لٹکا دو ان درندوں کو سر ِ عام پھانسی پر

وسیم راشد 
یہ انتہائی تشویش کی بات ہے کہ ملک کے ہر شہر میں عصمت دری اور گینگ ریپ کے واقعات تقریباً ہر روز ہورہے ہیں۔جو واقعات بڑے شہروں میں ہوتے ہیں ان کی تو رپورٹنگ ہوجاتی ہے اور میڈیا ان کوعوام کے کانوں تک پہنچا دیتا ہے، لیکن ملک میں بے شمار ایسے گائوں اور قصبے ہیں جہاں تک میڈیا کی رسائی نہیں ہے۔وہاں ہونے والے حادثے عام نگاہوں سے اوجھل رہتے ہیں۔بلکہ بڑے شہروں میں بھی عصمت دری کے جتنے واقعات ہوتے ہیں ان میں سے ہر ایک کی نہ تو رپورٹنگ ہوتی ہے اور نہ ہی خاندان کے بزرگ مان مریادا کی خاطر اس کی ایف آئی آر درج کرواتے ہیں ۔اس طرح عصمت دری کے جتنے واقعات ہورہے ہیں، ان میں سے چند معاملے ہی عوام اور پولیس کی نظروں میں آپاتے ہیں ۔

اصل میں ضرورت اس وقت پولیس ریفارم کی ہے کیونکہ سرکار کا وہ محکمہ جس کو سماج کا محافظ سمجھا جاتا ہے یعنی پولیس محکمہ ،جس کو سماج کے ہر ہر فرد کی حفاظت کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ لوگ اپنے اسی محافظ سے زیادہ خوفزدہ رہتے ہیں۔پولیس پر سے عوام کا اعتبار ختم ہوچکا ہے۔خاص طور پر عورتیں پولیس سے زیادہ خوفزدہ رہتی ہیں۔کیونکہ عورتوں کو معلوم ہے کہ اگر وہ ایک عصمت دری کی شکایت لے کر جائیں گی تو 10 پولیس والے ان کی عصمت دری کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔

ملک میں بڑھتے جرائم کو دیکھنے کے بعد ایسا لگ رہا ہے کہ معاشرے میں عورت بالکل غیر محفوظ ہوکر رہ گئی ہے۔اسے سماج کا ایک اہم حصہ سمجھے جانے کے بجائے صرف جنسی تلذذ کا ذریعہ مان لیا گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جس طرح ان کی عصمت کو داغدار کرنے کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے اسی طرح انہیں بھرے مجمع میں ذلیل کرنے کا رجحان بھی تیزی سے جڑ پکڑتا جارہا ہے اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ مجمع میں سے کوئی بھی ان کے ساتھ ہو رہی بدسلوکی کے خلاف آواز نہیں اٹھاتا ہے اور نہ ہی انہیں بچانے کی کوشش کرتا ہے ۔ابھی حال ہی میں ممبئی کے الہاس نگر میں ایک چالیس سالہ خاتون کے ساتھ غنڈے بد تمیزی کرتے رہے اور مجمع تماشائی بنا دیکھتا رہا ،کسی نے اس خاتون کو بچانے کی کوشش نہیں کی۔حال ہی میںدہلی میں ایک 23 سالہ میڈیکل طالبہ کی بس میں سات افراد نے نہ صرف عصمت دری کی بلکہ اس کو زود کوب کر کے چلتی بس سے باہر مہیپال پل کے قریب پھینک دیا ۔ وہ کئی دنوں تک وینٹی لیٹر پر زندگی اور موت کی کشمکش میں جھولتی رہی۔اس کی آنتوں میں اتنی چوٹیں آئیں کہ کئی بار آپریشن ہوا،اس کے سر میں بھی شدید چوٹیں پہنچائی گئیں گویا زخموں اور چوٹوں سے اس کا پورا جسم چھلنی ہے۔اس کا ایک ساتھی جو اس وقت اس کے ساتھ تھا،کو لوہے کی راڈ سے مار کر بیہوش کردیا گیا۔جس دن یہ حادثہ پیش آیا اسی دن 6 اور جگہوں پر بھی عصمت دری کے حادثے پیش آئے ۔ان دنوں دہلی کی حالتبہت خراب ہے جہاں گھر کے اندر یا گھر کے باہر نو جوان لڑکیوں سے لے کر ضعیف العمر اور بچیاں بھی محفوظ نہیںہیں۔اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ مہیپال پور حادثے کے 48 گھنٹے کے اندر دہلیمیں عصمت دری کے کل تین واقعات ہوئے۔ چاندی محل علاقہ میں ایک پڑوسی نوجوان نے ایک معصوم بچی کو اپنی ہوس کا شکا ر بنایا جبکہ نیو اشوک نگر علاقہ میں گھر میں گھس کر ایک لڑکی کی جبراً عصمت دری کی گئی۔روہنی میں ایک 77 سالہ ضعیف العمر خاتون کو ایک رکشہ پلر نے اپنی ہوس کا شکار بنایا۔ یہی نہیں بسا اوقات لڑکیوں کی عصمت لٹے جانے کی ویڈیو کلیپنگ بھی بنا لی جاتی ہے اور بعد میں اسے بلیک میل کیا جاتا ہے۔یہ باتیں اشارہ دے رہی ہیں کہ سماج کے اندر عورت کے تئیں انتہائی بہیمانہ رجحان پیدا ہورہا ہے۔جب ان پر ہورہے ظلم کی کہانی میڈیا کے توسط سے سامنے آتی ہے تو لوگ کچھ دنوں تک وا ویلا مچاتے ہیں،میڈیا میں بریکنگ نیوز کے طورپر خبریں دکھائی جاتی ہیں،لیڈران بھی ہمدردی جتانے لگتے ہیں، ہر طرف خواتین کے تحفظ کی باتیں ہوتی ہیں اور پھر کچھ دنوں بعد خاموشی چھا جاتی ہے اور اس کے بعد حیوان صفت عناصر خواتین کے ساتھ پھر وہی حیوانیت کا ننگا ناچ شروع کردیتے ہیں۔اگر کبھی قانون نے انہیں سزا بھی دی تو جرم کے مقابلے میں یہ سزا اتنی کم ہوتی ہے کہ مجرم خوفزدہ ہونے کے بجائے سزا کاٹنے کے بعد جب باہر آتے ہیں تو ان کی دلیری اور بڑھ جاتی ہے۔اگر قانون میں انہیں سخت سے سخت سزا دینے کی گنجائش ہو کہ جس طرح متاثرہ خاتون پوری زندگی ذہنی و جسمانی کشمکش میں مبتلا رہتی ہے اسی طرح مجرم کے لئے بھی ایسی سزا طے کی جائے جس سے وہ پوری زندگی سزا کا درد محسوس کرتے رہیں تو وہ دوبارہ کسی عورت کی عصمت داغدار کرنے یا انہیںسماج میں ذلیل کرنے کی ہمت نہ کرسکیں۔اگر ایسا ہوا تو ملک کے اندر بڑھتے عصمت دری و دیگر جرائم کے واقعات میں کمی لائی جاسکتی ہے لیکن ایسا ہے نہیں، یہی وجہ ہے کہ ہر روز کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی عورت کو حیوانیت کا شکار ہونا پڑتا ہے،جس کے بعد عورت تو پوری زندگی اس درد کو جھیلتی رہتی ہے اور وہ درندہ صفت انسان سینہ تان کر سماج میں گھومتا رہتا ہے۔ہمارے سامنے ارونا شانباگ کا کیس ہے۔یہ لڑکی ممبئی کے ایک اسپتال King Edward Memorial Hospital میں بحیثیت نرس کام کرتی تھی۔ اس کی غلطی صرف اتنی تھی کہ اس نے ایک سویپر Sohanlal Bhartha Walmikiجو کتوں کے لئے آنے والا گوشت کھا جاتا تھا۔ اس کی شکایت اس نرس نے سینئر سے کردی۔سویپر نے اس شکایت کا جو بدلہ لیا ،وہ انتہائی انسانیت سوز اور دل کو دہلادینے والا ہے۔دوسرے دن جب یہ نرس بیس مِنٹ میں اپنے کپڑے بدلنے گئی تو وہ سویپر تاک میں لگا ہوا تھا۔اس نے کتے کے پٹے کو اس کی گردن میں باندھ کرگھسیٹا۔ پٹے سے اس کی گردن کی نس دب جانے کی وجہ سے دماغ میں آکسیجن جانا بند ہوگئی،جس کی وجہ سے وہ کوما میں چلی گئی۔جب دوسرے اسٹاف بیس مِنٹ میں گئے تو اسے کوما میں دیکھ کر اسپتال میں داخل کرایا۔یہ حادثہ 1973 میں پیش آیا تھا ،تب سے آج تک ارونا کا یہ حال ہے کہ وہ زندہ ہے مگر مردے سے بھی بد تر زندگی گزار رہی ہے۔اس کا صرف دل زندہ ہے ، وہ صرف کروٹ لے سکتی ہے،دماغ اور دوسرے اعضاء کام کرنا چھوڑ چکے ہیں ،بچوں کی طرح اگر اسے کوئی کھلا دے تو کھالیتی ہے ورنہ نہیں،وہ اپنا درد خود کسی سے بیان نہیں کرسکتی۔39 سال سے وہ ناکردہ گناہ کی سزاکاٹ رہی ہے مگر جس سویپر نے اس کو یہ اذیتناک زندگی دی تھی ،اسے محض سات سال کی سزا ہوئی ۔سزا کاٹ کر وہ باہر آچکا ہے اور خوش و خرم ہے لیکن وہ عورت جس نے کوئی گناہ نہیں کیا تھا ،آج تک زندہ لاش کی طرح زندگی گزار رہی ہے۔یہ تو خواتین پر اذیت اور ظلم کی ایک مثال ہے ورنہ بے شمار ایسے واقعات ہیں جو ہمارے سماج میں عورت کی بے بسی کی داستان سناتے ہیں۔اصل میں ضرورت اس وقت پولیس ریفارم کی ہے کیونکہ سرکار کا وہ محکمہ جس کو سماج کا محافظ سمجھا جاتا ہے یعنی پولیس محکمہ ،جس کو سماج کے ہر ہر فرد کی حفاظت کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ لوگ اپنے اسی محافظ سے زیادہ خوفزدہ رہتے ہیں۔پولیس پر سے عوام کا اعتبار ختم ہوچکا ہے۔خاص طور پر عورتیں پولیس سے زیادہ خوفزدہ رہتی ہیں۔کیونکہ عورتوں کو معلوم ہے کہ اگر وہ ایک عصمت دری کی شکایت لے کر جائیں گی تو 10 پولیس والے ان کی عصمت دری کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔اسی لئے ان کے پاس اپنی شکایتیں لے کر جانا پسند نہیں کرتیں۔ سماج میں پولیس کی شبیہ انتہائی خراب ہے۔دہلی پولیس کا حال تو کچھ زیادہ ہی برا ہے۔یہاں کی پولیس نہ تو دہلی والوں کی سماجی زندگی اور تقاضوں کو سمجھتی ہے اور نہ ہی ان کے مسائل کو حل کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے بلکہ بسا اوقات تو ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ وہ یہاں کے مقامی باشندوں کی زبان بھی ٹھیک سے نہیں سمجھ پاتی ہے کیونکہ دہلی پولیس میں دہلی اطراف کے کم اور باہری لوگ زیادہ ہیں۔ وہ نہ تو دہلی والوں کی زبان و بیان کے انداز کو سمجھ پاتے ہیں اور نہ ہی ان کی سماجی زندگی سے واقف ہیں ۔غالباً یہی وجہ ہے کہ پولیس اور یہاں کے عوام میں دوریاں کم نہیں ہو پارہی ہیں اور نہ ہی پولیس عوام کو تحفظ دینے میں کامیاب ہے۔چنانچہ عصمت دری اور لوٹ مار کے معاملے میں دہلی سر فہرست ہوتی جارہی ہے۔ابھی حال ہی میں نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی)نے اپنی ایک رپورٹ میں چونکانے والی حقیقت کا انکشاف کیا ہے۔’رپورٹ کے مطابق قومی راجدھانی دہلی بد عنوانی کے معاملے میںملک میں مرکز کے زیر کنٹرول ریاستوں میں سب سے اوپر ہے‘۔ اگر غور کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ دہلی میں بد عنوانی کے ساتھ ساتھ عدم تحفظ کی ایک وجہ پولیس بھی ہے۔کیونکہ ایک تو دہلی پولیس میں باہری لوگوں کی تعداد بہت ہےجو گائوں، قصبوں اور دیہاتوں سے دہلی میں تعینات کردئے گئے ہیں وہ دہلی جیسے شہر کی پریشانیوں کو سمجھ ہی نہیں پاتے۔ دوسرے جتنے پولیس والے ہیں، ان میں سے بڑی تعداد VIP کی سیکورٹی پر تعینات کردی گئی ہے۔ایسے میں جتنے پولیس والے بچ جاتے ہیں وہ نہ تو نظم و نسق برقرار رکھنے کے لئے کافی ہیں اور نہ ہی جرائم پر قابو پانے میں۔
ٹی وی چینلز کی بحث میں اور ٹوئٹر پر کچھ مشہور ہستیوں نے سعودی عرب کی بھی مثال دی ہے جہاں زانیوں کا سر قلم کردیا جاتا ہے یا شاید سنگسار،ایسے میں یہ خیال آتا ہے کہ ہمارا شرعی قانون یقینا بہتر ہے۔قانون جب تک سخت نہیں ہوگا تب تک روز ہی کسی نہ کسی معصوم کی عصمت سے کھلواڑ ہوتی رہے گی۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *