غزہ میں اسراءیلی جارحیت

 ماجد دیوبندی 
انبیاکی سرزمین فلسطین ایک بار پھر لہو لہان ہو گئی اور غزہ ایک خوفناک جنگ کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔ایک ایسے وقت میںجب خطۂ عرب انقلاب کی آگ میں جھلس رہا ہے اور دیگر بہت سے مسائل منہہ کھولے کھڑے ہیں،اسرائیل نے فلسطینی علاقوں پر بمباری شروع کر دی جس کی آنچ پورے عالمِ عرب کو اپنی گرفت میں لے سکتی تھی۔ایک ہفتہ تک جاری اسرائیلی حملوں میں زبردست جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔اخباری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اس میں سوا سو سے زائد فلسطینیوں کی موت ہو چکی ہے جس میں بوڑھے،بچے،عام شہری اور لڑکے سب شامل تھے۔حماس اور اسرائیل کے درمیان جاری خونریزی تصادم کو عالمی برادری تشویش کن نظروں سے دیکھ رہی تھی کیوں کہ دونوں میں سے کوئی بھی پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں تھا۔حالانکہ اس بار جد و جہد نے خطرناک رخ اختیار کر لیا تھا اور زیادہ تر اسرائیلی شہر حماس کے راکٹ حملوں کے دائرے میں آ گئے تھے۔اس لیے پورے اسرائیل پر کپکپی طاری تھی۔اسرائیل کے کاروبار ی مرکز تل ابیب پر فلسطینی لڑاکو ئوں نے راکٹ داغے۔اسرائیلی حملے کا یہ تگڑا جواب تھااور اسرائیل نے بھی زمینی کارروائی کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا دیا تھا اور اس نے ۷۵ ہزار اضافی فوجوں کو تیار ی کا حکم بھی دے دیا تھا یعنی تخریبی ہتھیاروں کا قہر پھر سے بے بس انسانوں پر ٹوٹنے والاتھا کہ عالمی برادری کی جانب سے جنگ بندی کی کوششیں شروع ہو گئیں اور بنجامن نتن یاہو کی حکومت کو وارننگ دی گئی کہ اگر اس نے زمینی کارروائی کی تو بین الاقوامی امداد اس سے چھن سکتی ہے۔برطانیہ نے بڑی سختی سے یہ پیغام سنایا۔اس کے وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے بی بی سی کو بتایا کہ اسرائیل اپنے دل و دماغ میں یہ بات بٹھالے کہ پہلے کی طرح جنگ چھیڑنے پر اسے ملنے والی بین الاقوامی حمایت بند ہو سکتی ہے۔ اسرائیل کی جانب سے فضائی حملے میں غزہ میں حماس کے وزیر اعظم کے دفتر اور کابینہ کی عمارت اور پولیس ہیڈ کوارٹر سمیت متعدد مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔صرف ایک رات میں اسرائیلی فضائیہ نے ۲۰۰ سے زیادہ فضائی حملے کیے۔دوسری جانب امریکی صدر براک اوباما نے اسرئیل کی پشت پناہی کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اسرائیل کے اپنے تحفظ کے حق کی مکمل حمایت کرتا ہے۔تھائی لینڈ میں خطاب کرتے ہوئے اوبامہ نے کہا کہ ’’ہم اسرائیل کی اس معاملے میں مکمل حمایت کرتے ہیں کہ وہ اپنے شہریوں کے گھروں،کامکاج کی جگہوں اور لوگوں کی ہلاکت کا سبب بننے والے میزائلوں کے خلاف اپنا دفاع کرے اور ہم اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت جاری رکھیں گے‘‘۔اوباما کی یہ جملہ کوئی نیا نہیں تھا۔ہر امریکی صدر اسی طرح کی بات کرتا ہے۔
اسرائیل اور حماس کے درمیان حالیہ کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب اسرائیل نے فضائی حملہ کر کے حماس کے عسکری ونگ کے سربراہ احمدجباری اور ان کے نائب کو ہلاک کر دیا تھا۔اسرائیلی فوج کے ترجمان کے مطابق پانچ روز میں اسرائیلی علاقوں پر ۷۰۰ سے زائد راکٹ داغے گئے جن میں ۲۰۰ سے زیادہ کو اسرائیل کے میزائل شکن دفاعی نظام نے راستے میں ہی تباہ کر دیا۔ترجمان کے مطابق اسرائیل نے غزہ میں ۶۰۰ سے زائد جگہوں کو نشانہ بنایا۔دوسری جانب معرکہ کی راجدھانی قاہرہ میں عرب لیگ کے اجلاس میں یہ طے کیا گیا کہ لیگ کا ایک نمائندہ وفد غزہ پٹی کے دورے پر جائے گا۔قاہرہ میں عرب لیگ کے اجلاس کے ساتھ ساتھ حماس کے سربراہ خالد مشعل قطر کے امیر،ترکی کے وزیر اعظم اور مصر کے صدر کے درمیان چار فریقی مذاکرات بھی ہوئے۔عرب لیگ کے سکریٹری جنرل نبیل العربی نے غزہ پٹی کے دورہ پر جانے والے اس نمائندہ وفد کی قیادت کی ہے۔اس وفد کے دورے کا مقصد غزہ کے عوام کے ساتھ اظہار یک جہتی کرنا اور انسانی ہمدردی کے تحت امداد کی فراہمی کا جائزہ لینا اور اس بحران میں پیش آنے والی مزید تبد یلیوں کا جائزہ لینا تھا۔اس وفد میں عراق،لبنان اور فلسطینی انتظامیہ کے وزیر خارجہ شامل ہوئے۔ادھر اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ پٹی میں بڑھ رہے تشدد کے واقعات کو روکنے کی اپیل کی۔انھوں نے کہا کہ راکٹ حملے بالکل برداشت نہیں کیے جا سکتے ،انھیں روکنا پڑے گا۔
دوسری طرف فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیل کے حوالے سے کہا ہے کہ وہ غزہ پر اس لیے حملہ کر رہا تھا تا کہ وہ فلسطین کو اقوام متحدہ میں بہتر سفارتی حیثیت حاصل کرنے کی ان کی کوششوں کو ناکام بنا سکے۔عباس جن کی فورس کو ۲۰۰۷ء میں حماس نے شکست دے دی تھی،اسرائیل پر الزام لگایا کہ وہ خون خرابہ بھڑکا رہا ہے۔انھوں نے اخباری نمائندوں سے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس کی فوجی کارروائی کا مقصد ان کی اپنی سفارتی کوششوں کو روکنا ہے۔انھوںنے کہا کہ یہ سب کچھ اس لیے ہو رہا ہے تا کہ ہم اقوام متحدہ نہ پہنچ سکیں۔انھوں نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت بلا شبہ ہمارے یعنی فلسطینی عوام کے خلاف ہے،ہم اسرائیل کے منصوبے کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔در اصل یہ پورا مسئلہ طویل عرصہ سے غزہ پٹی پر قبضے سے جڑا ہے۔اس کو لیکر اسرائیل اور فلسطین میں لگاتار تنازعات کھڑے ہوتے رہے ہیں۔ان تنازعات کے درمیان ۲۰۰۶ء میںہونے والے جمہوری انتخاب میں حماس نے غزہ پر قبضہ کر لیا تھا۔اس سے قبل ۲۰۰۵ء میں اسرائیل نے غزہ پر اپنا قبضہ چھوڑ دیا تھا۔اس کے باوجود غزہ کو لے کر جھگڑا لگاتار جاری رہے۔اسرائیل اس پر قبضہ کرنے کے لیے لگاتار کوشش کرتا رہا ہے اور ہمیشہ ہی دہشت گردی کو بہانا بناتا رہا ہے لیکن حالیہ اسرائیلی حملوں کے پس پشت دہشت گردی سے کہیں زیادہ سیاسی وجوہات کو اہم مانا جا رہا ہے۔اسرائیل میں ۲۰۱۳ء میں الیکشن ہونے والے ہیں۔وہاں کے وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو اور ان کی پارٹی کو بھی الیکشن میں اترنا ہے۔ظاہر ہے ان کی اور ان کی پارٹی کی یہ کوشش ہوگی کہ ہر حال میں وہ الیکشن میں کامیاب ہو۔اس جیت میں دہشت گردی مخالف لڑائی کے توسط سے انھیں کافی مدد مل سکتی ہے کیوں کہ حال ہی میں امریکہ میں ہوئے الیکشن میںصدر براک اوباما کو ملنے والی زبردست کامیابی کے پس پشت دہشت گری کے خلاف چلائی گئی مہم اور اسامہ بن لادن کی ہلاکت بھی رہی ہے۔نتن یاہو اس جذبے کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اور اس کا پوری طرح استعمال کرنا چاہتے ہیں۔اسی لیے انھوں نے الیکشن سے کچھ عرصہ قبل حماس کا معاملہ اٹھایا اور غزہ پر حملے تیز کر دیئے۔
بیت المقدس کا تعارف
بیت المقدس وہ مبارک سرزمین ہے جو زیتون کی برکتوں سے معمور ہے،جہاں اسراء و معراج کا واقعہ پیش آیا،جو قبلۂ اول کی حیثیت سے معروف ہے،جسے تیسرے حرم کے بطور جانا جاتا ہے اور جس کے لیے ہمہ وقت اور ہر حال میںلوگ اس کی طرف رخت سفر باندھتے یں۔یہ شہر مقدس اِس وقت صہیونی قوتوں کے بغض و عناد کی بھینٹ چڑھ گیا جب بالفور نے ۱۹۱۷ء میں عہد و پیمان لیا۔۱۹۴۸ء میں اس شہر کو جنگ کے دور سے گزرنا پڑا اور اس کے زیر اثر ۱۹۶۷ء میں صہیونیوں نے اس پر اپنا تسلط جما لیا۔اس سرزمین کے میدانی اور پہاڑی علاقوں سے درد و کراہ بھری مستقل آوازیں آتی رہتی ہیں جو فریاد کی شکل میں’’مجھے بچائو مجھے بچائو‘‘ سنائی پڑتی ہیں۔سرزمین قدس کا مسئلہ امت مسلمہ کے دل میں ہمیشہ چبھتا رہے گا جس کی ٹیس سے ہمیشہ وہ بے قرارہی رہے گی اور ایسا کیوں نہ ہو؟یہ تو نبیوں اور رسولوں کی سرزمین ہے۔اس سرزمین پر یہودیوں کا ناپاک وجود ہمیشہ مسلمانوں کی آنکھ کی کر کری بنا رہے گا تا آنکہ ان کے وجود سے یہ سرزمین پاک ہو جائے۔
جنگ بندی
امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کے پہنچنے سے پہلے اسرائیل اور حماس جنگ بندی کے لیے تیار ہو گئے۔جنگ بندی کی تجویز مصر نے تیار کی اور مصر اور اقوام متحدہ کی کوششوں سے جنگ بندی تو ہو گئی لیکن اس تصادم کے نتیجے میں جو کشیدگی پیدا ہوئی تھی وہ دور نہیں ہوئی ہے۔حالیہ تصادم کے دوران اسرائیلی ہوائی حملوں کے خلاف کھل کر اتر آئے تھے۔انھوں نے اسرائیل کے خلاف سائبر جنگ کا آغاز کر دیا تھا۔اسرائیلی وزیر مالیات پووال استے انتنر نے یہ تسلیم کیا ہے کہ ہیکروں نے ۶ دن میں اسرائیلی ویب سائٹوں پر ۶ کروڑ حملے کیے تھے۔ہیکروں کا سب سے بڑا گروپ ان نمس لگاتا ر ہیکنگ کر رہا تھا اور لگ بھگ ایک ہزار ویب سائٹس کو تباہ کر چکا ہے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جو لوگ اسرائیل کے خلاف ہتھیار نہیں اٹھا سکتے وہ کی بورڈ اور ہیکنگ سوفٹ ویر کی مدد سے اسرائیل کو زچ کرنے میں کامیاب رہے۔اس جنگ کے دوران امریکہ اور اسرائیل کی یہ خوش فہمی بھی دور ہو گئی کہ ان کی پابندیوں،حمایت اور بدنام کرنے سے حماس کی مقبولیت میں کمی آئی ہے۔جس تنظیم کے کارکنان پہلے اسرائیل سے گوریلا لڑائی لڑ تے تھے اب کھلے عام جنگ کر ہے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ حماس کی مقبولیت،حمایت اور طاقت بڑھ رہی ہے اور دنیا فلسطینیوں کے حقوق کی قائل ہو رہی ہے۔فلسطین کو یونیسکو کی رکنیت مل گئی ہے اب اقوام متحدہ میں اس کا درجہ بڑھانے کی بات ہو رہی ہے۔جو اسرائیل اپنی دفاعی طاقت سے پورے خطے کو ڈرا رہا تھا آج کم از کم دو سرحدوں سے وہ راکٹ حملوں کے خوف میں رہ رہا ہے۔ایک طرف اسے حزب اللہ کا خوف ستاتا ہے تو دوسری طرف اسے حماس چین سے بیٹھنے نہیں دیتی۔حقیقت میں دیکھا جائے تو نقصان حماس یا حزب اللہ کو نہیں ہو رہا ہے کیوں کہ وہ تو پہلے ہی سے سر پر کفن باندھے ہوئے ہیں۔ان کوموت کا ڈر نہیں ہے بلکہ صرف اسرائیل کو تباہی کی فکر ہے اور اسرائیل پر خوف کا سایہ بڑھتا جا رہا ہے۔بہر حال اسرائیل اور حماس کے درمیان مصر کی ثالثی میں جنگ بندی کا جو معاہدہ ہوا ہے، اس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل غزہ میں تمام بری و بحری اور فضائی لڑائی بند کردے گا اور فلسطین بھی ایسا ہی کریں گے۔راہداریاں کھول دی جائیں گی،مقامی لوگوں کی آزاد انہ نقل و حرکت پر روک لگانے اور سرحدی علاقوں میں رہنے والوں کو نشانہ بنانے سے گریز کیا جائے گا اور کوئی بھی فریق ایسا کوئی عمل نہیں کرے گا جس سے معاہدے کی خلاف ورزی ہوتی ہو۔
حماس اور محمود عباس کی کوششیں بہر حال فلسطین کی آزادی اور بقا کے لیے ہیں لیکن یہ بات دیگر ہے کہ دونوں الگ الگ میدانوں میں کوشش کر رہے ہیں۔جہاں ایک طرف محمود عباس سفارتی طور پر اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی اداروں میں امن و امان کی بحالی کے لیے کوشاں ہیں وہیں حماس کے سر براہ خالد مشعل دفاعی حکمت عملی کے تحت اسرائیل کو دنداں شکن جواب دینے میں کسی کوتاہی کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ان دونوں کو اغراض و مقاصد ایک ہی ہیں۔ ایک نرم دلی کے ساتھ گفتگو کی میز پر یاسر عرفات کے ادھورے کام کی تکمیل میں مصروف ہے تو دوسرا اسرائیل کی توسیع پسند اور غاصبانہ ذہنیت کو لگام لگانے کے لیے سر دھر کی بازی لگائے ہوئے ہیں۔یہ دونوں اپنی اپنی جگہ بھرپور انداز میں فلسطین کی آزادی اور بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *