لڑکیوں کو ماں کے پیٹ میں کیوں مار دیا جاتا ہے؟

سامعہ جمال 
ہندوستان ایک ایسا ملک ہے، جہاں بیٹیوں کو لکشمی ماناجاتا ہے، ان کی پوجا کی جاتی ہے، نوراتروں میں کنچکیں بٹھائی جاتی ہیں، پھر انہی لڑکیوں کو جلا کر مار دیا جاتا ہے۔ پر جلاکر مارنے کی نوبت تو تب آتی ہے، جب وہ بڑی ہوتی ہے۔ ہندوستان میں لگ بھگ ایک کروڑ لڑکیاں اپنی پہلی سالگرہ تک نہیں پہنچتی ہیں۔ وہ یا تو مرجاتی ہیں یا ماردی جاتی ہیں۔ ہمارے ملک میں خواتین کی آزادی اور عورتوں کی تخصیص اور بیٹیوں کی مفت پڑھائی کی بات ہوتی ہے، لاڈلی نام کی ایک اسکیم بھی ہے، تو پھر اس ملک میں بیٹیوں کو مارنے کی بات سوچی ہی کیوں جاتی ہے؟ آخر رحمِ مادر میں لڑکیوں کو مارنا ہمارے لیے ایک موضوع ہے ہی کیوں؟ کیا ہمیں جہیزسے ڈر لگتا ہے؟ گھر کی عزت لٹ جانے کا ڈر لگتا ہے؟ یا پڑوسیوں کی باتوں اور چرچوں کا خوف ہے؟ بیٹا ہمیں کیوں چاہیے؟ چتا میں آگ لگانے کے لیے؟ قبرستان میں داخل ہو کر قبر کے قریب فاتحہ پڑھنے کے لیے؟ یا پھر روزی روٹی کمانے کے لیے؟ پھر کیا ہم نے سوچا ہے اس بیٹا بیٹی کی جنگ میں ماں کا کیا حال ہوتا ہے جو خود کسی کی بیٹی ہے؟
پچھلے بیس سالوں میں ماں کے پیٹ میں دس کروڑ لڑکیوں کو مارنے کے کیس پائے گئے ہیں۔ کھیتوں میں، ندیوں میں اور جوٹ کے تھیلوں میں ان کا پایاجانا اب تو ایک عام بات سی ہو گئی ہے۔ حیوانیت کی حد تو یہ ہے کہ ان فیٹسز کو اکثر کتوں کو کھلایا جاتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے، بیٹیوں کو زیادہ تر بوجھ سمجھا گیا ہے۔ گلابوسپیرا، ایک سماجی کارکن۔ ان کی ماں نے انہیں پیدا ہونے کے بعد زمین میں گاڑ دیا تھا۔ جب ان کی خالہ کو پتہ چلا تو انہوںنے گلابو کو زمین سے نکالا، وہ بھی اس لیے کیوں کہ ان کے پہلے سے بیٹے تھے۔
سرکاری اعدادو شمار بھی حیران کرنے والے ہیں:
2001 کی مردم شماری میں 933 لڑکیاں درج ہوئیں اور 2011 کی مردم شمار میں 940۔ صرف 7 لڑکیوں کی بڑھت۔
ہریانہ میں جنسی تناسب بہت کم ہے۔
کیرالہ میں جنسی تناسب سب سے زیادہ ہے۔
دہلی – 2001 میں 1000 لڑکوں پہ 821 لڑکیاں اور 2012 میں 1000 لڑکوں پہ 866 لڑکیاں۔
اِن فمیل فیٹسائڈ کے پیچھے کافی حد تک ہمارے ملک کا قانون بھی ذمہ دار ہے۔ میڈیکل ٹرمنیشن آف پرگنینسی ایکٹ 1971 اس بات کا ثبوت ہے۔ وجہ ہے 1964 میں بڑھتی ہوئی آبادی پر ہوئی سرکاری میٹنگ۔ اس میٹنگ کی وجہ سے اسقاط حمل کو جائز قرار دیاگیا۔ 1990 میں آئی الٹرا سائونڈ کی تکنیک نے بات کو ایک طرح سے اور بگاڑ دیا۔ حاملہ عورتوں کو اس امتحان سے گزرنا پڑا۔ لڑکی یا لڑکا کا پتہ کرواکے لڑکیوں کو مار دیا گیا۔
1971میں بنا یہ قانون کچھ حد تک صحیح بھی ہے، پر اس کا صحیح ہونا چند صورتوں میں ہی جائز ہے۔ اسقاط حمل صرف 7 صورتوں میں ہی جائز ہے:
اگر ماں کی جان کو خطرہ ہو۔
اگر ماں کو کسی طرح کی جسمانی چوٹ پہنچ رہی ہو۔
عصمت دری حمل کی وجہ ہو۔
ماں کو دماغی تکلیف ہو رہی ہو۔
بچہ جسمانی طور سے ٹھیک نہ ہو۔
بچے کی پرورش کرنا ماں باپ کے بس میں نہ ہو۔
اسی سے متعلق چند مثالوں پر نظر ڈالتے ہیں۔ سویتا ہلپّناوار پہلے اور دوسرے نقطہ نظر سے جائزمثال ہے۔ سویتا کا حمل صرف تین ہفتے کا تھا۔ حمل رکھنے سے ان کی جان کو خطرہ تھا۔ پھر آئرش سرکار نے اسقاط حمل کی اجازت نہیں دی اور وہ گزر گئیں۔ حمل کے اندر ہی ختم ہو جانے سے ان کے خون میں زہر پھیل گیا۔ اس زہر کی وجہ سے طرح طرح کی بیماری ہوگئی۔ اگر اس صورت میں حمل کو ختم کر دیا جاتا تو آج 3ہفتے کے حمل کے لیے 30سال کی عورت کی قربانی نہیں ہوتی۔
وجہ 3 ایسی ہے کہ آپ خود اس سے اتفاق کریں گے
وجہ 5 پہ ہم لکھنؤ کی امینہ اشرف کی مثال لے سکتے ہیں۔ امینہ نے بیس ہفتے سے پہلے والے ٹیسٹ کروائے۔ یہ ٹیسٹ ٹیفا اور ٹرپل مارکر ٹیسٹ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ ٹیفا الٹراسائونڈ ٹیسٹ اور ٹرپل مارکر خونی جانچ ہے۔ ٹیفا سے بچے کے سارے جسمانی اعضا کی جانچ ہوتی ہے جیسے دل، گردا اور دماغ۔ امینہ نے ٹیفا کہیں باہر سے کروایا، جو صحیح نہیں ہوا۔ رپورٹ غلط دی گئی۔ امینہ نے آٹھویں مہینے میں جب دوبارہ نارمل الٹرا ساؤنڈ کروایا تو پتہ چلا کہ بچے کا سر کافی بڑا ہے۔ ڈاکٹروں نے بھی صاف کہہ دیا کہ بچہ نہیں بچ پائے گا۔ بچہ سی -سیکشن سے آٹھویں مہینے میں پیدا ہوا۔ جب اسے دیکھا تو پتہ چلا کہ دماغ میں پانی بھرا ہے، جس سے سر بڑا ہو گیا ہے۔ ٹیل بون پہ جلد پوری نہیں آئی تھی اور پیر بھی مڑے ہوئے تھے۔ وہ بچہ کچھ ایک ہفتہ زندہ رہا اور پھر گزر گیا۔ ماں کو تو ذہنی تکلیف ہوئی ہی گھر کے باقی لوگ بھی صدمے میں ہیں۔ اس مثال سے وجہ 4 بھی صاف ہو جاتی ہے۔
وجہ 6 میں ہم دہلی کے سنگم وہار کی ہاجرہ کی مثال لے سکتے ہیں۔ ہاجرہ نے دو بار اسقاط حمل کروایا۔ اس کا کہنا ہے کہ ’ہمارے چار بچے ہیں: تین بیٹیاں اور ایک بیٹا۔ ہم میاں بیوی کو ملا کر چھ لوگ ہیں۔ میاں ہمارے زیادہ کام نہیں کر پاتے۔ ہم گھروں میں کام کرتے ہیں۔ پیسے کی پریشانی کی وجہ سے ہم نے ایک بیٹی دادی کے پاس چھوڑی ہوئی ہے۔ اور بچے ہو جائیں گے تو کہاں سے کھلائیں گے۔‘‘
اوپر لکھی ہوئی سات وجہوں کے علاوہ چند اور باتیں ہیں جو اسقاط حمل سے پہلے مد نظر رکھنی ہوتی ہیں:
حمل 12 ہفتے کا ہو (اکثر اس مدت سے پہلے ماں کو پتہ ہی نہیں چل پاتا ہے کہ وہ حمل سے ہے)۔
حمل 20 ہفتے سے زیادہ کا نہ ہو۔ اگر 20 کے قریب بھی پہنچ گیا ہے تو دو ڈاکٹروں کی صلاح ہو اور جائز حق میں ہو۔
اگر کسی طرح کا بچاؤ (مانع حمل) ناکام ہوگیا ہو۔
ان باتوں کے علاوہ درج ذیل باتیں بھی نظر میں رکھی جاتی ہیں:
اگر ماں شادی شدہ ہے تو اس کی تحریری شکل میں منظوری، شوہر کی ضروری نہیں ہے۔
اگر غیر شادی شدہ اور 18 سال سے اوپر ہے، تو ماں کی منظوری تحریری شکل میں۔
اگر 18 سال سے کم ہو، تو اس کے گارجین (یا والدین) سے تحریری شکل میں منظوری
اگر ماں کا دماغی توازن ٹھیک نہ ہو، تو گارجین کی تحریری شکل میں منظوری
اتنے اسقاط حمل ہوئے، اور بھی ہو رہے ہیں اور ستم یہ ہے کہ شاید ہوتے رہیں گے۔ بیٹیوں کو مار دینا تو عام سی بات ہے۔ پر آخر اس ننھی سی جان، جس نے ابھی آنکھیں بھی نہیں کھولیں، اس کی کیا غلطی ہے؟ عصمت دری، استحصال، لفظوں کی بدسلوکی، امتیاز وغیرہ وغیرہ تو آج کل لڑکوں کے ساتھ بھی ہوتا ہے، پر ہم بیٹوں کو تو حمل میں نہیںمار ڈالتے، تو پھر بیٹیوں کو کیوں مارا جاتا ہے؟
ماں کی کوئی غلطی نہیں/بیٹی ہوں میں باپ کی وجہ سے
مجھے نہ مارو پیاری ماں/بچا لو مجھے کسی طرح
ماں تمہاری بھی غلطی نہیں/اکیلے کیسے لڑوگی تم
کاش تمہارا درد سمجھتے/تو ابا کو بھی ہوتاغم
سوچا دادی کی سہیلی بنوںگی/دادا کی بنوں گی لاٹھی
او میرے پیارے دادا دادی/کیوں تم نے میری قدر نہ جانی
خود نہ آئی ماں کے اندر/اللہ کا فرمان ہوں میں
بخشش بھی ایک وجہ ہے/جس کا بے شک ذریعہ ہوںمیں
افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ جہاں 2012 میں 25 لاکھ سے اوپر اسقاط حمل ہوئے، وہیں کچھ ایسے بھی جوڑے ہیں، جو ایک اولاد کے لیے ترستے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *