لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ

(اعجاز حفیظ (پاکستان
اکثر یہی دیکھا ہے کہ سوچا کچھ جا رہا ہو تا ہے اور نظر کچھ اورآرہا ہوتا ہے ۔ہمارا پاکستان تو ایسے واقعات سے بھرا ہواہے ۔کسی ایک سے شروع کر دیں ،دوسرا سِرا ڈھونڈنے سے بھی نہیں مل پاتا۔ کالا باغ ڈیم کے بارے میں لاہور ہا ئی کورٹ کے فیصلے کا شمار بھی ان ہی میں ہو گا ۔تین صوبے اس کی تعمیر کے خلاف ہیں ۔صوبہ سندھ اور صوبہ پختونخواہ تو ایشو پر مرنے مارنے کے لئے بھی تیار ہیں ۔صوبہ سندھ والوں کا کہنا ہے کہ اس سے دریائے سندھ میں پانی کی بجائے مٹی ہی ’’بہہ ‘‘ رہی ہو گی ۔جبکہ کے پختونخواہ کا کہنا ہے اس سے اُس کے شہر ڈوب جا ئیں گے ۔ ان دونوں صوبوں کی حکومتوں نے بھی لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کی سخت مخالفت کی ہے ۔یہاں تک کہا ہے کہ وہ اس کی کی تعمیر کو روکنے کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ۔صوبہ بلوچستان کی حکومت نے بھی اس کی مخالفت کی ہے ۔آج کل عدالتی فیصلے جس تیزی سے آ رہے ہیں ،بہت سوں کا کہنا ہے کہ کہیں الیکشن ہی لٹک کے نہ رہ جا ئیں ۔یہ سوچ دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔یہ بھی عرض کرتے چلیں کہ ہمارے جیسے ممالک میں سوچوں کی ’’درآمد ‘‘کے لئے بھی بہت سوں نے اپنے دروازے کھلے رکھے ہوتے ہیں ۔اب تو ان میں بہت سے غیر سیاسی معززین بھی شامل ہو گئے ہیں۔دن تو دن رات کو بھی اُنہوں نے انہیں کھلا رکھا ہوتا ہے کہ ’’اُن ‘‘کو دستک کی تکلیف بھی گوارہ نہ کرنی پڑے ۔پاور پولیٹکس میں ایسا ہی ہوتا ہے ۔اگر اس میں صرف سیاست داں ہوں تو سمجھ میں آتی ہے۔ اُنہوں نے تو اپنے ’’گھوڑے ‘‘اسی میدان کے لئے پالے ہوتے ہیں لیکن دوسروں کی برق رفتاری… ہماری جمہوریت کے ساتھ زیادتی کرنے کے مترادف ہے ۔ابھی تو ویسے بھی اُس کے بچپن کے دن ہیں۔جمع،تفریق ،تقسیم اور ضرب کر کے دیکھ لیں ،رواں جمہوریت کی یہی عمر نکلے گی۔یہ جو ’’برق رفتار‘‘ والے ہیں ،آج کل اُن کے انتظار کا صبر ،خود اُن کے لئے جیسے ’’قہر ‘‘ بننا شروع ہو گیا ہے ۔
بی بی سی کا کہنا کہ ’’کالا باغ ڈیم پر عدالتی فیصلہ پیپلز پارٹی کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں۔جس نے اندرون سندھ ن لیگ کے قدموں کو روک دیا ہے ‘‘۔آج کل جب ہمارے یہاں بھی آزاد میڈیا کی بہار ہے ۔چینلز میں ایک سے بڑھ کر ایک شگوفہ کھل رہا ہوتا ہے ۔ایسے موسم میں بھی بی بی سی کی سنی جاتی ہے۔ یاد آیا کہ1977ء میں پی اے این اے کی تحریک کے دوران یہ بات زباںزد عام تھی کہ اُس کا دسواں ستارا بی بی سی ہے ۔آج بھی ہمارے بزرگوں کو مارک ٹیلی کا نام یاد ہو گا ۔مجھے سچ کہنے دیجئے کہ آج بھی اُس تحریک کے زخم بھرنے کو نہیں آ رہے ۔آج کی دہشت گردی کا آغاز اُن ہی دنوں ہوا تھا اور اب بات کہاں سے کہاں تک پہنچ گئی ہے ۔پیپلز پارٹی کی دشمنی میں ڈکٹیٹر ضیا نے ہر اُس شخص سے دوستی کی ،جس سے اُس کا اپنا دامن بچ سکے ۔ اور آج…جن کو اُس نے عمر دینے کی دعا کی تھی ،اُن کے گریباں بھی چاک ہیں۔ ویسے تو اب یہ لوگ ڈکٹیٹر کا نام بھولے سے بھی نہیں لیتے ، صرف عوام کی حد تک ۔ ہو سکتا ہے کہ ذاتی اور انفرادی محفلوں میں اُس کی یاد سے ان کی آنکھوں چھلک رہی ہوں ۔
نواب زادہ نصر اﷲخان کی ایک بات بھی یاد آئی کہ ’’ جنرل ضیا ء الحق کی مسکراہٹ میں چھپی منافقت کو سمجھنے میں بہت دیر لگی۔ ‘‘لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر تبصرہ کرنے میں وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے ذرا دیر نہیں کی ۔انہوں اس کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے فوری طور پر اس کی تعمیر کا مطالبہ کیا۔ البتہ دو دن کے بعد انہوں نے بھی چاروں صوبوں کی مشاورت پر زور دیا ۔دل پریشان ہے بلکہ کچھ کچھ بدگمان بھی ہے کہ میاں صاحب کی کس بات کو مانا جائے ۔ یاد آیا کہ میاں نواز شریف نے بھی اپنے دوسرے دور ِ حکومت میں اس کی تعمیر کا اعلان کیا تھا ۔اُن دنوںپارلیمنٹ میںدو تہائی اکثریت کے ہوتے ہوئے بھی اُن کا چراغ بجھنے لگا تھا ۔وہ عوام میں اپنی مقبو لیت کھو بیٹھے تھے ۔جنرل مشرف کی آمد پر پورے ملک میں مٹھائیاں بانٹی گئیں۔کالا باغ ڈیم پر ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد میاں نواز شریف صاحب کا بھی امتحان شروع ہو گیا ہے۔اُن کی ’’فوجیں ‘‘ سندھ کے قوم پرستوں کے کندھوں پر اپنے طور پر اندورن سندھ کو فتح کر چکی تھیں ۔ اب بھی یہی کہا جا رہا ہے کہ جلد ہی پیر صاحب پگاڑا بھی اُن کے شانہ بشانہ ہوں گے ۔لیکن کالا باغ ڈیم کے فیصلے نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا ۔ہمارے خیال کے مطابق اگر یہ فیصلہ نہ بھی آتا توپھر بھی مسلم لیگ (ن) کو اندرون سندھ سے الیکشن میں خواب اور سراب کے سوا کچھ نہیں ملنا تھا۔ ناچیز کی رائے میں اس فیصلے سے سندھ کے قوم پرستوں کو اصل جھٹکا لگا ہے ۔ اب یہ ایشو بلدیاتی نظام سے آگے نکل گیا ہے۔اُن کے ارمانوں اور افسانوں کی ’’تھیم ‘‘ہی بدل کر رہ گئی ہے ۔
یہ بھی عرض کرتے چلیں کہ بے وقت کے رونے سے آنسوئوں کا خزانہ بھی خالی ہونا شروع ہو جاتا ہے ۔ کالا باغ ڈیم کو متنازعہ ڈکٹیٹر ضیا نے قوم کو تقسیم کرنے کے لئے بنایاتھا۔آج اُن کے صاحبزادے جناب اعجاز الحق نہ جانے کب سے مسلم لیگ (ن) کی جانب حسرتوں بھری نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں ۔ عرض ہے کہ ایک دنیا خواب و خیال کی بھی ہوتی ہے ،جو رات کو جاگتی اور دن کو سوتی ہے ۔ہم نے پہلے رات کا ذکر اس لئے کیا کہ اس میں آمدکے لئے بہترین وقت وہی ہوتا ہے ۔ہم اکثر سے سوچتے ہیں کہ اگر یہ نہ ہوتی تو دل کے ماروں پر کیا گزرنی تھی؟آج کی معاشی اور سازشی دنیا میں ایک مقابلہ دل اور دماغ کے درمیان بھی ہے ۔ قارئین پوچھ سکتے ہیں کہ معاشی دنیا کی تو سمجھ آتی ہے لیکن سازشی دنیا …دل اور دماغ کے درمیان مقابلے کو کیا نام دیں گے ؟کہنے کو دونوں ایک ہی جسم کا حصہ ہیں۔مسلم لیگ( ن) کے رہنما جناب ممتاز بھٹو کا ایک بیان نظر سے گزرا کہ ’’اگر اعجاز الحق کو پارٹی میں شامل کیا گیا تو وہ اُس سے اپنے راستے الگ کر لیں گے۔‘‘ابھی تو اُن کا نیا سیاسی سفر شروع ہوا ہے او ر ابھی سے ہی الگ ہونے کی بھی باتیں۔عرض ہے کہ ہماری پیاری و دردوں کی ماری سیاست میں صبر و شکر کی جتنی آج ضرورت ہے ،ماضی میں شاید ہی ایسے حالات ہوئے ہوں۔ قارئین کے علم کے لئے یہ بھی عرض کرتے چلیں کہ ممتاز بھٹو ،جناب ذوالفقار علی بھٹو کے فرسٹ کزن تھے ۔اُن کی کابینہ کے رکن بھی رہے ۔ایک بار بھٹو صاحب نے قوم سے خطاب میں اُنہیں اپنا Talented Cousin بھی کہا تھا ۔کالا باغ ڈیم پر لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے سے بھی جناب ممتاز بھٹو یقینا بڑی مشکل میں نظر آتے ہیں ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *