انڈین ایکسپریس کی صحافت ۔1

ڈاکٹر منیش کمار 
ہندوستانی فوج کی ایک یونٹ ہے ٹیکنیکل سروس ڈویژن۔ یہ دوسرے ملکوں میں کووَرٹ آپریشن کرتی ہے۔ اس ڈویژن کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہندوستان کی یہ واحد یونٹ ہے، جس کے اندر خفیہ طریقے سے آپریشن کرنے کی صلاحیت ہے۔ اسے وزیر دفاع کی منظوری سے بنایا گیا تھا، کیوں کہ راء اور آئی بی جیسے اداروں کی صلاحیت کم ہو گئی تھی۔ یہ اتنی اہم یونٹ ہے کہ یہاں کیا کام ہوتا ہے، اس کا آفس کہاں ہے، کون کون لوگ اس میں کام کرتے ہیں، یہ ساری جانکاری خفیہ ہے۔ ساری جانکاریاں ٹاپ سیکریٹ ہیں۔ لیکن 16 اگست 2012 کو شام کے 6 بجے سفید رنگ کی ایک کوالس گاڑی ٹیکنیکل سروس ڈویژن کے دفتر کے پاس آکر رکتی ہے۔ اس کے اندر سے دو آدمی اترتے ہیں۔ ایک آدمی کوالس کے پاس کھڑے ہو کر انتظار کر نے لگتا ہے، جب کہ دوسرا آدمی اس یونٹ کے اندر داخل ہو جاتا ہے۔ یہاں موجود ایک فوجی نے جب اِس اجنبی کو مشکوک طریقے سے وہاں دیکھا تو اس نے اس کی پہچان پوچھی۔ اس نے پہلے جھانسہ دینے کی کوشش کی اور کہا کہ وہ ایک آرمی آفیسر ہے۔ جب اس سے شناختی کارڈ کی مانگ کی گئی اور وہاں آنے کا سبب پوچھا گیا تو اس نے بتایا کہ وہ انڈین ایکسپریس کا ایک رپورٹر ہے۔

کیا اس ملک کی فوج پر ہتھیار کے دلالوں کا قبضہ ہو گیا ہے؟ جو لوگ ملک کے ساتھ غداری کرتے ہیں، ان کو انعام اور جو جان دینے کے لیے تیار ہیں، ان کے ساتھ نا انصافی، کیا ایسے ہی ملک چلے گا؟ آج ہم ہندوستانی فوج کے ایک ایسے راز سے پردہ اٹھا ئیں گے، جسے جان کر آپ کو حیرانی ہوگی۔ آج ہم فوج میں چھپے گناہگار اور میڈیا کے نیکسس کا پردہ فاش کریں گے۔ ہم آپ کو بتائیں گے کہ کس طرح انڈین ایکسپریس اخبار کا ایک رپورٹر شک کے گھیرے میں آیا اور کس طرح وہ چھوٹ گیا؟

انڈین ایکسپریس کا رپورٹر اس ممنوعہ علاقے میں کیا کرنے گیا تھا؟ کیا یہ رپورٹر اپنے ایڈیٹر شیکھر گپتا کی اجازت کے ساتھ وہاں آیا تھا؟ کیا شیکھر گپتا کو پتہ تھا کہ اس کا رپورٹر ایک ایسی جگہ پر پکڑا گیا ہے، جہاں جانا ممنوع ہے؟ اس وقت جس جگہ یہ یونٹ تھی، وہ فوجی علاقے کے بالکل درمیان میں واقع ہے، جہاں پر کتوں کے گھومنے پر بھی گولی چل سکتی ہے۔ اگر وہ رپورٹر شیکھر گپتا کے بنا بتائے وہاں گیا تھا تو کیا اس نے یہ بات اس واقعہ کے بعد شیکھر گپتا کو بتائی؟ یہ سوال اس لیے اٹھنا ضروری ہے، کیوں کہ انڈین ایکسپریس میں کام کرنے والے لوگ بتاتے ہیں کہ یہ رپورٹر شیکھر گپتا کے نزدیک ہے۔ شیکھر گپتا کا ہٹ مین ہے۔ ویسے یہ کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی ہے۔
جب اس فوجی نے اِس رپورٹر سے پوچھ گچھ شروع کی، تو وہ گھبرا گیا۔ اس فوجی نے جب اس رپورٹر کو بتایا کہ یہ آرمی کا دفتر نہیں ہے، تو اس نے بتایا کہ وہ اندر ٹہل کر آ چکا ہے اور اس نے فوج والے نمبر کی گاڑیاں بھی دیکھی ہیں۔ اس کے بعد اس فوجی نے انڈین ایکسپریس کے رپورٹر کو آفس کے احاطہ سے باہر نکلنے کو کہا، لیکن جیسے ہی وہ باہر آیا تو اس کی نظر کچھ دور کھڑی ایک سفید کوالس گاڑی پر پڑی، جو اس رپورٹر کا انتظار کر رہی تھی۔ اس فوجی کو شک ہوا۔ اس نے اس رپورٹر سے پوچھا کہ اسے اس آفس کی لوکیشن کے بارے میں کیسے معلوم ہوا؟ رپورٹر خاموش رہا۔ فوجی نے پھر پوچھا کہ یہاں تک کیسے پہنچے؟ سوالوں سے پریشان ہو کر انڈین ایکسپریس کا رپورٹر وہاں سے جھٹکے میں نکل پڑا اور کوالس کی طرف چلا گیا۔ اب سوال ہے کہ اس کوالس گاڑی میں کون تھا؟ انڈین ایکسپریس کا رپورٹر کس کے ساتھ وہاں پہنچا تھا؟
انڈین آرمی کا ایک حولدار اسی راستے ڈیوٹی کرکے لوٹ رہا تھا۔ اس نے دیکھا کہ سفید کوالس کے پاس ایک لمبا آدمی مشکوک طریقے سے دور سے ہی ٹیکنیکل سروس ڈویژن کے احاطہ کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اس حولدار نے اس لمبے آدمی کی پہچان بتا دی، کیوں کہ اس نے ٹی وی اور اخباروں میں اس شخص کی فوٹو دیکھی تھی۔ یہ شخص تھا، ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل تیجندر سنگھ۔ وہی تیجندر سنگھ، جس کے خلاف سی بی آئی نے سابق آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ کو رشوت دینے کی پیش کش کرنے کے الزام میں معاملہ درج کیا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ ایک ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل کے ساتھ انڈین ایکسپریس کا رپورٹر ایسے ممنوعہ مقام پر کیا کر رہا تھا؟ یہ پوچھنے کا ہمارا حق ہے کہ جب یہ یونٹ اتنی ہی خفیہ ہے، جسے فوج کے بہت بڑے بڑے افسر بھی نہیں جانتے، تو اس لیفٹیننٹ جنرل نے انڈین ایکسپریس کے رپورٹر کو اس کی لوکیشن کیوں بتائی اور کیوں اسے لے کر وہاں گیا؟ کیا وہ وہاں جاسوسی کرنے گیا تھا؟ یہ کوئی سیاحتی مقام تو ہے نہیں، پھر تیجندر سنگھ اور انڈین ایکسپریس کا رپورٹر وہاں کس کے لیے اس یونٹ کے راز کو بے نقاب کرنے پہنچا تھا؟ یہ سوال اس لیے بھی ضروری ہے، کیوں کہ یہ کہانی یہیں ختم نہیں ہوئی۔
جس حولدار نے تیجندر سنگھ کی پہچان کی، اس نے فوراً اس کی شکایت کی۔ یہ معاملہ ڈی جی ایم آئی کو بتایا گیا اور اس نے پوچھا کہ کیا اس کی رپورٹ سول تھانے میں کریں؟ ڈی جی ایم آئی نے کہا کہ اس کی تحریری شکایت مجھے دو۔ تحریری شکایت ڈی جی ایم آئی کو بھیج دی گئی، جس کا نمبر A/103/TSD ہے۔ تین دن کے بعد ڈی جی ایم آئی نے خط لکھنے والی ٹیم سے کہا کہ خط کو پھاڑ دو اور کمپیوٹر کی ہارڈ ڈِسک کو بھی خراب کر دو۔ لیکن ان تین دنوں میں اس خط کی کئی کاپیاں کئی لوگوں کو بھیجی جا چکی تھیں۔
اسی درمیان سی او سی آئی او نے انڈین ایکسپریس کے صحافی کو فون کیا اور پوچھا کہ آپ ٹی ڈی ایس یونٹ کے پاس کیوں گئے تھے؟ اس رپورٹر نے جواب دیا کہ میں نہیں گیا تھا۔ اس پر سی او سی آئی او نے کہا کہ آپ نے اس وقت نیلی قمیض بن رکھی تھی اور آپ کی فوٹیج ہمارے سی سی ٹی وی کیمرے میں قید ہے۔ اس پر یہ رپورٹر خاموش ہوگیا اورفون کاٹ دیا۔ اس درمیان یہ خبر IBN7 پر دکھا دی گئی۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ جو لوگ ممنوعہ علاقے میںداخل ہوئے، جن لوگوں نے ملک کی سیکورٹی کے ساتھ کھلواڑ کیا، ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی اور جس ٹیم نے یہ خط لکھا، اس پر کارروائی شروع ہوگئی کہ یہ خبر میڈیا تک کیسے پہنچ گئی۔
حیرانی کی بات یہ ہے کہ یہ سب تب ہو رہا ہے، جب اس واقعہ کے ٹھیک آٹھ دن پہلے ایک انٹیلی جنس رپورٹ آئی کہ ٹیکنیکل سروس ڈویژن پر خطرہ منڈلا رہا ہے۔ چوتھی دنیا کو ملی دستاویز کے مطابق، کچھ ملک مخالف طاقتیں اس ڈویژن اور اس سے جڑے افسروں کے وقار کو ٹھیس پہنچانے کے لیے کام کر رہی ہیں۔ اس رپورٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ یہ کام میڈیا میں نشر کرکے اسے بدنام کرنے کی کوشش ہونے والی ہے۔ کیا فوج بھی دوسرے سرکاری اداروں کی طرح ناکارہ ہو گئی ہے۔ اگر اس طرح کی خفیہ معلومات تھیں تو تیجندر سنگھ اور انڈین ایکسپریس کے رپورٹر کو کیوںچھوڑ دیا گیا؟ کیا ہم نے اس ملک میں پاکستان اور چین کو ہندوستانی فوج کے اندر خفیہ آپریشن کرنے کی یا جاسوسی کرنے کی کھلی چھوٹ دے دی ہے؟ یہ سوال اٹھانا اس لیے ضروری ہے، کیوں کہ اس یونٹ کی تشکیل دوسرے ممالک میں خفیہ آپریشن کرنے کے لیے ہوئی تھی۔ اسے ختم کرنے کے لیے وہ ممالک مستعد تھے، جن کے ساتھ ہندوستان کے رشتے اچھے نہیں ہیں۔ وہاں کی خفیہ ایجنسیاں اس یونٹ کی سب سے بڑی دشمن تھیں، اس لیے اسے خفیہ رکھا گیا تھا۔ اس کی لوکیشن بھی کبھی کسی کو نہیں بتائی جاتی تھی۔ یہ براہِ راست وزیر دفاع کے علم میں کام کرتی تھی۔ اگر اسے خفیہ نہیں رکھا گیا تو اس میں کام کرنے والے لوگوں کی پہچان سامنے آجائے گی، جس سے ان کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ جس طرح پر اسرار حالت میں یہ دونوں پکڑے گئے، اس سے یہ بھی سوال اٹھتا ہے کہ کیا وہ جاسوسی کر رہے تھے؟ اگر جاسوسی کر رہے تھے تو کس کے لیے؟ وہ کس ملک کے لیے وہاں جاسوسی کرنے پہنچے تھے؟ کیا ان سوالوں کے مدنظر لیفٹیننٹ جنرل تیجندر سنگھ اور انڈین ایکسپریس کے رپورٹر کو بغیر کسی سزا کے چھوڑا جا سکتا ہے؟ فوج میں وہ کون سی طاقتیں ہیں، جو انہیں بچا رہی ہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ کس کے کہنے پر ڈی جی ایم آئی نے یہ حکم دیا کہ شکایتی خط کو پھاڑ دیا جائے اور کمپیوٹر کی ہارڈ ڈسک کو خراب کر دیا جائے۔
ایک دوسری خبر کے بارے میں ایک خصوصی جانکاری چوتھی دنیا کو حاصل ہوئی ہے

یہ معاملہ آف دی ایئر جی ایس ایم مانیٹرنگ سسٹم کے بارے میں ہے۔ کئی دنوں سے یہ سرخیوں میں ہے۔ اسے کس نے خریدا؟ اس میں کیا دھاندلی ہوئی؟ اس کے پیچھے کون لوگ ہیں؟ ان سامانوں کو خریدنے میں گڑبڑیاں ہوئیں۔ ان آلات کو خریدنے کے لیے زیادہ پیسے خرچ کیے گئے۔ چوتھی دنیا کو حاصل ہوئی دستاویزات کے مطابق ان آلات کو ٹی سی جی کی اجازت کے بغیر خریدا گیا۔ اس رپورٹ میں واضح طور پر لکھا ہے کہ ڈی جی ڈی آئی اے کو یہ بات بتائی گئی کہ ٹی سی جی کے حکم کے مطابق ان آلات کو نہیں خریدا گیا۔ اب ذرا یہ جان لیجئے کہ اس وقت ڈی جی ڈی آئی اے لیفٹیننٹ جنرل تیجندر سنگھ تھے۔ یہ خط کابینہ سکریٹری، دفاعی سکریٹری، چیئر مین این ٹی آر او، پی ایم او کے ڈائریکٹر اور جوائنٹ سکریٹری سمیت چودہ لوگوں کو دیا گیا۔ لیکن جب اس معاملہ پر ہنگامہ ہوا تو کسی نے یہ نہیں کہا کہ آف دی ایئر مانیٹرنگ سسٹم کی خریداری لیفٹیننٹ جنرل تیجندر سنگھ نے کی۔ سب کیوں خاموش رہے؟ اس کا کیا مطلب ہے؟ کیا دفاعی سودے پر صاف صاف بولنے کی کسی کی ہمت نہیں ہے؟ انہیں کس کا ڈر ہے؟ کیا یہ مان لیا جائے کہ ہتھیار کے دلالوں، افسروں، لیڈروں اور میڈیا کا ایک ایسا نیکسس ملک میں پھیل چکا ہے، جس کے خلاف بولنے کی ہمت حکومت کی بھی نہیں ہے۔
جنرل وی کے سنگھ نے جب سے دفاعی سودوں میں دلالی اور رشوت خوری کے خلاف آواز اٹھائی، تب سے ہتھیاروں کے دلالوں کے نشانے پر آ گئے۔ میڈیا میں ان کے خلاف طرح طرح کی جھوٹی خبریں پھیلائی گئیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ گزشتہ چھ ماہ سے موجودہ فوجی سربراہ جنرل بکرم سنگھ صرف تفتیشی کمیشن بٹھا رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ان تفتیشی کمیشنوں کا واحد مقصد جنرل وی کے سنگھ کی ایمانداری پر سوال اٹھانا ہے۔ جنرل بکرم سنگھ نے ٹیکنیکل سروس ڈویژن کو ختم کر دیا ہے۔ اس ڈویژن کو بند کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اب ہندوستان کے پاس ایسی کوئی ڈویژن نہیں ہے، جو دشمن ممالک کے اندر جا کر خفیہ کارروائی کر سکے۔ ہمارا کائونٹر انٹیلی جنس کمزور ہو گیا، لیکن شاید اس کی پرواہ کسی کو نہیں ہے۔ ملک کی حکومت کو بھی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو ڈویژن پاکستان اور چین کے نشانے پر تھی، اسے ملک کی حکومت نے ہی بند کر دیا۔ جو دشمن چاہتے تھے، وہ ہم نے ہی کر دیا، لیکن وجہ یہ بتائی گئی کہ اس میں کافی دھاندلی ہوئی ہے۔ دھاندلی کیا ہوئی، اس کی تفصیل کسی کے پاس نہیں ہے۔ ہم پاکستان، نیپال، میانمار اور چین سے گھرے ہوئے ہیں۔ ہمارے رشتے کسی کے ساتھ اچھے نہیں ہیں۔ اتنے ملکوں میں اگر کاؤنٹر انٹیلی جنس میں چالیس پچاس کروڑ روپے خرچ ہوتے ہیں، تو یہ دھاندلی نہیں ہے، بلکہ اس پر جو سوال اٹھاتے ہیں، وہ دشمن ملکوں کے نمائندے کے طور پر کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن اس یونٹ کے افسران کو پریشان کیا جا رہا ہے۔ الزام یہ ہے کہ ان لوگوں کو اس لیے پریشان کیا جا رہا ہے، تاکہ یہ لوگ جنرل وی کے سنگھ کے خلاف بیان دے دیں، جو صاف ہے کہ اس یونٹ کے افسر جنہوں نے جان کی بازی لگا کر ملک کے مفاد کی حفاظت کی، انہیں پریشان کرنے کے پیچھے کیا دلیل ہے۔ کیا انہوں نے ملک کی سیکورٹی کے ساتھ سودا کیا۔ اگر نہیں، تو پریشان کرنے والے لوگ اپنے غیر ملکی آقاؤں کے اشارے پر ہی کام کر رہے ہیں۔
جب ملک کے دفاع اور سلامتی کا معاملہ ہو تو میڈیا کو مستعد رہنے کی ضرورت ہے۔ انڈین ایکسپریس کے رپورٹر نے تو غلط کیا ہی، لیکن اس کے لیے اس کے ایڈیٹر شیکھر گپتا بھی ذمہ دار ہیں، کیونکہ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے رپورٹر کس کے ساتھ وہاں گئے اور کس منصوبہ کے تحت گئے۔ شیکھر گپتا ان دونوں باتوں سے واقف نہیں ہیں۔ انڈین ایکسپریس اپنی تشہیر میں یہ دعویٰ کرتا ہے کہ 97 فیصد لوگ اس پر بھروسہ کرتے ہیں۔ ہم شاید باقی تین فیصد میں آنے والے لوگ ہیں، اس لیے یہ کہانی انھیں تین فیصد لوگوں کے لیے ہے۔ چوتھی دنیا پہلے بھی انڈین ایکسپریس کی اسکوپ کی حقیقت اور اس میں شیکھر گپتا کے کردار کی سچائی بتا چکا ہے۔ انڈین ایکسپریس کی صحافت کے بارے میں ہم اگلے ہفتے تفصیل سے بتائیں گے، لیکن ہم جانتے ہیں کہ انڈین ایکسپریس رام ناتھ گوینکا کے اصولوں کے خلاف صحافت کرتے ہوئے اب ہمارے خلاف افواہیں اور جھوٹی کہانیاں پھیلائے گا۔ ہم اس کا انتظار کر رہے ہیں۔ ہم اس کا جواب اس صحافتی طریقے سے دیں گے، جس کے لیے رام ناتھ گوینکا ملک کے سپریم کمانڈر مانے جاتے تھے۔
آخر میں ایک سوال چھوڑے جاتے ہیں کہ یہ کیسا اتفاق ہے کہ جب جب آرمی چیف جنرل بکرم سنگھ کسی تفتیش کو بٹھاتے ہیں، تو اس کی خبر سب سے پہلے انڈین ایکسپریس کو ملتی ہے۔ انڈین ایکسپریس کو صرف وہ خبر نہیںمل سکی، جب سی بی آئی نے لیفٹیننٹ جنرل تیجندر سنگھ کو اپنے شکنجے میں لیا۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *