لال بتی والے سیاستدانوں! ایوان کے وقار کا تو خیال کرو

وسیم راشد 
راجیہ سبھا اور لوک سبھا یہ دو ایسے ادارے ہیں جو ہمارے ملک کی جمہوریت کے لئے اہم ستون کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان دونوں ایوانوں میں ملک بھر کے مسائل زیر غور لائے جاتے ہیں اور ان کے حل کے لئے لائحہ عمل تیار کیا جاتا ہے۔ یہ دونوں ہی ادارے ملک کے لئے انتہائی اہم اور با وقار ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں جن ممبروں کو بھیجا جاتا ہے، ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ان با وقار ایوانوں کے احترام کا خیال رکھیں گے مگرحالیہ راجیہ سبھا اجلاس میں،سرکاری نوکریوں میں ایس سی؍ایس ٹی کے ملازمین کو’پروموشن میں ریزرویشن ‘ کے تعلق سے آئینی ترمیم بل کے خلاف سماج وادی پارٹی کے ارکان نے جو شورو غل کیا ، جس کی وجہ سے تین بار اجلاس کو ملتوی کرنا پڑا اور دو ارکان کو ایوان سے باہر جانے کا حکم دیا گیا ،یہ قابل افسوس واقعہ ہے۔ ایک رکن کو اپنے وقار اور ایوان کے احترام کا خیال رکھتے ہوئے اپنے مطالبات رکھنے چاہئیں۔جب انہیں ایوان میںچن کر بھیجا جاتا ہے تو ان سے امید کی جاتی ہے کہ وہ ملک کی جمہوریت کا لحاظ رکھتے ہوئے عوام کے حق کی باتیں کریںگے، مگر جب ان سے اس طرح کے غیرسنجیدہ عمل سرزد ہوتے ہیں تو عوام کو مایوسی ہوتی ہے۔یہ صورت حال کسی ایک پارٹی کے ساتھ نہیں ہے بلکہ ملک کی دیگر پارٹیوں کے ساتھ بھی یہی صورت حال ہے ۔ چنانچہ اس موضوع پر بہو جن سماج پارٹی کی سپریمو مایاوتی نے ہائوس میں راجیہ سبھا کے چیئر مین پر جو سوالات کھڑے کئے ہیں وہ بھی جمہوری اقدار کی ناقدری سمجھی جائے گی۔مایا وتی نے بحث کے دوران چیئر مین پر اپنے الزام میں یہ کہا کہ ہائوس کی کارروائی کو ٹھیک طور سے چلانے کی ذمہ داری صدر یا چیئرمین کی ہوتی ہے ۔

پاکستان سے تشریف لائے وزیر داخلہ رحمن ملک نے ویزا میں نرمی کی بات کہی۔سنگل کی جگہ ملٹی پل انٹری ویزا اوربچوں و بوڑھوں کو On Arrivalویزا دینے کی بڑی خوش آئند بات کہی۔اس سے پہلے پاکستانی صدر آصف زرداری اور پرویز مشرف بھی ہندوستانی دورہ کے درمیان ویزا میں نرمی لانے کی بات کہہ چکے ہیں لیکن پھر دونوں ملکوں کے سیاست داں اپنے وعدے بھول جاتے ہیں کیونکہ وہ عام آدمی کا درد سمجھ ہی نہیں سکتے ،جب تک کہ ان کا کوئی اپنا ہجرت کرکے اپنوں سے نہ بچھڑا ہو اور اپنوں سے ملنے کے لئے تڑپ نہ رہا ہو۔رہنمائوں کی طرف سے ویزا میں نرمی لانے کے وعدے کے با وجود حال یہ ہے کہ کراچی میں تو سفارت خانہ ہے نہیں،وہاں کے لوگ اسلام آباد جاتے ہیں اور وہاں بھی کوئی گارنٹی نہیں ہوتی کہ ان کو ویزا مل ہی جائے گا۔کبھی کاغذات پورے نہ ہونے کا،کبھی ہندوستان سے صحیح اسپانسر شپ نہ ہونے کا عذر بتا کر ویزا رد کردیا جاتا ہے۔

یہ ایک عام جملہ ہے مگر یہ جملہ جس موقع اور ماحول میں کہا گیا ہے اس کا مطلب یہی نکلتا ہے کہ چیئرمین اپنی ذمہ داریوں کو بحسن و خوبی نہیں نبھا رہے ہیں جس کی وجہ سے ہائوس کے اجلاس کو بار بار ملتوی کرنا پڑتا ہے۔حالانکہ چیئر مین حامد انصاری نے اپنی طرف سے ہائوس میں کل جماعتی میٹنگ طلب کرکے سب کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش بھی کی مگر وہ بے سود ثابت ہوئی اور بی ایس پی کی سپریمو مایاوتی کی مخالفت کے آگے ہائوس نہیں چل سکا۔
ہائوس کے چیئر مین جناب حامد انصاری نہ صرف راجیہ سبھا کے چیئرمین ہیں بلکہ وہ ملک کے نائب صدر جمہوریہ بھی ہیں اور ان سے کسی سیاسی موضوع پر نوک جھونک کرنا اور ان پر الزام عائد کرنا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو بحسن و خوبی ادا نہیں کرپا رہے ہیں ، افسوسناک ہے۔سیاسی لیڈروں کے اس گرتے معیار کو نظر میں رکھتے ہوئے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کو چیئرمین پر اٹھائے گئے سوال پر بولنا پڑا اور انہوں نے اسپیکر کے احترام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ’’ اسپیکر کے لئے نمائندوں کے انداز و بیان میں مکمل احترام ہونا چاہئے۔ کیونکہ اسپیکر کے احترام میں ہی ایوان کا احترام ہے۔اراکین کو چاہئے کہ وہ راجیہ سبھا میں ایوان کی عزت بر قرار کھیں‘‘۔ وزیر اعظم کے اس بیان کے بعد اگرچہ مایا وتی نے اپنا سُر بدلتے ہوئے یہ بیان دیا کہ مجھے راجیہ سبھاکی چیئر مین پر مکمل یقین ہے اور میں ان کا دل سے احترام کرتی ہوں اور مجھے امید ہے کہ چیئرمین ’پروموشن میں ریزرویشن‘ بل کو پاس کرانے کا راستہ نکال لیںگے۔یہ ایک اچھی بات ہے کہ مایاوتی نے چیئرمین کے تئیں جو غیر مناسب تیور اختیار کیا تھا، انہیں اس کا احساس ہوا اور انہوں نے اپنے بیان سے اس کے منفی اثرات کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے ملک کے لیڈروںکے اخلاق میں گراوٹ کیوں آرہی ہے۔کبھی ان کے نازیبا سلوک کی وجہ سے پارلیمنٹ کا اجلاس ملتوی کرنا پڑتا ہے تو کبھی راجیہ سبھا کا ۔دراصل ادھر کچھ برسوں میں دیکھا گیا ہے کہ موقع پرستی اور مطلب پرستی سیاست دا نوں میں اس قدر سرایت کر گئی ہے کہ ہر سیاست داں کو جہاں موقع ملتا ہے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔یہ فائدہ چاہے مرکز کو بلیک میل کرنے کی شکل میں ملے یا ایوان میں شورو غل کرکے۔ ابھی کچھ دنوں پہلے کی بات ہے کہ ایک اجلاس میں ترنمول کانگریس کی سپریمو ممتا بنرجی نے حکومت کی مخالفت میں شدت اختیار کرلی تھی اور ریلوےبجٹ پیش ہونے کے موقع پر ان کی طرف سے حکومت کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ۔مرکز سے ممتا کا اختلاف اتنا بڑھا کہ انہوں نے سرکار کو دی جانے والی اپنی حمایت واپس لے لی۔کانگریس کو اپنی سرکار بچانے کے لئے کسی سیکولر جماعت کی بیساکھی کی ضرورت پڑی،چنانچہ کانگریس نے اتر پردیش کی دو سیاسی پارٹیوں ’سماج وادی پارٹی‘ اور’ بہو جن سماج پارٹی‘ سے حمایت مانگی۔ان دونوں پارٹیوں نے کانگریس کو حمایت دے کر حکومت کو گرنے سے بچا لیاتھا۔ممتا حمایت واپس لے کر تو الگ ہوگئیں اور مغربی بنگال کی سیاست میں لگ گئیںمگر کانگریس کے لئے مایا اور ملائم سے حمایت حاصل کرنے کے بعد بھی درد سر کم نہیں ہوا۔ کیونکہ کل تک اپنے ہر مطالبے پر جس طرح ممتا کانگریس کو جھکنے پر مجبور کر رہی تھیں آج وہی رویہ مایا وتی نے اپنالیا ہے اور ’پروموشن میں ریزرویشن‘ پر ایوان میں بل پاس کرانے کے لئے کانگریس کو مجبور کر رہی ہیں۔چونکہ کانگریس پر ان کا احسان ہے کہ انہوں نے کانگریس کی سرکار کو گرنے سے بچا لیا تھا لہٰذا اس کے بدلے وہ یہ چاہتی ہیں کہ کانگریس راجیہ سبھا کے چیئر مین کو بل پاس کرانے کے لئے اکسائے۔
کسی بل کو پاس کرانا غیر آئینی نہیں ہے۔ اگر وہ’ پروموشن میں ریزرویشن ‘کو ملک کے مفاد میں سمجھ رہی ہیں تو انہیں یہ بل پاس کرانے کی حمایت کرنے کا مکمل اختیار ہے مگر اس بل کو پاس کرانے کے لئے ایوان کے احترام کو کھو دینا یا چیئرمین سے نوک جھونک کر لینا نہ صرف جمہوری نظام کے خلاف ہے بلکہ سیاست دانوں کے اخلاق میں گراوٹ کی دلیل بھی ہے۔
ایک اور مسئلے پر بات کرنے کو دل چاہ رہا ہے۔سیاست کے ساتھ کبھی کبھی جذبات کے اظہار کی خواہش بھی ہوتی ہے اور جب معاملہ پاکستان سے بہتر ہوتے رشتوں کا ہو تو قلم خود بخود اٹھ جاتا ہے۔یہ ایک ایسا کرب جسے ہندوستان اور پاکستان دونوں ملکوں کےمسلمان نہ جانےکب سے جھیل رہے ہیں۔ حالانکہ دونوں ملک کے لیڈر ویزا میں نرمی لانے کی باتیں کرتے ہیں، مگر عملی طور پر اس طرف قدم نہیں اٹھایا جاتا ہے۔ ابھی حال ہی میں پاکستان سے تشریف لائے وزیرداخلہ رحمن ملک نے ویزا میں نرمی کی بات کہی۔سنگل کی جگہ ملٹی پل انٹری ویزا اوربچوں و بوڑھوں کو On Arrivalویزا دینے کی بڑی خوش آئند بات کہی۔اس سے پہلے پاکستانی صدر آصف زرداری اور پرویز مشرف بھی ہندوستانی دورہ کے درمیان ویزا میں نرمی لانے کی بات کہہ چکے ہیں لیکن پھر دونوں ملکوں کے سیاست داں اپنے وعدے بھول جاتے ہیں کیونکہ وہ عام آدمی کا درد سمجھ ہی نہیں سکتے ،جب تک کہ ان کا کوئی اپنا ہجرت کرکے اپنوں سے نہ بچھڑا ہو اور اپنوں سے ملنے کے لئے تڑپ نہ رہا ہو۔رہنمائوں کی طرف سے ویزا میں نرمی لانے کے وعدے کے با وجود حال یہ ہے کہ کراچی میں تو سفارت خانہ ہے نہیں،وہاں کے لوگ اسلام آباد جاتے ہیں اور وہاں بھی کوئی گارنٹی نہیں ہوتی کہ ان کو ویزا مل ہی جائے گا۔کبھی کاغذات پورے نہ ہونے کا،کبھی ہندوستان سے صحیح اسپانسر شپ نہ ہونے کا عذر بتا کر ویزا رد کردیا جاتا ہے۔ پاکستان میں ویزا ملنا اس قدر مشکل ہے جس کا کوئی اندازہ نہیں کرسکتا۔ کراچی وہ شہر ہے جہاں سب سے زیادہ مہاجر رہتے ہیں اور ایسے شہر میں قونصل خانہ نہ ہونا، اس بات کی علامت ہے کہ ابھی بھی مہاجرین کے درد کو سمجھنے والا وہاں کوئی نہیں ہے۔یہاں بھی ویزا کے معاملے میں وہی حال ہے۔ کئی کئی دن لوگ سفارت خانہ کے باہر پڑے رہتے ہیں ۔صبح 5 بجے سے لائن میں لگ جاتے ہیں مگر ویزا تب بھی نہیں ملتا اور وہی عذر کہ کاغذات پورے نہیں ہیں ، فیکس سے مطمئن نہیں ہیں،کبھی رشتہ دار ،رشتہ دار نہیں لگتے،غرض کسی نہ کسی بہانے ویزا کی درخواست رد کر دی جاتی ہے۔
عرصہ قبل ایک ایسا معاہدہ سننے میں آیا تھا،جس میں 65 سال سے زیادہ عمر کے لوگ اگر سرحد پر پہنچ جائیںگے تو ان کو ویزا مل جائے گا ۔ اللہ جانے اس میں کتنی سچائی ہے۔ اس قدر بے اعتبار ی ہے کہ کوئی بھی اپنے گھر کے بزرگوں کے لئے اتنا بڑا رِسک نہیں اٹھا ئے گا کہ وہ سرحد پر پہنچ جائے اور وہاں جاکر جانے ان کے ساتھ کیسا سلوک ہو۔ رحمن ملک کی آمد خوش آئند ہے اور ان کا یہ کہنا بھی جائز ہے کہ دہشت گردی کے درد کو پاکستان سے زیادہ کوئی نہیں جانتا،مگر حافظ سعید کے معاملے میں کسی ملک کا اتنا مجبور ہو جانا کہ اس کی گرفتاری نہ ہو پائے ،یہ پاکستان کی حکومت کا کمزور ہونا ہے۔رحمن ملک صاحب کا یہ کہنا کہ’ صرف قصاب کے بیان پر حافظ سعید کو پکڑا نہیں جا سکتا‘ ،یہ ایک کمزور بیان ہے۔ خیر چلئے رحمن ملک صاحب کا کھلے دل سے استقبال کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ خدا کرے دونوں ملکوں کے بچھڑے ہوئے دل اس ویزا کی نرمی سے پھر مل جائیںاور رشتوں کی کڑواہٹ مٹھاس میں بدل جائے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *