسلمان تھوڑا ڈرا سہما ہوا نظر آ رہا ہے، کیوں کہ یو آئی ڈی کے تعلق سے مسلمانوں کو جہاں ایک طرف یہ خطرہ لاحق ہے کہ مستقبل میں مسلم دشمن طاقتیں اور فرقہ وارانہ عناصر مسلمانوں کے بارے میں تمام تفصیلات بڑی آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں اور پھر ان کے خلاف کوئی بڑی سازش کر سکتے ہیں، تو وہیں دوسری جانب ایف ڈی آئی کو لے کر مسلمانوں میں یہ تشویش ہے کہ چونکہ خردہ بازار میں محنت و مزدوری کے کام میں مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ لگا ہوا ہے، اس لیے ایف ڈی آئی کے آنے سے سب سے زیادہ نقصان مسلمانوں کا ہی ہوگا۔ لیکن مرکزی حکومت یہ سب جانتے سمجھتے ہوئے بھی اپنی ان دونوں پالیسیوں کو نافذ کرانے میں لگی ہوئی ہے۔ دو ماہ قبل، 20 اکتوبر 2012 کو وزیر اعظم منموہن سنگھ نے یو پی اے چیئرپرسن سونیا گاندھی کے ساتھ راجستھان کے ددو سے ڈائریکٹ کیش ٹرانسفر سسٹم کا آغاز کیا تھا، یعنی آئندہ سے مرکزی حکومت کی سماجی و اقتصادی فلاح سے متعلق جتنی بھی اسکیمیں ہیں، ان سے فیضیاب ہونے والے لوگوں کو آدھار کارڈ کی بنیاد پر پیسہ ڈائریکٹ ان کے بینک اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر دیا جائے گا۔ مرکزی حکومت کی یہ دلیل ہے کہ ڈائریکٹ کیش ٹرانسفر سسٹم سے ملک میں بدعنوانی پر روک لگے گی اور اب جو لوگ مستحق ہیں، ان کا پیسہ مارا نہیں جائے گا۔
یہاں پر مسلمانوں کے تعلق سے دو تین سوال ایسے اٹھائے جا سکتے ہیں، جن کا ازالہ ضروری ہے، ساتھ ہی اگر مرکزی حکومت ان پر تھوڑا بہت دھیان دیتی ہے، تو ملک کے مسلمان بھی پوری طرح مرکزی حکومت کی فلاحی و اقتصادی اسکیموں سے پوری طرح فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ہم سب کو یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ ہندوستان کا مسلمان تعلیمی لحاظ سے پچھڑا ہوا ہے۔ تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے بہت سی سطحوں پر ان کے اندر بیداری کی کمی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے مسلمانوں کی فلاح و بہبود سے متعلق جتنی بھی اسکیمیں نافذ کی جاتی ہیں، ان کا فائدہ صرف وہی لوگ اٹھا پاتے ہیں، جو پڑھے لکھے اور بیدار ہیں، اکثر مستحق مسلمانوں کو ان سرکاری اسکیموں کا فائدہ نہیں ہو پاتا۔ ملک میں جو مسلم تنظیمیں ہیں، وہ بھی ایمانداری سے کام نہیں کرتیں، بلکہ زیادہ تر اوقات اپنی بھلائی اور مالی منافعت کے بارے میں سوچتی ہیں، جس سے عام مسلمانوں کی حالت میں کوئی خاص سدھار دیکھنے کو نہیں مل رہا ہے۔ یو آئی ڈی یا آدھار کارڈ کی اسکیم کے تحت مرکزی حکومت گاؤں گاؤں میں بینک کھولنا چاہتی ہے۔ یہیں نہیں، بلکہ اس کا ارادہ موبائل بینک تک شروع کرنے کا ہے، جو لوگوں کے دروازے دروازے تک پہنچے گا، ان کے کھاتے کھولے گا اور اس طرح مرکز کی طرف سے آنے والے پیسہ ان لوگوں کے کھاتوں میں ڈائریکٹ پہنچ جایا کرے گا۔ ہم جانتے ہیں کہ ملک کے زیادہ تر مسلمانوں کی زبان اردو ہے۔ بچپن میں ایک غریب مسلم بچہ اگر سرکاری اسکول نہیں جا پاتا، تو کم از کم اپنے گاؤں یا محلے کی مسجد یا مدرسے میں جاکر اردو لکھنا پڑھنا تو ضرور سیکھ جاتا ہے۔ بعد میں جاکر اسے کسی بڑے اسکول، کالج یا یونیورسٹی میں پڑھنے کا موقع بھلے ہی نہ ملے، لیکن اردو زبان جاننے کی وجہ سے وہ لکھنے پڑھنے سے متعلق اپنے کاموں کو کچھ حد تک تو پورا کر ہی لیتا ہے۔ ایسے میں اگر مرکزی یا صوبائی حکومتیں بینک سے متعلق کام کاج کو کرنے میں اردو زبان کو بھی شامل کر لیں، تو اس سے مسلمانوں کو بڑی حد تک فائدہ مل سکتا ہے۔ اس کے لیے حکومتوں کو زیادہ کچھ کرنا نہیں ہے، بلکہ دو تین آسانیاں فراہم کر دینے سے سرکاری اسکیموں کے نفاذ کو مزید کامیاب بنایا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر بینک کھاتے کھولنے سے متعلق تمام جانکاریاں، اردو زبان میں بھی فراہم کردی جائیں، بینک میں استعمال ہونے والی مختلف پرچیوں پر انگریزی اور ہندی کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی جانکاری ہو۔ انٹرنیٹ اور موبائل پر آج ہم بڑی تیزی سے اردو کو استعمال کرنے لگے ہیں، لہٰذا اگر اے ٹی ایم مشینوں میں بھی اردو کا آپشن ڈال دیا جائے، تو اس سے اردو داں طبقہ کافی حد تک فیضیاب ہو سکتا ہے۔ یہ زیادہ مشکل اس لیے بھی نہیں ہے، کیوں کہ ابھی حال ہی میں ایچ ڈی ایف سی بینک نے اپنی اے ٹی ایم مشینوں میں اردو کا استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ دوسرے بینک بھی اس اچھے کام میں اس کی پیروی کر سکتے ہیں اور خود ہماری حکومتیں بھی اس سے سبق لے کر مسلمانوں کے تعلق سے بہت کچھ کر سکتی ہیں۔
دوسرا اہم موضوع، جس پر پورے ملک کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو بھی تھوڑے بہت خدشات لاحق ہیں، وہ ہے ایف ڈی آئی کا معاملہ۔ یہ بات سچ ہے کہ خردہ بازار میں محنت و مزدوری کے کام میں سب سے زیادہ مسلمان لگے ہوئے ہیں اور اگر ایف ڈی آئی کے آنے سے چھوٹی موٹی محنت و مزدوری کے کام بند ہو جائیں گے، تو مسلمانوں کا سب سے زیادہ نقصان ہوگا۔ مرکزی حکومت کو مسلمانوں کی اس تشویش پر غور کرنا چاہیے اور اسے دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ حکومت اگر ایف ڈی آئی کو ملک میں نافذ کرنے کے لیے بضد ہے، بلکہ اس نے لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں جگہوں سے اس بل کو پاس کروالیا ہے، تو ظاہر ہے کہ اس کے نفاذ سے متعلق اس کے ذہن میں ایک واضح خاکہ موجود ہوگا۔ حکومت بھلا اس ملک کے تقریباً 18 کروڑ مسلمانوں کو کیسے نظر انداز کر سکتی ہے۔ ایف ڈی آئی کو نافذ کرنے سے پہلے اسے مسلمانوں کے درمیان جاکر ان کا اعتماد حاصل کرنے کی ضرورت ہے کہ خردہ بازار میں غیر ملکی سرمایہ کاری سے مسلمانوں کے مستقبل پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، بلکہ ان کے مستقبل کو بہتر اور تابناک بنانے کی پوری ذمہ داری حکومت کی ہے۔

Share Article

2 thoughts on “سیاسی پارٹیاں اور حکومت چاہے تو مسلمان بھی ترقی کر سکتے ہیں

  • December 25, 2012 at 7:46 am
    Permalink

    हुकुमत और सियासी पार्टिया चाहे तो मुस्लमान……डाःकमर तबरेज साहिब ने ऐसी सच बात कही जौ सदयो से ना कही गयी हौ आज की सियासत ने मुस्लमानो को महज खेल समझा हे काश के मुस्लमान समझते मौहत्रम आप आगे भी इसी तरह उम्मत की रहनुमाई फरमाते रहे अल्लाह आपको और आपके कलम मजीद बलंदी नसीब फरमाय आमीन खाकसार शमशीर कासमी खादिम जामिया दावतुल हक चर्रोह रामपुर मनिहारान सहारनपुर यु पी .MO.N.09897836834हुकुमत और सियासी पार्टिया चाहे तो मुस्लमान……डाःकमर तबरेज साहिब ने ऐसी सच बात कही जौ सदयो से ना कही गयी हौ आज की सियासत ने मुस्लमानो को महज खेल समझा हे काश के मुस्लमान समझते मौहत्रम आप आगे भी इसी तरह उम्मत की रहनुमाई फरमाते रहे अल्लाह आपको और आपके कलम मजीद बलंदी नसीब फरमाय आमीन खाकसार शमशीर कासमी खादिम जामिया दावतुल हक चर्रोह रामपुर मनिहारान सहारनपुर यु पी .MO.N.09897836834हुकुमत और सियासी पार्टिया चाहे तो मुस्लमान……डाःकमर तबरेज साहिब ने ऐसी सच बात कही जौ सदयो से ना कही गयी हौ आज की सियासत ने मुस्लमानो को महज खेल समझा हे काश के मुस्लमान समझते मौहत्रम आप आगे भी इसी तरह उम्मत की रहनुमाई फरमाते रहे अल्लाह आपको और आपके कलम मजीद बलंदी नसीब फरमाय आमीन खाकसार शमशीर कासमी खादिम जामिया दावतुल हक चर्रोह रामपुर मनिहारान सहारनपुर यु पी .MO.N.09897836834हुकुमत और सियासी पार्टिया चाहे तो मुस्लमान……डाःकमर तबरेज साहिब ने ऐसी सच बात कही जौ सदयो से ना कही गयी हौ आज की सियासत ने मुस्लमानो को महज खेल समझा हे काश के मुस्लमान समझते मौहत्रम आप आगे भी इसी तरह उम्मत की रहनुमाई फरमाते रहे अल्लाह आपको और आपके कलम मजीद बलंदी नसीब फरमाय आमीन खाकसार शमशीर कासमी खादिम जामिया दावतुल हक चर्रोह रामपुर मनिहारान सहारनपुर यु पी .MO.N.09897836834हुकुमत और सियासी पार्टिया चाहे तो मुस्लमान……डाःकमर तबरेज साहिब ने ऐसी सच बात कही जौ सदयो से ना कही गयी हौ आज की सियासत ने मुस्लमानो को महज खेल समझा हे काश के मुस्लमान समझते मौहत्रम आप आगे भी इसी तरह उम्मत की रहनुमाई फरमाते रहे अल्लाह आपको और आपके कलम मजीद बलंदी नसीब फरमाय आमीन खाकसार शमशीर कासमी खादिम जामिया दावतुल हक चर्रोह रामपुर मनिहारान सहारनपुर यु पी .MO.N.09897836834हुकुमत और सियासी पार्टिया चाहे तो मुस्लमान……डाःकमर तबरेज साहिब ने ऐसी सच बात कही जौ सदयो से ना कही गयी हौ आज की सियासत ने मुस्लमानो को महज खेल समझा हे काश के मुस्लमान समझते मौहत्रम आप आगे भी इसी तरह उम्मत की रहनुमाई फरमाते रहे अल्लाह आपको और आपके कलम मजीद बलंदी नसीब फरमाय आमीन खाकसार शमशीर कासमी खादिम जामिया दावतुल हक चर्रोह रामपुर मनिहारान सहारनपुर यु पी .MO.N.09897836834हुकुमत और सियासी पार्टिया चाहे तो मुस्लमान……डाःकमर तबरेज साहिब ने ऐसी सच बात कही जौ सदयो से ना कही गयी हौ आज की सियासत ने मुस्लमानो को महज खेल समझा हे काश के मुस्लमान समझते मौहत्रम आप आगे भी इसी तरह उम्मत की रहनुमाई फरमाते रहे अल्लाह आपको और आपके कलम मजीद बलंदी नसीब फरमाय आमीन खाकसार शमशीर कासमी खादिम जामिया दावतुल हक चर्रोह रामपुर मनिहारान सहारनपुर यु पी .MO.N.09897836834हुकुमत और सियासी पार्टिया चाहे तो मुस्लमान……डाःकमर तबरेज साहिब ने ऐसी सच बात कही जौ सदयो से ना कही गयी हौ आज की सियासत ने मुस्लमानो को महज खेल समझा हे काश के मुस्लमान समझते मौहत्रम आप आगे भी इसी तरह उम्मत की रहनुमाई फरमाते रहे अल्लाह आपको और आपके कलम मजीद बलंदी नसीब फरमाय आमीन खाकसार शमशीर कासमी खादिम जामिया दावतुल हक चर्रोह रामपुर मनिहारान सहारनपुर यु पी .MO.N.09897836834

    Reply
  • December 25, 2012 at 6:55 am
    Permalink

    हुकुमत और सियासी पार्टिया चाहे तो मुस्लमान……डाःकमर तबरेज साहिब ने ऐसी सच बात कही जौ सदयो से ना कही गयी हौ आज की सियासत ने मुस्लमानो को महज खेल समझा हे काश के मुस्लमान समझते मौहत्रम आप आगे भी इसी तरह उम्मत की रहनुमाई फरमाते रहे अल्लाह आपको और आपके कलम मजीद बलंदी नसीब फरमाय आमीन खाकसार शमशीर कासमी खादिम जामिया दावतुल हक चर्रोह रामपुर मनिहारान सहारनपुर यु पी .MO.N.09897836834

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *